یوم القدس ۔۔۔ اسحاق محمدی

 شیعہ علماء کی پرورش صفوی دور(1501-1736) میں ہوئی۔  بعد ازآں قاجاریہ دور (1794-1925) کے اواخیر تک ان کا کردار درباری اور وہ بھی صرف مذہبی امور تک ہی محدود رہا۔ انہیں سیاسی اور مالی معاملات (خمس وغیرہ) میں دخل اندازی کا حق نہیں تھا۔ لیکن جب قاجاریہ سلطنت کمزور پڑتی گئی توعلماء  نہایت ہشیاری سے سیاست میں دخل دیئے بغیرمالی امور پراپنی گرفت مظبوط کرتے گئے۔چنانچہ خمینی صاحب سے قبل اور اب بھی شیعہ مجتہدین کی غالب اکثریت غیبت کبریٰ کے دوران کسی مجتہد کی حکومت کے نظریہ سے متفق نہیں۔ موصوف ان محدود چند علماء میں غالباً پہلے شخص تھےجو کسی مجتہد کی حکمرانی کے حق میں تھے۔  اسے انہوں نے “ولایت فقیہ” کا نام دے رکھا ہے۔  یاد رہے کہ وہ خود بھی ابتداء میں ولی فقیہ کی مطلق حاکمیت یعنی ڈکٹیٹرشپ کے حق میں نہ تھے لیکن اقتدار پر گرفت مظبوط کرنے کے بعد وہ اس آخری حد تک جا پہنچے جس کے آگے مطلق العنان بادشاہت بھی ہیچ ہے (ولایت فقیہ کے ابتدائی نسخے دیکھیے اور ساتھ ہی آیت اللہ منتظری کی کتابیں،  آڈیوز، ویڈیوز دیکھیئے، سنیے)۔

بہرحال اقتدار میں آنے کے بعد موصوف نے فلسطین اور قدس کے مسلے کو سیاسی ایشوز بناتے ہوئےاپنی حکومتی پالیسیوں میں اسے کلیدی حیثیت دی۔ اکثرمبصرین اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں:

الف- اپنے آپ کو عالم اسلام میں ایک بڑی سیاسی شخصیت کے طورپر منوانا

ب- امریکہ کو کسی براہ راست مداخلت سے روکنا

ان دو مقاصد کے حصول کے لئے ولایت فقیہ کی حکومت نے بے پناہ مالی وسائل کے ساتھ سیاست اور مذہب کا بھی بے دریغ استعمال کیا جس کی نظیر معاصر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ پہلے مقصد کے حصول میں وہ بُری طرح ناکام رہی لیکن وہ امریکہ کی مداخلت کو روکنے میں ایک حد تک کامیاب رہی جو اس وقت سرد جنگ میں بری طرح سویت یونین کے ساتھ افغانستان میں الجھا ہوا تھا۔

کوئٹہ کی سیاسی و جعرافیائی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ بلوچستان کا صدر مقام اور بلوچ قومی تحریک کا سب سے بڑا مرکزہے جن کی ایرانی بلوچوں سے ہمدردیاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔بلوچستان  افغانستان و ایران سے منسلک اور پشاورکے بعدسرد جنگ کے دور کا دوسرا بڑا مرکز بھی رہا ہے۔ نیزہزارہ سمیت لاکھوں شیعوں کی موجودگی اسے ایرانی اسلامی حکومت کے لئے شاہ   کے دور سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خمینی صاحب کی حکومت نے یہاں بھرپور توجہ دی۔ شروع میں، شیعہ سیاسی ملاؤں کے ساتھ دیگر سنی دینی جماعتوں جیسے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام سمیت مختلف مذہبی و قبائلی شخصیات پرعنایات کی گئیں۔ خاص مواقع پر اسپیشل چارٹرڈ جہاز بھیجوا کر انہیں ایران کی یاترائیں کروائی گئیں۔ دیگر امور کے ساتھ یوم القدس پر بھی زیادہ توجہ دی گئی۔

  ابتدائی ایام میں یوم القدس کی ریلیوں میں یہ سنی دینی جماعتیں بطورخاص جماعت اسلامی بھی شرکت کیا کرتی تھی لیکن بعد میں سعودی اثرو نفوذ میں اضافے کی وجہ  سے یہ گرمجوشی ماند پڑگئی اور ایران کی تمام تر توجہ شیعہ پر مرکوز ہوگئی۔ ایران کی اس استعماری پالیسی کے خلاف صرف ہزارہ قوم پرست ہی مزاحمت کرتے چلے آرہے ہیں وہ بھی کوئٹہ کی حد تک۔  جب کہ ایران کے پاس کئی دیگر دلخواہ پرورش گاہیں ہیں۔  مثلاً ہر لحاظ سے پسماندہ شیعہ علاقے پاڑہ چنار،گلگت و بلتستان، سندھ و بلوچستان کی سرحدی پٹی۔ یوں ایرانیوں کو اپنی پالیسیوں پرعمل درآمد کیلئے کسی خاص دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا ۔ ہزارہ ہو نہ ہو، وہ یوم القدس میں شرکت کریں یا نہ کریں ، دیگر علاقوں کے مومنین کافی تعداد میں شریک ہوں گے۔ ہزارہ قوم کی بدقسمتی کہ ان کے محلے ان بن بلائے مومنین کی آماجگاہ بنتے رہتے ہیں۔   

عقلی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ خیال اپنی جگہ فاشزم پر مبنی ہے کہ ہزاروں سال سے اپنی سرزمین پر آباد یہودی قوم کے حق مالکیت سے محض اس بنیاد پر انکار کیا جائے اور ان کے خلاف فتویٰ جاری کیاجائے کہ وہ سرزمین کبھی مسلمانوں کا مقبوضہ علاقہ رہاہے۔ تاریخی لحاظ سے بیت المقدس تینوں ابراہیمی ادیان یہودیت، عیسایت اور اسلام کیلئے مقدس ہے اور جو حصہ مسلمانوں کیلئے مقدس ہے وہاں اب بھی مسلمان عبادت کرنے میں مکمل آزاد ہیں۔ یہی حال عیسائیوں کا ہے۔ لیکن جہاں تک کسی مقبوضہ سرزمین کا مسلہ ہے تو اسپین بھی آٹھ سوسال تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا ہے اس پردوبارہ قبضے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ خمینی، خامنائی سمیت کسی مائی کے لال میں اتنی ہمت تھی یاہے کہ وہ ایک بار یہ حرف اپنی زبان پر لے آئے کہ اسپین پر ہمارا حق ہے اور مسجد قرطبہ ہمارا مقدس مقام ہے، اسے ہمارے حوالے کرو؟

بہرحال 1980 سے یوم القدس کوایک ایرانی ولایت فقیہ ایجنڈہ کے طورپر کوئٹہ کی ہزارہ قوم کے سرتھونپا گیا ہے۔ ہرسال رمضان کے آخری جمعہ، سیاسی نماز جمعہ کے دوران ایران نواز سیاسی ملا تمام سیاسی مذہبی حربے استعمال کرکے کرایے کے مومنین کے ساتھ  چندعام نمازیوں کو لے کر بازاروں میں “مرگ بر آمریکا، مرگ براسرائیل” کے نعروں کے ساتھ نکلتے ہیں اور ان کے جھنڈوں کو نذرآتش کرکے اس سیاسی ایجنڈہ کی تکمیل کرتے ہیں ۔ اور پھر اگلے سال تک دوبارہ غائب ہوجاتے ہیں۔

3ستمبر 2010 کے آخری جمعہ کے دوران ان سیاسی ایران نواز ملاؤں نے ایک بارپھر یہی سیاسی ڈرامہ رچانے کا پلان بنایا۔ پولیس اور انتظامیہ نے پہلے سے موصولہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر جلوس کو میزان چوک لے جانے کی پیشگی اجازت نہیں دی کیونکہ خودکش حملہ کی مصدقہ خبرتھی اور یہ اطلاع سیاسی ملاؤں شیخ اسدی، سید ہاشم موسوی، مہدی نجفی اورمقصود ڈومکی تک پہنچائی جا چکی تھی۔ لیکن تمام تر وعدوں و یقین دہانیوں کے باوجود پولیس کے حصار کو زبردستی توڑکر یہ جلوس میزان چوک لے جایا گیا۔ حالانکہ اعلیٰ پولیس آفیسر حامد شکیل     نے ان کی منتیں کیں (یہ ویڈیوز اب بھی دستیاب ہیں) لیکن سانحہ 6 جولائی کی طرح یہاں بھی ایجنڈہ چونکہ پہلے سےانہیں  تھمایا گیا تھا اس لئے سب بے سود رہا۔ پھر وہی ہوا جس کی خبر تھی۔  خودکش بمبار نے اپنے آپ کو  دھماکے سےاڑا دیا۔ اس سانحے میں 60 کے قریب لوگ ہلاک اور 150 زخمی ہوگئے۔ جلوس کی قیادت کرنے والے سیاسی ملا، میدان چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ حملے کی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی اور خودکش حملہ آور کا نام ارشد معاویہ بتایا گیا۔

پولیس و انتظامیہ نے قانون کی خلاف ورزی پرجلوس کے منتظمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی اور بعض  کو گرفتار بھی کرلیا  لیکن سفارشیں اور سیاسی مصلیحتیں آڑے آئیں جس کی وجہ سے وہ جلد ہی چھوٹ گئے۔ بعد میں “میچد ٹی وی” کے ایک ٹاک شو کے دوران اس جلوس کے سرغنہ سید ہاشم موسوی نے چند عذرِلنگ کے ساتھ ایک بارپھر مذہب کا سہارا لیکر اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کی۔ موصوف کا یہ عذرِلنگ میچد ٹی وی کے ٹاک شو میں ملاحظہ  کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک موصوف کے مذہبی دلائل کا تعلق ہے تو وہ انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔  مثلاً اس نے کہا کہ یہ ایک شرعی مسلہ ہے۔  حالانکہ یہ ایک خالصتاً سیاسی مسلہ ہے۔ خود ایران کی طرف سے اسے فوجی حل کی بجائے گلی کوچوں میں لے جانا اس کی بڑی دلیل ہے، خاص طور اب جبکہ وہ علاقے کی سب سے بڑی فوجی قوت کا دعویدار بھی ہے۔ نیز بیت المقدس پر اسرائیل نے جون 1967 میں قبضہ کرلیا تھا جبکہ خمینی صاحب کا فتویٰ  12 سال تاخیرکےبعد اگست 1979 میں آیا حالانکہ وہ اُس وقت بھی مجتہد تھے۔ نیزاس فتوے کی تائید صرف ولایت فقیہ کے حامی سیاسی ملا  ہی کرتے آئے ہیں، باقی جید شیعہ علماء (مجتہدین) میں سے کسی ایک نے بھی اس کی تائید نہیں کی ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ ولی فقیہ بجائے خود ایک سیاسی انتخابی عہدہ ہے جسے یا تو ایرانی عوام براہ راست ریفرنڈم کے ذریعے یا پھر انکے ووٹوں سے منتخب شدہ  مجلس خبرگان منتخب کرتی ہے۔ مجلس خبرگان کے اراکین کے انتخاب کا حق صرف ایرانی ووٹرزکو ہے،خواہ وہ شیعہ ہو ں یا سنی ، یہودی ہوں کہ آتش پرست یا کسی اور مسلک کے۔  پس جس سیاسی عہدہ کے انتخاب کا حق، غیر ایرانیوں کو سرے سے حاصل نہیں اس کا حکم ان پر کسی طور واجب نہیں ہوسکتا ۔ یعنی خمینی صاحب کا یہ فتویٰ چونکہ سیاسی تھا اس لئے اسکی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

جہاں تک  موجودہ ایرانی مذہبی رہنما علی خامنائی صاحب کا تعلق ہے  پہلے تو یہ حضرت سرے سے “اعلم” نہیں، یہ راتوں رات کا ڈگری ہولڈرہے، جس سے ساری دنیا واقف ہے اور جس کا برملا اعتراف خود موصوف نے اپنے انتخاب کے وقت بھی کیا ہے۔ نیز سب سے بڑھ کر یہ کہ موصوف “عادل” نہیں۔ بھلا ایک ایسا سیاسی مذہبی رہنما کس طرح عادل ہوسکتا ہے جس کا ایک ماتحت یعنی اپنے وقت میں سپاہ پاسداران کا سربراہ جنرل محمدعلی جعفری سرعام، فخریہ کہتا ہے کہ اس نے 2009ء کے انتخابات میں دھاندلی کروائی ہے۔ اس اعتراف کے باوجوداسے سزا ملنا تو دور کی بات  وہ ایک طویل عرصے تک اس عہدہ پر برقرار بھی رہا!؟ صاف ظاہرہے کہ رہبر صاحب کی رضامندی سے یہ دھاندلی (عوامی رائے میں خیانت) کروائی گئی تھی لہٰذا  خیانت کار “عادل” ہرگزنہیں ہوسکتا۔

 لاکھوں افغان شیعہ مہاجرین سے غیر انسانی سلوک اور ان کو ایک طویل عرصہ علم دانش کے حصول سے بے بہرہ رکھنا اور پھر ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انکو شام و یمن میں کرائےکے  قاتل کے طور استعمال کرنا موصوف کے دیگر جرائم کے علاوہ ہیں۔ پس یہ شخص کوئی فتوی ٰ دینے کا اہل ہی نہیں چہ جائیکہ اس پر مزید کوئی گفتگو کی جائے۔

بہرحال یہ مسلم ہے کہ یوم القدس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں یہ خالصتاً موجودہ ایرانی مذہبی رژیم کا ایک سیاسی ایجنڈہ ہے جیے اس کے حمایت یافتہ لوگ بطورخاص سیاسی ملا، دنیا کے مختلف جگہوں پر  مذہب کی آڑ میں آگے بڑھارہے ہیں۔ ستمبر2010ء کے ایک اسی طرح کے ڈرامے کے دوران کوئٹہ کے سو سے زیادہ گھرانے اجڑ گئے، سینکڑوں عورتیں، بچے بیوہ اور یتیم ہوگئے اور ساتھ ہی ان سیاسی ملاؤں کے سیاہ کرتوتوں میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہوگیا۔

ںوٹ:

 1- خامنہ ای صاحب اور سپاہ پاسداران کے جنرل محمد علی جعفری کے یہ اعترافی ویڈیوز یوٹیوب پر دستیاب ہیں

2- شاید بعض قارئین کو معلوم ہو کہ اس سال کرونا وائرس کے خطرے کی وجہ سے ایران میں یوم القدس کی ریلیوں پر پابندی تھی لیکن اسی ایرانی رژیم نے کرونا وباء کے باوجود ہمسایہ ممالک میں موجود اپنی پراکسیزکو ریلیاں نکالنےکی ترغیب دی۔ اس ضمن میں کوئٹہ میں مقیم ایرانی قونصلیٹ نے کوئٹہ میں اپنی جانی پہچانی شیعہ سنی پراکسیز کو بلاکر القدس کی اہمیت کی یاد دہانی کرائی جس کے بعد اگلے روز کرونا وباء کے خطرے کے باوجود عوام کی ایک محدود تعداد  سڑکوں پر نکل آئی۔ گویا ایرانی کی جان ان کو عزیز ہیں لیکن غیر ایرانی مسلمان بشمول شیعہ کی جان جائے  بھی تو ان کی بلا سے؟؟؟

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *