کلچر ہماری قومی شناخت ہے ۔۔۔عصمت یاری

*
وہ انفرادی و اجتماعی سرگرمیاں جو انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر اثر انداز ہوں، یا زندگی کے اکثر کونوں کدروں میں تواتر سے جھلکیں ثقافت کہلاتی ہیں۔ یہی سرگرمیاں اور افعال اس گروہ کی وجہ شہرت اور وجہ شناخت بن جاتے ہیں ۔
انسان جس مادی اور طبعی ماحول میں آنکھ کھولتا ہے وہی سے سیکھنے کا عمل شروع کرتا ہے۔ اس جگہ کی مادری زبان ، وہاں کے طور طریقے، ادب و آداب، لوگوں کی بودو باش، خوراک اور پوشاک ان کی انفرادی و گروہی زندگی میں جھلکتی ہے۔ ایک جغرافیہ، تاریخ، زبان و ثقافت رکھنے والا گروہ ایک قو م تشکیل دیتا ہے جو ایک مخصوص ثقافت کا حامل ہوتا ہے۔
انسان کی گروہی زندگی ،علمی اور ثقافتی ورثے کا اشتراک ہوتی ہے۔ مثلا کسی فرد کی شکل و صورت، قد کا ٹھ جیسی خصوصیات جو انفرادی شناخت کی تشکیل کرتی ہیں، کا تعلق خاندانی جینیٹکس سے وابستہ ہوتا ہے جو انھیں اجداد سے وراثت میں ملتی ہیں۔ جبکہ کسی گروہ یا قوم کے طور طریقے،رہن سہن، رسم و رواج، خوراک و پوشاک ،تاریخ ، زبان ، فنون لطیفہ اور موسیقی کا تعلق قومی کلچر کے ساتھ ہے جو اس کی قومی شناخت کی تشکیل کرتے ہیں، جن سے قطع تعلق بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
علاوہ ازیں کلچر قوموں کی مذہی ، سیا سی اور اجتماعی معاملات میں ترجیحات کے تعین میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔  مثلا ، روز مرہ زندگی میں کن سرگرمیوں کو فوقیت اور کن کو ثانویت دی جائے۔  مذہب کے معاملے میں انتہا پسندی یا میانہ روی کو اپنایا جائے، سیاسی معاملات میں رواداری اور اعتدا ل پسندی یا نسل پراستانہ تنگ نظری کادامن تھاما جائے اور اجتماعی معاملات میں معاشرتی بہبود کو اولیت دی جائے یا انفرادی اور گروہی مفادات کو!
کلچر جامد نہیں رہتا۔ اس میں ہمیشہ وقت کے ساتھ نشو و نما کی گنجائش رہتی ہے۔ ایسے کلچرز کو زمانے میں دوام حاصل ہوتا ہے جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہیں۔ جس کلچر میں علمی ورثے کا جتنا  بڑا ذخیرہ ہوتا ہے وہ اتنا ہی ترقی یافتہ کہلاتا ہے۔ اس لئے کلچر دنیاوی علوم پر قوموں کی چاپ ہے۔
ہزارہ قوم ایک غنی کلچر کا حامل ہے۔ خوراک اور پہناوے کے علاوہ، امن آشتی، ملک و ملت سے بے لوث محبت ، رواداری، بھائی چارہ ہمارے کلچر کا طرہ امیتاز رہا ہے۔
انسان فطرتا” اپنی گروہی زندگی اور اس سے جڑی ہر چیز سےمحبت اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے ۔ لہذا کلچر پہ فخر کرنااور اس سے محبت کرنا ایک فطری جذبہ  ہے۔  زندہ قومیں اپنے کلچر کو نہ صرف محفوظ رکھتے اور پروموٹ کرتے ہیں، بلکہ اسے وقت کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہمکنار کر کے اپنے تابندہ ہونے کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
کلچر کے اس نا قابل بیان اہمیت کے پیش نظر” کلچر ڈے” منا نے کی اہمیت شدت سے محسوس کی جارہی تھی، جس کے پیش نظر 19 مئی کو ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی اور دیگر قوم دوست حلقوں کی جانب سے “ہزارہ کلچر ڈے”منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا کو اپنے کلچر سے رو شناس کروانا اور نئی نسل میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ چونکہ اس دن کا تعلق ہماری بنیادی اور اجتماعی شناخت کے ساتھ ہے لہٰذ اسے جتنا سراہا جائے کم ہے۔
عصمت یاری

عصمت یاری

مصنف درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور لکھنے لکھانے سے گہرا شغف رکھتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *