رویت ہلال کمیٹی ۔۔۔ سجاد عاصم

پاکستان میں چاند کھوجنے اور اسلامی مہینوں کا اعلان کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جسے رویت ہلال کمیٹی کہتے ہیں۔  اس کمیٹی کے کئی ممبران ہیں جن کا کام اسلامی مہینے کی پہلی رات کا چاند دریافت کرنا ہے یا پھر دریافت کرنے والے کی تائید کرنا ہے۔  چونکہ پہلی رات کا چاند کھوجنا کافی جوکھم بھرا کام ہے۔  اس لیے اس کمیٹی کا ممبر بننے کیلئے ایک سخت امتحانی مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔  دروغ بر گردن راوی،  کہتے ہیں کہ کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے اس قسم کے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے جس قسم کے امتحان سے ایک خلائی جہاز کا پائلٹ گزرتا ہے۔  بینائی کے معاملے میں کمیٹی کے انتخاب کنندگان کافی احتیاط برتتے ہیں کیونکہ چاند کو آنکھوں سے دیکھنا ایک لازمی اور شرعی معاملہ ہے۔  امتحان کے ایک مرحلے میں امیدواروں کو دیوار کے اس پار پہلی رات کے چاند جیسی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جنہیں انھیں بوجھنا پڑتا ہے اور اس مشکل امتحان میں صرف وہی امیدوار کامیاب ٹھہرتے ہیں جو چیزوں کو درست انداز میں بوجھتے ہوں۔  امتحان کے ایک اور مرحلے میں امیدواروں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر مختلف اطراف سے ان پر تیروں کی بارش کی جاتی ہے۔  ظاہر ہے جو تیروں سے خود کو بچا پاتے ہیں وہی منتخب ہوتے ہیں باقی تو تیروں کی تاب نہ لا کر چل بستے ہیں۔

راوی کا دعویٰ ہے کہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی؛  منتخب ہونے کے بعد امیدواروں کو جدید قسم کی تربیت دی جاتی ہے۔  اس جدید تربیت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قدیم روایات کا پاس رکھا جاتا ہے اور حتیٰ الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ جدید سائنس کا استعمال نہ ہو…… اور اگر استعمال ہو بھی تو وہ نہ ہونے کے برابر ہو۔  مثلا اگر خوردبین کا استعمال کرتے ہوئے کسی جگہ چاند نظر آجائے تو فورا خوردبین کو ہٹا کر اس جگہ گھورا جائے تاکہ نہتے آنکھوں سے چاند کو دیکھا جا سکے اور خوردبین کے استعمال کا شبہ نہ ہو۔  اسکے علاوہ سیٹلائٹ جیسے قبیح سائنسی ایجاد کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔  اس طرح تربیت کے دوران ممبران کو دل بینا سے دیکھنے کی تربیت دی جاتی ہے؛  وہی دل بینا جس کے لیے اقبال نے کہا تھا:

   ؎  دل بینا بھی کر خدا سے طلب …………آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

دل بینا سے دیکھنے کے لیے جس ریاضت اور مراقبے کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کمال حاصل کرنا بھی تربیتی پروگرام کا ایک لازمی جزو ہے۔  راوی کا ایک اور دعویٰ ہے کہ اس تربیت کے بعد کمیٹی کے ممبران اتنے قابل ہوجاتے ہیں کہ انھیں سیٹلائٹ سے پہلے چاند کی بھنک محسوس ہو جاتی ہے۔  یہی حقیقت حالیہ دنوں میں رویت ہلال کمیٹی ممبران اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے درمیان ایک جھگڑے کی وجہ بھی بنی۔  سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر (جو کمیٹی کے ممبران سے کدورت رکھتے ہیں کیونکہ اسکا دل،  دل بینا نہیں) نے سیٹلائٹ تصاویر سے ذوالحجہ کا چاند دکھانے کی ناکام کوشش کی جسے کمیٹی نے رد کردیا کیونکہ نہ تو نہتے آنکھوں سے اور نہ ہی دل بینا سے انہیں چاند نظر آیا اور آخر میں جیت کمیٹی والوں کی ہی ہوئی کیونکہ لوگوں نے انہی کے مقرر کردہ تاریخ پر عید منائی۔  اب چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ چونکہ ٹیکنالوجی کی وزارت کمیٹی کی جگہ لینے میں ناکام ہوئی اس لیے قوی امکان ہیں کہ کمیٹی کے ممبران سیٹلائیٹس کی جگہ لے لیں۔

نوٹ:  اگر آپ کمیٹی کے ممبران کی تصاویر دیکھتے وقت چند ممبران کوموٹی شیشوں والی عینک پہنے دیکھے تو ہرگز دل میں یہ خیال نہ لائیں کہ خدا نخواستہ ان کی بینائی کمزور ہیں اور وہ سائنس کا سہارا لے کر اپنی بینائی کو بہتر بنا رہے ہیں۔  وہ تو ان ممبران کی انکساری ہے کہ وہ عام آدمی جیسا دکھنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں۔  تاکہ لوگ احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں۔

سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *