ردعمل ۔۔۔ سجاد عاصم

پہلا واقعہ
اعجاز: یار سنا تم نے امجد بیچارے کا موبائل چوری ہو گیا؟ چور گن پوائنٹ پر موبائل کے ساتھ اس کا بٹوہ بھی چرا لے گئے جس میں اس کے سارے کارڈز موجود تھے۔
عارف: اچھا! چلو خیر ہے جان تو بچ گئی اس کی۔
اعجاز: جان تو بچ گئی لیکن۔۔۔۔
عارف: ویسے قصور امجد کا بھی ہے ہمیشہ موبائل پر باتیں کرتا رہتا ہے۔ کتنی بار میں نے کہا ہے کہ موبائل گھر میں رکھا کرے۔
اعجاز: لیکن یار موبائل ہوتے ہی بات کرنے کے لئے ہیں۔ اور موبائل کا کنسیپٹ بھی یہی ہے کہ اسے آپ اپنے ساتھ کہیں بھی لے جا سکتے ہیں۔ گھر میں رکھنا ہوتا تو ٹیلیفون کیا برا تھا؟
عارف: یار تم ہمیشہ امجد کی سائیڈ لیتے ہو۔ جب اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ اتنے چور دندناتے پھر رہے ہیں تو اسے کیا ضرورت کہ وہ چوروں کو اپنا موبائل دکھاتا پھرے۔ ظاہری بات ہے موبائل دیکھ کر چوروں کے دل میں لالچ پیدا ہوگا۔ ویسے بھی دنیاوی چیزوں کو دیکھ کر دل میں لالچ کا جنم لینا فطری بات ہے۔
اعجاز: لیکن یار ان چوروں کے پاس ہتھیار بھی ہوتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
عارف: بھئی کمال کرتے ہو تم بھی۔ اب کیا چور بیچارے چوری کرنے بھی بغیر پستول کے جائیں گے۔ چوری آسان کام تھوڑی ہے۔ جان سے بھی جا سکتے ہیں، اس لئے پستول لازمی ہے۔
اعجاز: لیکن۔۔۔
عارف: لیکن ویکن چھوڑو، چلو سامنے کیفیٹیریا میں چائے پیتے ہیں۔
اعجاز: چلو
 
دوسرا واقعہ
اعجاز: یار امجد ٹی وی پر خبر دیکھی، ریپ والی۔ ایک نہتی عورت کو موٹر وے پر چند غنڈوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، اس کے بچوں کے سامنے۔
امجد: ہاں یار خبر دیکھی میں نے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں سارا قصور اس عورت کا ہے۔ کس نے کہا تھا رات کو گھر سے بغیر کسی مرد کے نکلے۔ ایک تو آج کل ہماری عورتوں پر موڈرن ازم کا بھوت سوار ہے۔
اعجاز: یہ کونسی منطق ہے یار؟
امجد: منطق کو چھوڑو، سچائی اور دینداری کی بات کرو۔ کس نے کہا تھا اس عورت سے کہ گاڑی خود ڈرائیو کرے اور اوپر سے اپنی گاڑی کا پٹرول منزل پر پہنچے سے پہلے ختم کردے۔ اگر اس عورت میں عقل ہوتی تو وہ حسابی فارمولوں سے یہ اندازہ لگا لیتی کہ پٹرول کہاں ختم ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے دین میں کہاں لکھا ہے کہ عورت گاڑی ڈرائیو کرسکتی ہے، وہ بھی رات کے وقت۔ یا اگر غیر شرعی طور پر گاڑی چلا بھی رہی تھی تو کم از کم پردہ کر لیتی یا گاڑی کو پردہ کروالیتی۔
اعجاز: ہیں!؟ گاڑی کو کیسے پردہ کرواتی؟
امجد: کار کور ڈال لیتی۔
اعجاز: پھر ڈرائیو کیسے کرتی؟ کور میں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔
امجد: تو اچھا ہوتا نا! نہ کور میں سے کچھ نظر آتا نہ وہ گاڑی نکالتی، نہ ڈرائیو کرتی اور نہ ہی ریپ ہوتی۔
اعجاز: اس حساب سے تو کاش وہ پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔ نہ وہ پیدا ہوتی، نہ بڑی ہوتی، نہ اس کی شادی ہوتی، نہ بچے ہوتے، نہ وہ ڈرائیو کرتی، اور نہ اپنے بچوں کے سامنے ریپ ہوتی۔
امجد: ویسے تمھاری بات میں وزن ہے۔ اچھا چھوڑو ان باتوں کو۔ وہ دیکھو کیا لڑکی گزر رہی ہے! چلو پیچھا کرتے ہیں۔
اعجاز: وہ تو برقعے میں ہے، تمھیں کیا پتہ کوئی لڑکی ہی ہے؟
امجد: برقعے میں بھی آفت لگ رہی ہے۔ آو نا ہاتھ سے نکل جائے گی۔
اعجاز: چلو۔
سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *