سانحہ 6 جولائی1985ء، ایک خونین باب کا آغاز ۔۔۔ اسحاق محمدی

 

گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی ہمارے خِطے کی تاریخ میں اس لحاظ سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دہائی کے آخری چند سال کے دوران بڑے بڑے سیاسی تحولات آئے۔ اپریل 1978ء میں روس نواز خلق ڈیموکریٹک پارٹی نے افغانستان میں سردار داؤد خان کا تختہ الٹ کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالی جس کے جواب میں امریکہ کی سربراہی میں قائم مغربی ممالک کے اتحاد نے نئی حکومت کو ناکام بنانے کی جارحانہ پالیسی ترتیب دی۔ اسی پالیسی کے تحت اس اتحاد نے ایک طرف پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو کی منتخب حکومت پر شب خون مارنے والے جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ حکومت کی حمایت کی جبکہ دوسری طرف ایران میں روس نواز “تودہ پارٹی” کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے عراق میں مقیم جلاوطن مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی کو اقتدارمیں لانے کی راہ ہموار کی، جس کا فیصلہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سراباہان نے فرانس کے زیر انتظام جنوبی کیریبين جزیرہ گواڈالوپ میں ایک سربراہ مِٹینگ منعقدہ 4 تا 7 جنوری 1979ء کے دوران کی تھی (1)۔

ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق نے حالات کے تیور دیکھتے ہوئے اپنے غاصبانہ اقتدار کو طول دینے کے لئے پاکستان میں اسلامی نظام، نافذ کرنے کا اعلان کردیا جس میں  ایک ” نظام زکوات” کا نفاذ بھی تھا۔ نظام زکواۃ کے خلاف شیعہ مسلک کے علماء نے مرحوم مفتی جعفرحسین کی قیادت میں کافی بحث و تمحیض کے بعد 14 نکات پر مشتمل مطالبات کی ایک فہرست تیار کرکے حکومت کو پیش کی جس کے چند بنیادی اور فرعی مطالبات درج ذیل تھے:

1-پاکستان میں شیعہ مسلک کو زکواۃ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
2- عزاداری پر کوئی قدغن نہ ہو۔
3- سکول لیول تک شیعہ طلبا کے لئے دینی نصاب الگ ہو۔
4- درسی کتب سے قابل اعتراض مواد خارج کیا جائے۔
5- شیعہ اوقاف بورڈ قائم کیا جائے۔
6- شرعی عدالتوں میں شیعہ علماء بھی مقرر کیے جائیں۔
7- سعودی عرب سے وہابی علماء کی پاکستان آمد کی طرز پر نجف و قم سے بھی جید شیعہ علماء کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے (وغیرہ وغیرہ)۔

ابتداء میں ان مطالبات پر آمر جنرل ضیاءالحق نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس کے جواب میں مفتی جعفرحسین نے جولائی 1980ء کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک کنونشن کے دوران دھرنہ دینے کا اعلان کیا جس سے وفاقی دارالحکومت مکمل طورپر جام ہوگیا۔ کئی دنوں تک مسلسل دھرنوں کے بعد بلاخیر ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کو جھکنا پڑا۔ اس نے مفتی جعفرحسین کے زیر قیادت وفد سے ایک طویل مذاکرات کے بعد اہم بنیادی شیعہ مطالبات یعنی زکواۃ سے اسنثناء، عزاداری کی آزادی اور سکول لیول تک جداگانہ شیعہ نصاب کو شامل کرنے کے مطالبات قبول کرتے ہوئے باقیماندہ غیر اہم فرعی نکات کو باہمی مذاکرات کے زریعے حل کرنی کی حامی بھری جس کے بعد مرحوم مفتی جعفرحسین نے دھرنے کے اختتام کا اعلان کیا۔

اب چونکہ اہم بنیادی شیعہ مطالبات منظور ہوچکے تھے اور ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا تھا اس لئے مرحوم مفتی جعفرحسین نے باقیماندہ غیر اہم فرعی مطالبات کے سلسلے میں زیادہ سخت پالیسی اپنانے کے بجائے باہمی مذاکرات کا راستہ اپنایا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ زخم خوردہ آمر، جنرل ضیاءالحق جو دن بہ دن سعودی عرب کے قریب تر ہوتا جارہا تھا، سے مزید چھیڑ چھاڑ ہرگز شیعوں کے مفاد میں نہیں۔ بدقسمتی سے اگست 1982ء میں یہ جہان دیدہ رہنما وفات پا گئے اور ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی کے نظریہ ولایت فقیہ سے وابستہ علامہ عارف حسین ان کے جانشین بنے جن کا تعلق قبائلی علاقہ پاڑہ چنار سے تھا۔ چنانچہ علامہ موصوف نے اسی عمومی مزاج کے عین مطابق غیراہم فرعی مطالبات پر نہایت سخت موقف یعنی انقلابی راستہ اپنایا، یا اسے اپنانے کی ہدایت ملی۔ بہرحال انقلاب زدہ علامہ صاحب نے ایسے حالات میں احتجاج کی کال دی جب ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کو بزور طاقت دبانے کی پالیسی پر گامزن تھا، ایسے میں کسی اور کی جانب سے اسے للکارنا حماقت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بدقسمتی سے موصوف کی اس حماقت سے سب سے زیادہ متاثرکوئٹہ کی امن پسند ہزارہ قوم ہوئی جبکہ دیگر علاقوں کے شیعہ بشمول ان کا آبائی علاقہ پاڑہ چنار بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر مرحوم مفتی جعفرحسین جیسے مدبر اور دور اندیش رہنما زندہ ہوتے تو اس طرح کا بگاڑ اور اس طرح کے بھاری نقصانات ہرگز نہ ہوتے۔

6 جولائی 1985ء کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے نئے انقلاب زدہ، قائد کی کال پر ملک کے چند شہروں میں اکا دکا احتجاجی جلسے اور ریلیاں ہوئیں لیکن کوئٹہ میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ کینڈا میں مقیم بلوچستان پولیس کے سابق آفیسر جناب سارجنٹ ادریس کے مطابق، امام بارگاہ قندھاری میں جلسے کے دوران بار بار جلسہ کے منتظمین بطورخاص شیخ یعقوب توسلی اور شیخ جمعہ اسدی تک انتظامیہ کی طرف سے یہ واضح پیغام پہنچایا گیا کہ مارشل لاء اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے جلوس نکالنے کی صورت میں سخت کاروائی ہوگی۔ یاد رہے کہ اس وقت ایک ہزارہ پولیس آفیسر سردارخیرمحمد، ایس ایس پی کوئٹہ کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا۔ جناب ادریس جواس روز امام بارگاہ قندھای چوک (موجودہ شہداء چوک) پر تعینات تھا، کے بقول ایس ایس پی صاحب کا پیغام خود میں نے بھی کئی بار براہ راست منتظمین اور شیخیوں تک پہنچایا لیکن موصوفین نے جواب میں نہایت جارحانہ رویہ اختیارکیا بطور خاص شیخ توسلی صاحب نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے “من لبنان میسازوم” کا نعرہ بلند کیا اور “اے مرد مجاہد جاگ ذرا” کا جنگی ترانہ بجوا کر حاضرین کو خوب اشتعال دلا نے کے بعد باہر نکلنے کا حکم صادر کردیا۔ جناب ادریس کے مطابق ایسے میں پولیس کے پاس آنسو گیس استعمال اور لاٹھی چارج کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا جس کے جواب میں مشتعل ہجوم کی طرف سے فائرنگ ہوئی اور پولیس کو بھی جواب دینے کا حکم ہوا۔ مظاہرین کی طرف سے فائرنگ کی شروعات کی تائید بعض دیگر عینی شاہدین بھی کرتے ہیں۔ جبکہ چند ایک نے براہ راست سید شاہ گل کو اس پہل کا ذمہ دار قرار دیا جس کا تعلق پاڑہ چنار سے تھا۔ اس خونی ڈرامہ میں 18 ھزارہ اور شیعہ سمیت 30 کے قریب عام لوگ اور پولیس والے مارے گئےجس کے بعد علاقے میں پاکستانی تاریخ کا سب سے طویل کرفیو لگا۔ ہزاروں بیگناہ لوگ گرفتار ہوکر شدید تشدد کا نشانہ بنے، کروڑوں کا مالی نقصان ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہزارہ قوم اور حکومتی ایوانوں میں ایک ایسی خلیج آگئی جوکئی عشرہ گذرنے کے باوجود آج تک قائم ہے۔ چنانچہ سانحہ 6 جولائی 1985ء کے بعد سے اب تک کوئی ہزارہ آفیسر شاندار ریکارڈ رکھنے کے باوجود، پاکستان آرمی میں بریگیڈیر رینک سے آگے ترقی نہیں پا سکا ہے۔ یہی صورتحال بعض دیگر اہم اداروں میں بھی ہے۔

کئی دہائیوں بعد سانحہ 6 جولائی 1985ء کا ایک اہم ذمہ دارفرد شیخ جمعہ اسدی اپنے ایک انٹرویو (2016ء) میں خود یہ اقرار کرتا ہے کہ “ہمارے مطالبات (بنیادی مطالبات) تسلیم ہوئے تھے لیکن اس روز میزان چوک میں “ملی یکجہتی” والے آنے والے تھے!؟ ۔ ایسے میں کئی اہم سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً جب بنیادی شیعہ مطالبات قبول ہويچکے تھے تو مارشل لاء، دفعہ 144 اور انتظامیہ کے بار بار انتباہ کے باوجود غیر اہم مطالبات کے لئے جلوس نکالنے کی کیا ضرورت تھی اور اسکا حکم کہاں سے آیا تھا؟ سانحہ 6 جولائی کے بعد ان غیر اہم فرعی مطالبات کا کیا بنا، اس کے بعد اس بابت کبھی لب کشائی کیوں نہیں ہوئی، کیا اس جلوس کا صرف ہزارہ قوم کو مارشل لائی حکومت سے ٹکرانا مقصود تھا؟ آخر یہ ملی یکجہتی والے کون تھے؟ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے ان کے کیا اسقدر اہم کمٹمنٹ تھے، کیا ملی یکجہتی کے مفادات ہزارہ قومی مفادات سے بالاتر تھے جس کی خاطر ہزارہ قوم کو قربانی کا نشانہ بنایا گیا، اور – – اور – – !؟

 

 یہ انٹرویو در اصل ایک مکمل اعتراف جرم ہے کہ حقیقت میں یہ خونی ڈارمہ، شیعہ 14 نکات کی آڑمیں عمداً و قصداً  کھیلا گیا جس کا مقصد ہزارہ قوم کو ہر لحاظ سے نقصان پہنچانا تھا۔ یہ ایک بیرونی ایجنڈا تھا۔ یہی سا نحہ، دو عشروں پر محیط طویل ہزارہ نسل کشی کی بنیاد بنا۔ اس بابت کافی شواہد موجود ہیں جو بقول مرزا اسداللہ خان غالب:

افسوس صد ہزار سخن ہائی گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے نا گفتہ رہ گئے

ہزارہ قوم کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس وقت جنرل ریٹائرڈ محمد موسیٰ خان ہزارہ بقید حیات تھے جو سانحہ کے فوراً بعد بنفس نفیس کوئٹہ پہنچے اور جنرل ضیاءالحق اور فوج سے اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے ہزارہ قوم کو مزید فوری انتقام کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن جیسا کہ بتایا گیا اس کے طویل منفی اثرات اب تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

نوٹ:
گواڈا لوپ (Guada Lupe) سربراہ اجلاس کے بارے میں کتابوں سمیت کافی دیگر مواد، گوگل اور یوٹیوب پر موجود ہیں۔

اس آرٹیکل کی تیاری کے سلسلے میں دیگر افراد کے علاوہ کینیڈا میں مقیم سابق ہزارہ پولیس آفیسر جناب سارجنٹ ادریس سے کافی مفید معلومات ملیں۔ ان سب کا بے حد شکریہ۔

 

 

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *