ابراہیم ہزارہ، پہلا سیاسی شہید ۔۔۔ اکبر علی

پاکستان میں ہزارہ قوم کی سیاسی تاریخ میں چند ایک واقعات ایسے ہیں جو بہت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

انیس جولائی انیس سو چھیاسی کے واقعے کے ذکر کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔

جی ہاں، یہ وہ تاریخ ہے جب کوئٹہ کے ڈگری کالج میں ایک ترقی پسند اور سیکولر فکر کے حامل نوجوان ابراہیم ہزارہ کو دن دیہاڑے قتل کیاگیا۔

ان کے قاتل ایران نواز جماعت اور ولایت فقیہ کی پیروکار تنظیم آئی ایس او کے کارکن تھے جن میں سے بعض فرار ہوکر ایران جا بسے اور بعض برقع پہنے فرار ہوتے وقت گرفتار کر لیےگئے۔

ابراہیم کے قتل کا سبب جاننے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اس وقت کی سیاسی تحریکوں اور مُلکی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال کو جانا جائے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ہمسایہ ملک افغانستان اور ایران میں انقلابات آچُکے تھے۔ ایران کی نوزائیدہ مُلّائی حکومت ہمسایہ ممالک میں اپنے پنجے گاڑنے کے چکر میں تھی۔ خمینی صاحب کا مشہور قول زبان زدِ خاص و عام تھا کہ “اسلام مرز ندارد”، یعنی اسلام میں کوئی سرحد نہیں۔ یہاں خمینی صاحب کی اسلام سے مراد ان کی ولایت فقیہ ہی تھی۔

چنانچہ اس ضمن میں ولایت فقیہ نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے پاکستان کی شیعہ کمیونٹی اور بالخصوص کوئٹہ میں ہزارہ قوم کو استعمال کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایرانی ثقافتی مرکز “خانہ فرہنگ ایران” کا رول بہت موثر تھا، وہ یوں کہ اس سنٹر میں سکولوں اور کالجوں کے نوجوانوں کو جذب کرنے کیلئے انھیں کھانے وغیرہ کی دعوت دی جاتی تھی، ان کی نفسیات کو دیکھتے ہوئے انھیں فلمیں وغیرہ دکھائی جاتی تھیں جو اکثروبیشتر ایرانی پروپیگنڈہ فلمیں ہی ہوتی تھیں۔

حتی کے علاقے میں ایک باقاعدہ پرائمری سکول کا آغاز کیا گیا جہاں شاگردوں کو کپڑے، جوتے، کتابیں اور تمام تر سٹیشنری بھی فراہم کی جاتی تھی۔ نسبتا زیادہ کارندوں کی بھرتی کیلئے خاص طور مُلّاووں کو فعال کیا گیا۔ عوام ہمیشہ سادہ لوح اور مذہبی ہوتے ہیں۔ ان کو یہ باور کرایا جاتا تھا کہ ان ایرانی محافل، ایرانی سکول، ایرانی سنٹر میں شرکت دنیا و آخرت کیلئے فائدہ مند ہے۔

چھ جولائی انیس سو پچاسی کا افسوسناک واقعہ انھی کارندوں کا ہی کارنامہ تھا۔

ایسے میں اس خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے تنظیم نسل نو ہزارہ مغل اور روشنفکر طلبا تنظیم ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن نے ان ایرانی سرگرمیوں کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔

ایرانی سرگرمیوں کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کی گئی، عوام میں آگاہی مہم چلائی گئی، اسی طرح کالجز میں ان ملاؤں کی بڑھتی ہوئی  سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ہزارہ ایس ایف پوری طرح سرگرم تھی اور ابراہیم ہزارہ بلاشبہ ایک نڈر اور فعال نوجوان تھے جو ان ولایت فقیہ کے کارندوں کے خلاف پیش پیش تھے۔

چنانچہ ابراہیم ہزارہ کو ولایت فقیہ کے خلاف مزاحمت کے جرم کی پاداش میں انیس جولائی انیس سو چھیاسی کو ڈگری کالج کے احاطے میں شہید کیا گیا جو پاکستان کی ہزارہ قوم کے پہلے سیاسی شہید کا درجہ پا گئے۔

ابراہیم شہید بےشک آج ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کی سوچ اب ایک تناور درخت بن چکی ہے۔ ابراہیم نے اپنی جان کی قیمت پر کوئٹہ کو آئی ایس اُو کے وجود سے مکمل طور پر پاک کردیا۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ولایت فقیہ اب بھی اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئی ہے۔ اب بھی وہ اپنےکارندوں  کی بھرتیوں میں بہ طرز نو مصروف ہے۔

ایران کی جابر مُلّائی حکومت ولایت فقیہ کی تبلیغ و ترویج کی خاطر جس طرح پاکستان کی شیعہ کمیونٹی کو استعمال کررہی ہے وہ انتہائی قبیح اور قابل نفرت عمل ہے۔ کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی اس مقصد کیلئے خاص طور پر نشانہ بنی ہوئی ہے۔ سادہ لوح نوجوانوں کو امام حسین ع اور اہلبیت ع کے نام پر جذباتی طور پر بلیک میل کرکے انھیں اپنے نئے ایجنٹس کے پروپیگنڈہ مشین کے تجرباتی عمل سے گزار کر انھیں اپنا مستقل بھونپو بنانا اس مُلّائی ریاست کی مکروہ حرکتوں میں سے ایک ہے۔

پرانے ازکار رفتہ اور ایسے مُلّاووں کی جگہ جو منبر پر صرف ایرانی فارسی ہی بول سکتے تھے، اب ایسے نئے کارندے بھرتی ہوکر منبر پر براجمان ہوچکے ہیں جو نئی نسل کی اپنی زبان یعنی ہزارگی اور اردو میں منبر رسول(ص) پر بیٹھ کر سیاسی پروپیگنڈہ مشین کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پرانے کارندوں کے کارناموں میں اگر چھ جولائی اور انیس جولائی کا سیاہ عمل درج ہے تو ان نئے کارندوں نے ایران کیلئے یوم القدس کے روز ایک سو 100 نوجوانوں کا خون بہا کر ایران کی سیاسی وفاداری کی  فائل میں اپنے نام ایک نئے تمغے کا اضافہ کرلیا ہے ، جو دراصل ان کے منہ پر ایک بدنما داغ کے مترادف ہے۔

منبر رسول(ص) تو ان کے اختیار میں ہے ہی، یہ نئے کارندے ایک دوسرے کی رقابت میں اب آئے روز فیسبک پر بھی ویڈیوز شیئر کرکے نوجوانوں کو ورغلاکراپنی تنخواہ بڑھانے میں کوشاں ہیں۔

ایرانی آخوندی رژیم ان ایجنٹوں کو “ڈاکٹریٹ” کی ڈگری یوں عطا کررہی ہے جیسے کوئی ریوڑیاں بانٹتا ہو۔ گویا ان ہتھکنڈوں کے ذریعے یہ نوجوانوں کو باور کرارہی ہے کہ یہ کارندے واقعی “ڈاکٹرز” ہیں۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی حد تو دیکھئے کہ اس جھوٹ اور فراڈ کو یہ اپنی چھاتیوں پر ٹھونکتے بھی ہیں۔ شارلتان ایک بہترین لفظ ہے جو ان مُلّاووں کی اصلی اور حقیقی تعریف کرتا ہے۔

لہذا نئی نسل کو چاہئے کہ ان “شارلتانوں” سے ہوشیار رہیں۔ ان کی سیاسی اور مذہبی بلیک میلنگ میں نہ آئیں۔

یہ آپ کے خلاف پروپیگنڈا کریں گے۔ ان کے سادہ لوح مقلدین آپ کو گالیاں دیں گے، یہ کارندے آپ کو کمیونسٹ، ملحد اور جانے کیا کیا کہیں گے لیکن آپ نے حقیقت کو جان کر ہی جینا ہے۔ آپ نماز پڑھئے، روزہ رکھئے اور اپنے مذہب پر پوری آزادی سے عمل کیجئے۔ آپ کو آپ کے مذہب کی پیروی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مذہبی آزادی آپ کے بنیادی حقوق میں سے ہیں اور یہ حق آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ان کارندوں کی باتوں میں آکر اپنے مذہب کو سیاسی آلودگی سے بچائیں اور سیاست سے دور رکھیں۔ ان کو مکس نہ کریں۔

ان مُلّاووں کے کہنے سے نہ تو آپ ملحد ہوجائیں گے نہ ہی کمیونسٹ۔ یہ آپ کو جہنم سے ڈرائیں گے اور جنت کا لالچ دیں گے لیکن آپ کا اپنا ضمیر آپ کی عدالت ہے۔ آپ کو جنت اور جہنم آپ کے ضمیر کا اطمینان ہی دے گا۔ آپ سچ اور سچائی کی راہ پر ہیں تو اہلبیت ع آپ سے ناراض نہیں ہوں گے، جس طرح یہ مُلا آپ کو ڈراتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی کتابیں، بشمول مذہبی کتابیں آپ کی دسترس میں ہیں۔ کتابیں پڑھا کریں اور ان مُلّاووں کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں۔ یہ کوئی جھوٹ بولیں تو فورا ٹٹولیں اور ان کا جھوٹ ان کے منہ پر  دے ماریں۔ ان کا کام فساد برپا کرنا ہے کیونکہ  ان کا جسم “فی سبیل اللہ فساد” ہے۔ ان سے دور رہنے میں ہی بہتری ہے۔

نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ابراہیم ہزارہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور عوام کو ان مذہبی عناصر کے ہاتھوں فریب کھانے سے بچائیں۔

اکبر علی

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے معاون مدیر اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *