ہزارہ طائفہ قلندر ۔۔۔۔ ڈاکٹر حفیظ شریعتی

.
تلخیص و ترجمہ: اسحاق محمدی
 تحریری اسناد، شجرناموں اور سینہ بہ سینہ چلتی روایات کے مطابق جاغوری درج ذیل 7 طوایف پر مشتمل ہے
1-پشی 2- شیرداغ 3- قلندر 4- گری 5- یزدری 6- باغچری 7- آتہ، جنہیں مزید دو بڑے دستوں (گروہوں) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک گروہ چار دستہ کہلاتا ہے جس میں گری، یزدری، باغچری اور آتہ جبکہ دوسرا، سہ دستہ کہلاتا ہے جس میں پشی، شیرداغ اورقلندر شامل ہیں۔ طائفہ قلندرایک زمانے میں جاغوری کا سب سے بڑا قبیلہ ہوا کرتا تھا جس کی درج ذیل 37 شاخیں تھیں
1-سایی 2- کوکلی 3- دولت بای 4- مسکین 5- دولت بیگ 6- جم بخت 7- شارزایدہ 8- آجہ 9- اخکہ 10- بکی و زرک 11- بکی پنک یا پیک 12- دادکہ 13- تاینہ کہتر 14- بالنہ کہتر 15- تیغہ 16- جاجہ 17- پوکہ 18- عمر 19- خودگی 20- دلکہ 21- علی داد 22- الکہ 23- لالا 24- شاہ قدم 25- قافی 26- زاغی 27- موریز 28- تازہ کی 29- پردہ 30- خدیر 31- تائبوغہ 32- آجہ عوض 33- شیخجی 34- سریالی 35- دلتمور 36- چغر 37- ترتیب
جاغوری کی “خانی” (سرداری) ایک لمبے عرصے تک طائفہ قلندر کے پاس رہی مگر آگے جاکر اس کی حاکمیت جاغوری کے مغرب اور جنوب محدود تک ہوگئی۔جبکہ مرکز سمیت دیگر علاقے کے باشندوں نے صافی سُلطو (صافی سلطان) کو اپنا “خان” منتخب کرلیا۔ انیسویں صدی میں امیرکابل عبدالرحمان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے کے بعد ان کی زمینیں افغان قبائل میں تقسیم کردی گئیں۔ فی زمانہ ان کی ایک تعداد “سیرو” میں بودوباش رکھتی ہے۔ ایک اور تعداد باغچر اور اورزگان میں مقیم ہے جب کہ ان کی بڑی ایک آبادی ایران اور موجودہ پاکستان کے شہر کوئٹہ کیطرف مہاجرت پر مجبور ہوگئی اور اب ان ملکوں کے شہری ہیں۔
دستیاب شجرہ ناموں کی رو سے طائفہ قلندر کے جد امجد کا سلسلہ کچھ یوں بنتا ہے
قلندر ولد مامہ ولد الی ولد قولو ولد قیلنی ولد بیغنی ولد جاغوری ولد دایمیرکشہ ولد سادہ سویکہ۔ مامہ کے 2 بیٹے تھے، آتہ اور قلندر جبکہ ایک اور روایت میں قلندر کے 3 بھائی تھے ہیچہ، دہمردہ اور اَخکہ۔
سینہ بسینہ روایت کے مطابق دولت خو (دولت خان) ولد کشمیرخو (کشمیرخان) کے دورتک پورے جاغوری پر طائفہ قلندر کی حاکمیت رہی تا آنکہ 1214ھ ق (1800ء) میں جاغوری کے 6 دیگر قبائل نے صافی سُلطو کو اپنا خان منتخب کرلیا اور دولت خو کی حکمرانی خاکیران تک محدود ہوگئی۔ یاد رہے کہ صافی سُلطو سلسلے کی خانی بیسویں صدی تک قائم رہی۔ رجب علی خان آخری “خان” تھے (جنکی وفات 1980ء کے اوائل میں ہوئی)۔
تحریری اسناد میں محمد افضل اورزگانی اپنی کتاب “مختصر المنقول” میں لکھتے ہیں کہ “جاغوری، غزنی کے جنوب اور مغرب میں واقع ہے جو قندھار کے چار منزل سے شروع ہوکر غزنی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پانچ وادیوں اور 70 گاؤں پر مشتمل ہے جس کی آبادی 40 ہزار خانوار (گھرانے) ہیں۔ ہزارہ قبائل مسکہ اور قلندر کی آبائی وادیوں (خاکیران اور اجرستان) پر اب افغان قبائل قابض ہیں” ۔ جاغوری کے قبائل میں جاغوری، آتہ، بابہ، اوقی، قلندر، مسکہ، خوشہ، ایچہ، دای بیرکہ، شیرداغ، پشی، دہمیردہ، بیگ، ندام، گری، دولت شاہ، حاجی بینی، محمد خوجہ، قارلوق، آجہ زیرگ، باغچری، یزدری اور چار دستہ شامل ہیں (اورزگانی  صفحہ 130)۔ مرحوم فیض محمد کاتب ہزارہ بھی مختلف تاریخی حوالوں سے طائفہ قلندر کو جاغوری قبائل کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
 
نوٹ: ہزارہ قبائل مسکہ اور قلندر کی زمینوں کی طرح ہزارہ اوقی اور گری قبائل کی زمینیں بھی افغان قبائل میں تقسیم کی گئیں جن میں “رسنہ” کی سرسبز و شاداب وادی بھی شامل ہے جس کا مرکز “شاہجوی” اب صوبہ زابل کا دارلحکومت ہے (مترجم)
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

2 thoughts on “ہزارہ طائفہ قلندر ۔۔۔۔ ڈاکٹر حفیظ شریعتی

  • 21/05/2020 at 6:34 pm
    Permalink

    ،،، مصنف نے طائفہ قلندر دای چوپان کے بارے میں مکمل طور پر غلط قصے کہانیاں لکھی ہیں ، طائفہ قندر دای چوپان کا جاغوری سے دور کا بھی تعلق نہیں ، لہٰذا قلندر دای چوپان کے بارے میں جو تاریخ اس مصنف نے بیان کی ہیں ، سب کے سب جھوٹ ہیں ، تاریخی حقائق کچھ اور ہیں کہ جن کو جاغوری کے لوگ مسخ کرکے پیش کرتے ہیں ، اس سلسلے میں میری ایک تصنیف عنقریب منظر عام پر آنے والی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ طائفہ قلندر دراصل ‘ دائ چوپان ‘ کا دوسرا نام ہے کہ جو ہزارہ قبائل کے گیارہ ‘ دائ ‘ میں سے ایک ہے ، طائفہ جاغوری کا شمار کسی بھی ‘ دائ ‘ میں نہیں ہو تا ہے ،،، کسی دوست کو اگر مزید تفصیل چاہیے تو بتا دے ،،،،(عبدالعلی اصغری)

    Reply
  • 14/06/2020 at 6:28 pm
    Permalink

    قلندر دای چوپان ہزارہ ، در نشانہ تحریف گران تاریخ ، چرا ؟؟ِ؟

    تاریخ ہزارہ ، در دوران وبعد از امیر عبد الرحمان نشانہ ی تحریف گران تاریخ شد ۔ چون ساختن و دوام دادن کشوری بنام افغانستان برای امپراطوری بریطانیا اہمیت اساسی استراتیژیک داشت و توسط مردم پشتون این پلان و نقشہ را شکل عملی میخواستند بدہند ولی مردم ہزارہ را در راہ این پلان شوم یک مشکل جدی و سد خطرناک تصور میکردند چون مردم ہزارہ درآن منطقہ ی تصور شدہ جمعیت بالاتر از دیگران را دارا بودند ۔ لہٰذا این پلان را تصویب کردند کہ جمعیت مردم ہزارہ باید کاہش دادہ شود ۔ برای این مقصد شوم مردم ہزارہ را قتل عام کردند کہ آن قتل عام بدو شکل بود ، یکی قتل عام فیزیکی یعنی جسمی و دیگر قتل عام ہویت و تاریخ اش ۔ برای قتل عام جسمی شان لشکر کشی ہا کردند و قریہ بہ قریہ از کشتہ ہا پشتہ ہا ساختند ۔ و برای قتل عام ہویت و شناخت و تاریخ شان در ابتدا از نویسندگان انگلیس کار گرفتند کہ آنان در کتاب ہا و تصنیفاتش اصل و اسم و حتیٰ وجودی تاریخی اش را در منطقہ ی خراسان شرقی (افغانستان فعلی) مشکوک و پر از ابہام کردند ۔ ولی چون درین چہار دہہہ ی آخر چند نویسندگان آگاہ و بیدار این تو طئہ و نقشہ ی شوم را فہمیدند و بر علیہ اش قد علم کردہ جہان را از حقائق آگاہ ساختند و دارد می سازند ۔
    ولی این گلایہ را ازان نویسندگان محترم درمیان میگزارم کہ ، یکی از طائفہ ہای کلان ہزارہ کہ با امیر عبدالرحمان شجاعانہ جنگید و در ہر جنگ لشکر عبدالرحمان را شکست فاش دادند ، ولی شکست خوردن این طائفہ قلندر دای چوپان بہ علت اختلاف بین خود سرکردہ گان ہزارہ شد ۔ و بدست خود مردم ہزارہ خلع سلاح شدند کہ دیگر توان جنگیدن را از دست دادند ۔ و بعد از خلع سلاح زمین ہای شان را حکومت امیر عبدالرحمان مصادرہ کردہ این مردم قلندر دای چوپان را مجبور بہ مہاجرت کردند ۔ و آن زمین ہا ی طائفہ قلندر دای چوپان بہ اقوام پشتون بخشیدہ شدند ۔ ازانروزآن زمین ہا تحت تصاحب پشتون استند ولی ہیچ سیاستمدار و نویسندہ ی بیدار برای آن زمین قوم ہزارہ مثل گنجشک ہم صدا در نمی آرند ۔ گلایہ دیگر اینست کہ نویسندگان محترم در آثارشان ہیچ تفصیل تحقیق شدہ راجع بہ طائفہ ی قلندر دای چوپان نہ نوشتند ۔ ہرچہ نوشتند اکثرش اشتباہ است ۔
    و حالا دارد دیدہ میشود کہ در بعضی گوشہ و کنار ہویت ، اصل و اسم و تاریخ طائفہ ی قلندر دای چوپان را ہم مثل سابق تحت نشانہ ی تحریف گرفتند ۔ و در مرحلہ ی اول اسم قلندر دای چوپان را تحریف می کنند یعنی ‘ قلندر ‘ را یک طائفہ جدا از ‘ دای چوپان ‘ می نویسند ۔ حالانکہ ہردو تا اسم ہمان یک طائفہ است ۔ (عبدالعلی اصغری)

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *