امام حسین ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور سر زمین کربلائے معلی ۔۔۔ میر افضل خان طوری

٭
یہ کونسا سلطان عرب و عجم ہے جس کی سلطنت آج بھی قائم و دائم ہے؟ یہ کونسا شاہنشاہ ہے جس کے دربار میں آج بھی کروڑوں انسانوں کا جم غفیر ہے؟ یہ کونسا حاکم ہے جس کی حکومت حدود و قیود کی محتاج نہیں ہے؟ یہ کونسا خلیفة اللہ ہے جس کی دائمی خلافت کا جھنڈا دنیا کے ہر کونے میں لہرا رہا ہے؟
اس بادشاہ کا نام حسین ابن علئ ہے۔ یہ وہ ہیں جن کی پرورشِ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ید اللہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور خاتون جنت کی گود میں ہوئی ہے۔ یہ وہ ہیں جن کی بادشاہت آج بھی ساری دنیا پر عیاں ہے اور کل بھی جنت کی بادشاہت اسی کے ہاتھ میں ہوگی۔
حسین ؑ : حسین ؑ محافظ توحید، حسین ؑ عظمت انسان کا امین ، حسین ؑعظمت توحید کا امام مبین ، حسین ؑ عین الیقین کا مصداق، حسین ؑ راسخون فی العلم کا ولی ،حسین ؑ مظہر کن فیکون، حسین ؑ صاحب امر، حسین ؑ اوالألباب کا مظہر، حسین ؑ مظہر الغرایب ، حسین ؑ مظہر یزدان، حسین ؑ ناامیدوں کی امیدوں کا مستقر ، حسین ؑ احسن التقویم کا عملی نمونہ ، حسین آیہ تطہیر کی مثل، حسین ؑ آیہ مودت کا مقصود اور حسین ؑ فرزند اشرف الخلائق اجمعین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حسین ؑ فرزند ابو طالبؑ(محافظ رسالت) اور حسین ؑ فرزند علی ؑ و بتول ؑ ہیں۔
کربلا : مکہ اور مدینہ کے بعد ساری دنیا میں کربلا کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حسینؑ نے کربلا میں انسانیت کو وہ معراج عطا کیا کہ دنیا کا ہر آزاد انسان اس کو کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں کر سکتا۔ حسین ؑ نے انسانیت کو پامال ہونے سے ہمیشہ کیلئے نجات دلائی۔ حسین ؑ نے صرف 72 شہداء کے خون سے تین براعظموں کی جابر سلطنت کو زمین بوس کر دیا۔حسین ؑ نے ہر دور کے یزید کو تاقیامت رسوا و ذلیل کر دیا۔ حسین ؑ نے ظلم و جبر کے ایوانوں کو رہتی دنیا تک نشان عبرت بنایا۔ حسین ؑ نے انسان کو ہمیشہ کیلئے زندہ رہنے کا سلیقہ سکھایا۔
ساری دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے کہ کسی انسان کی قبر پر سالانہ دو کروڑ اور روزانہ 7 لاکھ سے زیادہ لوگوں کا جم غفیر ہو۔ ساری دنیا میں حسین ؑ وہ اکیلا انسان ہے جس کی قبر پر دنیا کے تمام مذاہب کے لوگ بلا تفریق آتے ہیں اور تمام دنیا کے انسان انکی قبر اطہر پر ان کو اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
آج اگر کسی نے توحید کو عملی شکل میں دیکھنا ہو تو کربلا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔آج اگر کسی نے انسانیت کی معراج دیکھنی ہو تو وہ کربلا کا نظارہ کر کے دیکھ لے۔
میر افضل خان طوری

میر افضل خان طوری

میر افضل خان طوری پیشے کے لحاظ سے سول انجنیئر ہیں۔ ان کا تعلق پاراچنار سے ہے۔ ان دنوں روزگار کے سلسلے میں دبئی میں مقیم ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *