وقت کی دھار اور 6 جولائی 1985 …علی رضا منگول

 
وقت کیا ہے؟ اگر کوئی مجھ سے نا پوچھے تو میں جانتا ہوں کہ وقت کیا ہے، اور اگر میں چاہوں کہ پوچھنے والے کے آگے وضاحت کروں تو میں نہیں جانتا۔ اس سلسلے میں لغت بھی کوئی مدد نہیں کرتی۔ در حقیقت زمان و مکان کی نوعیت ایک پیچیدہ فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ وقت مادے کی تغیر پذیر حالت کا معروضی اظہار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وقت بہتا ہے اور اگر یہ درست ہے تو بہاؤ کی ایک ہی سمت یعنی ڈھلان ہوتی ہے۔
 
چونکہ تمام چیزیں وقت کے اندر اسی کے ساتھ سفر کرتی ہیں لہٰذا کائنات میں تمام چیزیں جب ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچ جاتی ہیں تو وہاں سے اُن کی پہلی حالت میں واپسی ناممکن ہوجاتی ہیں۔ ہماری طفولیت، بچپن، لڑکپن اور جوانی کبھی بھی لوٹ کر واپس نہیں آسکتی، اسی طرح پرانے حالات، پرانی سوچ، جہالت، پسماندگی اور کوئی پرانا نظام اپنی پہلی شکل میں کبھی بھی واپس نہیں آسکتی۔
 
لہٰذا یہ بات باعث اطمینان ہے کہ چونکہ ہزارہ کمیونٹی بھی اسی وقت مائل بہ سفر ہے اس لئے اب 6 جولائی 1985 کا واقعہ دہرایا نہیں جاسکتا۔ نا صرف یہ کہ اب اس حالت میں واپس جانا ممکن نہیں ہے بلکہ اس جاہلانہ اور غیر سائنسی سوچ کو دوبارہ عملی جامہ پہنانا ان ملاؤں کے لئے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ کیونکہ نہ وہ زمانہ ہے، نہ شعور کی وہ سطح اور نا ہی وہ لوگ جنہیں مذہب کے نام پر بہلایا جاسکے۔
 
اس وقت غیر سائنسی سوچ اور خیال پرستی اپنی نزاعی حالت میں سسکیاں لے رہی ہے اور آنے والے وقت سے خوفزدہ ملا اور غیر سائنسی افکار کے مالک لوگ، وقت/زمان کو پیچھے کی جانب کھینچنے کی کوشش میں اپنی پوری توانائی لگائے ہوئے ہیں۔ مگر بے سود کہ اب نہ زمانہ سادگی کا رہا اور نہ ہی لوگ پہلے جتنے جاہل و پسماندہ، کہ کوئی بھی بے تعلیم شخص انہیں مصیبت میں جھونک سکے۔ بلکہ اب تو انہیں چیلنج کیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ تم اپنی موجودہ غیرعقلی سرگرمیوں کو 300 فیصد بڑھا دو تب بھی یہ سماج جہاں پہنچ چکا ہے وہاں سے اسے واپس اندھیروں میں لے جانا تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔
 
بچپن میں پڑھا تھا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا آج وقت نے ہی سمجھایا کہ اس بات میں صداقت ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وقت سب سے بڑا اُستاد ہے۔ یعنی وقت سکھاتا ہے۔ مگر یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا لہٰذا روشن فکروں کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھنا چاہیے اس لئے کہ وقت کے مقابلے میں انسانی شعور کی رفتار سست قدم واقع ہوئی ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ لوگوں کے موجودہ سوجھ بوجھ کے معیار پر تکیہ کرتے ہوئے کم محنت میں زیادہ کام کیا جاسکتا ہے اور بے خوف ان غیر سائنسی افکار و نظریات سے بھی لڑا جاسکتا ہے۔
علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *