کورونا وائرس،  پاکستان  اور  بدلتے سماجی رویے ۔۔۔ حسن رضا چنگیزی

دسمبر 2019 میں جب چین کے مرکزی صنعتی شہر ووہان میں اچانک ایک پراسرار بیماری پھوٹ پڑی تو اکثر لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ بیماری جلد ہی چینی سرحدوں سے نکل کر ایک خطرناک وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔ چین کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے جس کی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن شاید پاکستانیوں نے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ جب چائنا Covid 19  نامی اس وائرس سے نمٹنے کے بعد اپنا آخری قرنطینہ مرکز بھی بند کر رہا ہوگا تب یہ وائرس کئی ملکوں کی سرحدیں عبور کر کےپاکستان میں داخل ہو چکا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں پاکستانیوں نے اس مسئلے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا اور اسے چین کا اندرونی مسئلہ قرار دے کر اس پر جگتیں کرتے رہے۔ کسی نےاس وائرس کو کافرچین پر اللہ کا عذاب قرار دیا تو کسی نے چینوں کی مردار خوری کو اس کی وجہ قرار دیا۔ ان لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ چونکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ حلال جانوروں کا گوشت کھاتے اور دن میں پانچ بار وضو کرتے ہیں، اس لیے وہ اس بیماری سے نہ صرف ابھی تک محفوظ ہیں بلکہ آئندہ بھی محفوظ رہیں گے۔ دلچسپ بات یہ کہ جب اس وائرس کی ہلاکت خیزیوں کا اندازہ ہوا تو حفاظتی ماسک خریدنے کے لیے قطاروں میں نہ صرف وہ لوگ کھڑے نظر ائے جو اس وائرس کے علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکوں کی تلقین کرتے نظر آتے تھے بلکہ دعاؤں پر یقین رکھنے والے بھی مذہبی اجتماعات سے دور بھاگنے لگے۔
لوگوں کی تشویش اس وقت بہت زیادہ بڑھ گئی جب اس وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر نہ صرف سعودی عرب میں مکہ کے طواف اور عمرے پر پابندی کی خبریں آنے لگیں بلکہ متعدد ہلاکتوں کے بعد ایران نے بھی اپنے ہاں موجود مقدس مقامات کو عوام کے لیے مکمل طور پر بند کردیا۔ ایران میں اس وائرس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں وہاں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 145 تھی جبکہ 6000 لوگوں میں اس وائرس کے اثرات پائے گئے تھے لیکن آج تقریباً بیس دن گزرنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ کنفرم کیسز کی تعداد 27000 تک پہنچ چکی ہے۔ اس طرح اٹلی، سپین اور چین کے بعد ایران دنیا کا وہ چوتھا ملک بن گیا ہے جہاں اس وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ہر گزرتے وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور تادم تحریر یہ تعداد 1118 تک پہنچ گئی ہے جبکہ آخری اطلاعات آنے تک  8 افراد اس وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے جہاں 421 افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے بعد بلوچستان کا نمبر آتا ہے جہاں 121 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان تمام مریضوں کے بارےمیں ایک عام تاثر یہی ہے کہ ان کی اکثریت کا تعلق ان زائرین سے ہیں جو ایران کے سفر سے حال ہی میں وطن واپس لوٹے ہیں لہٰذا ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی ساری ذمہ داری بھی انہی زائرین پر ڈالی جارہی ہے۔ حالانکہ ذرائع ابلاغ پر شائع ہونے والی خبروں کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پہلے شخص کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے تھا جو سعودی عرب سے عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس لوٹا تھا۔ جبکہ چین، اٹلی، امریکہ اور یورپ سے آنے والے متعدد ایسے افراد میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جو ایئرپورٹس پر یا تو رشوت دے کر یا عملے کو جھل دے کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس حوالے سے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کا وہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا تھا کہ ملک کو اصل خطرہ ایران سے آنے والے زائرین سے نہیں کیونکہ ان کا مکمل ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے اور انہیں قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے بلکہ اصل خطرہ ان ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں سے ہیں جو ہوائی یا دیگر راستوں سے ملک میں آئے لیکن بغیر کسی معائنے کے گھروں کو چلے گئے اور جن کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں۔

جام کمال کے اس بیان سے اگرچہ کورونا وائرس سے متعلق صورت حال کی ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی عوام کو وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر اعتبار نہیں۔  یا شاید وہ جان بوکھ کراعتبار نہیں کرنا چاہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی تمام تر  ہلاکت خیزیوں کے باوجود یہ موذی وبا  ملک میں  ہماہنگی قائم کرنے کے بجائےنسلی اور فرقہ وارنہ تعصب کی  ترویج کا باعث بن رہا ہے۔ اس کی واضح مثالیں پچھلے دنوں کوئٹہ میں رونما ہونے ولے وہ واقعات ہیں جنہوں نے گزشتہ بیس سالوں سے قتل کا دکھ جھیلنے والی ہزارہ قوم کو ایک بار پھر  نسلی امتیاز کے نشانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ان واقعات کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 12 مارچ کو بلوچستان صوبے کے پولیس چیف نے اپنے ایک حکم نامے میں کورونو وائرس کے مقابلے میں”حفاظتی تدابیر” کے نام پر ہزارہ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دے کر انہیں نہ صرف فرائض کی ادائیگی سے روک دیابلکہ انہیں دفاتر میں آنے  سے بھی منع کر دیا  ۔ یہ نسلی امتیاز اور ایک خاص طبقے کو نشانے پر رکھنے کی ایک واضح مثال تھی۔لیکن ابھی اس واقعے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ہی تھا جب  اگلے ہی دن پولیس ڈیپارٹمنٹ کی دیکھا دیکھی واسا کے محکمے نے اس سے بھی زیادہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمے کے ہزارہ ملازمین کی دفاتر میں آمد پر پابندی لگانے کے علاوہ انہیں ان کے علاقوں تک محدود کرنے کا فرمان جاری کردیا۔

اگرچہ عوام اور عوامی نمائندوں کے احتجاج پر دونوں محکموں نے اپنے حکمنامے واپس لے لیے لیکن ان کے ان اقدامات سے کوئٹہ اور بلوچستان کے لوگوں کو ہزارہ قوم کی نسلی بنیادوں پر تضحیک اور تحقیر کا ایک ایسا موقع ہاتھ آیاجس کی شدت میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجتاً اب یہ صورت حال ہے کہ ہر طرف سے انہیں تنہا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی سطح پر بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سارا ملبہ ان پر ڈال کر انہیں نسلی بنیادوں پر معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  ایران سے آنے والےزائرین  میں ہزارہ زائرین بھی شامل ہیں لیکن فیصدی لحاظ سے وہ پاکستانی زائرین کا بمشکل پانچ فیصد بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی  ہے کہ وہ قانونی طور پر اور قافلوں کی شکل میں ایران  آتے جاتے ہیں اس لیے وہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے یا قافلے کو چھوڑ کر کہیں روپوش ہونے کے بالکل متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں وبا پھیلنے کے بعد جب وہ  واپسی پرپاکستان میں داخل ہوئے توانہیں پہلے تفتان کے “قرنطینہ مرکز” میں ٹھہرایا گیا پھر اٹھارہ دنوں کے بعد جب ان میں وائرس کے آثار نہیں ملے تو انہیں کوئٹہ آنے کی اجازت ملی۔  اس کے برعکس ایسے بے شمار لوگوں کا حقیقت میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں جو تجارت یا مزدوری کے سلسلے میں ایران آتے جاتے رہتے ہیں۔  ان کا تعلق صوبے اور ملک کے مختلف علاقوں سے ہے۔ لیکن جس منظم طریقے سے ہزارہ قوم کے خلاف نسلی بنیادوں پر نفرت آمیز مہم چلائی جا رہی ہے اس سے وبا کا خطرہ پس پشت چلا گیا ہے اور نسل او رعقیدے کی بنیاد پر تعصب اور نفرتیں پھیلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یہ طے ہے کہ کورونا سمیت کسی وائرس کو سرحدیں پھلانگنے کے لیے نہ تو پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے نہ ویزے کی۔ یہ کسی پر حملہ آور ہونے سے پہلے اس کا شناختی کارڈ بھی چیک نہیں کرتا۔ اسے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ اس کے شکار کا رنگ گورا ہے یا کالا۔ اس کے سامنے کسی کے اچھے یا برے نین نقوش بھی اہمیت نہیں رکھتے۔ اسے اس بات سے بھی قطعاً کوئی غرض نہیں کہ کون مسجد میں عبادت کرتا ہے اور کون گرجا گھر، مندر یا گردوارے میں۔ اسے نہ کسی کی پیشانی پر پڑے سجدوں کے نشان سے سروکار ہے نہ کسی کی داڑھی کی لمبائی سے۔ اسے نہ کسی کے سینے اور پیٹھ پر ماتم کے نشانات سے دلچسپی ہے نہ ہی کسی کی پگڑی کے رنگ سے۔ اسے نہ کسی کی زبان میٹھی لگتی ہے نہ کسی کی کڑوی۔ اس کے لیے یہ بات بھی اہمیت نہیں رکھتی کہ کس کی ثقافت زیادہ رنگارنگ ہے اور کس کا کلچر پسماندہ۔ یہ امیری اور غریبی بھی نہیں دیکھتا۔ اسے تو بس انسانی پھیپھڑے چاہیے جہاں یہ اپنا بسیرا کرسکے۔
یہ ہر اس انسان کا دشمن ہے جو جیتا جاگتا اور سانس لیتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نازک موقع پر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرانے اور نسلی بنیادوں پر ایک دوسرے کی تضحیک کرنے کے بجائے اس وبا سے بچنے کے ایسے طریقے تلاش کئے جائیں جو پوری انسانیت کی بقا کے ضامن ہوں۔

Read this article in English on Bolaq

Corona Virus, Pakistan, and the Deep-Seated Racial Biases

حسن رضا چنگیزی

حسن رضا چنگیزی

اظہار کی مجلس ادارت کے رکن حسن رضا چنگیزی ایک بلاگر ہیں۔ وہ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *