سلطان علی کشتمند ۔۔۔ اسحاق محمدی

 

جدید افغانستان کی پونے تین سو سالہ تاریخ کے پہلے ہزارہ وزیراعظم جناب سلطان علی کشتمند بہار 1935ء کو افغانستان کے دارلحکومت کابل کے قریب قلعہ سلطان جان چہاردھی میں ایک عام  کسان نجف علی کے ہاں پیدا ہوئے جن کی نسبت انہوں نے آگے چل کر”کشتمند” کا لقب اختیار کیا۔ اس گاؤں کی اکثریت ہزارہ کسانوں پر مشتمل تھی اور سوائے چند ایک خاندان کے باقی سب سخت شرائط پر بڑے زمینداروں کے پاس کام کرتے تھے۔ جناب کشتمند کا تعلق مشہور ہزارہ قبیلہ دای فولادی سے ہے جب کہ ان کی آبائی سرزمین، اجرستان تھی۔ لیکن 1892ء میں امیرکابل عبدالرحمان کی ہزارہ نسل کشی اور انکی زمینیں افغان کوچیوں میں تقسیم کرنے کی پالیسی کی وجہ سے سےان کے دادا شیرعلی اپنے خاندان سمیت، پہلے دایمیرداد اوربعداً  کابل کے نزدیک واقع گاؤں سلطان جان میں مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ جناب کشتمند کے مطابق 1892ء میں صرف اجرستان میں 700 قلعے ہزارہ باشندوں سے جبراً چھین کر افغان کوچی قبائل ملاخیل اور اکاخیل میں تقسیم کردیئے گئے تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت حفاظت کی خاطرہر قلعہ میں درجنوں گھرانے ایک ساتھ رہا کرتے تھے اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں قلعہ بند ہوکر دشمنوں کا مقابلہ کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ صدیوں تک ناقابل تسخیر رہے تھے۔ ننھے سلطان علی نے گاؤں کے پرائمری سکول سے اپنی تعلیم کی شروعات کیں۔ جناب کشتمند کے مطابق ایک دن گاؤں کے محمد زئی جاگیردار، سردار شیراحمد نے ان کو سکول جاتے ہوئے دیکھا تو تمسخرآمیز انداز میں کہا “ہزارہ کو دیکھو اور تعلیم حاصل کرنا دیکھو”۔ 

بچپن میں سلطان علی کشتمند تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ  کھیتی باڑی اور دیگر کاموں میں اپنے والد اور بھائیوں کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے۔ اگرچہ یہ ایک پرمشقت زندگی تھی لیکن پھر بھی وہ خوش تھے۔ مگر ان کی یہ خوشی جلد ہی ان افغان کوچیوں کی وجہ سے ماند پڑ گئی جو سال میں دوبار بہار اور خزاں کے دوران پاکستان اور ہزارہ جات جاتے ہوئے ان کے گاؤں کے نزدیک خیمہ زن ہوجاتے اور سودی کاروبار کے ذریعے عام روز مرہ کی اشیاء جیسے چائے، نمک، کپڑے وغیرہ منہ مانگی قیمت میں گاوں کے غریب کسانوں کو ادھار پر دیے دیتے تھے۔ اگلے سال  اگر کسی طبعی آفت یا کسی اور حادثے کی وجہ سے کوئی ادائیگی سے قاصر ہوجاتا تو لوکل انتظامیہ کی ملی بھگت سے اس کی زمینوں یا مال مویشی پر قبضہ جمالیتے تھے۔ اسی طرح کے ایک واقعے میں انکے والد نجف علی کو بھی اپنا چھوٹا آبائی قطعہ زمین بیچ کر کابل میں کرایے کے مکان میں شفٹ ہونا پڑا جہاں انہوں نے گذر بسر کے لئے پرچون کی ایک چھوٹی دکان کھو لی اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے لگے۔

باہمت نجف علی نے غربت کے باوجود اپنے چھ لڑکوں اور دو لڑکیوں کی تعلیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، البتہ اس دوران ان کے بچے بھی اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ مثلاً جناب کشتمند، مختلف اخبارات و جرائد میں معاوضے پر آرٹیکلز لکھتے یا ترجمہ کرتے اور ٹیوشن بھی پڑھاتے۔ سلطان علی کشتمند نے سینئر ہائی سکول (انٹرمیڈیٹ) لیسہ غازی کابل سے کرنے کے بعد 1961ء میں اکنامکس میں اپنی ماسٹر ڈگری کابل یونیورسٹی سے حاصل کی۔ یہاں ایک حقیقت کی نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ کشتمند فیلمی کے سربراہ نجف علی کو علم و دانش سے اس قدر محبت تھی کہ غربت و تنگ دستی کے باوجود انہوں نے بچوں کی تعلیم کو ہر حال میں فوقیت دی، چنانچہ ان کے دو بیٹے پی ایچ ڈی، چار بیٹے ماسٹرز اور دونوں بیٹیاں گریجویٹ لیول تک تعلیم حاصل کر پائیں۔ ایم اے میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے بعد انہیں امید تھی کہ  مروجہ دستور کے مطابق انہیں کالج میں تدریس کا موقع ملے گا لیکن متعصب انتظامیہ کسی ہزارہ فرد کو یہ مقام دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ جس سے دلبرداشتہ ہوکروہ محکمہ مائنینگ اور انڈسٹریزمیں چلے گئے۔   

60 کی دہائی افغانستان میں سیاسی بیداری کا دورتھا۔ اس وقت یونیورسٹی طلباء میں کئی اسٹڈی سرکلز بن گئے تھے جن میں سے ایک سرکل میں سلطان علی کشتمند بھی اکثر جایا کرتے تھے۔ اس سرکل میں ببرک کارمل اور طاہر بدخشی جیسے پرجوش نوجوان بی شامل تھے جن کا رحجان بائیں بازو کی سیاست کی طرف تھا۔

1963ء میں ظاہرشاہ نے اپنے سخت گیر کزن سردار داؤد کی حکومت ختم کرکے ڈاکٹریوسف کو وزیراعظم بنایا جس نے جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کا وعدہ کیا۔ اسی دوران ظاہرشاہ نے  اپنے طویل دور حکومت میں پہلی بار ہزارہ جات جانے کا بھی پروگرام بنایا۔ اس موقع پر ایک بڑے وفد کے ساتھ جناب کشتمند کو بھی ہزارہ جات جانے اور وہاں کے حالاے کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کے مطابق سیاہ خاک بہسود سے لے کر ہزارہ جات کے دوسرے کونے تک ہزاروں لوگ شکایت نامے لیکر ظاہرشاہ تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے جن میں اکثر لوکل انتظامیہ کے مظالم، رشوت ستانی، ناانصافی، بھاری ٹیکسیز اور خاص طورپر افغان کوچیوں کی لوٹ مار سے متعلق تھے جس نے وفد کے ہر رکن کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔  لوگوں کی غربت، کسمپرسی، بنیادی سہولیات زندگی کی عدم دستیابی اپنی جگہ۔ 

جیسا کہپہلے ذکر ہو چکا ہے کہ جناب کشتمند 60 کی دہائی سے روشن فکر حلقوں کے اسٹڈی سرکل میں شرکت کرتے تھے لہذا جب جنوری 1965ء میں “افغانستان خلق ڈیموکریٹک پارٹی” کی بنیاد رکھی گئی تب وہ پہلی 7 رکنی مرکزی کمیٹی کے اراکین میں شامل تھے۔ 1965ء کے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی نے انہیں کابل سے امیدواربھی نامزد کیا جس میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔  تاہم وہ خود عوامی رابطوں اور عوام کے مختلف طبقات سے میل میلاپ کے اس تجربے کو اپنی زندگی کا اثاثہ کہتے ہیں۔ 1966ء میں ان کی شادی کریمہ کشتمند سے ہوئی جو خود ایک فعال سیاسی اور اجتماعی شخصیت ہیں۔ انکے 4 بچے ہیں۔ 1968ء میں پارٹی دو دھڑوں “خلق” اور “پرچم” میں تقسیم ہوگئی اور جناب کشتمند پرچم دھڑے کے نظریاتی و تربیتی شعبے کے انچارج بن گئے جس کے زیر اہتمام پارٹی کا ترجمان آرگن “پرچم” بھی شایع ہوا کرتا تھا۔ اس دوران ان کے سینکڑوں علمی مقالے بطور خاص اقتصادی امور سے متعلق مقالے اس آرگن میں چھپے جن میں سے اکثر کے تراجم سویت یونین دور کے مشہور ترجمان آرگن “پراودا” میں بھی شایع ہوتے رہے۔ 1977ء میں دونوں دھڑوں کے اتحاد کے بعد وہ ایک بارپھر اسی نظریاتی  شعبہ کے انچارج مقرر ہوئے۔

 جولائی 1973ء میں سردار داود نے اپنے کزن ظاہرشاہ کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ابتدا میں ان کے تعلقات بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں سے بہتر رہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ انکا رویہ تبدیل ہوتا گیا جو بلاخر 27 اپریل 1978ء کی بغاوت پر منتج ہوا جس میں خلق پارٹی نے سردار داود کو ہٹاکر اقتدارپر قبضہ کر لیا۔ سلطان علی کشتمند جدید حکومت میں پلاننگ کے وزیر بنے، لیکن چند مہینے بعد ہی حفیظ اللہ امین نے بغاوت کرکے امور حکومت اپنے ہاتھ میں لی اور پرچم دھڑے سے وابستہ افراد کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ جناب کشتمند بھی ان گرفتار افراد میں شامل تھے۔ قید کے دوران انہیں بدترین ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ایک نام نہاد انقلابی عدالت کے ذریعے انہیں سزائے موت دی گئی جسے بعد میں عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔

27 دسمبر 1979ء میں ببرک کارمل نے سوویت فوجوں کے ذریعے حفیظ اللہ امین کے ظالمانہ اقتدار کا خاتمہ کردیا تو سلطان علی کشتمند اور پرچم دھڑے  سے وابستہ رہنما و کارکن بھی رہا ہوئے۔ بقول جناب کشتمند وہ جب جیل سے آزاد ہوکربذریعہ گاڑی نئے صدر ببرک کارمل اور دیگر پارٹی ہائی کمان سے ملنے جارہے تھے تو وہ ازخود فیصلہ کرچکے تھے کہ وہ اب کوئی حکومتی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ اس بارے میں وہ خود لکھتے ہیں 

” پلچرخی جیل سے رہائی کے وقت میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اپنے ہی ہم خیال پارٹی دوستوں کے ہاتھوں اس قدر ازیت ناک ذہنی اور جسمانی تشدد سہنے کے بعد اب کوئی سرکاری عہدہ قبول نہیں کروں گا۔ لیکن جب میں ایک فوجی مرکز میں قائم کنٹرول روم میں پہنچا اور ببرک کارمل سمیت دیگر ساتھیوں سے ملاقات کی تو پتہ چلا کہ وہ پہلے ہی میرے عہدوں کا باضابطہ اعلان کرچکے تھے۔  اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا!” یادداشتھای سیاسی و- – ص 608)۔

وہ پہلے یکم جنوری 1980ء سے نائب وزیراعظم اور وزیر پلاننگ اور بعدازآں وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہوئے اور مئی 1988ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ فروری 1989ء میں وہ دوبارہ وزیراعظم مقرر ہوئے۔ افغانستان کی جدید تاریخ میں وہ پہلی ہزارہ شخصیت ہیں جو اس اعلیٰ ترین ملکی عہدے تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ بدترین حالات میں بہترین کارکردگی دکھائی  جس کے معترف ان کے بدترین ناقدین بھی ہیں۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ بقول خود ان کے “صدر ببرک کارمل کے استعفے کے بعد انہیں پارٹی کی طرف سے صدر بننے کا موقع بھی ملا لیکن انہوں نے قومی مفاد کی خاطر اپنے سے جونئیر رکن ڈاکٹرنجیب کو صدر بننے کا موقع فراہم کیا”

مئی 1991ء میں ڈاکٹرنجیب اللہ نے قومی مفاہمتی پالیسی کے تحت ایک غیرپارٹی فرد فضل حق خالقیار کو وزیراعظم مقرر کرکے جناب کشتمند کو نائب صدرکا عہدہ دیا۔ جولائی 1991ء میں ایک طویل عرصے تک ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے اور اعلیٰ ترین اتنظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد جناب سلطان علی کشتمند نے بائیں بازو کی حکمران پارٹی جسے ڈاکٹرنجیب نے “حزب وطن” کا نام دے دیا تھا کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، لیکن وہ اجتماعی امور میں اسی یکسوئی سے کام کرتے رہے۔ فروری 1992ء میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں بری طرح زخمی ہوئے۔ انھیں کابل میں ابتدائی طبی امداد کے بعد ماسکو منتقل کیا گیا۔ بعد میں وہ مزید علاج کے لئے انگلستان چلے گئے۔ اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ وہی مقیم ہیں۔ اگرچہ جناب کشتمند نے اس بابت کھل کر بات نہیں کی ہے مگران کی کتاب کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹرنجیب کواس قاتلانہ حملے کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔

بلا شبہ جناب سلطان علی کشتمند ایک مدبردانشور، زیرک سیاستدان، بلند پایہ اقتصاد دان اور اعلیٰ پائے کا منتظم ہیں۔ انہوں نے افغانستان کی تاریخ کے ایک بدترین دورمیں جبکہ چند ممالک کو چھوڑکر باقی پوری دنیا ان کے خلاف تھی، نہایت تندہی اور خلوص سے اپنے ملک اورعوام کی بلا تفریق خدمت کی، اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور ہر قسم کے کرپشن، اقرباء پروری اور انتقامی سیاست سے اپنے دامن کو صاف رکھا۔ جہاں تک ہزارہ عوام اور ہزارہ جات کا تعلق ہے انہوں نے ان کی طویل سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی محرومیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی اصولوں کے دائرے میں رہ کر ان کے لئے ایک جامع پیکیج بنایا جس میں ہزارہ جات کی داخلی خودمختاری، ان کی حفاظت کے لئے ایک قومی آرمی کی تشکیل سمیت خصوصی اقتصادی و تعلیمی اصلاحات بھی شامل تھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت ہزارہ جہادی تنظیمیں، اسلامی جمہوری ایران کے زیر اثر تھیں لہذا ان کے دباؤ پرانہوں نے بلا سوچے سمجھے اس پیکیج کو رد کرکے ایک تاریخی غلطی کی اور ایک سنہرا موقع ضائع کردیا۔

تصانیف

 

1۔ یادداشتھای سیاسی و رویدادھای تاریخی (آٹوبائیوگرافی) 3 جلدیں مطبوعہ 2002ء

2۔ مختلف موضوعات پر ایک ہزار کے قریب مقالے جو مختلف جرائد میں چھپ چکے ہیں

3۔ افغانستان روند سازندگی و ویرانی۔ غیرمطبوعہ

4۔ ہزارہ ھا و مقاومتھا۔ غیرمطبوعہ

نوٹ:

اس آرٹیکل کے زیادہ تر مندرجات جناب سلطان علی کشتمند کی خود نوشت “یاد داشتہای سیاسی و خاطرات تاریخی   سے لئے گئے ہیں۔

   

                          

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *