انجینئر محمداکرم گیزابی ۔۔۔ اسحاق محمدی

 
انجینئر محمداکرم گیزابی کا شمار ہزارہ قوم کے صف اوّل کے روشن فکر دانشوروں اور مدبر سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ میری ان سے شناسائی اسّی(80) کی دہائی کے دوران تنظیم نسل ہزارہ مغل میں ہوئی۔ ہزارہ کاز کے وہ زبردست داعی ہیں اور اس راہ میں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں۔ بات کو مزید آگے بڑھانے سے قبل اچھا ہے کہ ان کی زندگی پر ایک مختصر نظر ڈالی جائے۔
جناب انجینئر گیزابی نے 1947ء کو کابل میں مقیم ایک ہزارہ گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ ان کا آبائی وطن مقبوضہ اُرزگان کی زرخیز وادی(گیزو) ہے۔ جسے امیر کابل عبدالرحمان نے 1893ء میں فتح کرنے کے بعد کوچی قبائل میں تقسیم کردیا تھا۔ آبائی زمینیں چھن جانے کے بعد ان کے دادا مختلف علاقوں میں مہاجرت کی زندگی گزارنے کے بعد بالآخر کابل میں آکر بس گئے۔ جناب گیزابی نے ابتدائی تعلیم، پرائمری سکول سید جمال الدین افغانی اور انٹرمیڈیٹ، غازی ہائر سیکنڈری سکول سے امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی، جس کی بنیاد پر انہیں کابل یونیورسٹی کے فیکلٹی آف انجینئرنگ میں داخلہ ملا۔ ساٹھ(60) کی دہائی افغانستان میں سیاسی حوالوں سے سیاسی تحریکوں (بطور خاص)بائیں بازو کی سیاست کا نہایت اہم دور تھا۔ ان دنوں روس نواز خلق، پرچم اور چین نواز سازمان جوانان مترقی(المعروف بہ شعلہ جاوید) کی تشکیل ہوچکی تھی۔ طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد سیاست میں پیش پیش تھی۔ جناب گیزابی کے مطابق اپنی ڈائنامک ساخت اور افغانستان میں قومی جبر کے خلاف واضح موقف کے حوالے سے ان کا زیادہ تر رحجان شعلہ جاوید کی طرف تھا۔ تاہم وہ کبھی بھی اس جماعت کے باقاعدہ ممبر نہیں رہے۔ کیونکہ ان کی زیادہ تر توجہ فقط و فقط تعلیم کی طرف تھی۔ اس وقت امریکن یونیورسٹی بیروت میں میرٹ کی بنیاد پر سالانہ ٹاپ ٹین(Top ten) افغانستانی طالبعلموں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔ چونکہ تمام ٹیسٹ اور انٹرویو خوش قسمتی سے خود امریکن اسٹاف لیتے تھے، اس لئے انہوں نے بھی قسمت آزمائی کی اور واحد ہزارہ طالب علم  کے طور پر امریکن یونیورسٹی بیروت کے لئے منتخب ہوگئے۔ بیروت پہنچنے کے بعد ان سے کہا گیا کہ، سول انجینئرنگ کے شعبے میں گنجائش موجود نہیں ہے، لہٰذا وہ کسی اور شعبے کا انتخاب کرلیں۔ جس پر انہوں نے ایگریکلچر انجینئرنگ کا انتخاب کیا۔ بقول ان کے اُس وقت ڈاکٹر اشرف غنی، زلمے خلیل زاد، افغان ملت پارٹی کے بانی انوارالحق احدی سمیت کئی دیگر مشہورافغانستانی طلبا بھی اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ بیروت بھی اس دور میں سیاسی تحریکوں کے حوالے سے ایک بڑا مرکز تھا جہاں فلسطینی تحریک آزادی سے وابستہ درجنوں تنظیمیں سرگرم عمل تھیں۔ لیکن انہیں جارج حبش کی جماعت(پاپولر فرنٹ) زیادہ پسند تھی اور جب بھی انہیں موقع ملتا وہ ان کے سرکلز میں شرکت ضرور کرتے۔
1975ء میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دوبارہ افغانستان جانا چاہتے تھے، مگر دو سالہ جبری فوجی خدمت(جلب) کے مسئلے پر ان کے گھر والے ان کی واپسی کے حق میں نہ تھے۔ جس کی وجہ سے انہیں شاہ کے زمانے میں کچھ عرصہ ایران اور پھر سویڈن میں گذارنا پڑا۔ بعد ازاں جب کابل حکومت نے طالبعلموں کے لئے دو سالہ جلب کی مدت کم کرکے چھ ماہ کردی، تو 1978ء میں وہ واپس افغانستان چلے گئے اور جبری فوجی خدمت پر مامور ہو گئے۔ جلب میں چھ ماہ گذارنے کے بعد ان کا ارادہ موزمبق افریقہ میں ایک بین الاقوامی این جی او کے ساتھ کام کرنے کا تھا، لیکن اس دوران افعانستان میں روس نواز حکومت بن گئی۔ نئی حکومت نے جلد ہی بڑے پیمانے پر مخالفین کی پکڑدھکڑ شروع کردی۔ جس سے بچنے کے لئے ان سمیت سینکڑوں لوگ روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ 1980ء میں کابل کی روس نواز حکومت کے خلاف قلعہ بالاحصار کا مشہور واقعہ رونما ہوا، جسے کچلنے کے لئے رژیم نے زیادہ پکڑ دھکڑ اور مزید سختیوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے وہ کابل ترک کرکے غزنی کے راستے پاکستان چلے گئے۔ یہاں اس وقت اتحادیہ مجاہدین افغانستان کے نام سے ایک ہزارہ مزاحمتی آرگنائزیشن بن چکی تھی جس کے سربراہ عبدالحسین مقصودی تھے جس میں ہزارہ روشن فکروں اور خان و ارباب سمیت ہزارہ علما بھی شامل تھے۔ اتحادیہ کے مقاصد چونکہ ان کے نظریات سے زیادہ قریب تھے، اس لئے وہ اس آرگنائزیشن میں نائب صدر کے بطور شامل ہوگئے۔
1983ء میں اتحادیہ مجاہدین میں اندرونی اختلافات پھوٹ پڑے۔ ایک طرف حاجی مقصودی نے اپنی راہیں جدا کردیں اور دوسری طرف جنرل ضیاء الحق نے کابل مخالف ہزارہ جہادی تنظیموں کی امداد بند کرکے انہیں پاکستان نواز ہفت گانہ جہادی تنظیموں سے رجوع کرنے کو کہا۔ اس موقع پر جناب گیزابی نے کسی ہزارہ مخالف جہادی تنظیم سے وابستہ ہونا گوارا نہیں کیا۔ 1983ء میں انہوں نے وائس آف امریکا(صدای آمریکا) کا دری پروگرام جوائن کیا اور 1985ء میں فیملی سمیت امریکا شفٹ ہوگئے۔ جس کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل براڈکاسٹر کی حیثیت سے صدای آمریکا میں شبانہ روز کام کرنا شروع کیا۔
ایران سے سیاسی قرابت، نیز ایرانی رژیم کی مخالفت کی وجہ سے کابل مخالف ہزارہ جہادی تنظیموں کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ریاست یا آرگنائزیشن ان کو سننے پر آمادہ تھی۔ جس کی وجہ سے انٹرنیشنل فورم پر بھی ہزارہ قوم کی کوئی آواز موجود نہیں تھی۔ ایسے میں جناب انجینئر اکرم گیزابی نے ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ بڑی کاوشوں کے بعد انہوں نے بالآخر حزب نصر کے سیاسی ترجمان (استاد کریم خلیلی) کو وائس آف امریکا ”دری پروگرام“ سے انٹرویو کرنے پر راضی کرلیا۔
جناب گیزابی کے مطابق استاد خلیلی کا پہلا انٹرویو نشر ہونے کے بعد ہزارہ مخالف قوتوں کے علاوہ خود ہزارہ قوم کے ایک بڑے حلقے نے بھی اس سلسلے کی یہ کہہ کر مخالفت شروع کردی، کہ اس عمل سے افغانستانی ہزارہ قوم مزید سیاسی تنہائی میں چلی جائے گی۔ لیکن ان تمام مخالفتوں کے باوجود انہوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا اور ہزارہ قوم کی آواز کو دنیا تک پہنچاتے رہے۔ 1992ء میں روس نواز حکومت کے خاتمے اور بابہ عبدالعلی مزاری کی کابل آمد سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ شروع میں کابل سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث کافی مشکلات درپیش تھیں۔ لیکن جناب گیزابی کے مطابق بابہ مزاری کا پہلا انٹرویو، حزب وحدت تہران آفس کے توسط اس طرح نشر کیا گیا کہ استاد خلیلی، کابل سے بابہ مزاری کی باتیں سن کر اپنی آواز میں وائس آف امریکا تک پہنچاتے۔ کچھ عرصہ بعد جب ہزارہ ڈائسپورا کے تعاون سے سیٹلائٹ ٹیلیفون کا بندوبست ہوا(جس کے انتظام میں جناب گیزابی پیش پیش تھے) تو بابہ مزاری سے براہ راست رابطہ آسان ہوگیا اور پھر ہزارہ قوم کی آواز اور ان کے مطالبات دنیا تک بہم پہنچنے آسانی ہونے لگی۔ بابہ عبدالعلی مزاری کے تین سالہ مختصر دور کی ولولہ انگیزی اور مدبرانہ قیادت نے ہزارہ قوم کی سیاسی و اجتماعی تحریک کو ایک نئی جہت اور پہچان دی۔ جس میں بلا شک و تردید جناب انجینئر اکرم گیزابی کی کاوشوں کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ ان تمام کاوشوں اور زحمتوں کا صلہ جناب گیزابی کے حصے میں بابہ شہید مزاری کی طرف سے شکریے کا بطور دستاویز ایک خط ہے۔
مارچ 1995ء میں وحشی طالبان کے ہاتھوں بابہ عبدالعلی کی ناگہانی شہادت نے بہت سوں کی طرح انجینئر گیزابی کو بھی بہت متاثر کیا۔ ان کی نظر میں اس سازش میں اغیار کے ساتھ ساتھ پشاور میں مقیم حزب وحدت آفس کے چوٹی کی وہ چند خائنین بھی شامل تھے جنہیں بعد کے ادوار میں سیاسی و مالی مراعات سے نوازا گیا۔
وحشی طالبان کے سقوط کے بعد جناب گیزابی کابل گئے اور ہزارہ قوم کو ایک جدید سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے(نہضت مدنی افغانستان”نما“) کی داغ بیل ڈالی اور سیاسی کیڈر سازی کی شروعات کیں۔ اگرچہ بعداً ملکی قوانین میں ترامیم کی وجہ سے”نما“ کی رجسٹریشن ممکن نہ ہوسکی جس کے سبب اس کے اراکین کی ایک بڑی تعداد یورپ، امریکہ، کنیڈا اور آسٹریلیا شفٹ ہوگئی۔ لیکن یہی لوگ آج ہزارہ ڈائسپورا کے سب سے متحرک اعضا ہیں۔ ورلڈ ہزارہ کونسل جس کے اب وہ خود چیئرمین ہیں، میں اکثریت”نما“ کے اراکین کی ہے۔
سیاست سے ہٹ کر جناب گیزابی نے دیگر اجتماعی امور پر بھی کافی توجہ دی ہے۔ جن میں درج ذیل شعبے بطور خاص شامل ہیں:
1۔ کیمپ مادر
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہزارہ قوم کے قتل عام(ہزارہ جات میں سول وار اور شام کی خانہ جنگی)، جدید تعلیم سے محرومی اور سیاسی تنہائی کے علاوہ منشیات کے استعمال کی لت بھی لگا دی ہے جس میں ہزاروں پیر و جوان متاثر ہو چکے ہیں۔(کابل میں پل سوختہ اس کا ایک بدترین نمونہ ہے)۔ منشیات کے عادی ان افراد کے علاج و معالجے کے لئے انہوں نے ”کیمپ مادر“ کی بنیاد ڈالی۔ جس کی وجہ سے گذشتہ چند سالوں کے دوران ہزاروں افراد جن کی اکثریت کا تعلق ہزارہ قوم سے ہے، اب منشیات سے چھٹکارہ پا کر نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوچکے ہیں۔ محترمہ خانم لیلیٰ حیدری شروع دن سے کامیابی کے ساتھ اس کیمپ کو چلاتی آ رہی ہے اور اب تک کئی بین الاقوامی انعامات ان کے حصے میں آئے ہیں۔
 تاج بیگم ریسٹورنٹ، جس کے ابتدائی اخراجات جناب گیزابی نے خود اٹھائے تھے، اب اس کی چار برانچز کابل میں کامیابی سے چل رہی ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کا قیام صرف اور صرف کیمپ مادر کی مالی معاونت کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔
2۔ نہال شانی (شجرکاری)
جناب گیزابی اور چند ہزارہ صاحب ثروت حضرات نے مل کر بہسود، دایکنڈی اور پل خمری کے کئی علاقوں میں موسم کے حساب سے چنار کی ایک خاص قسم کی تجارتی بنیادوں پر کاشتکاری کا کامیاب سلسلہ بھی شروع کروایا۔ اس پروجیکٹ کے تحت پودوں کی فراہمی سرمایہ گذاروں کی طرف سے ہوتی ہے اور آبیاری، دیکھ بھال اور زمین مہیا کرنا صاحب زمین کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ حاصلات دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ پروجیکٹ مذکورہ علاقوں کے علاوہ دوسری جگہوں میں بھی کامیابی کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔
3۔ ترجمہ و تصنیف
الف: واقعات جاغوری غیر مطبوعہ تصنیف:
1983ء میں ایران نواز مسلح تنظیموں کی طرف سے اتحادیہ مجاہدین اسلامی افغانستان کے جاغوری مراکز پر حملے، ان کے اراکین کے قتل عام، اغوا، قید و بند، شکنجوں اوراثاثہ جات کی مجرمانہ لوٹ مار کی پوری روداد، اندرونی و بیرونی کرداروں کے تذکرے اس میں قلمبند ہیں، جو 1985ء سے طباعت کے لئے تیار اور ٹائپ شدہ حالت میں تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے پاس موجود ہے۔ اس بابت جناب گیزابی کی تنظیم کی موجودہ قیادت سے خصوصی گزارش ہے، کہ اگر درج بالا تاریخی دستاویز کی شکل میں تحریری مواد اب تک محفوظ ہے تو براہ کرم اس کی طباعت کروائیں۔ بصورت دیگر خود انہیں واپس کر دیں، تاکہ وہ خود اس کی طباعت کا انتظام کرسکیں۔ کیونکہ ایران اور ایران نواز ایجنٹوں کے سیاہ کرتوتوں سے ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کا آگاہ ہو جانا نہایت ضروری ہے۔
اس بارے میں خود جناب گیزابی یقین سے کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، کہ وہ تاریخی مواد آج تنظیم کے پاس موجود ہے بھی یا نہیں۔ اس بابت تنظیم کی موجودہ قیادت ہی کچھ بتا سکتی ہے۔
ب: این اِنکوائری اِن ٹو ہسٹری آف ہزارہ منگول غیر مطبوعہ:
مشہور ہزارہ شناس امریکی مستشرق خانم الزبتھ بیکن کی اس معروف کتاب کا ترجمہ جناب گیزابی کافی عرصہ پہلے مکمل کرچکے ہیں، لیکن ابھی تک اس کی طباعت نہیں ہوسکی ہے۔ ہزارہ تاریخ پریہ بہت اہم کتاب ہے اور اس کا شمار بنیادی ماخذوں میں ہوتا ہے۔
پ: چارلس میسن مطبوعہ:
یہ معروف انگریزمستشرق چارلس میسن کی کتاب کے ایک باب کا ترجمہ ہے، جو مشہور جنگجو ہزارہ سردار میریزدان بخش سے متعلق ہے۔ اس کی پہلی اشاعت تنظیم سے اور اب اس کی تیسری اشاعت کابل سے ہوئی ہے۔ میر یزدان بخش جدید تاریخ میں بابہ عبدالعلی مزاری سے قبل ہزارہ قوم کی پہلی شخصیت ہے جنہوں نے نہ صرف پہلی بار ہزارہ قوم کو متحد کیا بلکہ اپنی ایک خودمختار سلطنت قائم کرنے کی شعوری کوشش بھی کی۔ بدقسمتی سے اس کا انجام بھی بابہ مزاری کی طرح دشمن کی طرف سے دغابازی اور دھوکہ دہی پر منتج ہوا۔
ت: کوچی گری غیر مطبوعہ:
یہ ترجمہ ڈنمارک کی معروف محقق کلاس فرڈیننڈ کی کتاب نومیڈ آف افغانستان کے ہزارہ سے متعلق ابواب کے ترجمے پر مشتمل ہے۔ اس بارے میں بھی جناب گیزابی یقین سے کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، کہ اس کا مسودہ کہاں پڑا ہے۔ یہ کتاب حالیہ تاریخ میں ہزارہ کوچی تعلقات اور ان کی طرف سے ہزارہ قوم کے خلاف روا مظالم کے موضوع پر ایک مستند کتاب ہے۔
ج: مضامین:
جناب انجینئر اکرم گیزابی حالات حاضرہ اور سیاسی اونچ نیچ پر کافی گہری نظر رکھتے ہیں اور اس تناظر میں ہزارہ قوم کے مفادات پر فوراً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ان کے لکھے درجنوں فارسی اور انگریزی مضامین مختلف رسائل جرائد، اخبارات اور ویب سائٹس کی زینت بن چکے ہیں، جن میں انہوں نے ہزارہ قوم کی سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کی بابت بڑی بے باکی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے اور ہزارہ قوم کے مطالبات اور احساسات دنیا تک پہنچائے ہیں۔
2016ء سے وہ ورلڈ ہزارہ کونسل(شورای جہانی ہزارہ) کے صدر کی حیثیت سے کئی یورپی ممالک، امریکا، آسٹریلیا، ترکی اور منگولیا کے دورے کرنے کے علاوہ مختلف احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور مختلف کانفرنسز اور سیمینارز سے خطاب بھی کر چکے ہیں۔ ان تمام پلیٹ فارمز سے انہوں نے ہمیشہ ہزارہ حقوق اور ہزارہ مطالبات کے موضوعات پرآواز بلند کی ہے۔ اتنی پیرانہ سالی میں اس قدر مستعدی، توانمندی اور ساتھ میں اخلاص سے بھرپور شخصیت، ان کے علاوہ میں نے کسی اور فرد ہزارہ میں نہیں دیکھی۔ ایک خوبی جو میں نے ان میں شدت سے پائی وہ یہ ہے، کہ دنیا بھر کے ہزارہ ان کے لئے ایک جیسے ہیں۔ کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی ہزارہ سے متعلق اچانک کوئی اہم سمینار یا کانفرنس ہوا اور دوستوں نے نہایت قلیل وقت میں ان سے نمائندگی کی درخواست کی اور انہوں نے کبھی بھی انکار نہیں کیا۔ ایسا کبھی ہوا نہیں، کہ انہوں نے اس قلیل وقت میں وہاں جاکر نمائندگی نہ کی ہوں۔ وہ ہر لحاظ سے ایک قیمتی اور قومی اثاثہ ہیں۔ ان کی موجودگی ہمارے لئے ایک شجر سایہ دار کی طرح ہے۔ ہم ان کی درازی عمر اور صحت کامل کے آرزومند ہیں۔
 
نوٹ: اس تحریر کی تیاری کے سلسلے میں، گذشتہ ہفتہ میری جناب انجینئر گیزابی سے ایک طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ جس کے لئے میں ان کا تہہ دل سے ممنون ومشکور رہوں گا۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *