درہ ہزارہ “پنج شیر” ۔۔۔ ڈاکٹر حفیظ شریعتی

 
ترجمہ اسحاق محمدی
کابل سے درہ ہزارہ(پنج شیر) تک کوئی تین گھنٹے کا سفر ہے۔ ہم چار لوگ تھے، میں (ڈاکٹر حفیظ شریعتی) ہمارا میزبان حکیم افضلی، استاد رفعت اور استاد حسنی۔ سڑک درہ پنج شیر کے آخر تک پکی ہے۔ لیکن جہاں سے درہ ہزارہ شروع ہوجاتا ہے، کچی ہے۔ درہ ہزارہ کا پہلا گاؤں ”چارمغزا“ ہے جوہزارہ طائفہ ”باب علی“ کی ملکیت ہے۔ آب و ہوا نہایت صاف اور ہر طرف شفاف چشموں کی بہتات ہے۔ بچے بچیاں چشموں سے پانی بھر رہی ہیں۔ ان کے خد وخال بامیان کے ہزارہ سے مماثل ہیں۔ ان سے گفتگو میں اندازہ ہوا کہ ان کی بولی ہزارہ گی ہی ہے۔ جس میں کبھی کبھی کابلی کی جھلک بھی مل جاتی ہے۔ یہ بچے میری ہزارہ گی کو بخوبی سمجھ رہے ہیں:
خانے تو کجایہ؟
دَ اونجیہ
آتے تو کجایہ؟
کابل رفتہ؛ صُبا میہ
ایک بچی جو ہماری بات چیت کو غور سے سن رہی ہے، میں اس سے مخاطب ہوکر پوچھتا ہوں:
آزرہ استے یا تاجک؟
آزرہ!
چارمغزا سے آگے طائفہ ”سنگی خان“ کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ دریا کے اُس پار طائفہ ”جرعلی“ کی بودباش ہے۔ درہ ہزارہ نسبتاً تنگ، مگر بے حد خوبصورت ہے۔ افغانستان کے معروف شاعر اور لکھاری سمیع درہ ای کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔ سنگی کے بعد ”کُریہ“ نامی گاؤں آتا ہے۔ ہزارہ گی میں سخت پتھریلی زمین کو(کُریہ) کہتے ہیں اور یہی گاؤں ہماری منزل ہے۔
افضلی کا گھر ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ وہاں پہنچنے پر ہمارا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا جاتا ہے جس میں بیگانگی کے احساس کا شائبہ تک نہیں۔ چائے کے دور کے ساتھ ہماری گفتگو کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ تمام تر گفتگو ہزارہ گی میں ہورہی ہے۔ حاضرین میں ایک اسی سالہ بزرگ بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ درہ ہزارہ میں پانچ مختلف ہزارہ طائفے آباد ہیں جو مختلف ادوار میں ہزارہ جات کے مختلف علاقوں سے حکومتی مظالم کے باعث فرار ہوکر یہاں آئے ہیں۔ کچھ قندہار و ارغنداب سے جبکہ چند دیگر بامیان اور بغلان سے آئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض گھرانوں میں اب تک ان کے شجرنامے موجود ہیں۔ گفتگو کے دوران حاضرین مجلس ایسے قدیم ہزارگی الفاظ استعمال کرتے ہیں جو اب ہزارہ جات میں بھی متروک ہوچکے ہیں۔ اس گفتگو سے ان کے پس منظر پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً جب وہ کہتے ہیں
”سہ موگی“ ، ”خون کی آمدے“۔  تو یہ ان کے دایزنگی اور دایکنڈی سے قربت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کہتے ہیں، ”قد کی آمدے“ تو یہ ان کے بامیانی اور پروانی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
دور کے گھروں سے آئے قوما ایک ایک کرکے خدا حافظی کرکے چلتے گئے تو گاؤں کے مولوی صاحب نے کہا 
“سنی اور شیعہ ہزارہ کی وحدت ہماری بقا کی ضمانت ہے۔ خاص طورپر ہزارہ اور تاجک کے درمیان دوستی کے لئے بہت ہی سودمند ہے۔ ہر ایک کی زبان پر یہ بات ضرور تھی کہ ”قوما رہ سلام بوگید۔“ 
ہم رات گئے تک بنڈار کا سلسلہ چلاتے رہے اور سونے سے قبل ”قسم بر آسمان پُر ستارہ، ہزارہ شیعہ و سنی ندارہ“ سن کر اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔
صبح ناشتے سے فارغ ہوکر کابل واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو پرتپاک انداز میں خدا حافظ کہتے ہوئے سب ہی تاکیداً بولے
”قوما رہ سلام بوگید“
نوٹ: 2004ء کی انتظامی تبدیلیوں کے دوران درہ ہزارہ کو ضلع کا درجہ تو دیا گیا۔ مگر بدقسمتی سے اس کا سرکاری نام ضلع ہزارہ کے بجائے ”ضلع آبشار“ رکھا گیا جو کھلی ہزارہ دشمنی کے مترادف ہے۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *