نئے زمانے کی عید … راحیلہ بتول

 

عید قربان کے دوسرے دن ،شام کے کوئی چھ بجے، کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلنے کا اتفاق ہوا۔ مشہورومعروف گلستان ٹاون سے متصل ڈبل روڑ پر پہنچتے ہی میری آنکھوں نے جو منظر دیکھا اسے میرا قلم بیان کرنے سے کچھ ہچکچا سا رہا ہے۔ پھر بھی کوشش کرتی ہوں کہ صحیح منظر کشی کر پاؤں۔

پہلے تو کچھ نو عمر لڑکے موٹر سائیکلوں پہ سوار موت کا کرتب پیش کرتے دکھائی دیے۔ ڈبل اور ٹرپل سواری میں یہ جانباز اپنی زندگیوں سے تو بیزار لگ ہی رہے تھے ساتھ ہی ساتھ آس پاس گزرتے راہگیروں کو بھی اس خونی کھیل میں شریک کرنے کی بھرپور کوشش میں لگے تھے۔ وہ تو سلام ہو ان غازیوں پر جو کسی نہ کسی طرح اپنی جانیں بچا کر اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں تھے ورنہ ان جانبازوں نے تو کوئی کسر نہ چھوڑ رکھی تھی کہ ان سب کا نام شہیدوں کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔ ایف 16 تھنڈر کا عملی نمونہ بنے یہ موٹر سائیکل کم ہوائی جہاز لوگوں کے ہجوم کو چیرتے، پل بھر میں آنکھوں سے ایسے اوجھل ہو جاتے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اس عمل کوغالباً آجکل کی نسل ایڈونچر کے نام سے منسوب کرتی ہے۔ لیکن بات یہی پر ختم نہیں ہوتی اس ایڈونچر کو مزید چار چاند لگانے کے لیے ان جانبازوں نے اپنی موٹر سائیکلوں کے سائلینسرز میں بھی کچھ رد و بدل کر رکھا تھا جسکی وجہ سے ان کے انجنوں سے ایسی دلخراش آوازیں نکل رہی تھیں جو صور اسرافیل سے ملتی جلتی تھیں اور ان آواز کے کانوں میں پڑتے ہی قیامت کے آنے اور اس دنیا کے ختم ہوجانے کا یقین پختہ ہو جاتا تھا۔

خیر ابھی ہم اس صدمے سے باہر نکل نہیں پا ئے تھے کہ میری آنکھوں نے ایک اور منظر دیکھا۔ بند ڈبہ سوزوکی میں سوار چند حسین و جمیل دوشیزائیں، پورا عالم سر پہ اٹھائے ہلڑ بازی کرتیں ،گانے گاتیں، کھلی گاڑیوں میں کبھی اوپر تو کبھی نیچے آ جا رہی تھیں۔ اور مزے کی بات یہ کہ ان کی گاڑیوں کا قافلہ ہرگز ہرگز اکیلے سفر نہیں کر رہا تھا۔ چونکہ موٹر سائیکلوں پہ سوار جانبازوں نے ان دوشیزاوں کی حفاظت کا ذمہ سر پر اٹھا رکھا تھا۔ لہٰذا وہ بھی اس قافلے کے ہمراہ گاڑیوں کے دائیں بائیں، گالیاں نکالتے، گانے گاتے محو سفر تھے۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد یقین کریں کہ ذرا خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بھی لڑکوں کے جتنے برابر حقوق حاصل ہیں۔ پھر ذرا مثبت انداز میں خود کو بارہا سمجھانےکی کو شش کی کہ ہو سکتا ہے یہ بھی اسی ایڈونچر کی کوئی قسم ہو۔ مگر ہم تو ٹھہرے اولڈ فیشنڈ لوگ، نہ سمجھنا تھا نہ ہم سمجھے۔ ادھر ہر قسم کے خطرے سے بے نیاز وہ لڑکے لڑکیاں اپنی مستی میں مگن خطروں کے کھلاڑی بننے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔

دل و دماغ کی اس لڑائی میں، اپنی سوچوں میں مگن ابھی میں کچھ آگے بڑھی ہی تھی کہ اچانک کوئی چیز میری آنکھوں میں چلی گئی۔ آنکھیں ملتے ملتے اور اندھے ہونے سے بال بال بچنے کے بعد ادھر ادھرنگاہ دوڑائی تو پتہ چلا کہ کچھ بچے ہاتھوں میں برف والا سپرے اٹھائے، راہ چلتے لوگوں اور گاڑیوں میں موجود لوگوں پر برف پاشی کر کے ثواب دارین حاصل کر رہے تھے۔ ہر بچہ اپنے قد کے حساب سے بوتل اٹھائے لوگوں کے چہروں اور آنکھوں پر ایسے سپرے کر رہا تھا گویا خوب اس کی ٹریننگ لے رکھی ہو۔ انہیں دیکھ کر فورا ایک ہی خیال ذہن میں آیا کہ اس ملک و قوم کے معمار سائنس کی ایک ایجاد کے ناجائز استعمال سے کیسے اپنے ماں باپ کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اور نا جانے اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نےاپنے ماں باپ کا کتنا سرمایہ ڈبویا ہو گا۔ خدارا اب یہ مت کہیے گا کہ یہ ساری سرمایہ کاری ان کی عیدی کے پیسوں سے ہوئی ہوگی۔ توپھر یاد ہے نا بچوں کو عیدی تبھی ملتی ہے جب ان کے والدین خاندان کے بچوں میں عیدی تقسیم کرتے ہیں۔ مگر سو باتوں کی ایک بات پیسوں کی آخر کیا اوقات اس ایڈونچر کے آگے!؟

یہ سارا ماجرا دیکھنے کے بعد مجھے میرے بچپن کی عیدیں یاد آنے لگیں جن میں ایڈونچر تو نہیں تھا لیکن معصومیت، سادگی اور خوشی ضرور تھی۔ ہم سارے بچے تیار ہونے کے بعد بڑوں سے عید ملتے اور جب عیدی ملتی تو پہلے تو گھبرا جاتے پھر اپنی امی کی طرف حسرت سے دیکھنے لگتے۔ پھر جیسے ہی آنکھوں کے اشاروں سے ‘ہاں کا سگنل ملتا ہم فوراً وہ پیسے لے لیتے۔ پھر ایک بہت ہی سادہ طرز کا میلا( سرکش) لگتا تھا جس میں آج کے دور کے برعکس صرف چھوٹے بچے، بچیاں شامل ہوا کرتی تھیں۔ اس میلے میں سادہ سے چند جھولے، اونٹ کی سواری، تانگہ اور ایک دو فوڈ سٹال لگا کرتے تھے جہاں تمام بچے سادگی سے اپنی عید اور عیدی کو انجوائے کرتے۔ مگر معصومیت کی انتہا اتنی کہ عیدی خرچ کرتے وقت دل میں احتساب کا ڈر بھی برابر لگا رہتا۔  کیونکہ عید کے تیسرے دن جیسے ہی تاریکی پھیلنے لگتی، امی جان ایگ جرگہ لگا کر بیٹھ جاتی۔ تب سب بچوں کی عیدی الگ الگ سے شمار ہوتی اور بالآخر وہ قارون کا خزانہ امی کے خزانے کا چھوٹا سا حصہ بن جاتا جس سے امی بعد میں وقتا فوقتا کبھی گھر کی تو کبھی بچوں کی ضرورت پوری کرتی۔

اب مانا کے وقت بدل گیا ہے ، حالات بدل گئے ہیں۔ پھر اس حساب سے تو وقت کا تقاضا یہ بنتا ہےکہ ہم مزید بہتری کی طرف بڑھیں۔ ہمارا معاشرہ پہلے سے زیادہ سلجھا ہوا اور مہذب ہوتا جائے۔ مگر ہم تو الٹی گنتی کی مانند پیچھے کی طرف گامزن ہیں۔ جہاں مزید کئی برائیاں ہمارے وجود کا حصہ بن گئی ہیں وہاں مردم آزادی بھی ایک صفت شمار ہونے لگی ہے۔ عید ہو یا برات، جشن آزادی ہو یا کوئی دوسرا مذہبی اور مقامی تہوار، خوشی کا تو علم نہیں البتہ لوگوں کو خوب اذیت پہنچا ئی جاتی ہے۔ نئی نسل اپنی انجوائمنٹ کے چکر میں اچھے برے، چھوٹے بڑے کی تمیزنوش جان کر جاتی ہے۔عزت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے بالکل ڈرتے نہیں۔ سادگی تو کب کی ان کے پیروں تلے کچلی جا چکی ہے۔ رہی سہی اخلاقیات بھی بس چند دنوں کی مہمان لگ رہی ہیں۔ بد تمیزی، بد اخلاقی،  بے لحاظی کو ملا کر ایڈونچر کا نام تو دے دیا گیا ہے مگر یہ لوگ کیا جانیں کہ اس طرح ہم عید منا نہیں رہے بلکہ اس کی توہین کر رہے ہیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے عید کا کہ ہم پر ہتک عزت کا دعوی دائر نہیں کر رہی ورنہ ہم کہیں کہ نہ رہتے۔

راحیلہ بتول

راحیلہ بتول شعبے کے لحاظ سے ایک بینکر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *