آخر کب تک! ۔۔۔ طلا چنگیزی

*
ہزارہ ٹاؤن میں گزشتہ دنوں چند سنگدل افراد کے ہاتھوں رونما ہونے والے افسوسناک واقعے میں ملوث افراد اور اس کے نتیجے میں ایک پوری قوم کو کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مذکورہ واقعے کے بعد وہی کچھ ہو رہا ہے جس کی امید تھی، مثلا اس واقعے کو بنیاد بنا کر کچھ لوگ لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی آزادی کو کوسنے دے کر انہیں مزید پابندیوں کا شکار بنانے یا کہ پھر مذہب اور قومیت کی آڑ میں بعض متعصب اور عاقبت نااندیش لوگ نفرت، تعصب اور عداوتوں کو مزید ہوا دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ہر جانب سے اس بارے میں رائے زنی کی جارہی ہے۔ کوئی اِسے وحشت اور بربریت سے جوڑ رہا ہے تو کوئی اِسے غیرت اور حمیت کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے۔ کسی کی زبان سے اسے قبائلی، مذہبی یا فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش ہو رہی تو کوئی اس کے ذمہ داروں کی سنگساری اور انہیں الٹا لٹکانے کی بات کر رہا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اگر ان سب فرمودات کا جائزہ لیا جائے تو مجھ سمیت ان تمام رائے دہندگان میں دو باتیں مشترک نظر آئیں گی۔ پہلی بات یہ کہ ان کی غالب تعداد مردوں پر مشتمل ہے۔ اور دوسری یہ کہ ماسواے چند ایک کے یہ سارے تجزیے غصے اور جزباتیت سے مغلوب ہو کر لکھے گیے ہیں۔
اپنی رائے دینے سے پہلے میں اک چھوٹا سا واقعہ بیان کرنے کی جسارت کروں گا جس سے قارئین کو میرے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ آج سے غالبا ۲۵ یا ۲۶ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب کوئٹہ اور اسکے لوگوں پر دہشت گردی کے عفریت کا سایہ نہیں پڑا تھا۔ میں جس جگہ کام کرتا تھا وہاں کچھ اسٹاف، دو یا تیں سال کے ڈیپوٹیشن پر کام کے لیے دوسرے شہروں سے آتے تھے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا ۔ انہی دنوں ایک ملازم جس کا نام مجھے یاد نہیں آرہا،  کا کسی کام کے سلسلے میں چند ایک بار علمدار روڑ اور مری آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک دن کینٹین میں جب ہم سب بیٹھے ہوئے تھے، اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوے پوچھا کہ کیا میرا تعلق بھی علمدار روڑ سے ہے۔۔؟ میرے اثبات پر اس نے گفتگو جاری رکھتے ہوے کہا کہ ملازمت کے سلسلے میں وہ تقریبا پورا پاکستان گھوم پھر چکا ہے لیکن جیسا خوشگوار تعلیمی ماحول اس نے علمدار روڑ اور مری آباد میں دیکھا اس کی نظیر بہت کم ہی ملتی ہے۔ ایک قبائلی معاشرہ ہونے کے ناطے اس نے کوئٹہ آنے سے پہلے ذہن میں جو تصور باندھا تھا یہ سب کچھ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کے بقول اتنے انگلش لینگویج، ٹویشن سینٹرز، تعلیمی ادارے اور کھیلوں کے کلبز، وہ بھی اتنے چھوٹے سے علاقے میں شاید ہی اس کے مشاہدے میں کبھی آئے ہوں۔ ان باتوں کے علاوہ جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا وہ یہ تھا کہ بقول ان کے ۔۔۔۔۔ میں نے پورے پاکستان میں دن سے لے کر آدھی رات تک عورتوں اور لڑکیوں کو بغیر کسی خوف اور ڈر کے گھروں سے باہر کتابیں بغل میں تھامے تعلیم کی غرض سے یا کہ مختلف تقریبات جیسے شادی بیاہ کے لیے مردوں کے بغیر، اتنی زیادہ تعداد میں کہیں بھی آتے جاتے نہیں دیکھا۔ عورتوں اور بچیوں کو جتنا احترام اور آزادی آپ کے قبائلی معاشرے نے دی ہے اسکی مثال کم ہی ملتی ہے۔ مجھے علم ہے کہ ۲۵ ۔ ۲۶ سالوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے اور حالات بدل چکے ہیں۔ مسلسل دہشتگردی اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی پی ٹی ایس ڈی ( پوسٹ ٹراومیٹک سڑیس ڈس آرڈر) نے لوگوں کی اکثریت، خصوصا نوجوان نسل کے زہنوں پر بہت گہرے اور بھیانک اثرات چھوڑے ہیں جو ایک فطری عمل ہے۔ اس واقعے کا تذکرہ کسی سے تقابلی جائزے یا خود ستائشی کے لیے نہیں بلکہ صنفی بنیاد پر قائم ایک سماجی مسئلے کی نشاندہی، تفریح کے مواقعوں کی کمی، دہشت کے سایوں میں زندگی اور اس سے جڑے دوسرے عواقب کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے۔
ایک قبائلی سماج میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے ہم نے پہلے دن سے ہی اس سارے واقعے کی ایک خاص زاویے اور نقطہ نظر سے تشریح کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود کچھ اہم اور بنیادی سوالوں کے جواب تشنہ رہ جاتے ہیں۔ اس بارے میں مزید خامہ فرسائی کرنے سے پہلے ہمیں غیر جانبداری اور ایمانداری سے سب سے پہلے یہ بات جاننے کی کوشش کرنی ہوگی کہ اس طرح کے واقعات مغربی ممالک یا دوسرے مہذب معاشروں میں رونما کیوں نہیں ہوتے؟ کیا ان میں غیرت نہیں یا ان کے ذہنوں میں غیرت اور حمیت کا تصور ہم سے مختلف ہے ؟
اِس واقعے اور اس سے ملتے جلتے دوسرے سارے واقعات کے سوتے یا دھارے ہماری اس ماقبل از تاریخ پرانے خوفزدہ مردانہ قبائلی سوچ سے پھوٹتے ہیں جن کے مطابق، پرسنل کموڈیٹیز اور مال مویشیوں کی مانند عورتیں بھی مال و اسباب میں شامل ہیں۔ جنہیں ہر وقت دشمن اور مخالفین کی عقابی نظروں سے حفاظت کی خاطر پہرے اور پردے میں رکھنا ضروی ہوتا ہے۔ اگر غلطی سے کسی کی نظر پڑ جائے تو چھینے جانے کے خوف کے باعث ہماری مردانہ غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ مواقع کی مناسبت سے کوئی اس کے لیے قومی غیرت اور حمیت کا سہارا لیتا ہے تو کوئی مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے لیکن دونوں کا مدعا ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ عورتیں کمزور، ضعیف اور مردوں سے کم عقل ہوتی ہیں جنہیں زندگی کے ہر موڑ پر مردوں کے حفاظتی حصار کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس اندرونی خوف کی تسکین کی خاطر ہم مردوں نے عورتوں کو قبائلیت اور مذہب کے نام پر مال مویشیوں سے بدتر حالات میں رکھا ہوا ہے۔ اس صدیوں پرانے پدرسرانہ بوسیدہ نظام سے نہ صرف عورتیں حبس اور اذیت کا شکار ہیں بلکہ دنیا کے بدلتے تقاضوں کا مشاہدہ کرنے والی نوجوان نسل بھی گھٹن کا شکار ہو کر بعض اوقات غیر ارادی طور پر غیر معقول حرکتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سارے قضیے میں دونوں جانب سے، معاشرے میں موجود صنفی تفریق اور اسی حوالے سے صدیوں سے جاری معاشرتی گھٹن اور سماجی جبر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جس شخص نے بھی قتل جیسا گھناونا فعل انجام دیا اس کے اس عمل کے پیچھے یہی خوفزدہ سوچ کار فرما ہے کہ عورت نہ صرف کمزور ہے بلکہ اپنی حفاظت کرنے سے قاصر بھی ہے اور جنہوں نے راہ چلتی عورتوں کی ویڈیو بنانے کے بعد شیر کرنے کی کوشش کی ان کے خیال میں بھی عورت ایک کموڈیٹی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔
ہم اگر سنجیدگی سے اس واقعے کے تمام جزیات پر بغیر کسی جزباتی بیانیے اور حق و باطل کی بحث میں الجھے بغیر مندرجہ بالا زاوئیے سے نظر ڈالیں تو ہمیں کئی سارے سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں۔ مثلا کیسے ایک مختصر ویڈیو دیکھنے کے بعد بعض افراد اتنے مشتعل ہوگئے کہ انہوں نے قانون ہاتھ میں لے کر قتل جیسا گھناونا فعل انجام دیا!؟  لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں اس سوال پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ وہ کونسی وجوہات ہوسکتی ہیں جن کی بنا پر چند افراد اپنے گھر سے کافی دور ایک غیر مانوس ماحول میں عورتوں اور بچیوں کے ویڈیو بنانے گئے تھے۔ آیا یہ عمل وہ اپنے گلی کوچے میں انجام دے سکتے تھے، اگر نہیں تو کیوں ؟ ان کے اس سماجی گھٹن کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا یہ کہ دانستہ طور پر ان سے یہ فعل سر زد ہوا تھا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر دانستہ طور پر بھی ہوا تھا تو اس کے اس عمل کو غیرت کے ترازو پر تولنے کی بجائے، اسے صنفی امتیاز پر مبنی فرسودہ قبائلی روایات، سماجی جبر، اور معاشرتی گھٹن سے جوڑنا زیادہ مناسب اقدام ہوسکتا تھا اور فقط تنبیہہ دے کر اس کام سے باز رکھا جاسکتا تھا۔ لیکن بنیادی بات پھر وہی آکے رکتی ہے کہ بلوچستان کے عوام اور خصوصا کوئٹہ کے باشندوں کو اگر ایک شہری اور جدید معاشرہ تشکیل دینا ہے تو اس کے لیے انہیں اپنے صدیوں پرانے متعصب رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی ورنہ ہر بار کسی نہ کسی قبیلے کے بلال قتل ہوتے رہیں گے اور اس کو جواز بنا کر بعض لوگ نفرتوں کا زہر اگلتے رہیں گے ۔ قاتل زندگی بٍھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے خوار ہوتے رہیں گے اور ان ( قاتل و مقتول) کی مائیں ساری زندگی ان کا رستہ دیکھتے ہوئے رو رو کر اپنی بینائیاں کھوتی رہیں گی ۔
اگر ہم نے وقت کے تقاضوں کے مطابق چلنا ہے تو خاص طور پر نسلی تعصب، صنفی امتیاز اور عورتوں کی تعلیم، ترقی اور آزادی کے حوالے سے اپنے فرسودہ قبائلی تعصبات سے چھٹکارہ پانا ہوگا۔ یہ سب انسانیت، مہر و محبت کے فروغ اور مناسب تعلیم و تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ جدید تعلیم ہی وہ واحد رستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
طلاء چنگیزی

طلاء چنگیزی

اظہار کے مدیر اعلیٰ طلاء چنگیزی انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ میں رہتے ہیں۔ سننے اور پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں اور کوئی اچھوتا خیال ذہن میں آئے تو نظم یانثر میں ڈھال لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *