شیعہ عرب اور ایران سے مرجعیت کو واپس لینا ۔۔۔ ترجمہ اسحاق محمدی

تحریر:  محمد السلمی

یہ واضح ہے کہ شیعہ مرجعیت کی جڑیں عراق یا یوں کہیے کہ پہلے بغداد بعد ازاں نجف میں ہیں اور یہ صورتحال کئی صدیوں تک تھی۔ قم صرف بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں کے دوران ایک مذہبی شہر کے طورپر نمودار ہوا اور وہ بھی ایرانی انقلاب کے بعد جب یہاں ملاؤں کی حکومت قائم ہوگئی اور انہوں نے شیعہ مرجعیت پر دعویٰ کردیا۔ دوسرے لفظوں میں تاریخ کے طویل عرصے کے دوران یہ عرب شیعہ تھے جو مرجعیت پر فائز تھے؛ نہ کہ ایرانی! انقلاب کے بعد ایرانیوں نے ایسی پالیسی اپنائی جس کے تحت وہ شیعہ دنیا اور خاص طور پر اردگرد کے علاقوں پر شیعہ رہنما ہونے کا تاثر دیتے اور خود کو شیعہ مفادات کے حامی کے طور پر پیش کرنے لگے۔ وہ اس راستے میں یہاں تک آگے نکل گئے کہ انہوں نے ایرانی آئین میں ایسی شقیں شامل کیں جسکے تحت مستضعفین کی حمایت پر تاکید کی جاتی ہے جس سے مراد شیعہ یا تشیع لیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ سب ڈھکوسلہ ہے۔ ایران نے ”ام القریٰ“ پالیسی کے تحت پہلے کوشش کی کہ قم کو مکہ کی جگہ دنیائے اسلام کے مرکز کے طورپر پیش کرے لیکن یہ کوشش بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی اسی لیے بعد ازاں اس نے قم کو نجف کی جگہ شیعہ دنیا کے مرکز کے طور پر پیش کرنے پر جت گیا۔ ایران نے ایک منصوبہ کے تحت چند عرب شیعہ ملاؤں کوجو قم جیسے چھوٹے شہر کے دینی مدارس میں عربی زبان کی درس دیتے تھے، انہیں جذب کرنے کے لیے ان کی بے پناہ مالی مدد کی۔ اسی طرح عرب شیعہ نوجوانوں کو خصوصی اسکالرشپس دیکر ان کی ایسی تربیت کی جاتی رہی کہ وہ اپنے علاقوں میں واپس آکر ان کے پراکسی کے طور پر کام کرنے لگ جاتے۔ یوں ولایت فقیہہ جو خالصتاً ایک تند رو رنگ و بو کی حامل ایرانی آئیڈیالوجی ہے، کو عرب نشین علاقوں میں برآمد کی جاتی ہے۔ لیکن ایران کا اصل مقصد صرف قم کو ایک مرکز بنانے تک محدود نہیں بلکہ اسکا مقصد عرب شیعہ مرجعیت کو پورے ریجن میں کمزور بنانا بھی ہے۔ پس وہ اپنے ان مقاصد کے حصول کے لیے عرب شیعہ مرجعیت کے خلاف جھوٹے وعدہ وعید، شیطانی ہتھکنڈوں، افتراپردازیوں، اسلحے کے زور اورخفیہ قتل تک کے حربے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہا ہے، جو سیاسی اور عرب قوم پرستی کے نقطہ نظر سے عرب ممالک کے فائدے میں ہیں لیکن اصل خرابی یہ ہے کہ یہ ممالک شیعہ مسلک کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ لبنان اور عراق میں جو عرب مراجع نشانہ بنے اور کارنر ہوئے ان میں الحسنی، الوانلی، الخوینی، الصرخی، الحسینی، الامین اور دیگر کئی اہم نام شامل ہیں۔
عراق سے مرجعیت کی ایران منتقلی یا بہ الفاظ دیگر شیعہ مسلک کی فارس سازی کی ایک اہم وجہ در حقیقت خمس اور نذرات پر تہران کا قبضہ جمانا بھی ہے جس سے اس نے پورے ریجن میں اپنے سیاسی و فرقہ آراستہ اہداف کے لیے اس طرح بھرپور استفادہ کیا کہ ان تمام ممالک میں جہاں شیعہ آباد ہیں وہاں ایران نے اپنے مفادات کے لیے فوجی اور نیم فوجی تنظیمیں بنائیں اور انہیں انہی ملکوں اور انکے اپنے بھائی بندوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ اس ضمن میں ایسے قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے جس کے ذریعے خمس اور نذرات کی رقم، ایران یا کسی اور ملک بھیجنے کے عمل کو روکا جاسکے۔ یہ پیش نظر رہے کہ یہ بدرجہا بہتر عمل ہے، کہ پیسے انہی ممالک میں اسی مذہب کے فقراء اور ضرورتمندوں میں تقسیم ہوں بجائیکہ بم بارود کی صورت میں ان ممالک میں ایران سے برآمد ہوں۔ عقلی لحاظ سے یہ معقول ہے کہ اپنوں کی مدد زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ایران ہی کو مورد الزام قراردیا جاے؟ میں انصافاً کہتاہوں کہ یہ مناسب نہیں۔ ہم میں سے کئی لوگوں نے شیعوں کو ایران کی گود میں ڈالنے کے لیے بالواسطہ یا بلا واسطہ کردار نبھائے ہیں۔ اگر ہم ایران اور شیعہ کو ایک ہی سکہ کے دو رخ قرار دیتے ہیں تو ہم ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سب شیعہ خامنہ ای کی تقلید نہیں کرتے اور نہ ہی ولایت فقیہہ کو مانتے ہیں۔ نیز یہ کہ جس مذہبی انتہاپسندی کو ایرانی صفویوں نے پانچ صدی قبل شیعہ عقاید میں شامل کرلیاتھا اور جسکو انقلاب 1979ء کے بعد ایران دوبارہ زندہ کرنے کی تبلیغ شروع کر رکھا ہے وہ سارے شیعوں کے لیے قابل قبول نہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب تکراراً کہہ رہا ہوں کہ سب ایرانی شیعہ اور سب شیعہ ایرانی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایران کے سو فیصد باشندے شیعہ نہیں، وہاں پچیس فیصد سنی بھی ہیں۔ اسی طرح کئی دیگر مذاہب کے لوگ بھی ایران میں بودوباش رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ عقلی اور منطقی لحاظ سے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم سب شیعوں کو ایران کے حامی قرار دیں۔ نیشنلسٹ اور اپنے وطن سے محبت کرنے والے شیعہ بھی ہیں جو ایرانی خطرات کا ادراک رکھتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ ایران کے حامیوں کے خوف اور دیگر مشکلات کے باعث اپنے جذبات کا کھل کر اظہار نہ کرسکے، مگرہم ان کے وجود سے انکار نہیں کرسکتے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ایسے گروہوں کی حمایت کریں اور ان کا دفاع کریں تاکہ ان کی اکثریت اپنے عرب ممالک کا ہمنوا بن سکیں۔
ایران کے حامی عرب شیعوں کو ایران سے الگ ہونے اور دوبارہ عرب دنیا میں واپسی کے لیے ابتدائی اقدامات خود انہیں اٹھانا چاہیے۔ شیعہ مرجعیت کو قم ایران سے دوبارہ نجف لانا ایک قومی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ خلیجی ممالک کے عرب شیعہ اپنے ہی ملکوں کے مراجع کی تقلید کریں اور اپنے خمس و نذرات انہیں دیں۔ اس طرح وہ اس دروازہ کو بند کردیں جس کے ذریعہ ایران ان ممالک میں نفوذ کررہا ہے۔ انہیں ایران میں آباد غیر فارس شیعوں کی حالت زار سے سبق سیکھنا چاہیے، کہ کس طرح تہران ان کے خلاف تعصب برت رہا ہے۔ اہوازی اور آذربائیجانی دو ایسی شیعہ گروہ ہیں جو عرب اور آذری ترکوں کے حامی بھی نہیں، لیکن پھر بھی ایرانی جبر و استبداد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اگر ایرانی نظام ولایت فقیہہ اس ملک کے اندر بسنے والے شیعوں کے ساتھ اس قدر متعصبانہ رویہ رکھتا ہے تو ان کی پالیسی ایرانی سرحد سے باہر رہنے والے شیعوں کے ساتھ کیسی ہوگی۔ خلاصہ کلام یہ کہ ایران کا ریجن میں شیعوں کی حمایت اور دفاع کی پالیسی کا اہم ترین مقصد ایرانی مفادات کے لیے شیعہ اقلیت کا استعمال ہے، اسکے سوا کچھ نہیں! پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ایران نے مذہب کے نام پر دھوکہ دیا ہے کیا وہ اس حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ، کیا یہ عرب شیعہ، شیعہ مسلک کو ایران کے قبضے سے آزاد کرکے واپس لاتے ہیں؟ ان سوالوں کے جوابات صرف ذی ربط لوگ ہی دے سکتے ہیں۔

منبع: روزنامہ الوطن

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *