محمدعلی اختیار ایک عہد کا نام ۔۔۔ اسحاق محمدی

 

  27 اپریل کو سجادحسین اختیار کے فیس بک پیج سے پتہ چلا کہ ان کے والد گرامی معروف دانشورشاعر اور قومی رہنما محمدعلی اختیار شدید علالت کے باعث ہسپیتال میں داخل کئے گئے ہیں۔ ابھی دوست احباب اس قومی اثاثے کی صحتیابی کی دعائیں مانگ رہے تھے کہ 30 اپریل کو ان کی اس دنیا سے رحلت کی خبر آگئی۔

شادروان محمدعلی اختیار 1934ء کو ایک ہزارہ تاجر مرحوم علی اصغر کے ہاں پیدا ہوئے جو امیرکابل عبدالرحمان خان کی ہزارہ نسل کشی کی پالیسی سے بچنے کیلئے مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کی آبائی سرزمین،  زرخیز و شاداب وادی دایچوپان تھی جیسے امیر کابل نے ہزارہ جنگ میں شرکت کرنے پر افغان کوچیوں میں تقسیم کردی تھی۔ شادروان اختیار اپنے وقت کی مشہور درسگاہ سنڈیمن ہائی سکول میں زیر تعلیم رہے اور میٹرک کرنے کے بعد 601 ورکشاپ میں ٹیکنیشن کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔

نوجوانی ہی سے جناب اختیار، شعر و شاعری کے ساتھ قومی اور اجتماعی کاموں میں پیش پیش تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں اگرچہ اتحاد و اتفاق کے حوالے سے کوئٹہ میں آباد قوم، مثالی حیثیت رکھتی تھی لیکن غربت کی وجہ سے میٹرک کے بعد وہ مزید اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے تھے جس کے لئے انہیں اس وقت زیادہ ترکراچی جانا پڑتا تھا۔ وقت کے تقاضوں کے پیش نظر مرحوم محمدعلی اختیار نے چند دیگر خیرخواہ افراد قوم سے مل کر 1963ء میں “انجمن فلاح و بہبود ہزارہ” کے نام سے ایک ویلفیئرآرگنائیزیشن کی بنیاد رکھی جس کا مقصد قوم کے ہونہار غریب طالبعلموں کو تعلیمی وظائف دینا تھا۔ یاد رہے کہ ہزارہ قوم کی اجتماعی تاریخ میں “الشاب الہزارہ عراق 1962ء” کے بعد یہ دوسری باقاعدہ آرگنائزیشن تھی جو مسلمہ قوانین کے تحت تشکیل پائی تھی۔

انجمن فلاح و بہبود ہزارہ، اس لحاظ سے کافی ثمربار ثابت ہوئی کہ اس نے درجنوں غریب ہزارہ طالبعلموں کی فنی کالجز میں مالی معاونت کی جن میں سے تقریباً سبھی آگے چل کر ڈاکٹر اور انجنیئر بنے اور بڑے بڑے عہدوں تک جا پہنچے۔ شادروان محمدعلی اختیار، 1971ء میں بننے والی نئی آرگنائزیشن “تنظیم نسل نو ہزارہ مغل” کی تشکیل میں بھی پیش پیش تھے اور طویل عرصے تک سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے تنظیم کے جملہ امور میں خدمات انجام دیتے رہے۔ یاد رہے کہ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل اپنے عروج کے دور میں نہ صرف پاکستان میں بسنے والی ہزارہ بلکہ دنیا بھر میں رہنے والی پوری ہزارہ قوم کی ایک امید کے طورپر جانی جاتی تھی اور روزمرہ سماجی امورسے لے کر تعلیم، سپورٹس، پبلکیشن کے علاوہ دیگر ممالک میں آباد ہزارہ افراد سے بھی رابطے میں تھی۔ تنظیم کا نشریاتی آرگن “ذوالفقار” ہزارہ قوم کی موثر آواز تصور کیا جاتا تھا۔ گویا اس وقت تنظیم ایک نہایت فعال ادارہ تھا اور اس کے رضاکاروں پر کام کا کافی بوجھ تھا۔ اس کے باوجود وہ سرپرست اعلیٰ کے طورپر کامیابی سے کام کرتے رہے۔ اپنی دانشورانہ اپروچ، شائستہ طرز گفتار اور گرجدار آواز کی وجہ سے وہ تمام اہم تقریبات اور ملاقاتوں میں تنظیم کی زبان ہوا کرتے تھے۔ اپنے تنظیم کے دور میں، مجھے بارہا اس کا تجربہ رہا تھا۔ اس بابت بابہ شہید عبدالعلی مزاری سے ہونے والے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب احد بہادری لکھتے ہیں 

“اگرچہ تنظیم کا چیرمئین غلام علی حیدری تھا لیکن بابہ سے خصوصی ملاقاتوں میں جناب محمدعلی اختیار ہی تکلم کیا کرتے تھے۔ ان کا طرز بیان شائستہ، الفاظ کا انتخاب لاجواب اور جملے ہماری قومی تاریخ کے عکاس ہوا کرتے تھے۔ جناب اختیار سے ہر ملاقات کے بعد بابہ مزاری کا چہرہ چمک اٹھتا ( فیس بک پوسٹ یکم مئی)”۔

 میرا خود تنظیم سے ایک طویل عرصے تک تعلق رہا ہے۔ میں نے کبھی کسی سینئر یا جونئر رکن یا عہدیدار کو شادروان اختیار سے شکایت کرتے نہیں پایا۔ تنظیم سے ان کی نظریاتی وابستگی آخری سانس تک رہی۔  صرف عملی لحاظ سے ایک مختصر مدت کے دوران وہ غلام علی حیدری کے آمرانہ طرز عمل کی بنا پر تنظیم سے دور رہے۔ مرحوم اختیار، قومی مفادات، تنظیمی ڈسپلین اور اجتماعی فیصلوں میں جمہوری اقدارکی پاسداری کو ہمیشہ مدنظر رکھتے۔ وہ دھڑے بندیوں اور سازشوں کا کبھی حصہ نہیں بنے۔ در اصل وہ شرافت اور اخلاص عمل کا مرقعہ تھے۔

شادروان محمدعلی اختیار بیک وقت فارسی، ہزارہ گی اور اردو میں شعرگوئی پر قادر تھے۔ ایک شاعر کے طورپر وہ آخر دم تک قومی اوراجتماعی مفادات کو فوقیت اور نوجوان نسل کو متحرک رہنے کا پیغام دیتے رہے۔ انہوں نے ہزارہ گی میں باقاعدہ شعرگوئی کی بنیاد رکھی جو قبل ازایں معیوب سمجھی جاتی تھی، اسی لئے انہیں قومی شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا فارسی اور ہزارہ گی شعری مجموعہ “گلچین اختیار” اور اردو مجموعہ “سلسبیل” کے نام سے چھپ چکا ہے۔

بلوچستان حکومت فارسی کے شعبے میں “گلچین اختیار” کو 2007ء میں بہترین شعری مجموعے کے طورپر صوبائی ادبی ایوارڑ سے نواز چکی ہے۔ اس ایوارڑ میں میرا ایک چھوٹا کردار اس حوالے تھا کہ جب صوبائی ادبی ایورڑ کا اعلان ہوا اور کتابوں کی آمد شروع ہوئی تو کئی دنوں تک کوئی فارسی کتاب نہیں آئی۔ میں نے ادھر اودھر چند دوستوں سے بات کی تو انہوں نے کہا باقی تو سارے ہزارہ نوجوان شاعر و ادیب اردو میں شعر کہتے اور لکھتے ہیں بزرگوں کے بارے میں معلوم نہیں۔ اس ضمن میں جب میرا رابطہ شادروان اختیار سے ہوا تو پتہ چلا کہ انہیں اس ایوراڑ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ خیر میں نے کہا آپ کل چھ کاپیاں تیار رکھیں میں آپ کے گھرسے اٹھالوں گا۔

اگلے دن میں ان کے گھر گیا۔ وہ حسب عادت نہایت شفقت سے ملے، چائے کی دعوت دی، لیکن چونکہ دفتر جانے کا وقت تھا لہٰذا میں نے معذرت کی۔ انہوں نے اپنے مجموعہ کلام کی چھ کاپیوں کے علاوہ اپنے دستخط سے مجھے بھی ایک کاپی عنایت کی اور میں نے شکریہ ادا کرکے دفتر کی راہ لی۔ بعد میں بے حد خوشی ہوئی جب ان کا یہ شعری مجموعہ ایوارڑ یافتہ بنا۔ ان کے صاحبزادوں کے مطابق ان کا نام “صدارتی تمغہ حسن کارکردگی” کے لئے بھی بھیجا گیا تھا لیکن فالو-اپ نہ ہونے کی وجہ وہ یہ ایوارڑ حاصل نہ کرسکے۔ میرے خیال میں یہ ایوارڑ اب بھی انہیں مل سکتا ہے جس کے وہ حقداربھی  ہیں بشرطیکہ کوئی اس جانب توجہ دے۔ ان کے کلام کے دو خوبصورت نمونے پیش خدمت ہیں:

ای نسل جوان برخیز با عزم گران برخیز

با حسن جہان بانی در بزم جہان برخیز

بردار دیگر باری آن  بیرق  تاتاری

از دشت و دمن ہمچون یک سیل روان برخیز

 

الیگو خانہ خوبہ خانہ خوبہ

برای زلف تاؤتو شانہ خوبہ

عزیزانم بخشک خود بسازید

کہ خشکت از تر بیگانہ خوبہ

1973ء میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے برنامہ ہزارہ گی کا آغاز ہوا جس کا ابتدا میں دورانیہ 30 منٹ کا تھا جس نے بالائی بلوچستان، زاہدان تا مشہد ایران اور پورے افغانستان میں بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔  چنانچہ اس پروگرام کی مقبولیت کے  پیش نظر منتظمین نے پہلے اس کا دورانیہ ایک گھنٹہ اور پھر ڈیڑھ گھنٹے تک بڑھا دیا (برنامہ ہزارہ گی اب تک ایک گھنٹہ دورانیہ کے ساتھ جاری ہے)۔ اس پروگرام میں 30 منٹ دورانیے کا ایک سیگمینٹ “پیتاو” کے نام سے تھا جس میں دو کردار “چمن لالئی اور بیگ صاحب” حالات حاضرہ اور گرد وپیش کے مسائل پرگفتگو کرتے تھے۔ اس میں چمن لالئی ایک مزاحیہ اور نادان کردار جبکہ بیگ صاحب سنجیدہ اور دانا کردار تھا۔ چمن لالئی کے کردار میں کئی شخصیات جیسے محمد حسین، مرحوم ممدتان، دہقانزادہ آتے رہے لیکن بیگ صاحب کے کردار میں کئی عشرے تک صرف مرحوم اختیار ہی رہے۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں سردار داؤد خان اور بعد از آں خلق پارٹی دور میں اس کے سننے پر سخت پابندی تھی۔ اس پروگرام کی مقبولیت میں مرحوم اختیار کی پُرمغز اور نپی تلی گفتگو، حالات حاضرہ اور گزشتہ تاریخ پر ان کی گرفت کو کلیدی اہمیت حاصل تھی۔ وہ خود اپنے رول سے کامل آگاہی رکھتے تھے، جان کی دھمکیوں اور دیگر اندرونی سازشوں کے باوجود وہ اس میں اپنی شرکت کو ایک فریضے کے طورپر انجام دیتے تھے۔ چنانچہ سردی ہو یا گرمی، برفباری ہو کہ بارش یا پھر کرفیو کی سختیاں، وہ اپنی حاضری کو یقینی بناتے تھے۔  چونکہ برنامہ ہزارہ گی سے میری طویل وابستگی رہی لہذا ہماری اکثرملاقات شام کو ریڈیو پاکستان میں ہی ہوتی تھی۔ غالباً 2008- 2009ء کے دوران ڈسک تکلیف کے باعث وہ موٹر سائیکل یا رکشے وغیرہ پر سفر سے اجتناب کرتے تھے ایسے میں ان کے چھوٹے صاحبزادے سجاد اختیار انکو لاتے اور لے جاتے جو بجائے خود  پروگرام کی افادیت کے پیش نظر ان کی کمٹمنٹ کو ظاہر کرتی تھی۔ ریڈیو پاکستان نے انہیں 1998ء میں بہترین صداکار کے ایوارڑ سے بھی نوازا۔

30 اپریل 2020ء کو اس با اخلاص دانشور کی وفات کی خبر سے پاکستانی ہزارہ قوم میں تاسف کی فضاء ایک فطری بات تھی کیونکہ وہ اس درویش منیش اور با اخلاص انسان کی طویل جدوجہد سے واقف تھی لیکن اگلے چند دنوں تک  ہزارہ جات سمیت پورے افغانستان، یورپ، آسٹریلیا، امریکہ، کنیڈا وغیرہ میں مقیم ہزارہ قوما کی طرف سے بڑے پیمانے پر اظہار تاسف و تعزیت کی لہر سے جس کا سلسلہ ابھی جاری ہے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ:

ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد

ان کی روح کو سلام  

  

نوٹ: اس تحریر کے لئے بنیادی معلومات فراہم کرنے پر شادروان کے صاحبزادوں مہدی اختیار اور سجاد اختیار کا بے حد شکریہ

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *