وبا کے دنوں میں نسلی تعصب ۔۔۔۔ محمد امان

12 مارچ کو آئی جی پولیس بلوچستان کے دفتر سے ایک نوٹیفیکیشن جاری ہوا جس میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر آئی جی آفس میں کام کرنے والے ان تمام افراد کو چھٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ اس سے اگلے دن واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی) کی طرف سے بھی اسی طرح کا ایک نوٹیفیکیشن جاری ہوا جس میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد (ہزارہ نشین علاقے) میں رہنے والے ہزارہ کمیونٹی کے تمام افراد کو ان کے علاقوں تک ہی محدود رکھا جائے۔ ان فیصلوں کے بعد مختلف حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوکر ختم ہونے والی ہی تھی کہ 25 مارچ کو چیف سیکرٹری بلوچستان کے بیان نے اس تاثر کو یقینی بنایا کہ نہ صرف عام لوگ بلکہ حکومت بلوچستان بھی یہ سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں کورونا وائرس ہزارہ کمیونٹی کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے 25 مارچ کی پریس بریفنگ میں یہ بیان دیا کہ حکومت بلوچستان نے کوئٹہ کا رابطہ صوبے کے باقی اضلاع سے مکمل طور پر منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد کا رابطہ کوئٹہ کے باقی علاقوں سے منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکرٹری صاحب نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے یہ فیصلہ صوبے کے فائدے کے لئے کیا ہے اور اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

اب سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یہ فیصلہ نسلی تعصب کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لئے پہلے نسلی تعصب کو سمجھنا ہوگا۔ سادہ الفاظ میں اگر بیان کیا جائے تو نسلی تعصب کا مطلب کسی ریاست یا اس ریاست کے باشندوں کا ایک مخصوص گروہ کے بارے میں ایسی رائے رکھنا جو اس مخصوص گروہ کو باقی لوگوں سے “مختلف” بناتی ہو۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو جب ایک مخصوص گروہ کو ایسے پیش کیا جائے جیسے وہ باقی لوگوں کی طرح انسان نہیں بلکہ کوئی “غیر انسانی” مخلوق ہیں۔ یہ تعصب اکثر و بیشتر رنگ و نسل، مذہب اور زبان کی بنیاد پر ہوتا ہے اور مختلف ممالک میں وہاں کی اقلیتیں آسانی سے اس تعصب کا نشانہ بنتی ہیں۔ تاریخِ انسانی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو لوگوں کے ذہنوں میں اپنے سے مختلف لوگوں کے بارے میں عجیب و غریب قسم کے تصورات رکھنا کوئی نئی بات نہیں۔

اگر ایسا ہر دور میں ہوتا آرہا ہے تو پھر اس میں تعجب کیسا؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ایسا ہوتا آرہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ کسی نہ کسی صورت میں لوگوں کے ذہنوں میں موجود رہے گا۔ لیکن مسئلہ اس وقت سنگین ہوجاتا ہے جب کوئی ریاست عام لوگوں کے ذہنوں میں موجود ان تعصبات کو قوانین کی صورت میں لاگو کرنا شروع کرتی ہے۔ یہودی مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یا یہودیوں کے بارے میں مسلمانوں کی کیا رائے ہے، یہ بات اس وقت خطرناک ہوجاتی ہے جب کوئی یہودی ریاست مسلمانوں کے خلاف قانون سازی کرتی ہے یا پھر کوئی اسلامی ریاست یہودیوں کو “غیر انسانی” مخلوق سمجھ کر اپنا آئین ترتیب دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی ریاست ایک خاص گروہ کے خلاف عوام میں موجود تعصب کو ریاستی بیانیہ کے طور پر پیش کرتی ہے تب اس گروہ کے خلاف نفرت اتنی شدت اختیار کرلیتی ہے کہ ان نفرتوں کو ختم کرنے کے لئے دہائیاں لگ جاتی ہیں اور نفرت کی اس آگ میں لاکھوں زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔

امریکہ میں مقیم افریقیوں کے خلاف عام لوگوں کا جو نفرت آمیز رویہ ہے اسے پروان چڑھانے میں سب سے بڑا کردار ریاستی پالیسیوں نے ادا کیا ہے۔ جرمنی کی نازی پارٹی نے یہودیوں کے خلاف جو قوانین لاگو کئے ان سے لاکھوں انسانوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس بات کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے اتنا بھی دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں کچھ عرصے پہلے مسلمانوں کے خلاف ریاست نے جو رویہ اختیار کیا اس سے وہاں موجود شدت پسندوں کے دلوں میں موجود نفرتیں باہر آگئیں اور اس کا مظاہرہ ہم نے ایک مہینے پہلے دہلی میں دیکھا۔ کیا اس سے پہلے وہاں کے شدت پسند مسلمانوں کے بارے میں اس سے مختلف رائے رکھتے تھے؟ نہیں۔ لیکن جب اسی نفرت کو ریاست نے اپنایا تو ان شدت پسندوں کو اپنی نفرت کے اظہار کا جواز مل گیا جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی اور یوں کئی انسانوں کی جانیں چلی گئیں۔

کوئٹہ میں مقیم ہزارہ کمیونٹی اپنی شکل و صورت کی وجہ سے صوبے کے باقی لوگوں سے یکسر مختلف ہے اور ان کی اکثریت شیعہ فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ہزارہ کمیونٹی کے بارے میں عام لوگوں کے ذہنوں میں جو سوالات موجود ہیں اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں لیکن جب ریاست اپنی پالیسیاں ان بنیادوں پر بنانے لگے تو اس سے صوبے کا فائدہ تو نہیں ہوگا البتہ ہزارہ کمیونٹی کے خلاف لوگوں کے دلوں میں موجود نفرتوں کا اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی اس نفرت کا کھلم کھلا اظہار کرنے کا جواز بھی ملے گا۔ جس کی مثال ہم نے اس آڈیو کال میں سنی جس میں ہزارہ کمیونٹی کو صرف اس لئے گالیاں دی جارہی تھیں کیونکہ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنے اپنے دفاتر میں کام کرنے کے غرض سے جارہے تھے۔ ایک ایسی کمیونٹی جو پچھلے پندرہ سالوں سے بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنی ہے ان پر یہ “ٹھپہ” لگانا کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ بھی یہی لوگ ہیں، ریاستی سمجھ بوجھ پر سوالیہ نشان ہے۔ ریاست نہ صرف اُس وقت بے بس تھی جب دہشت گرد چُن چُن کر ہزارہ کمیونٹی کو اپنا نشانہ بناتے رہے بلکہ اِس وقت بھی ریاست بے بس نظر آرہی ہے جب ایک عالمی وبا شکل و صورت دیکھے بغیر انساںوں کو اپنا نشانہ بنارہی ہے۔ ریاست نے اُس وقت بھی دہشت گردوں کو قابو میں رکھنے کے بجائے ہزارہ کمیونٹی کے اردگرد دیواریں کھڑی کرکے ان کا رابطہ شہر کے باقی لوگوں سے منقطع کیا اور اِس وقت بھی ریاست کورونا کو قابو کرنے کے بجائے ہزارہ کمیونٹی کو ان کے علاقوں میں قید کرنا چاہتی ہے۔

ہزارہ کمیونٹی کو ان سبزی فروشوں سے کوئی گلہ نہیں جنہوں نے اپنے سامنے دہشت گردوں کو ہزارہ سبزی فروشوں کو بس سے نکال کر قتل کرتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی ان مسافروں سے کوئی شکایت ہے جنہوں نے بس میں سوار ہزارہ خواتین کو اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھا۔ میں بھی ان کی جگہ ہوتا تو خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتا کیونکہ بندوق کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ ہزارہ کمیونٹی کو ان طالب علموں سے بھی ہمدردی ہے جنہوں نے ان بسوں میں سفر کرنے سے انکار کیا جس میں ہزارہ طالب علم سفر کرتے تھے۔ کیونکہ “کولیٹرل ڈیمیج” بننے کا کسی کو شوق نہیں۔ دہشت گرد شکل دیکھ کر ہزارہ کمیونٹی کو اپنا نشانہ بناتے تھے اس لئے ان کے قریب رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ لیکن اب جب دنیا بھر کے تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا وائرس شکل و صورت، دین و مذہب کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہر اس شخص کو اپنا شکار بناتا ہے جو اس کے سامنے آئے تب بھی حکومتِ بلوچستان شہریوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ شہریوں کو ہزارہ کمیونٹی سے خطرہ ہے۔ اس فیصلے سے ہزارہ کمیونٹی کے بارے میں موجود نفرتیں بڑھیں گی یا کم ہوجائیں گی یا اس سے ہزارہ کمیونٹی کو فائدہ ہوگا یا نقصان اس کا جواب جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔

سب سے آخری اور اہم بات ان لوگوں کے لئے جو یہ کہہ کر حکومت کے فیصلے کی تائید کررہے ہیں کہ یہ فیصلہ ہزارہ کمیونٹی کی حفاظت کے لئے کیا گیا ہے (جس طرح ان کی حفاظت کے بہانے سے ان کے ارد گرد دیواریں کھڑی کی گئی تھیں)۔ نسلی تعصب کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ریاست ایک گروہ کے ساتھ “خاص” قسم کا رویہ اختیار کرتی ہے۔ ہزارہ کمیونٹی کو کسی “خاص” قسم کے سلوک کی کوئی توقع نہیں کیونکہ وہ کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ باقی شہریوں کی طرح ہی کے انسان ہیں۔ ہزارہ کمیونٹی بھی بلوچستان میں رہنے والے باقی شہریوں کی طرح کورونا وائرس سے مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ ہزارہ کمیونٹی کو بھی شہر کے بند ہونے سے انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا باقی شہریوں کو کرنا پڑتا ہے۔ شہر کے بند ہونے سے ہزارہ کمیونٹی کو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر صرف دو مخصوص علاقوں کا رابطہ شہر کے باقی حصوں سے منقطع کرنے سے حکومت ایک عالمی وبا کو قابو کرنا چاہتی ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ اس فیصلے سے ریاست نے وہ قدم اٹھایا ہے جس کے بعد ہزارہ کمیونٹی کے خلاف لوگوں کے دلوں میں موجود نفرتیں نکل کر باہر آئیں گی۔ اس سے ہزارہ کمیونٹی کا نقصان تو ہوگا ہی لیکن صوبے کو بھی اس عمل سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔

محمد امان

محمد امان

محمد امان درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *