مثبت رپورٹنگ ۔۔۔ سجاد عاصم

 
کچھ دنوں پہلے ایک ٹی وی چینل نے حکومت کی طرف سے پٹرول 25 روپیے مہنگا کرنے پر مثبت رپورٹنگ کی ا نتہا کردی- رپورٹنگ کرتے ہوئے رپورٹر گویا ہوا، “پچھلے 26 روز سے جو پٹرول بحران چل رہا تھا، حکومت نے بڑے ہی احسن انداز میں گزشتہ رات پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر کے اس بحران پر قابو پا لیا ہے۔۔۔ عوام اس بات پر بھی خوش ہیں کہ حکومت نے صرف 25 روپیے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا”۔۔۔ وغیرہ وغیرہ”
 
بات رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر مدح سرائی تک پہنچ گئی-
 
اب اگر یہی نیوز چینل اور رپورٹر حکومت کی دوسری پالیسیوں پر اسی قسم کی مثبت رپورٹنگ کریں گے تو کچھ یوں کریں گے۔۔۔
 
 
حکومتی نوٹیفیکشن: عید الاضحی کیلئے جانوروں کی منڈیوں پر پابندی نہیں ہوگی- نہ ہی عید کی تقریبات منانے پر پابندی ہوگی- البتہ لوگوں پر لازم ہوگا کہ ایس او پیز کے تحت جانوروں کی قربانی کریں اور عید منائیں-
 
 
مثبت رپورٹنگ: پچھلے کئی دنوں سے جو لوگوں میں تذبذب اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہورہی تھی کہ وہ کس طرح سے اپنے پسندیدہ جانوروں کی قربانی کریں گے اور کس طرح وائرس کے خطرے سے بے نیاز عید کی خوشیاں منائیں گے، اسے حکومت نے بڑے ہی تدبر اور تفکر سے ارسطوئی منطق استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں سے غائب کر دیا ہے- حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مویشی منڈیاں بند نہیں ہوں گی اور نہ ہی عید منانے پر پابندی ہوگی- یہ خبرسن کر عوام خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، کئی لوگ تو خوشی سے پاگل ہو گئے ہیں اور کئی بزرگ حکومتی اعلان سے لے کر اب تک سر بسجود ہیں اور شکرانے کے نوافل ادا کررہے ہیں- بچوں میں مٹھائیاں بٹ رہی ہیں اور عورتیں اس انڈین گانے پر راگ الاپ رہی ہیں
“شکریہ شکریہ شکریہ میرے پی ایم ۔۔۔ جتنے سوئے خواب تھے سب کو جگا دیا”۔
 
عوام اس بات پر بھی خوش ہیں کہ حکومت اسمارٹ لاک ڈاون کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کرمنڈیاں کھلوا رہی ہے، جس سے لوگوں کو اپنا وقت جانوروں کے درمیان گزار کر ایک دوسرے سے سوشل ڈسٹینس رکھنے میں مدد ملےگی- حکومت کا سب سے اچھوتا خیال اور سب سے ذریں ہدایت یہ ہے کہ ایس او پیز پر عمل پیرائی ہو- اس ہدایت پر من و عن عمل کرتے ہوئے انسان تو انسان جانور بھی ماسک پہننا شروع کر دیں گے، جس سے انسانوں سے جا نوروں میں وائرس کی منتقلی نہیں ہوگی اور جانور قربانی سے پہلے مردار ہونے سے بچ جائیں گے- اور ویسے بھی ہم شکر الحمدللہ پکے اور سچے مسلمان ہیں اور پوری دنیا میں ہماری “مسلمانیت” کی مثالیں دی جاتی ہیں تو عید پر کسی طرح کا لاک ڈاون نہ کرنے کا فیصلہ کرکے حکومت نے اس آفاقی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے- امید ہے ہمارے اس فیصلے سے متاثر ہو کر سعودی عرب ہم پر حج کے دروازے ہنگامی بنیادوں پر کھول دے – اور ہم سب ایس او پیز کے تحت حج ادا کرنے کے قابل ہو سکیں – اسے کہتےہیں وژن، اور ایسے ہوتے ہیں ایمان دار لیڈر- قوی امکان ہے کہ ہمارے پی ایم کی انہی پالیسیوں سے متاثر ہوکر او آئی سی انکا لقب “قائداعظم خان” رکھ دے-
 
کچھ لوگوں کو خواہ مخواہ کا خدشہ ہے کہ لاک ڈاون نہ کرنے سے اموات بڑھ سکتی ہیں- اس قسم کے خدشات کی دراصل کوئی حیثیت نہیں۔ انہیں ہم ایک دیوانے کے خواب سے تشبیہہ دے سکتے ہیں- فرض کرلیں ۔۔۔ اگر مثال کے طور پر ۔۔۔ حقائق کے برخلاف ۔۔۔ اموات بڑھ بھی جاتی ہیں تو وہ لوگ خوش قسمت ہوں گے جو عید کی خوشیاں منانے کی خاطر موت کو گلے لگائیں گے- دراصل وہ فوت نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کی راہ میں قربان ہوں گے- اور”عید قربان” پر قربانی سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے- مزید برآں، قوی امکان ہے کہ سرکاری طور پر انہیں شہید کا درجہ دیا جائے- اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں!
 
اس خوش خبری کے بعد اپنے مثبت رپورٹر کو مدح سرا کیمرہ مین کے ساتھ اجازت دیجیے، خدا حافظ!
سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *