شرفو کاکا، جا اس سائیکل کی باٹلی بنا کے لے آ ۔۔۔ فدا حسین

 

کاغذ کے اس اشتعال انگیز پرزے کو دیکھ کر ایک پرانی انڈین فلم ”جانی واکر“ کی یاد تازہ ہو گئی۔ جس کا ہیرو اتفاق سے ”جانی واکر“ ہی تھا۔ اس فلم میں جانی واکر کا کردار ایک شرابی کا تھا جو ہر وقت نشے میں دھت رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خاندان کا کوئی بھی فرد اس پر ایک روپیہ اعتبار نہیں کرتا تھا۔

ایک مرتبہ اس کے بڑے بھائی، بھابی اور بھتیجے(جس کی عمر لگ بھگ چھ یا سات سال ہوگی) کو مہینہ بھر کے لیے مجبوراً کہیں باہر جانا پڑتا ہے اور گھر کی نگرانی جانی جیسے شراب کے رسیے کے حوالے کر دینا ان کی مجبوری آن ٹھہرتی ہے۔ اب شبانہ روز مستی میں چور جانی تھا، اس کی شراب کی بوتلیں تھیں اور ساتھ میں ”شرفوکاکا“ جیسے گھر کا وفادار نوکر!

جانی کے بڑے بھائی جانے سے قبل گھریلو سودا سلف کے لیے گلی کے کریانہ فروش سے بات کرتے ہیں کہ اس کی غیر موجودگی میں شرفوکاکا جب بھی آئے تو اسے دال مصالحہ وغیرہ دے دیا کرے، حساب کتاب کی ادائیگی وہ خود واپسی پر کر لے گا۔ مگر جانی کی فکر اس کی شراب پر مرکوزہوتی ہے، کیونکہ یہ ادھار میں ملنے والی شے نہیں تھی۔

اگلے ہی روز اسے ایک تدبیر سوجھتی  ہے کہ کیوں نہ چھوٹی موٹی گھریلو اشیا جن پر اس کے بھائی اور بھابی کی نظریں سالوں نہیں پڑتیں، بیچ کر شراب پینے کا وسیلہ بنایا جائے؟……بس: پھر دیر کس بات کی؟ پہلے پہل وہ چھوٹی موٹی چیزوں سے شروعات کرتا ہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے لمبا ہاتھ مارنا شروع کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ گھریلو استعمال کی کارآمد اشیا اونے پونے بیچ کرشراب پینا جانی کے روز کا معمول بن جاتا ہے۔ اس موقع پر شرفوکاکا کی کیا مجال کہ مالک کو ٹوکے یا اسے اس کے کرتوت سے باز رکھے۔

جانی کی عادت تھی کہ نشے میں چور ہو جانے کے بعد وہ آنگن میں اپنے بھتیجے کی تین پہیوں والی سائیکل چلانے میں محو ہو جاتا۔ بالآخر حالات اس نہج کو پہنچ جاتے ہیں کہ ایک ایک کرکے تمام اسباب خانہ داری شراب کی بوتلوں میں تبدیل ہوہوکر جانی کے حلق سے نیچے اترتے چلے جاتے ہیں۔ اب وہ مزین و آراستہ گھر اپنی پہلی حالت میں نہیں رہتا جسے جانی کا بھائی چھوڑ چلا تھا، بلکہ یہ کسی بھوت بنگلے کی تصویر پیش کرتا نظر آتا ہے۔

فلم کا سین بدلتا ہے: ویران مکان میں ہر طرف شراب کی خالی بوتلیں بکھری پڑی ہیں اور اس کے آنگن میں جانی نشے میں دھت کسی بچے کی مانند اپنے بھتیجے کی تین پہیوں والی سائیکل پر سوار ہوکر مزے سے گنگناتا پھر رہا ہے۔ جب اسے شراب کی مزید طلب محسوس ہوتی ہے تو شرفوکاکا کو آواز دیتا ہے:

”شرفوکاکا……اے شرفوکاکا! کیا کوئی اور چیز ان مکھی چوسوں نے نہیں رکھ چھوڑی، جسے بیچ کر مجھے تسکین کا سامان میسر آجائے؟“

شرفوکاکا منت آمیز لہجے میں گڑگڑاتا ہے: ”سرکار! بیچنے لائق کوئی بھی کارآمد چیز گھر میں نہیں بچی ہے۔ آپ نے گھر کے برتن، ولایتی گراموفون (جسے بڑے سرکار بہت پیار کرتے تھے)، پلنگ اور باقی فرنیچرز، نرم گرم کمبلیں اور یہاں تک کہ دیوار پر لگی خاندان کی آخری نشانی وہ خوبصورت وال کلاک جس پر بڑے سرکار کی نظریں دن میں بیسوں مرتبہ پڑتی تھی، سب بیچ باچ دیئے ہیں۔ اب یہاں صرف دیواریں باقی رہ گئی ہیں، جو کسی کام کی نہیں۔“ یہ سن کر جانی بچوں والی سائیکل سے نیچے اترتا ہے اور سائیکل شرفوکاکا کو پکڑا کر کہتا ہے:

”شرفوکاکا!……جا؛ جاکر اس کی ”باٹلی“ بنا کے لے آ۔“ شرفوکاکا جانی کے پیر پڑتا ہے اور منت سماجت کرتا ہے کہ: ”سرکار اسے نا بیچئے! یہ آپ کی نئی نسل، آپ کے معصوم بھتیجے کی امانت ہے۔ جواں ہونے پر آپ اسے کیا منہ دکھائیں گے، جب جب اسے اپنا بچپن اور اپنی سائیکل یاد آئے گی۔“……

باقی کی کہانی پھرکبھی سہی!

ہماری حیثیت آج اس وفادار خادم خانہ شرفوکاکا کی سی ہے جس نے اشتمالی اشیائے خانہ داری کو اپنی آنکھوں کے سامنے نیلام ہوتے دیکھا ہے۔ جن میں ”پی ٹی سی ایل، اسٹیل ملز، پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل اور خود پی آئی اے کی نجکاریاں وغیرہ شامل ہیں اور مزید نجانے کیا کیا کچھ اونے پونے نیلام ہوتے ہمیں دیکھنا پڑے گا۔ جن پر منہ سے رال ٹپکاتا ہوا مقتدر طبقہ پلکیں جھپکائے بغیر، آنکھیں جمائے بیٹھا ہے۔“

اپنے ملک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ملک کے تمام قومی اداروں کو قومی تحویل میں لینے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے آخری انٹرویومیں، جو انہوں نے ایک اُردو اخبار کو 17 ستمبر 1977 کو دیا تھا،  ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ”اگر قومی تحویل میں لئے گئے اداروں کو واپس کیا گیا تو اس کا مطلب پاکستانی ریاست کو برباد کرنا ہے“ ۔ یادر رہے کہ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے ملک کے اکثر صنعتی اداروں اور بینکوں کو قومی تحویل میں لے لیاتھا۔ لیکن 5 جولائی 1977ء کو فوجی آمر ضیاء کی طرف سے بھٹو حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ 16 جولائی کو ہی قومی تحویل میں لئے ہوئے اداروں کو واپس کرنے کا عمل شروع کردیا گیا۔

عالمی طور پر سرمایہ داری نظام کے اندر پرائیوٹائزیشن/نجکاری کا فیصلہ 1973 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد کیا گیا۔ پاکستان میں نجکاری کا آغاز فروری 1991ء میں الائیڈ بینک کو 97کروڑ روپے میں بیچنے سے کیا گیا۔ اس کے بعد سینکڑوں قومی اداروں کو جو 100ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے تھے صرف 5ارب ڈالر میں بیچ دیا گیا جن میں وفاقی سطح کے اہم قومی ادارے بھی شامل تھے۔  ان تمام اداروں کو بیچنے سے ایک طرف ملکی معیشت پر شدید منفی قسم کے اثرات پڑے، تو دوسری طرف ملک کا محنت کش طبقہ سخت بھوک، بدحالی، بیروزگاری اور مہنگائی کا شکار ہوگیا۔اس وقت دنیا بھر میں لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن کی پالیسی کے تحت  تمام اداروں کو نجی ملکیت میں دینے کا عمل جاری ہے جس کا فائدہ سرمایہ دار ملکوں اور عالمی مالیاتی اداروں کو پہنچتا ہے۔

فدا حسین

فدا حسین

مضمون نگار "اظہار" کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ انہیں فلسفے سے گہری دلچسپی ہے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *