تصور و تخیل ۔۔۔ فدا حسین

 
٭
فلسفے کا بنیادی سوال: ”ہستی سے شعور کے؛ مادے سے، فطرت سے تفکر کے رشتے کے بارے میں سوال۔“ (یعنی: مادہ قدیم ہے یا شعور؟)
اس بنیادی سوال کے تعاقب میں دو طرائق افکار کے ٹکراؤ سامنے آتے ہیں جو آج تک برسرپیکار ہیں۔ عینیت پرستی اور مادیت پسندی!
ان میں سے عینیت پرستی کو ”خیال پرستی یا تصوریت“ بھی کہتے ہیں جو افلاطون کی عالم امثال پر تکیہ کرتی ہے۔ افلاطون مادی دنیا کی ہر شے کو عین بعین اپنے عالم امثال کی تصویر بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اصل عالم عالم امثال ہے اور مادی دنیا اس کی ایک بھونڈی نقل! وہ مزید کہتا ہے کہ انسانی جسم روح کا قید خانہ ہے۔ یہ اس وقت تک اس میں مقید رہتی ہے جب تک اس جسم پر موت واقع نہیں ہوتی۔ جسم کی موت کے بعد روح آزاد ہوکر اس وقت تک عالم امثال میں گذارتی ہے جب تک کوئی دوسرا جسم پیدا ہوکر اسے دوبارہ قید نہیں کرتا۔ افلاطون کا یہ بھی ایقان تھا کہ عالم امثال میں مادی تمام اشیاء کے سانچے(حقیقی شکلیں) موجود ہیں جنہیں ارواح دیکھ اور پرکھ سکتی ہیں۔ یوں افلاطون نے تخیل و تصور کی مادی اور کلیاتی ہیئتوں کو مسمار کرکے انہیں اپنے عالم امثال کے دبیز پردے میں چھپا دیا۔
”افلاطون نے یہ نظریہ فیثاغورثی آرفی مسلک کے تناسخ ارواح/اواگون سے مستعار لیا ہے اور جہاں تک افلاطونی دعویٰ (عالم امثال) کو ناچیز نے سمجھا ہے وہ لامتناہیت تک چلا جاتا ہے۔ اس نظریے کی رو سے عالم امثال میں ان تمام آنے والی ایجادات کے سانچے بھی موجود ہونے چاہیے جن کا انسان آج تصور بھی نہیں باندھ سکتا۔ جیسا کہ: آئی فون50 موبائل سیٹ اور نجانے کیا کیا کچھ!؟“
افلاطون یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ انسان عالم امثال کے قالبوں کو یاد کرکے کسی بھی چیز کو بہ آسانی پہچان سکتا ہے۔
”اس کا مطلب یہ ہوا کہ: اگر انسان چاہے تو وہ تمام کی تمام ایجادات محض عالم امثال کے قالبوں کو تصور میں لاتے ہوئے غیر تجربی اور بے زحمت الہامی و خیالی بے لگام گھوڑے دوڑا کر قبل از وقت آج ہی میں وہ چیزیں ایجاد اور دریافت کرسکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو آنے والے دنوں میں منصہ شہود پر جلوہ افروز ہونے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ متذکرہ بالا وہی آئی فون50 موبائل سیٹ اور نجانے کیا کیا کچھ!؟“
”اس نظریے سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ اگر افلاطون زندہ ہوتا تو ہوائی جہاز کے موجدوں (رائٹ برادرز) پر ضرور یہ جملہ کستا کہ: ارے برادرز! اپنی چھاتیوں کو اتنی چھوڑی بھی نہ کرو اور نہ ہی اتنی خوشیاں مناؤ۔ کیونکہ آپ دونوں نے کوئی تیر نہیں مارا ہے۔ اصل کمال تو میری عالم امثال میں ہے جسے میں نے دریافت کی ہے۔ آپ دونوں نے اس کی نقل سے یہ ”اڑن کھلونا“ بنا کر بس ذرا سی ہمت دکھائی ہے۔ میں دوستوں کی صحبت میں بیٹھ کر عموماً یہ جملہ دہراتا ہوں کہ: زرخیز یورپ کو ایک ہزار سال تک قرون وسطیٰ اور عہد تاریک کے پرخار راستوں پر گھسیٹنے والا افلاطونی افکار ہی تھا جس کی وجہ سے دس صدیوں تک سائنس کے دروازے ان پر مسدور رہے۔“
خیر!……معلوم نہیں کہ میرے اور افلاطون صاحب کے درمیان نظریاتی یہ نزاع کب ٹلے گی؟ درج بالا تمہید اس لیے باندھی گئی ہے تاکہ ”تصور و تخیل“ کو آپ کے سامنے جدا جدا پیش کر سکوں۔ اگر آپ لغاتوں میں عربی ان الفاظ کا انگریزی میں معانی تلاش کریں گے تو یہ آپ کو وہاں گڈمڈ ملیں گے۔
تصور= تصور کی جڑیں تمام تر تجریدی و انطباقی تشکیلات سے جڑی ہوئی ہیں۔ مثلاً: عالم مظاہر میں پہلے سے موجود جنہیں ہم تجربے میں لا چکے ہیں ان چیزوں کا؛ یا ہمارے مجتمع ادراکات کا منبع تحت الشعور(Subconscious mind) میں جاگزیں تصویروں کا دوبارہ شعور کے خانے میں ابھر آنا تصور کہلاتا ہے۔ جیسے: موجود فلسفیانہ، سائنسی اور ریاضیاتی نظریے یا موجود مادی اشیاء جیسے: میز، کرسی، قلم اور کتاب وغیرہ۔ تصور میں شعورکی مستعدی محض سینما سکرین کی سی ہوتی ہے جو تحت الشعور کے گم گشتہ داخلی دریچوں سے مخصوص تصور کومستعار لے کر مخصوص چیز پر منطبق کرنے؛ یا خارجی مادی دنیا کی تجریدی یا حقیقی اشکال کے ذریعے اس چیز کے تصور کو تحت الشعور میں ٹٹول کر باہر نکالنے کی حد تک! پس: یہاں بات صاف ہو جاتی ہے کہ ہم کسی موجود چیز کے تصور (خواہ وہ مادی ہو یا نظریاتی!) کا حامل اس وقت ٹھہر سکتے ہیں جب ہم اس چیز کی تعریف میں دو چار سطور سیاہ کر سکیں۔ اس طرح افلاطونی عالم امثال کے تمام سانچے ہمارے ذہن کے ”خانہ تمثال“ میں قید ہوکر رہ جائیں گے جن کی عین بعین مادی تعریف میں شاید ہمارا قلم نہ اٹھ سکے۔
مثلاً: اگر ہم دس نامور مصوروں کو الگ الگ کمروں میں بٹھا کر ان سے ”تمثالی شیطان“ کی تصویر بنانے کا کہہ دیں۔ تو یقینا تمام بنائے گئے مصوروں کی نقاشیاں ایک دوسرے سے جدا جدا ہوں گی۔ کیونکہ غیرمادی ہونے کے سبب تصورِتمثالی مختلف اذہان میں مختلف نقوش چھوڑتے ہیں جو یکسانیت کے ساتھ کسی دو اذہان میں بھی یکجا نہیں ہو سکتے۔ (تصورات عموماً نیم شعوری ہوتے ہیں)
تخیل= محدود تصور کی حد جہاں پر ختم ہو جاتی ہے وہاں سے تخیل کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ ہم کسی پہاڑ کا تصور تو باندھ سکتے ہیں مگر وہ کس طرح وجود میں آیا، یہ ہم نہیں دیکھ سکتے۔ ہم برف کو تصورمیں ابھار سکتے ہیں مگر اس کے ٹمپریچر کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم کسی درخت کو تصور میں لا سکتے ہیں مگر اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے اور آکسیجن خارج کرتے نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ یہ وہ مرحلے ہیں جہاں سے تصور کی انتہا اور تخیل کی ابتدا ہو جاتی ہے۔
تحقیق و تجربے سے مزین، نظریات(Theories) کی بنیاد تخیل چاہے مادی ہو، نظریاتی ہو یا سائنسی اور ریاضیاتی فارمولوں کی صورت میں ہو، اس کا براہ راست تعلق (بالاتر از علم) تخلیق سے جڑتا ہے۔ تخیل وہ اختراعی طرزِفکر ہے جس میں خالصتاً شعور کی مرکزیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تخیل تحقیق و تجربات کی بنا پر سبب ظاہری جو ہمارے تصورات میں قید ہے، سے مسبّب کو برآمد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی یہ طرزِفکر علت سے معلول کی طرف سفر کرتا ہے اور یہی قوت متخیّلہ ہمارے پراگندہ و دگرگوں مجتمع تصورات میں سے چند ایک کی آمیزش سے کوئی نیا تصور یا نئی چیز تخلیق کرکے اسے نظریے کی روپ میں دھارنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جس طرح انسان لاکھوں سال سے پانی کو دیکھتا اور استعمال کرتا چلا آرہا ہے اور حسب ضرورت اس کا تصور بھی ذہن میں باندھ سکتا ہے۔ مگر انسانی قوتِ متخیّلہ نے پانی کے سالموں (Molecules) میں دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن کے ایٹمز(H2O) تلاش کرکے اسے نظریہ کا روپ دے دیا۔ یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ نظریات میں ترامیم کی گنجائش ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ (تمام تر تخیلات خالصتاً شعوری ہوتے ہیں)
افلاطون کی غیر مادی تمثال نگاری:
اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ: کیا آپ نے کبھی مگرمچھ دیکھا ہے؟ تو یقینا آپ کا جواب ’ہاں‘ میں ہوگا اور ساتھ میں مختلف مگرمچھوں کے تصورات آپ کے ذہن میں پانی میں سکون کے ساتھ تیرتے اور شکار پر پھرتی سے حملہ کرتے گردش کرنے لگیں گے۔ اب اگر دوسری بار میں آپ سے یہ جاننا چاہوں کہ کیا آپ نے ہاتھی بھی دیکھا ہے؟ تو آپ کا جواب اب بھی ’ہاں‘ میں ہوگا اور بعینہٖ مختلف عظیم الجثہ ہاتھیوں کی تصاویر آپ کے ذہن میں دوڑتے اور چھنگاڑتے ابھر آئیں گے۔ اب کی بار میں آپ سے ایک غیرمتوقع اور غیر موجود چیز کے بارے میں سوال پوچھتا ہوں کہ: کیا آپ نے کبھی ”مگرہتھ“ دیکھا ہے؟ (ایسا جانور جس کا آدھا جسم مگر مچھ کا ہو اور آدھا ہاتھی کا!) تو یقینا اس موقع پر آپ کا دماغ سٹپٹا جائے گا کیونکہ ایسا کوئی عجیب و غریب جانور کا تصور آپ کے تحت الشعور میں پہلے سے موجود نہیں ہے جسے آپ کا شعور باہر نکال سکے۔ اس طرح مادی حالتوں میں پہلے سے موجود الگ الگ دونوں اجسام کو آپس میں غیرمادی طور پرآپ کا تخیل قطعاً نہیں جوڑ سکے گا بلکہ تمام عمر اس عجیب و غریب جانور کی تصویر کشی میں وہ ناکام رہے گا کیونکہ آپ نے ہاتھی کو پھرتی کے ساتھ شکار کھیلتے اور مگر مچھ کو چھنگاڑتے کبھی نہیں دیکھا ہے۔
اب کی بار میں آپ کو کچھ دنوں بعد ایک ایسا مووی دکھاتا ہوں جس میں کمپیوٹر گرافکس کے ذریعے ان اجسام کو جوڑ کر غیرمادی ”تخیلاتی مگرہتھ“ بنا کر پیش کی گئی ہو۔ اس مووی کو دیکھنے کے بعد مگرہتھ کی وہ فرضی تصویر آپ کے تحت الشعور میں تصورات کے طور پر شامل ہو جائے گی جو کسی کمپیوٹر گرافکس آپریٹر کے تخیل کی تمثالی نقل ہو گی۔ بعد ازیں مگرہتھ کے بارے میں آپ سے جب بھی پوچھا جائے گا تو یقینا آپ کے شعور کے پردے پر وہی مووی والی مگر ہتھ آپ کے تحت الشعور کے تصورات سے برآمد ہو گا، نہ کہ کوئی اور تصویر!
افلاطون نے اسی فارمولے کو غیرمادی بنیادوں پر استوار کرکے عینی تخیل کی اوّلیت اور مشمولِ خیال تصور کی ثانویت کو مقابل رکھ کر اپنی عالم امثال کو روشناس کروایا تھا۔ درج بالا تمثیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تخیل چاہے سائنسی اور ریاضیاتی یا فلسفیانہ نظریات کی شکل میں ہو، مادی ہو یا تمثالی پوچ بافیاں ہوں، پہلے آتا ہے اور تصور بعد میں بنتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح مادی کائنات کے مظاہر پہلے وجود پذیر ہوتے ہیں اور ان کا تصور بعد میں تشکیل پاتا ہے۔
اسی لیے تمام مادیت پسند مادے کو شعور/ذہن پر مقدم تسلیم کرتے ہیں۔
فدا حسین

فدا حسین

مضمون نگار "اظہار" کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ انہیں فلسفے سے گہری دلچسپی ہے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *