ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن … اسحاق محمدی

*
ستر(70) کی دہائی پاکستان اور بطور خاص چھوٹے صوبوں کے لیے اس لحاظ سے کافی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ باقیماندہ پاکستان (سابقہ مغربی پاکستان) میں سیاسی آزادی آئی، چھوٹی قومیتوں کے درمیان قومیت کی اورایک حد تک بائیں بازو کی سیاست کی اعلانیہ ابتدا ہوئی جس میں طلبہ ہراول دستے کا کردار ادا کررہے تھے۔ بلوچستان میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پشتونخواہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کافی فعال کردار ادا کرنے لگی جن کی دیکھا دیکھی ہزارہ طلبا بھی میدان میں اتر گئے۔ اس بارے میں مرحوم شجاع باڈی بلڈر کے بڑے بھائی جو اب یورپ میں مقیم ہے، نے ایک نشست میں بتایا تھا کہ: ”جب آئے روز مختلف قوم پرست سٹوڈنٹس تنظیمیں تواتر سے فنکشنز کرنے لگیں تو ہم ہزارہ طلبہ نے بھی ’خاربازی‘ میں آ کر اپنی آرگنائزیشن بنا ڈالی۔“ جناب عبدالعلی اصغری ہزارہ کے مطا بق 1970ء میں گورنمنٹ سائنس کالج کے ہزارہ طلباء نے ہزارہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن(ایچ ایس او) کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کا پہلا صدر جناب شبیرحسین(محترم پروفیسرناظرحسین کے چھوٹے بھائی) منتخب ہوئے اس کے بعد مرحوم محمدجمعہ آسا صدر بنے۔ نومبر 1972ء میں ممبران کی اکثریتی آراء سے اس کا نام ہزارہ ایس او سے تبدیل کرکے ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن(ایچ ایس ایف) رکھا گیا۔ 1973ء میں جناب عبدالعلی اصغری ہزارہ، ہزارہ فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ جناب اصغری ہزارہ کے مطابق اسی دور میں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بھی بنی تھی اور اکثرہزارہ طلبا بلکہ عہدیداران تک بیک وقت دونوں تنظیموں کے ممبر تھے کیونکہ دونوں اس وقت غیر سیاسی تھیں۔ (ہزارہ، سیاست اور بلوچستان، صفحہ 132 اور انٹرویو ہمراہ میچد ٹی وی)
میرا ہزارہ ایس ایف سے تعلق!
1980ء میں جب میرا ایڈمشن سائنس کالج میں ہوا تو اوائل میں ہزارہ ایس ایف زیادہ فعال نہیں تھی۔ حالانکہ اس وقت سینئرز اور نئے طلبا کو ملا کر20/25 ہزارہ طلباء صرف سائنس کالج میں زیر تعلیم تھے۔ اس دوران بی ایس او کے حمید شہید بلوچ کی رہائی کے کمپیئن میں دو تین بار احتجاجی جلسوں میں فیڈریشن کی نمائندگی میں مرحوم شوکت ارباب نے تقریر کی۔ اسی کمپیئن کے دوران ایک دن کالج لان میں ہزارہ طلباء کی ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں شہید یوسفی نے نادر ہزارہ، شوکت ارباب اور چند دیگر دوستوں کے ساتھ آکر ہزارہ ایس ایف کے بارے میں باتیں کیں اور ہمیں ممبر بننے کی دعوت دی۔ یوں میں ہزارہ ایس ایف کا ممبر بن گیا۔ بعد میں کچھ دوسرے لوگ بھی کالج آئے اور آئی ایس او کا ممبر بننے کی دعوت دی۔ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کوئی ممبر بنا یا یا نہیں؛ لیکن میں ان کا ممبر نہیں بنا۔ حالانکہ اس وقت میں مدرسہ خوی اور خمینی میں بیک وقت زیر تعلیم بھی تھا اورانقلاب ایران کے زیراثر ہماری کمیونٹی میں مذہبی سیاست بہت تیزی سے پھیل رہی تھی، جسکے اثرات طلبا میں بھی ظاہر ہورہے تھے۔ چنانچہ ابتدائی مباحث یا بہتر الفاظ میں ”مناظروں“ کا آغاز ہونے لگا۔ جوں جوں انقلاب ایران اندرونی طورپر مستحکم ہوتا جا رہا تھا، توں توں بیرونی طورپر اس کی مخالفت بھی بڑھتی جارہی تھی اور سیاسی مناظروں میں بھی شدت آ رہی تھی۔ غالباً سال 1981ء میں ایچ ایس ایف کے انتخابات میں نادرعلی ہزارہ(موجودہ چیئرمین تنظیم) کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ان کے مقابلے میں سعادت علی ہزارہ(کسٹمز) کا پینل تھا۔ نادر ہزارہ کے دور میں ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کافی فعال ہو چکی تھی۔ ایک طرف نظریاتی نیشنلسٹ طرزِفکر میدانِ عمل میں اتر چکا تھا تو دوسری طرف گرلز سیکشن بن چکی تھی، جس کے زیر نظارت ”طلوعِ فکر“ میگزین کا اجرا ہوا۔ اس کی ایڈیٹر محترمہ فاطمہ چنگیزی تھی۔ اگرچہ ابتدا میں چھپنے والے مضامین چندان معیاری نہیں تھے، لیکن بعد میں یہی میگزین ہزارہ طلبہ و طالبات کو رقمطرازی اور خامہ فرسائی کی طرف مائل کرنے کے لیے ایک زبردست پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ نادر ہزارہ کے بعد شہید یوسفی اوربعدازآں بالترتیب محمدعلی ہزارہ، حسن رضا چنگیزی، میں (اسحاق محمدی)، ڈاکٹرحسین یاسا اور زمان دہقانزادہ صدر منتخب ہوتے رہے۔ ان ادوار میں حسن رضا چنگیزی کے دور(1986-1988) کو اس لحاظ سے بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس دوران ہزارہ ایس ایف نے ترقی پسند نیشنل ازم کی پالیسی اپناکر ترقی پسند طلبہ تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں سے قریبی تعلقات قائم کیے، کابل حکومت کی ہزارہ پالیسی کی علی الاعلان حمایت کی اور پہلی بار چھ ہزارہ طالبعلموں کے پہلے گروپ کو فنی تعلیم کے لیے افغانستان بھیجوایا۔ اسی دور میں ثقافتی شوزکے انعقاد کا بھی آغاز ہوا جس میں ڈرامے، خاکے اور دمبورہ پروگرامز وغیرہ شامل تھے جس کی تفصیل میرے آرٹیکل ”پاکستانی ہزارہ اور ثقافتی سرگرمیاں“ میں مندرج ہیں۔ (یاد رہے، کہ اسی دور سے غلام علی حیدری کے ایماء پر ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اکابرین کی کردارکشی میں شدت آتی گئی)
میرا دورِ صدارت اور ایچ ایس ایف، حیدری اختلافات!
حسن رضا چنگیزی کی مدتِ صدارت کے اختتام تک میرا ایڈمشن بلوچستان یونیورسٹی میں ہوچکا تھا اور تمام دوستوں کا اصرار تھا کہ میں صدر کی حیثیت سے ایک پینل بنا کر شرکت کروں۔ میں نے حامی بھری اور الیکشن کے اعلان ہونے کے ساتھ ایک مضبوط پینل بنایا جس میں، میں (اسحاق محمدی)، شادروان عالم مصباح، عبدالخالق ہزارہ، اسماعیل چنگیزی، جواد مہری اور عابدعلی بابل وغیرہ شامل تھے۔ ہم نے ایک واضح لائحہ عمل اور پروگرام کے ساتھ اپنی کمپیئن شروع کی، جبکہ حیدری صاحب کے ایماء پر ایک کمزور پینل بغیر کسی لائحہ عمل کے میدان میں اترا، جن کا زیادہ زور الزام ترشیوں اور کردارکشی پر تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود ان کی ایک نہ چلی اور بالآخر انہیں الیکشن کے دن ہمارے پینل کے حق میں دستبردار ہونا پڑا۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ الیکشن کے چند مہینوں بعد حیدری صاحب نے ہزارہ ایس ایف کو بلاجواز تنظیم بدر کردیا اور ساتھ ہی تنظیم ڈبیٹنگ سوسائٹی کے نام سے ایک علیحدہ طلبہ ونگ کی بھی بنیاد ڈالی۔ اس طرح وہ ایچ ایس ایف کے ہر الیکشن میں باقاعدگی سے اپنا پینل میدان عمل میں اتارتے رہے اور ہم تمام جواز کے با وصف ان طالبعلموں کو نکالنے کے بجائے ان کا جمہوری انداز میں مقابلہ کرتے رہے اور انہیں سیاسی لحاظ سے شکست دیتے رہے۔ ان دنوں ایچ ایس ایف کے تمام الیکشنز میں اتنی گہما گہمی ہوا کرتی تھی کہ ہمیں ووٹنگ کے لیے مری آباد پرائمری سکول کی بلڈنگ ہیڈماسٹر فداحسین(خان) صاحب سے لینا پڑتی تھی۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ہر الیکشن میں حالات کا جائزہ لینے ضرور آتے اور ہر دفعہ یہی کہتے: ”از آجے شم نکد شمو الیکشن ایچ ایس ایف رہ بقد الیکشن صوبائی سیٹ وری جور کدین۔“ یاد رہے، کہ میرے دوسرے ٹرم کے انتخابات میں ہمارے پینل کو 500 سے زائد ووٹ ملے تھے، جبکہ حیدری پینل کو 100 کے قریب ووٹ۔ (تمام بیلٹ پیپرز 2009ء تک میرے آرکائیو میں پڑے تھے)
 
الیکشن میں دست برداری کو بعض دوستوں نے حیدری صاحب کی طرف سے ایک مثبت اقدام کے طورپر لیا اور الیکشن کے بعد ہم سب تمام تلخیاں پس پشت ڈال کر پوری تندہی سے اپنے اجتماعی کاموں میں لگ گئے۔ انہی دنوں جواد مہری اور عابدعلی بابل پر مشتمل ایک دو رکنی کمیٹی بنی جس کے ذمے یہ ٹاسک تھا، کہ وہ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے ان تمام اراکین سے ملاقات کرکے ان کو دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دے جو اب غیر فعال ہوگئے ہیں۔ ایک اور کمیٹی ہزارہ ایس ایف کے نئے دستورالعمل کو ازسرنو ترتیب دینے کے لیے بنی، کیونکہ سابقہ دستور صرف دو صفحات پر مشتمل ایک نامکمل دستور تھا۔ دونوں کمیٹیوں نے سرعت سے اپنا ٹاسک مکمل کیا۔ نیا دستورالعمل جس کا دیباچہ میرا لکھا ہوا ہے، تمام جزویات کے ساتھ جنرل باڈی اجلاس میں منظور ہوا۔ البتہ تنظیم کے حوالے سے دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ: ”بلا استثناء، بلا استثناء تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے تمام دلبرداشتہ اراکین، چیئرمین غلام علی حیدری کے منفی اور آمرانہ رویے کے سبب تنظیم سے نکلے ہیں اور موصوف کی موجودگی میں وہ دوبارہ آنے پر تیار نہیں۔“ یہ ہم سب کے لیے بڑا شاکنگ تھا۔ لہٰذا کافی بحث و تمحیص اور سینئر اراکین کے مشورے سے یہ فیصلہ ہوا کہ: ”چونکہ دونوں آرگنائزیشن کے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں اس لیے اس رپورٹ کو راز ہی میں رکھنا بہتر ہوگا۔“ اس کمیٹی کے دونوں اراکین اور باقی تمام سینئر ساتھی، جیسے: محمدعلی ہزارہ، مردان علی عقیل، حسن رضا چنگیزی اور اسماعیل چنگیزی سب ماشاء اللہ بقید حیات ہیں، کوئی ان سے تصدیق کراسکتا ہے۔ بعد کے ادوار میں جب حیدری صاحب نے ایک ایک کرکے تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے تمام بانی سنیئروجونیئر اراکین کو اس قومی تنظیم سے بے دخل کیا تو مجھ سمیت تمام دوست پشیمان ہوئے، کہ ہم سے یہ کیا خطا سرزد ہوئی۔ مگر، ”اب پچھتائے کیا ہوت؛ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔“
(جاری ہے)
نوٹ: اس آرٹیکل کی تیاری میں، میں نے اپنی یادداشت کے ساتھ ساتھ، حسن رضا چنگیزی، محمدعلی ہزارہ، عبدالعلی اصغری ہزارہ کی کتاب ”ہزارہ، سیاست اور بلوچستان“ مطبوعہ 2018ء کے علاوہ ان کے میچد ٹی وی انٹرویو سے بھی مدد لی ہے۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *