افغان کوچیوں کی آبادی، حقائق کیا ہیں؟ ۔۔۔ اسحاق محمدی

 عام اصطلاح میں کوچی ایسے انسانی گروہ کو کہا جاتا ہے جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا اور وہ  اپنے مال مویشیوں کے ساتھ پانی اور چراہگاہوں کی تلاش میں گھومتا رہتا ہے۔ جب کہ افغانستان میں کوچی سے مراد وہ افغان (پشتون) قبائل ہیں جو اپنے مال مویشیوں کے ساتھ اپنے ٹھکانے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ میں ماضی بعید میں ان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے کی بجائے بیسویں صدی کے اواخیر یعنی امیر کابل عبدالرحمان کے دور سے اپنی بات آگے بڑھاتا ہوں جس نے 1892ء میں ہزارہ جنگ جیتنے میں مدد دینے کے بدلےافغان کوچیوں کو ہزارستان (ہزارہ جات) کی تمام زرخیززمینیں اور شاداب چراہگاہیں بطور بخشِش دینے کا فرمان جاری کیا۔ تھا یاد رہے کہ اس وقت سے لے کر اکیسویں صدی کےموجودہ زمانے تک یہ افغان کوچی قبائل کابل کے پشتون حکمرانوں کی آنکھوں کے تارے بنے یوئے ہیں۔ چنانچہ ان کی خوشی و مفادات کے لئے ہمیشہ سے خصوصی فرامین، احکامات جاری اور قوانین بنتے آرہے ہیں۔ اس ضمن میں سینکڑوں کتابیں، تحقیقی مقالے و دیگردستاویزات دستیاب ہیں، لہذا میں براہ راست اپنے موضوع یعنی ان افغان کوچی قبائل کی آبادی کی طرف آتا ہوں۔

یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ یہ افغان کوچی قبائل، پشتون قوم کے دو بنیادی سلسلے درانی و غلزئی کی ذیلی شاخوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے درانی شاخ کے ذیلی قبائل افغانستان کے مغرب اور شمال مغرب کی طرف جبکہ غلزئی شاخ کے قبائل مشرق اور جنوب مشرق کی طرف نکلنے کو ترجیح دیتے تھے۔ کلاوس فرڈیننڈ کے مطابق درانی قبائل کی اکثریت خانہ بدوشی ترک کرکے مستقل رہائش اختیار کرچکی ہے اور مقامی اقوام میں اس طرح گھل مل گئی ہے کہ اب ان کی زبان پشتو سے فارسی میں بدل گئی ہے (کوچ نشینی صفحات 42 تا 44)۔ جہاں تک غلزئی شاخوں کا تعلق ہے، وہ برصغیر میں سلطنت برطانیہ کے دور سے لے کر 1947ء اور پھر پاکستان بننے کے بعد 1960ء تک، موسم سرما کے دوران  بہت بڑی تعداد میں افغانستان سے ملحق دونوں صوبوں یعنی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ (موجودہ نام) کا رخ کرتی تھیں۔ لیکن 1961ء میں افغانستان کیطرف سے ڈیورنڈ لائن اور پشتونستان کے مسلے اٹھانے پر پاکستان نے دوطرفہ تجارت اور افغان کوچیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔ اگرچہ سرکاری طورپر یہ پابندی 1963ء کے دوران اٹھا لی گئی تاہم کوچیوں کے داخلے کی شرایط کافی سخت کردی گئیں۔ جس کے باعث ان کی پاکستان آمد تقریباً بند ہوگئی۔

برٹش دور میں جب افغان کوچیوں کی آمد عروج پرتھی، خوش قسمتی سے انگریز سرکار نے ان کی آمد و رفت کو پوری طرح سے مانیٹر کیا اور اسکا ریکارڈ رکھا۔ اس زمانے کے آفیشل ریکارڈز کے مطابق سرکاری اہلکار مختلف سرحدی داخلی راستوں سے داخلے کے وقت ان افغان کوچیوں سے اسلحہ لیکر مال خانے میں جمع کرا دیتے اور بعد میں ہر قبیلہ کا بلحاظ جینڈر خواتین، مرد کی تعداد، حیوانات بلحاظ قسم مثلاً اونٹ، بھیڑ، بکریاں،خچر وغیرہ اور دیگر مال و اسباب کا اندراج کرکے ان سے ٹیکس لیتے اور انہیں مخصوص ضلعوں کی طرف سفر کی ہدایت دیتے تاکہ وہاں کی لوکل انتظامیہ اسی حساب سے ان سے مویشی چرانے کا ٹیکس اور دیگر ٹیکسیز وصول کرسکے۔ ان کی واپسی پر بھی یہی عمل دوہرایا جاتا اور اضافہ شدہ مال مویشی پر مزید ٹیکس وصول کرکے ریکارڈ متعلقہ دفاتر کو بھیج دیا جاتا۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ کہنے کو توافغانستان سے ان دونوں صوبوں کے اندر داخل ہونے کے ہزاروں راستے ہیں  لیکن انگریز دور میں ادارے اسقدر مضبوط تھے کہ ملک کے اندر جاکر کسی اجنبی کا اپنے آپ کو چھپانا ناممکن تھا، چہ جایکہ سینکڑوں اجنبیوں کا۔ بہرحال اس دور میں انتظامی امور سے متعلق ایک انگریز آفیسرجے اے رابنسن نے ان سرکاری دستاویزات کی مدد سے ایک مستند کتاب لکھی جو  پہلی بار 1935ء میں گورنمینٹ پرنٹنگ پریس نیودہلی کے توسط سے شائع ہوئی۔ بعد میں اس کتاب کی مزید کئی بار اشاعت ہوچکی ہے۔ میں نےافغان کوچیوں سے متعلق یہ  اعداد و شمارکتاب کی تیسری اشاعت، 1980ء کوئٹہ پاکستان والی کاپی سے لی ہے جوکہ درج ذیل ہیں: 

مردم شماری سال 1911ء

کل تعداد تعداد خواتین تعداد مرد نام
18586 7697 10889 صوبہ بلوچستان      
30611 13448 17163 صوبہ خیبر پختونخواہ
49197 21145 28052  ٹوٹل

 مردم شماری سال 1921ء

کل تعداد تعداد خواتین تعداد مرد نام
 9462  3695  5767 صوبہ بلوچستان
 44196  18092  22610 صوبہ خیبر پختونخواہ
50164  21787  28377 ٹوٹل

مردم شماری سال 1931ء

کل تعداد تعداد خواتین تعداد مرد  نام
 درج نہیں  درج نہیں صوبہ بلوچستان
 55710  23268  32442 صوبہ خیبر پختونخواہ
 55710 23268  32442 ٹوٹل

(رابنسن صفحات 5 تا 7) یعنی کوچیگری کے اس عروج کے دور میں بھی ان کی تعداد ستر ہزارکے آس پاس رہی۔

اگست 1947ء میں برصغیر دو ممالک انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوگیا۔ نئے پاکستان میں اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔ مزید برآں1961ء میں ڈیورینڈ لائن اور پشتونستان کے مسلے پر دونوں ممالک کے تعلقات اسقدر خراب ہوئے کہ پاکستان نے افغانستان سے تجارت اور افغان کوچیوں کی آمد پر پابندی لگا دی۔ اس لئے افغان کوچیوں سے متعلق اعداد و شمار دستیاب نہیں ۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے وہ دنیا کے ان چند گنے چنے ممالک میں شامل ہے جہاں مردم شماری سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ تاہم نسلی اورسیاسی وجوہات کی بنا پر افغان (پشتون) کوچیوں کے بارے میں متضاد اعدادوشماروقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ آئیے ان کا جایزہ لیتے ہیں:

جنرل اطلس آف افغانستان مطبوعہ ایران میں افغان ذرائع کے حوالے سے افغان کوچیوں کے بارے میں درج ذیل اعداد و شمار درج ہیں

فیصدی        کوچی تخمینی آبادی افغانستان کی کل تخمینی آبادی سال 1961-1960
5۔9٪ 1273000 13400000

لیکن پھر اچانک اگلے سالوں میں یہ تعداد دوگنی ہوجاتی ہے!؟

فیصدی       کوچی تخمینی آبادی افغانستان کی کل تخمینی آبادی سال  
 18 اعشاریہ 10 فیصد  2730000 15080000 1967- 1966
17 اعشاریہ 99 فیصد                   30400000000  16890000  1972-1971

(صفحہ 39)

اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ جب افغان حکومت اسقدر نااہل تھی کہ وہ صرف ایک ضلع کی مستقل آبادی کے اعداد و شمار اکھٹا نہیں کرسکتی تھی تب وہ ملک بھر میں پھیلی کوچیوں کی آبادی کیسے معلوم کرسکتی تھی؟ اور دوسرا اور سب سے اہم سوال یہ کہ صرف پانچ سال کے دوران کوچیوں کی یا کسی بھی انسانی گروہ کی آبادی کیسے دوگنی ہوسکتی ہے؟

1979ء میں سویت نواز حکومتوں کے دور میں کوچیوں کی بھاری اکثریت پاکستان میں قائم مہاجر کیمپوں میں منتقیل ہوگئی جہاں ان کے مال موشیوں کی پرورش کی کوئی گنجایش نہیں تھی۔ لہٰذا وہ کوچی سے عام مہاجر بن گئے جبکہ دوسری طرف افغانستان جسٹس ڈیپارٹمینٹ نے نومبر 2015 میں خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ “ملک کے اندر آئی ڈی پیز (1) میں کوچیوں کی تعداد 70٪ سے زائد ہے (جسٹس ڈیپارٹمینٹ- ص3)۔ اس طرح گویا مروجہ معنوں میں افغانستان کے اندر کوچیوں کی ایک قلیل تعداد ہی رہ جاتی ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے جب 70٪ آئی ڈی پیز کوچیوں پر مشتمل ہے تو پھر اس کثیر تعداد میں کوچی کہاں سے آئے کیا انہیں ایک بار بطور کوچی اور دوسری بار آئی ڈی پیز کے طور پر رجسٹر تو نہیں کیا گیا؟ یقیناً جواب اثبات میں ہے اور کابل حکمرانوں کی بدترین بد نیتی کا بین ثبوت ہے۔   “آن” کے مطابق، کابل کے حکمران، عام کوچی مفادات کے بجائے اپنے مفادات کی خاطر اس سارے مسلے کو سیاسی لے رہے ہیں۔ چنانچہ یہاں ایسے لوگ بھی اپنے آپ کو کوچی کہلواتے ہیں جو 70 کی دہائی سے بھی پہلے شہری زندگی اختیار کرچکے تھے اور اب بڑی بڑی جائیدادوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالک ہیں (آن- ص3 اور 10)۔ 

 پوسٹ طالبان کے گذشتہ تقریباً دو دہائیوں کے نام نہاد جمہوری دور میں جہاں ایک طرف ایک بار پھر سیاسی و نسلی تعصبات کی بنا پر ملک کی مستقل آبادی میں مردم شماری ممکن نہیں ہوسکی ہے، افغانستان کی آبادی اندازاً 03 کروڑ بتائی گئی ہے۔ لیکن دوسری طرف اسی دوران افغان کوچیوں کی آبادی کے بارے میں کئی پروجیکٹس پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں جن ان کے اعداد و شمار میں حسب سابق زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ مثلاً 2003-2004 میں تشکیل شدہ نماک (2)  کی رپورٹ میں کوچیوں کی تعداد 2426303 (08۔8٪) ظاہر کی گئی ہے جبکہ2006ء میں تشکیل شدہ کوچی افیئرز کا محکمہ (3) اپنی رپورٹ میں ان کی تعداد کئی گنا اضافے کے ساتھ 7 ملین بتاتا ہے۔ یعنی کل آبادی کا 23 فیصد سے بھی زائد جوکہ سراسر غیرممکن ہے۔ “آن” نے اس رپورٹ میں سنگین   خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ مثلاً رپورٹ میں مشرقی صوبہ خوست میں کوچی آبادی 352155 ظاہر کی گئی ہے جبکہ حکومتی ادارہ یعنی مرکزی شماریات (4) کے ریکارڈ میں خوست کی کل آبادی 528900 بتائی گئی ہے (آن- ص10)، گویا کوچی، وہاں کی مستقیل آبادی کے 70 فیصد کے قریب ہیں جو ناممکن ہے۔ اسی طرح  قندوز میں مستقل آباد ترکمنوں کو افغان کوچی ظاہر کیا گیا ہے جس پر ترکمن آبادی نے باقاعدہ احتجاج بھی کیا ہے۔ لیکن  تعجب کا مقام ہے کہ اس قدر نقائص کے با وجود  افغان حکومت سے وابستہ ذرائع جھوٹ پر مبنی  اسی 7 ملین کے عدد کی ترویج میں مصروف ہیں (صفحات 10 اور 22)۔

2005ء میں صدر حامدکرزی نے معروف جمہوری اصول، یکساں ووٹ کے حق اور افغانستان پارلیمینٹ کی اکثریتی رائے کے برخلاف کوچیوں کے لئے اولسی جرگہ (قومی اسمبلی) میں 10 سیٹوں کا مخصوص  کوٹہ مقرر کردیا جسے غیرپشتون منتخب نمائندوں نے حکومت کی کھلی پشتون نوازی سے تعبیر کیا جو اب تک  سچ بھی ثابت ہوتا آیا ہے (آن- صفحات 22-23) ۔ یاد رہے کہ یہ غیر جمہوری روایت ظاہر شاہ کے نام نہاد جمہوری دور 1964-1973ء میں پڑی تھی جنہوں نے اولسی جرگہ میں کوچیوں کے لئے پانچ نشستوں کا کوٹا رکھا تھا جبکہ بدقسمت ملک افغانستان میں ماضی کی شاہی آمریت کے دور کے برعکس موجودہ جمہوری دور میں اسی طرح کے نسلی تعصب کو ماڈریٹ پشتون حکمرانوں نے دوچند کردیا ہے۔ یعنی کوچیوں کا کوٹہ دس نشستیں مقرر کردیا ہے۔ تعجب کا مقام ہے کہ ایک طرف کابل حکومت کوچیوں کی اکثریت کو آئی ڈی پیز قرار دیتی ہے جبکہ دوسری طرف عام آئی ڈی پیز کو الگ کرکےصرف کوچیوں کے لئے دس نشستوں کا کوٹا مخصوص کرتی ہے۔ یقیناً یک بام و دو ہوا اسی کا نام ہے۔ کابل حکمرانوں کی نیت میں اگر فتور نہ ہوتا تو گذشتہ دو دہائیوں میں ملنے والی اربوں ڈالر غیرمکی امداد سے قلیل تعداد میں باقیماندہ غریب اور دربدر افغان کوچیوں کی آسانی سے مستقل آبادکاری ہوسکتی تھی جن سے بقول “آن” افغانستان کے اکثر دوسرے لوگ ان سے میل جول رکھنا پسند ہی نہیں کرتے (آن- ص27)۔  یعنی اب لوگ انہیں گندے، ناکارہ اور مشکلات پیدا کرنے والے سمجھتے ہیں (آن- ص14) جو در حقیقت افغان حکمرانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ متصب حکمرانوں کے ہوتے ہوئے شاید یہ کام آسان نہ ہو لیکن افغانستان کے عوام کو اب کھل کر بدنیتی پر مبنی کوٹہ سسٹم کے خاتمے اوریکساں جمہوری نظام  کے لئے آواز بلند کرنی چاہئے۔

نوٹ:

افغانستان انالیسٹ نیٹ ورک (آن) نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر گران قدر تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں جن میں سے ایک مقالے کا لنک ذیل میں دیا گیا ہے۔ اس مضمون کی تیاری میں مذکورہ مقالے کے مندرجات سے زیادہ استفادہ کیا گیا ہے (5)

 

References & Bibliography:

 

  1. Internally Displaced Peoples (IDPs)
  2. National Multi-Sectoral Assessment on Kuchis (NMAK)
  3. The Independent Directorate of Kuchi Affairs (IDKA)
  4. Central Statistics Organization (CSO)
  5. Afghanistan Analysts Network (AAN)
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

One thought on “افغان کوچیوں کی آبادی، حقائق کیا ہیں؟ ۔۔۔ اسحاق محمدی

  • 03/04/2020 at 11:28 am
    Permalink
    It was a wonderful article and research. After reading I was shocked bech I have little knowledge about kuchis now I have much more. Thanx
    Reply

Leave a Reply to Zakir Hussain Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *