آزمائش ۔۔۔ اسد مہری

۔
دسمبر کی سخت سردی اور سڑک پہ جمی برف کی موٹی تہ پہ نازک سی دری پر دُکان کی سیڑھی سے تکیہ لگائے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا
“امی کیا اللّہ  واقعی ہم سے بہت پیار کرتا ہے؟ اور ہمیں آزمائش میں ڈالتا رہتا ہے تاکہ جان سکے کہ ہم اُس کے اچھے بندے ہیں یا نہیں؟”
سوال کرتے ہوئے جواد نے اپنا سر اپنی ماں کی گود میں رکھنے کی کوشش کی۔ مگراُس کی ماں آج بہت چپ تھی۔ جواد کو ماں کی یہ خاموشی بہت عجیب لگی۔ مگراس نے اپنی بات جاری رکھی
“امی پہلے ابا منڈی میں مارے گئے، پھر باجی کواَبا کے دوست اپنے قرضے کے بدلے ہم سے چھین کر لے گئے۔ پھر محسن بھائی نے خودکُشی کرلی، پھر آپ کے سیڑھیوں سے گِرنے کے بعد بابا کا سبزی والا ٹھیلا پولیس لے گئی اور اب آپ کو حاجی صاحب نے اپنے گھر کھانا پکانے اور صفائی سے منع کرکے کام سے نکال دیا ہے۔ آپ کی کھانسی اوربخار بھی کم نہیں ہو رہا۔ کل رات سے تو آپ کو سانس لینے میں بھی بہت دشواری ہو رہی ہے ۔
امی جان آپ ہمیشہ کہتی ہیں کہ اللّہ سب بہتر کرئے گا۔ ہماری زندگی بابا کے مرنے کے بعد اور بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ پچھلے تین ہفتوں سے ہم ماموں کے گھر والے گودام میں اس سردی کے موسم میں رہ رہے ہیں اور ماموں کو یہ بھی پتہ نہیں کے ہم کئی دِنوں سے بھوکے ہیں۔ امی کل رات جب ممانی نے ہمسائے کو چاول اور گوشت کی پلیٹیں بھیجیں تو میرا بہت دل چاہا کہ ممانی سےکچھ کھانے کے لئے مانگوں۔ مگر یاد آیا کہ وہ پھر سے غصہ کرے گی اور ماموں سے ہماری شکایت کرے گی۔
اب تو دکاندار ہمیں اپنی دکان کے سامنے بیٹھنے سے بھی منع کرنے لگا ہے۔ وہ  روز اس سردی میں آپ کے اوپر ٹھنڈا پانی پھینکتا ہے تاکہ ہم آئندہ یہاں نہ بیٹھیں۔  کل جب ایک چھابڑی والے نے اسے منع کیا تو دکاندار ہماری طرف اشارہ کرکے کہنے لگا کہ میں  اِن مردار خوروں کی وجہ سےکورونا کا مریض نہیں بننا چاہتا۔
امی اگر سب گھروں میں رہیں گے تو ہمارا کیا ہوگا؟  خدا کرے کے یہ بیماری اس گلی میں نہ آئے ورنہ ہم تو بھوک سے ہی مر جائیں گے۔
سردی کی شدت کا احساس کرکے جواد اپنی ماں سے لپٹنے لگا تو اُس کی ماں ایک طرف لڑھک گئی۔ جواد ماں، ماں کہہ کے رونے لگا تو اس کے رونے کی آواز سن گلی میں لوگ جمع ہونے لگے۔ کم سن جواد کو شاید معلوم نہیں تھا کہ اس کی ماں اسے دنیا میں تنہا چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے دور جاچکی تھی۔
مزید آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے!!
اسد مہری

اسد مہری

اسد مہری گزشتہ 21 سالوں سے بیرون ملک مُقیم ہیں۔ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ اس دوران انہیں صرف تین بار ہی اپنے گھر والوں سے ملنے کا موقع ملا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *