بعض طبی اصطلاحات کی وضاحت اور تشریح۔۔۔ علی رضا منگول

 میرا تعلق 1982 سے شعبہ انسانی صحت سے ہے۔ میں اس شعبے کی ایک شاخ ”پیتھالوجی“ سے وابستہ ہوں، جسے عام اصطلاح میں لیبارٹری کہتے ہیں۔

پیتھالوجی دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے۔  ”پیتھو“ کے معنی ”مَرَض“ یا ”بیماری“ ہے جبکہ لوجی کے معنی ہے ”علم یا جاننا“۔ یعنی علم الامراض۔

شعبہ پیتھالوجی میں جسم کے مختلف اعضاء اور اجزاء سے متعلق امراض کا مطالعہ کرکے تشخیصی عمل انجام دیا جاتا ہے۔ اس شعبے میں زیادہ تر کام پیرامیڈیکس ہی انجام دیتے ہیں جس کی بنیاد پر مریضوں کی بیماریوں کی درست تشخیص ممکن ہوپاتی ہے۔ یعنی جہاں بھی سرجن اور فزیشن لاچار ہوجاتے ہیں یا شک میں مبتلا ہوتے ہیں وہاں ان کی لاچاری اور شک کو یقین میں بدلنے کے لئے اس شعبے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مگر میرا مقصد اس شعبے کے بارے میں بات کرنا نہیں بلکہ شعبہ صحت میں Intake اور Output کی اہمیت کی توضیح و تشریح کرنا ہے۔

اسپتالوں میں بعض اوقات ایسے مریض بھی آتے ہیں جنہیں سدھ بدھ نہیں ہوتا۔ ایسے مریضوں کی ناک کے ذریعے معدے میں ٹیوب اُتارا جاتا ہے جس سے خوراک اندر داخل کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے مریضوں کی چارپائی کے ساتھ ایک چارٹ آویزاں کیا جاتا ہے جسے Intake/Output چارٹ کہا جاتا ہے۔ مریض کے جسم میں داخل کی جانے والی ادویات اور خوراک کو Intake کہا جاتا ہے اور مریض کے جسم سے خارج ہونے والے مواد کو output کہاجاتا ہے۔ البتہ Intake سے میری  مراد یہ ہے کہ انسان اپنے جسم میں کیا داخل کررہا ہے؟  جبکہ Output سے میری مراد یہ ہے کہ ان اشیاء کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یا جسم میں کیا تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔

معاشرے میں ہر انسان اپنے فطرتی اور سماجی ماحول سے اثرات لیتے ہوئے بعض عادات کا شکار ہوجاتا ہے۔ مثلاً چائے، سیگریٹ، نسوار، حقہ، چرس، شراب، افیون، ہیروئن وغیرہ۔  ان کے علاوہ گوشت کا کثرت سے استعمال، مرغن غذاؤں کا استعمال، میٹھی چیزیں کھانا، زود پز خوراک یعنی Fast foods کھانے کی عادت، سبزی اور میوہ جات کا کم استعمال، بریانی اور چکنائی والی خوراک کا استعمال، الغرض ایسی تمام اشیاء جو انسان اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں، ان کا براہ راست اثر ہمارے جسم پر ہوتا ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کا پیٹ نکلا ہوا ہو تو یہ  بسیار خوری یا مرغن و شیریں اشیاء کے کھانے کا قطعی نتیجہ ہو سکتا ہے۔

بعض لوگوں کی یہ توجیہہ ہوتی ہے کہ ہم خاندانی طور پر بھاری جسم رکھتے ہیں جو کہ درست نہیں۔ وہ خاندانی طور پر زیادہ کھانے اور مرغن و چکنائی دار کھانوں کے شوقین اور عادی ہوں گے۔ انتہائی سادہ بات یہ ہے کہ ”ہر چہ کہ د دیگ باشہ د قاشوق مایہ“ یعنی ہماری خوراک کا اثر مکمل پر طور ہماری Life Style سے جڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہماری طرز زندگی کا تعلق ہماری معیشت، ثقافت، قدرتی ماحول اور کسی حد تک سیاست سے بھی ہے۔ یعنی ہم اپنے ارد گرد کی ان تمام اشیاء و مظاہر سے اثرات لیتے بھی ہیں اور ان پر اثرات ڈالتے بھی ہیں۔ سرد علاقوں کے باشندے جسم کو گرمی پہنچانے کے لئے زیادہ مرغن غذاؤں اور گوشت کا استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ مگر ہماری گزشتہ عادات و اطوار اور کلچر کا حصہ بن جانے کے باعث ہمیں ان خوراکوں کے مضر اثرات کا پتہ ہی نہیں ہے جو روایتاً ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔

مگر ان روایتی کھانوں کا ہماری آج کی نشست و برخاست اور موجودہ عالمی کلچر سے گہرا تعلق ہے کیونکہ سائنس اور ٹیکنیک کی ترقی کی بدولت اب زیاد ہ مشقت طلب کام کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہی۔ جس کے نتیجے میں تمام روایتی خوراک جسم میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور جسم فربہ ہونے لگتا ہے۔ روایتی طور پر کسی زمانے میں بھاری جسم رکھنے والا زیادہ صحت مند سمجھا جاتا تھا جو کہ کسی حد تک درست بھی تھا کیونکہ جسمانی طاقت کے استعمال سے کام میں آسانی ہوتی تھی۔ مگر انسانی زندگی میں ٹیکنیک کی زیادہ مداخلت نے جسمانی محنت کو کم کرکے ہماری عادات کو نفسیات بنا کر خوراک کو وہیں برقرار رکھا، مگر جس محنت کے بل بوتے کھانا جسم میں حل اور ہضم ہوکر طاقت بن جاتا، وہ جسم میں جمع ہونا شروع  ہوگیا۔

ہمارے اردگرد آج زیادہ تر بیماریوں اور اموات کی وجہ بسیار خوری اور غیر متوازن غذا کا استعمال ہے۔ ہمیں اپنے جسم پر Intake کے Output کا ادراک نہیں اور اگر کہیں ادراک موجود بھی ہے تو ہم اپنی تن آسانی، عادات اور نفسیات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے اہل نہیں۔ جس کے ہمارے جسم اور زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جو باعث تشویش ہے۔ تمام بیماریوں خصوصاً ’شوگر، بلڈ پریشر، فالج، ہارٹ اٹیک، Polycythemia (زائد ہیموگلوبن یا خون کے گاڑھے پن) کا تعلق ہماری خوراک کے استعمال کے سے ہے۔ ہم اگر بسیار خوری کا شکار نہیں بھی ہیں تو ٹیکنیک کے استعمال نے ہماری گشت و رؤ میں کمی کی بدولت ہماری Biology پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

اب لازم ہے کہ ہم شعوری طور پر اپنے Culture اور Life Style میں نمایاں تبدیلی لائیں۔ بصورت دیگر موجودہ ثقافت ہمارے لئے عذاب بنتی جارہی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم Animal Foods یعنی تمام قسم کے گوشت، دودھ اور گھی کا استعمال یا تو مکمل ترک کردیں یا نہایت کم کریں کیونکہ تقریباً ہر نباتاتی خوراک میں روغن بقدرے موجود ہوتی ہے اور Plant Foods یعنی دالیں، سبزی اور میوہ جات کو اپنی روز مرّہ خوراک کا غالب حصہ بنائیں تاکہ جسم آسودہ اور صحت مند رہے۔

علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *