غزل ۔۔۔ سجاد عاصم

غزل
کیا رکھا ہے جینے میں
آگ نہ ہو گر سینے میں
رہ گئے ہو بس چہرہ
دیکھ ذرا آئینے میں
آنکھیں خالی خالی ہیں
کھو گیا میں اپنے میں
تیری زلفیں حائل ہیں
شام کا جادو چلنے میں
حرکت میں بھی ہے ٹھہراؤ
میں نے دیکھا جھرنے میں
لاش بنے ہو تم بھی گر
کیا قباحت سڑنے میں؟
اپنی منزل ملتی ہے
اپنا رستہ چلنے میں
کتنا زمانہ لگتا ہے؟
ایک تماشا بننے میں
فرق ہے خون کے آنسو اور
سادہ پانی رونے میں
چودہ راتیں لگتی ہیں
چاند کو تجھ سا دکھنے میں
سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *