کیا عورت کی اپنی کوئی پہچان نہیں؟ ۔۔۔ فدا حسین

“تقریب ِشادی خانہ آبادی نورچشم محمد علی فرزند ارجمند علی محمد ہمراہ دختر نیک سیرت غلام علی ہونا قرار پائی ہے۔”
دلہن کا نام کہیں نہیں لکھا تھا۔ میں کارڈ پڑھ ہی رہا تھا کہ مسجد سے اعلان ہوا،
” دوست محمدکی زوجہ ، غلام محمد ، خان محمدکی والدہ ، جان محمد کی ساس اور محمد نبی و محمد حسین کی ہمشیرہ وفات پا چکی ہے۔”
اعلان تین مرتبہ دہرایا گیامگر تینوں بار مرحومہ کا نام نہیں لیا گیا۔جتنے بھی نام پکارے گئےمردانہ تھے۔ مرحومہ کے بھی صرف بیٹوں کے نام لیے گئے۔ میرے ذہن میں سوچوں کی لہریں سی اٹھنے لگیں،
“کیا وفات پانے والی خاتون کی بیٹیاں نہیں تھیں کہ ان کے نام نہیں لیےگئے؟ ان کے بھائیوں کے نام تو پکارے گئے مگرکسی بہن کا نام نہیں، داماد کا نام پکار اگیامگر بیٹی کا نام نہیں، کیا مرنے والی بے نام تھی ؟ آخر کیوں اعلان میں صرف مردوں کا نام ہی لیا گیا اور جو شادی کا کارڈ میرے ہاتھ میں تھا اس میں بھی سارے نام مردوں ہی کے تھے؟ کسی ایک عورت کا نام نہیں تھا حتیٰ کہ دلہن تک کا نام بھی نہیں! شاید دلہن بے نام ہے اسی لیے اسکا نام نہیں چھپا! لیکن یہ بھی ممکن نہیں! کسی نومولودکے جنم لیتے ہی بلکہ آج کل تو پیدائش سےپہلے ہی اسکا نام طے کر لیا جاتاہے کہ لڑکا پیدا ہوا تو یہ نام اور اگر لڑکی پیدا ہوئی تو فلاں نام! آخر دلہن کا نام اس کی اپنی ہی شادی کے کارڈ پر چھاپنے سے کیا قیامت آتی ہو گی؟یا پھر کسی عورت کی وفات پرخود اس کا،اس کی بیٹیوں اور بہنوں کے نام لینے میں کیا حرج ہے؟”
ہمارے معاشرے میں عورتوں کی آزادی کے حوالے سے بعض مثبت رجحانات ضرور پائے جاتے ہیں مثلاً لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں ۔ بلکہ انہیں دوسرے شہروں میں بھی بھیجا جاتا ہے اور انہیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے سے کوئی روکتا بھی نہیں ۔ وہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں دوسرے مردوں کے ساتھ کام کر رہی ہوتی ہیں۔ لیکن جہاں انکی شناخت کا معاملہ آتا ہے تو انکی پہچان انکے اپنے نام سے نہیں بلکہ انکے والد، بھائی اور شوہرکے حوالے سے ہوتی ہے۔ اگر کوئی لڑکی تعلیم، کھیل، سماجی کاموں یا کسی اور میدان میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو اس کا نام غائب ہوجاتا ہے اور سب اسکی تعریف اسکے خاندان کے مردوں کے ناموں کے حوالے سے کرتے ہیں۔ جیسا کہ
“ہاں! تاج محمد کی بیٹی نے یونیورسٹی میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی ہے۔”
“وہ ہمارے ہمسائے حاجی صابر کی بیٹی جو کراٹے کھیلتی ہے ، اس نے گولڈ میڈل جیتاہے۔”
لیکن فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والی اور گولڈ میڈل جیتنے والی کا اصل نام نہیں لیا جاتا۔ محنت لڑکیاں کرتی ہیں ، تمام ترکریڈٹ ان سے وابستہ مَرد حضرات لے جاتے ہیں۔ مَردوں کے نام لے کر ان کی نسبت کو واضح کیا جاتاہے مگر کسی عورت کا نام نہیں لیا جاتا! حتیٰ کہ ماں کا بھی ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا!
لڑکیوں کی پیدائش کے بعد کچھ عرصے تک انہیں انکے نام سے پکارا جاتا ہے مگر کچھ بڑی ہوکر اپنے والد کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ شادی کے بعدان کی شناخت ان کے شوہروں کی نسبت سے ہوتی ہے اور ایک سال گزرنے کے بعد ان کی شناخت ان کے شوہروں سے منتقل ہو کران کے بچوں کی ملکیت بن جاتی ہے ۔اس طرح ایک عورت پوری زندگی اپنے والد، شوہر اور بچے کے ناموں کی شناخت کے ساتھ زندگی گزارتی ہے اور اسکی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔آئیےآپ اور میں سوچتے ہیں کہ جس طرح شناخت کے مختلف معاملات میں مردوں کے نام لیے جاتے ہیں ، ویسے ہی عورتوں کے نام کیوں نہیں لئے جا سکتے؟ روز مرہ کی زندگی میں چاہے خوشی کا موقع ہو یا غم کا ہم سب کو جنم دے کر پالنے پوسنے ، لاکھ خونِ جگر پی کر، مشکلات جھیل کرپرورش کرنے والی عورتوں کو ان کے اصل شناختی نام ہوتے ہوئے محض فلاں کی ماں، فلاں کی بیٹی، فلاں کی بیوی کہہ کر کیوں پکارا جائے؟ ان کی پہچان پر پردہ ڈال کر رکھنا ناانصافی ہے اور ناانصافی کیوں کی جائے؟ کیوں نہ انصاف سے کام لیتے ہوئے ان کی شناخت کو مسخ نہ کیا جائے؟ انہیں ان کی اپنی پہچان کے ساتھ جینے دیا جائے تو کیا حرج ہے؟ یہاں کچھ حد تک خودعورتوں کو بھی قصوروار قرا ردینا بے جا نہ ہو گاکیونکہ وہ اپنے حقوق و آزادی کیلیے آواز اٹھانا، اونچا مقام حاصل کرنا ، مردوں کے ہم پلہ ہونا چاہتی ہیں لیکن خود اپنی شناخت کے ساتھ سے نہیں بلکہ اپنے والد، شوہر اور بیٹوں کی پہچان کی بیساکیو،ں کے سہارے!
ایک مہذب معاشرے کے تعلیم یافتہ اور ذمہ دار فرد ہونے کو عملاً ثابت کرتے ہوئے خواتین کے والد، شوہر اور بیٹے کے ناموں کے رشتوں کے حوالے دیتے ہوئے ان کے اپنےنام لینے کو قباحت یا ندامت نہ سمجھا جائے ۔ مثلاً ذکیہ بھابھی، عائشہ چاچی، کلثوم بہن، معصومہ خالہ، حمیدہ پھوپھو، ستارہ بیٹی وغیرہ ۔ عورت ہمارے برابرانسان ہیں اور بہ حیثیت انسان انھیں ان کی اصل شناخت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے اور ایسا کرتے ہوئے ایسی کسی بوسیدہ روایت کی آڑ نہیں لی جائے کہ عورتوں کے نام لینا غیرت و مردانگی کے منافی ہے۔
فدا حسین

فدا حسین

مضمون نگار جامعہ بلوچستان سے میڈیا اینڈ جرنلزم میں ایم اے کرچکے ہیں۔ ایک مقامی روزنامہ میں سٹاف رپورٹر اور نیوز ڈیسک آپریٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں اورعرصہ دس سال سے شعبہ تعلیم سے بطور استاد اور پروگرام ڈائریکٹر وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *