مذہبی اسکالر …. سجاد عاصم

*

*

“کورونا، وائرس سے زیادہ ایک سازش ہے، ایک یہودی سازش جو مسلمانوں کو تاراج کرنے کے درپے ہے۔ چین میں اس کی تخلیق ہوئی، اور مسلمان محققین کا دعویٰ ہے کہ اسے چینی زبان سمجھ آجاتی ہے۔ اور ان کا قیاس ہے کہ اگر اس کی آنکھیں ہوتیں تو چینیوں جیسی ہوتیں۔ لیکن آپ کے شیطانی ذہنوں میں یہ سوال ماہی بے آب کی طرح بیتابی کر رہا ہوگا کہ بھئی چین سے یہودیوں کا کیا تعلق؟ تو میں آپ کے لئے یہ عظیم انکشاف کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ چین کے جس صوبے میں اس وائرس کی تخلیق ہوئی، وہاں یہودیوں کا ایک قبیلہ رہتا ہے جسے کائفینگ (Kaifeng) کہتے ہیں۔ اسی قبیلے نے یہ قبیح حرکت کی ہے۔”

“اصل میں اس وائرس کی تخلیق تو اس طاغوتی سازش کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ دوسرے مرحلے میں اس وائرس کو بہانہ بنا کر مسلمانوں میں ویکسین کے ذریعے ایک ایسے کیمیکل کا دخول ہے جس سے ان کی شاہینی قوت متاثر ہوگی۔ چار شادیاں تو دور کی بات ایک شادی بھی ان کے لئے مصیبت بن جائے گی۔ اور وہ نئی اور اچھی نسلیں پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ نتیجتا” یہودی اور عیسائی اس دنیا پر قابض ہو جائیں گے۔ یہ بھی بعیدالقیاس نہیں ہے کہ اس ویکسین کے ذریعے مسلمانوں میں مائیکرو چپس (chips) نصب کیے جائیں جن سےمسلمانوں کی روز مرہ زندگی سے متعلق وہ معلومات جو گویا گوہر نایاب کی حیثیت رکھتے ہیں، حاصل ہوں۔ بلکہ مسلمان محققین (جنھوں نے سالوں ایسی چپس پر ریسرچ کی ہیں) کا دعویٰ ہے کہ ان کےذریعے وہ مسلمانوں کو اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کر سکیں گے۔ “وہ” سے میری مراد “یہودی” ہے۔”

“اب ایسی “مائیکرو” چپس جو چھوٹے ہونے کے ساتھ ساتھ اتنے “سافٹ” بھی ہوں کہ آسانی سے ویکسین کے ذریعے خون میں شامل ہوسکے، “مائیکروسافٹ” کے بانی سے بہتر کون بنا سکتا ہے۔ جی ہاں! یہاں سے ہماری بحث میں بل گیٹس (بانی مائیکروسافٹ) کی انٹری ہوتی ہے! لیکن ظاہر ہے آپ کو گوگل کر کے پتہ چل جانا ہے کہ بل گیٹس عیسائی گھرانے کا چشم و چراغ ہے، حتی کہ اس کی بیوئ عیسائی ہے، اس لیے آپ کے ذہین میں شیطان یہ سوال ڈالے گا کہ اس کا کسی یہودی ایجنڈے سے کیا تعلق؟ تو یہاں میں آپ کے لئے ایسی معلومات فراہم کروں گا جو صرف عالم غیب سے حاصل کرنا ممکن اور جس کے لئے میں نے چالیس راتوں کا چلہ کاٹا ہے۔ پچاس راتوں کا بھی کاٹ سکتا تھا لیکن کیونکہ چلہ ہوتا ہی چالیس راتوں کا ہے اس لیے چالیس کا کاٹا۔ تو چالیس راتوں کی بیداری اور خبیث الہیئت جنات سے نبرد آزمائی کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ بل گیٹس عیسائی نہیں بلکہ ایک ملحد ہے۔ اور ملحد اور یہودی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، دونوں میں “ح” اور “د” ہوتے ہیں۔”

“اب ابلیس کی اولادیں آپ کےذہنوں میں یہ بیہودہ سوال ڈالنے کی کوشش کریں گے کہ آخر یہودی مسلمانوں کے خلاف سازش کیوں کرنے لگے؟ تو بھئی سمپل سی بات ہے کہ وہ ہماری ترقی سے گھبرا گئے ہیں۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ ہماری ترقی مغربی ممالک جیسی نہیں جو زندگی کی بنیادی سہولیات کے حصول اور جنسی بے راہروی کو ترقی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہماری ترقی الہوی ہے، جسکا نظر آنا لازمی نہیں ہے۔ ہم نے دین کی ترویج اور ترقی کے لئے بحر ظلمات میں جو گھوڑے دوڑائے  ہیں وہ دراصل دشمن کے سینوں پر اپنی ٹاپیں ثبت کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کا ہمارے خلاف سازش کرنا فطری عمل ہے۔”

“الہوی ترقی کے علاوہ، سائنسی علوم میں ہماری ترقی اظہر من الشمس ہے۔ مغربی دنیا کے بڑے سائنسدانوں نے اسلامی دنیا کے عظیم سائنسدانوں سے اپنے نظریات چرائے ہیں۔ نیوٹن نے کشش ثقل کا نظریہ ابن الہیثم سے چرایا تھا۔ ورنہ اگر نیوٹن سے پہلے ابن الہیثم نے کشش ثقل دریافت نہ کیا ہوتا تو سیب کی کیا مجال تھی کہ وہ درخت سے زمین پر گرتا اور نیوٹن کشش ثقل دریافت کرتا۔ اس کے علاوہ آئنسٹائن نے اپنی ٹائم اینڈ اسپیس تھیوری بھی ابن الہیثم سے ہی چرائی تھی۔ ٹائم اینڈ اسپیس تھیوری سے ابن الہیثم نے “ٹائم” میں “اسپیس” کا تعین کیا جس سے “سیکنڈ”، “منٹ” اور “گھنٹے” کے دورانیوں کا پتہ چلا جو گھڑی جیسئ اہم ایجاد پر منتج ہوا۔ بعد میں اسی گھڑی اور ٹائم سے آئنسٹائن نے اپنی مشہور الآفاق “تھیوری آف ریلیٹویٹی” پیش کی۔ جس کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

“جس کی گھڑی اسکا ٹائم”۔

“پس ان تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا صرف اور صرف ایک یہودی سازش ہے۔۔ اور ۔۔ کھوہ کھوہ کھوہ، معاف کرنا مجھے کھانسی۔۔ کھوہ کھوہ کھوہ کھوہ کھوہ۔۔ اور میرا سر بھی گرم لگ رہا ہے، شاید بخار بھی ہے ۔۔۔ کھوہ کھوہ کھوہ۔۔۔”

سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *