خوش قسمت ۔۔۔ اسد مہری

.
آبائی وطن سے دور غیر مُلکوں میں جہاں کوئی بھی ہمارا نہیں ہوتا۔ زندگی صُبح پانچ بجے شروع ہوتی ہے اور شام سات بجے تک مشین کی طرح کام کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ کُچھ خوش قسمت یار دوست اپنے بال بچوں اور فیملی کے پاس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں جبکہ بعض تنہا اپنے کرائے کے مکان میں یا دوستوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔
جو دوست اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں کام سے  گھر لوٹنے کے بعد کم از کم  کھانا پکانا یا برتن دھونا نہیں پڑتا۔ اور وہ کچھ دیر کے لئے آرام  بھی کر سکتے ہیں۔ مگر وہ جو تنہا یا دوستوں کے ساتھ رہتے ہیں، اُنہیں گھر پہنچ کر تمام کام خود کرنا پڑتا ہے۔ ان کی زندگی کے ماہ و سال اسی طرح گزر جاتے ہیں۔  سب کی یہی اُمید ہوتی ہے کہ سال کے آخر میں فیملی سمیت یا اکیلے اپنے پیاروں سے ملنے اپنے آبائی وطن ہو آئیں گے۔ لیکن دیار غیر کی زندگی اتنی بے درد اور ظالم ہوتی ہے کہ کئی سال گُزرنے کے باوجود بندہ اس قابل نہیں بن پاتا کہ کچھ دنوں کے لیے اسی مُلک کے ہی کسی اور شہر میں گھوم پھر کر آجائے جس ملک میں اس کی رہائش ہوتی ہے۔ اور پھر سال اس اُمید کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے کہ آئندہ سال اپنے آبائی وطن ضرور جاہیں گے۔ مگر پھر وہی کہانی دوبارہ شروع ہوتی ہے۔
پردیس میں رہنے والوں کی زندگی بھی ایک قید کی طرح ہوتی ہے، جو اسی اُمید میں کٹتی ہے کہ اگلے سال زندگی اور کمائی بہتر ہوگی تو گھر والوں سے ملنے جائیں گے۔ پردیس کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کی طرح مسلسل چلتی تو ہے مگر کہیں پہنچتی نہیں۔ یہاں لوگ پیسہ کماتے تو ہیں مگر اُن پیسوں سے لذت اور آرام نہیں خرید سکتے۔ کیونکہ کمائےہوئے پیسوں سے وطن میں رہنےوالوں کی خواہشیں ہی پوری نہیں ہوتیں۔ اب وہ کیا جانیں کہ پردیس کی زندگی کس قدر مشکل ہوتی ہے!
اس کے باوجود یہ سوچ کہ خوشی ہوتی ہے کہ چلیں وہ تو خوش ہیں نا! ہم خوش نہیں تو کیا ہوا! ؟ ہم سے شکایت بھی کی جاتی ہے کہ آپ اتنے سالوں سے نہیں آئے۔ جس کا جواب ہم دینا بھی چاہیں تو نہیں دے سکتے۔
کیوں ؟؟؟
اس کیوں کا جواب نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جواب دینے سے دل کے سارے دکھ  درد نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ اگر ان کی نظروں میں ہم خوش قسمت ہیں تو خوش قسمت ہی سہی۔ اگرچہ لگتا نہیں کہ ہم خوش قسمت ہیں۔  دیارِغیر میں رہ کر!!
اسد مہری

اسد مہری

اسد مہری گزشتہ 21 سالوں سے بیرون ملک مُقیم ہیں۔ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ اس دوران انہیں صرف تین بار ہی اپنے گھر والوں سے ملنے کا موقع ملا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *