Love in the time of Corona ۔۔۔ فروا بتول

وبا کے دنوں میں محبت

 
چونکہ اب موضوع کی مدد سے قارئین کی توجہ مبذول ہوچکی ہے لہذا بغیر کسی بےجا تمہید کے ہم متن کی جانب بڑھتے ہیں۔ یعنی “وبا کے دنوں میں محبت”.

در اصل آپ کی توقعات کے برخلاف یہ کوئی رومانی افسانہ نہیں جس میں ہیرو ہیروئین وبا کا شکار ہوتے ہوئے بھی اپنی محبت سے کنارہ کش نظر نہیں آتے بلکہ یہ ہمارے ملک میں رہنے والے لوگوں کے متعصبانہ رویے کی جھلک ہے جو شاید آپ کو بھی اس بات پر متفق کر دے کہ وبا کے دنوں میں اگر ہمیں صابن اور سینیٹائزر کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ صرف محبت ہے۔ کورونا جیسی عالمی وبا پر جتنی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔  کوئی اس کو خدا کا عذاب سمجھ رہا ہے تو کوئی ایران، امریکہ اور چین کے مابین بائولوجیکل وار، کسی کو دنیا ختم ہوتے  دکھائی دے رہی ہے تو کوئی اسے خانہ کعبہ کو مسلمانوں سے خالی کروانے کا منصوبہ اور اسلام کے خلاف  یہودی سازش قرار دے رہا ہے۔ کوئی پیاز اور ادرک سے اس کی ویکسین بنانے کا اعتراف کر رہا ہے تو کوئی تعلیمی ادارے بند ہونے پر کورونا کا مشکور نظر آرہا ہے۔ ایک جانب صوبوں کے حکمران اپنے ہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد زیادہ بتا کر فنڈ کے پیسوں سے اپنی جیبیں گرم کررہے ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم صاحب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرضوں کی معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ادھر کسی کو موسمی چھینکیں آرہی ہوں تو سب اسے مشکوک نظروں سے دیکھ کر وہاں سے کھسک جاتے ہیں۔ صفائی ستھرائی کا یہ عالم ہے کہ کچھ لوگ ایک ہی ماسک بار بار پہن کر اسے  کورونا کے علاوہ باقی تمام جراثیم سے آراستہ کر دیتے ہیں۔ دکانوں سے کچھ لوگ اشیائے خور و نوش بھاری مقدار میں لا کر ذخیرہ کر رہے ہیں تاکہ وہ سب سے آخر میں مر سکیں۔  رہی سہی کسرکچھ محبوباؤں نے پوری کرلیں ہیں جنہوں نے اپنے سابقہ عاشقوں کو معذرت نامے بھیج کر اپنے گناہوں سے سبک دوشی پر جنت میں اپنی جگہیں پکی کروالی ہیں۔ کوئی چینیوں کی ذہانت سے جل کراور ان کے گذشتہ تمام ایجادات بھول کر ان پر لعن طعن کرتا نظر آرہا ہے چاہے خود  گرد اور دھول میں اٹے ایک سو ایک جراثیم سے لدا  ہوا کیوں نہ ہو۔ اس لئے کسی چینی یا چینی جیسا دکھنے والے انسان کو دیکھتے ہی ایسے حواس باختہ ہوجاتے ہیں  جیسے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔

چینی جیسے دکھنے والے انسان سے یاد آیا کی ہزارہ کمیونٹی پاکستان کی ایک ایسی ہی اقلیت میں شمار ہوتی ہے جو اپنے چہرے کے فیچرز کی وجہ سے پاکستان میں بسنے والی باقی تمام قوموں سے باآسانی ممیز ہو جاتی ہے۔ ان کا تعلق بعض محققین کے مطابق منگولین نسل  ہے جو دنیا کی تین بڑی نسلوں میں سے ایک ہے۔ چینی، جاپانی اور کورین نسل کی طرح منگولین نسل سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایشیا کے مختلف ملکوں کے علاوہ پوری دنیا میں آباد ہے۔  یہ لوگ کافی حد تک ایک جیسی شباہت رکھتے ہیں۔

اگر کسی کو اس کے کالے یا گورے ہونے پر تعصب کا شکار بنتے ہوئے دیکھتے ہی ہم ریسزم کے نعرے لگاتے ہیں تو کیا کسی ملک میں رہنے والی اکثریت سے جدا نین نقش رکھنے والی اقلیت کو غیر ملکی کہنا یا تبصروں کا شکار بنانا ریسزم نہیں؟ پاکستان میں اس قسم کے تعصب کا شکار ہونے والی  اقلیت یعنی  ہزارہ کمیونٹی کے آباؤ اجداد کاتعلق افغانستان سے ہے جبکہ ان کی ایک بڑی تعداد ایران میں بھی آباد  ہے۔  برصغیر میں ان کی آمد تقسیم سے پہلے ہوئی۔  ان کا تعلق چونکہ شیعہ مسلک سے ہے اس سبب پاکستان کے شیعہ سنی فسادات میں بھی سب سے زیادہ نقصان اسی اقلیت نے اٹھایا ہے، کیونکہ پاکستان میں ان کی پہچان ان کے چہرے کے نقوش سے با آسانی ممکن ہے۔ مزید بر آں ان کی مادری زبان ہزارگی ہے جو مغلی، ترکی، فارسی اور دری سے ماخوذ ہے لہذا ان کے آگے پیچھے چینی زبان کے فقرے دہرا کر ان سے سمجھنے کی امید نہ رکھیے۔

آپ یقیناً اس تفصیل سے اکتا چکے ہوں گے لیکن اس تمہید کا مقصد محض آپ کو اس اقلیت کے ساتھ لوگوں کے متعصبانہ رویہ روا رکھنے سے آگاہ کرنا ہے۔ اول تو انہیں چینی اور اب کورونا جیسے القابات سے نوازا جا رہا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میری ایک دوست کو لاہور کی سڑکوں پر کچھ آوارہ لڑکوں نے کورونا وائرس چلا کر ہراساں کیا۔ ان کی بدتمیزی کا جواب تو بدتمیزی سے دیا جا سکتا ہے جیسے میری ایک اور دوست نے ایک کالے کلوٹے لڑکے کو اس کے “چین سے آئے ہو؟” کے سوال میں دیا “اور آپ افریقہ سے؟”

لیکن پاکستان جیسے متنوع ملک میں رہنے کے ناطے ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والی تمام اقوام، ان کے طور طریقوں اور دیگر بنیادی باتوں کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوانوں کا علم جیوگرافی اس قدرتو ہونا چاہیے جو گلگت اور بلوچستان کے علاقوں کو مشرق اور جنوب میں نہ پہنچائے۔ نیز پاکستان میں وسیع طور پرثقافتی اور علاقائی تنوع پایا جاتا ہے۔  لہذا اس تنوع کو سراہیں اور پاکستانی ہونے کا تمغہ کسی ایک اکثریت کو نہ دیں۔  کورونا جیسی وبا سے نمٹنے یا  مرمٹنے کی لیے  بھی ہمیں یکجہتی  اور محبت کی ضرورت ہے کیونکہ موت کورونا سے نہ ہوئی تو کسی اور سبب سے ہوگی لیکن محبت ایک لازوال رشتہ ہے۔

   

Latest posts by فروا بتول (see all)

فروا بتول

فروا بتول اردو ادب کی طالبہ ہیں۔ مضامین اور افسانے لکھنے کے علاوہ شاعری بھی کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *