کسی سماج میں طرزِ تحریر یا زبان کا کردار…. فدا حسین

٭
”جو لبوں پر بے اختیار آئے ’لہجہ‘ اور جو تحریر میں بے اختیار آئے ’زبان‘ کہلائے۔“
 
یادداشت تاریخ ہمیں بتاتی ہے، کہ انسان نے لکھنا پڑھنا لاکھوں سال کی تگ و دو کے بعد 4800 سال قبل سیکھ لیا تھا۔ تب سے اب تک مختلف خطوں کی مختلف مہذب اقوام نے صدیوں کی صدیاں دماغ سوزیوں میں گذارنے کے بعد اپنی آسانی کے لیے اپنی ہی ثقافتی علامتوں کی تجریدات پر محض انہیں ترتیب ہی نہیں دیا، بلکہ بوقلمونی اصوات پر انہیں استوار بھی کیا۔ انہوں نے اب تک لاکھوں، کروڑوں تصانیف کو اپنے مخصوص حروف تہجی(alphabet) کے سانچے میں ڈھال دیئے ہیں۔ یوں انہوں نے ان گنجینہءِ علم و خرد تک رسائی کو اپنی طرزِتحریر یا زبان پر عبور سے مشروط کرکے محتاج و مجبور علمی دنیا کو للکارا، کہ وہ بھی ان کی طرزِتحریر یا زبان کو اپنائے۔ ان میں انگریزی زبان سرفہرست ہے، جس میں شاید کم و بیش ڈیڑھ ارب کتب ترجمے کے ساتھ شائع ہوبھی چکی ہیں۔
 
یہ مسابقت مختلف اقوام عالم اور بالخصوص چھوٹی چھوٹی قومیتوں میں آج بھی طمطراق کے ساتھ جاری ہے۔ (جس کی مثال پشتو زبان اور اس کی طرزِ تحریرہے، جسے وجود میں آئے ہوئے شایدچند دہائیاں مشکل سے گذری ہوں گی) جبکہ دنیا میں ایسی قومیں اورہماری(ہزارہ) جیسی قومیتیں بھی آباد ہیں جن کی اپنی کوئی مخصوص زبان ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص طرزِتحریر!۔ اس قسم کی قوموں اور ازبری زبانوں کا یا بہ زودی؛ یا بہ دیر ناپید ہونا مقدر بن جاتا ہے، بالخصوص جغرافیائی لحاظ سے تقسیم در تقسیم ایک قوم کی روبہ زوال زبان میں رائج مختلف زبانوں کے جواہر کا سرایت ہونا ناگزیر ہے۔ تااینکہ وہ باقی زبانوں میں تحلیل نہ ہوجائے۔
 
صورتحال یہیں نہیں رکتی؛ آگے جاکر وہی قوم یا قومیت اپنی ”سینہ بہ سینہ ازبر“ زبان کی طرح اپنی شناخت بھلا کر دیگر اقوام کے ساتھ گھل مل کر بالآخر ان ہی کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی شناخت اور زبان کا نام و نشان صفحہ ہستی سے نہ ختم ہوجائے۔
 
”اس بات کی تشویش ہمیں قطعاً ہونی نہیں چاہیے کہ جستہ جستہ ہماری زبان، پھر ہماری شناخت اور بالآخر ہمارا قومی وجود خطرے میں پڑنے والا ہے۔ وہ اس لیے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی سے مزین عالمگیریت(Globalization) کے توسط سے قربتوں اور دنیا میں زیادہ بولی جانے والی عالمگیر انگریزی زبان کی وجہ سے آج انسان ایک ’ہم زبان قوم‘ بننے کی طرف گامزن ہے۔“
 
اب اگر ادبی جماعت ”کیبلاغی آزرگی“ کے دوستوں نے اس جانب توجہ مبذول کرکے پہل کی ہے اور خود کو مبتلائے ابتلا کرکے یہ بیڑا اٹھانے کی ٹھان لی ہے۔ تو میرے خیال میں ہمیں نہیں چاہیے، کہ ان کی کاوشوں میں بے جا مداخلت کرکے ان پر اعتراضات کے پل باندھیں (کیونکہ اس قسم کی عرق ریزیاں کسی اکیڈمی ہی کے حصے میں آتی ہیں جو فی الوقت کیبلاغی آزرگی کے دائرہ اختیار سے بیرون نہیں ہے) اس لیے ہمیں انگریزی کا محاورہWait and see (انتظار کرو اور دیکھو) پر اکتفا کر لینا چاہیے۔ یوں کیبلاغی آزرگی کے دوستوں کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے، کہ آپ نے ابھی تک فقط ابتدائی کام سرانجام دیئے ہیں۔ آگے جاکر پیچ در پیچ درج بالا مسائل آپ دوستوں کو للکار رہے ہیں۔ اس لیے سابقہ مہذب اقوام کے نقش پا پر قدم دھر کر لاکھوں، کروڑوں نہیں؛ تو کم از کم سو، پچاس نایاب کتب کو ہزارگی زبان میں ترجمہ اور ہزارگی الف با (حروف تہجی) کے سانچے میں آپ کو ڈھالنا چاہیے۔ تاکہ باقی اقوام کی ان تک رسائی کے لیے ہزارگی زبان لکھنا اور پڑھنا شرط قرار پائے۔ بصورت دیگر، مبادا ہزارگی زبان اور رسم الخط کی ترویج میں آپ دوستوں کی شبانہ روز کاوشیں (فقط ہزارگی معاشرے میں محدود ہوکر) لہریں گننا ثابت ہو جائیں گی۔
فدا حسین

فدا حسین

مضمون نگار "اظہار" کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ انہیں فلسفے سے گہری دلچسپی ہے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *