کورونا وائرس نئی عالمی ثقافت کا اشارہ۔۔۔ علی رضا منگول

 
چند عمر رسیدہ انسانوں کی قربانی کی بدولت آج انسان نسبتاً بہتر دنیا میں، بہتر ماحول کے ساتھ، بہتر صحت کے ساتھ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔
 
1- آج دنیا میں نسبتاً ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی ہے۔ گاڑیوں کے دھویں، انجن کی آوازوں اور ہارن کا شور نہیں ہے۔ گاڑیاں چلتے ہوئے دھول نہیں اُڑا رہیں۔ صاف ستھری فضا میں انسانوں کو سانس لینے کا موقع ملا ہے۔
 
2- کارخانوں میں مشینیں بھی خاموش ہیں اور ماحول میں بھی سکون جھلکتا ہے۔ کارخانوں کی بندش کی وجہ سے سرمایہ دار مزدور کا استحصال نہیں کررہا مگر ریاست آج بھی ہر شے پر ٹیکس لینے کے باوجود عوام کو ان کی ضروریات پوری نہیں دے رہی۔
 
3- ریاست کا استحصالی چہرہ ننگا ہوکر عوامی شعور میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ ریاستی زبردستی اور جبر کے تحت مختلف ٹیکسوں کی مد میں جمع ہونے والے عوام کے پیسوں کے بدلے عوام کو میسر صحت و تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں۔
 
4- شاپنگ مالز، کاروباری مراکز، مارکیٹوں اور دوکانوں کی بندش سے غیر ضروری اخراجات میں کمی کے نتیجے میں پیسوں کی بچت ہو رہی ہے۔
 
5- ہوٹلوں اور بیکریوں کی بندش کی وجہ سے کم غذائیت والے کھانوں (Junk Food )  سے محفوظ گھروں میں سبزیوں کے سالن اور دیگر صحت بخش خوراک کا استعمال ہو رہا ہے اور پیسوں کا ضیاع بھی نہیں ہورہا۔
 
6- یقیناً کورونا نے آپ کو ڈاکٹروں کے پاس جانے سے بھی روکا ہوگا۔ ایک تو صاف ستھری فضاء اوپر سے صحت بخش خوراک کے استعمال سے آپ بیمار نہیں ہوئے ہوں گے اور ڈاکٹروں کی بلاوجہ تجویز کردہ  کیمیکلز آپ کے معدے اور جسم میں داخل ہونے سے سے رہ گئے ہوں گے۔
 
7- گھر بیٹھے آپ کو بہت سارا وقت میسر آیا ہوگا تاکہ آپ اپنے شعور میں اضافہ کی خاطر کتابیں پڑھ سکیں اور نت نئی معلومات اور صحت اور کورونا کے بارے میں آگہی حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ بیماریوں کی مختلف وجوہات سے بھی آگاہی حاصل ہوئی ہوگی اور دماغی ارتقاء ہوسکا۔ اس کے علاوہ you tube میں بہت سارے موضوعات پر لیکچر اور مباحثے دیکھنے اور سننے کو ملے ہوں گے۔
 
اگر اس تمام نئی طرز زندگی یا ثقافت پر غور کیا جائے تو زندگی میں بہت سی خوشگوار تبدیلیوں کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس Lockdown سے یقیناً عام لوگوں کے روزگار اور ان کی زندگیوں پر برے اثرات پڑے ہیں، جو پھر یہ سمجھاتا ہے کہ تمام لوگوں کو روزگار فراہم کرکے زندگیوں کو آسان اور قابل برداشت بنانا قطعی طور پر ممکن ہے۔ اس نئی ثقافت اور طرز زندگی کو اپنا کر ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل کی جاسکتی ہے، جہاں تمام انسانوں کو بلا لحاظ قوم، مذہب، رنگ و علاقہ پوری انسانیت کے لئے یکساں سوچ اور آگے بڑھنے کے مواقع دستیاب ہوسکتے ہیں اور تمام لوگوں کو زندگی کی تمام تر سہولیات مہیا کی جا سکتی ہین۔
علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *