البم “گلِ بادام” کے اجراء کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ۔۔۔ علامہ محمد حسین فیاض

ترجمہ اسحاق محمدی  

2012ء میں راقم اور تہران میں تعینات افغان کلچرل اتاشی اسداللہ امیری، ایام محرم کی مجالس، تہران کے مختلف علاقوں میں مقیم مہاجرین قوما کے ہاں سننے جایا کرتے تھے۔ اسی طرح کی ایک مجلس رے ٹاون میں ایک ترکمن قوما کے ہاں منعقد ہوئی۔ مجلس کے بعد موصوف نے باتوں باتوں میں اس بات پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا کہ ہزارہ مہاجرین کی نئی نسل اپنی اجتماعی اور قومی شناخت کے حوالے سے اس حد تک احساس کمتری کا شکار ہے کہ وہ اپنی ہزارہ گی شکل و شباہت سے جان چھڑانے کے جتن کرنے لگی ہے۔ انہوں نے کئی واقعات کا حوالہ بھی دیا جن کے وہ خود گواہ تھے۔ ان کی باتوں نے ہمیں جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اس کے کچھ دنوں بعد روشنفکر دوستوں کی ایک میٹنگ بلوائی گئی جس میں  کافی بحث و تمحیض کے بعد ہم سب اس نتیجے پر پہنچے کہ از خودبیگانگی کا اصل سبب طویل عرصے کی سیاسی، اقتصای وثقافتی جبر اور محرومیاں ہیں اور اس ضمن میں باتوں سے زیادہ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ دلچست نکتہ یہ کہ اس ازخود بیگانگی کے خاتمے کے لئے موسیقی کو استعمال کرنے کی تجویز ہوئی، کیونکہ موسیقی ایک ایسا صنف ہے جس میں ہر عمر، جنس، طبقے اور علاقے کے لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایران میں مقیم معروف ہزارہ موسیقار اور گلوکار عارف جعفری کو “گلِ بادام” کے نام سے ایک ایسے البم کے اجراء پر آمادہ کیا گیا جس میں ہزارہ تاریخ، فرہنگ، لباس اور خاص طورپر ہزارہ گی شکل و شباہت کو فخریہ انداز میں پیش کیا جانا تھا۔ بعد ازآں نوجوان گلوکار علی ضرغام کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا گیا۔

 اسی طرح کی ایک مجلس کے دوران جب میں نے اس البم کا تذکرہ کیا تو بعض قدامت پرست مولوی حضرات، استغفراللہ کہتے ہوئے باقاعدہ لعنت اللہ کا  ورد کرنے لگے حالانکہ یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ داود سرخوش کا ایک قومی گیت، سینکڑوں ملاؤں کے ہزاروں گھنٹے پر محیط، بے سروپا وعظ سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اسی لئے ہم نے موسیقی کے ذریعے ہزارہ گی مورال کے احیاء کا بیڑہ اٹھاتے ہوئے البم گلِ بادام کی شروعات کیں اور  معروف شعراء کی منت سماجت کرکے ان سے بہترین ہزارہ گی اشعار لکھوائے۔ دمبورہ کے ساتھ جدید سازوں کا استعمال کروایا اور اچھی دھنیں بنوائیں۔ معروف ادارہ “خانہ ادبیات افغانستان” کے توسط سے اس البم کا اجراء کیا جسے عوام میں بے حد پذیرائی ملی۔ بعد از آں روایات سے ہٹ کر ہم نے ایران بھر میں درجنوں کامیاب لائیو شوز کروائے جن میں خواتین اور بچوں سمیت حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے بھرپورشرکت کی۔ ان تمام ثقافتی سرگرمیوں کے نتیجے میں آج میں قاطعیت کے ساتھ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ ہم اپنی نئی نسل کو ازخود بیگانگی کی اس کیفیت سے باہر نکالنے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

لیکن ہمیں معلوم ہے یہ ہماری شروعات ہیں۔  ہمیں مزید آگے بڑھنا ہے، مسلسل بولتے رہنا ہے، گاتے رہنا ہے اور لکھتے رہنا ہے کیونکہ قومی احیاء کے اس سفر میں، ہم نے ابھی آدھا سفر ہی طے کیا ہے۔

 نوٹ:

1- ویسے تو البم “گل بادام” کے تمام گانے ہٹ ہوئے لیکن “شاہ پری” کو سب سے زیادہ پزیرائی ملی

2- استاد عارف جعفری اور استاد طاہر خاوری غالباً پہلے ہزارہ ہیں جنہوں نے موسیقی، خاص طورپر کمپوزنگ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *