افشار قتل عام، ہزارہ نسل کُشی کا ایک اور خونین باب ۔۔۔ اسحاق محمدی

 
پس منظر۔ اگرچہ اپریل 1992ء میں سابقہ سویت حمایت یافتہ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے سقوط کے بعد کابل کو پاکستانی حمایت یافتہ حکمت یار- شاہنواز تنئی اتحاد کے چنگل سے بچانے میں ہزارہ حزب وحدت نے کلیدی کردار ادا کیا لیکن بد قسمتی سے شوریٰ نظار کے کمانڈر احمد شاہ مسعود کی مخالفت کی وجہ سے برہان الدین ربانی حکومت نے بعض کلیدی وزارتوں بشمول داخلی سیکورٹی کی وزارت کو تمام تر وعدوں کے باوجود کسی ہزارہ کو دینے سے اجتناب کیا۔ جس کی وجہ سے نوبت مسلح جھڑپوں تک جا پہنچی۔ احمد شاہ مسعود اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ وہ آسانی سے ہزارہ حزب وحدت کو کابل سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور بعد میں ایرانی پاسداران سے قریبی تعلقات والے اکبری، سید فاضل اور شیخ آصف محسنی وغیرہ کو ہزارہ اور شعیہ کے نام پر چند معمولی وزارتیں دے کر جان چھڑا لے گا۔ لیکن بابا مزاری کی قیادت میں متحد ہزارہ اس کے خلاف ڈٹ گئے۔ پے درپے ناکامیوں کو دیکھتے ہوے مسعود نے ہزارہ شعیہ مخالف رسول سیاف کے ساتھ مل کر حزب وحدت کو کابل شہر سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی جس میں مذکورہ بالا ایرانی پراکسیز نے ان کا بھرپور ساتھ دیا جو سانحہ افشارکا باعث بنا۔
افشارآپریشن: دستیاب دستاویزات کے مطابق صدر ربانی کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد احمد شاہ مسعود نے رسول سیاف اوراپنے اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی جس کی شروعات افشار سے ہونی تھیں جس میں بعد از آں شیخ آصف اور اس کے بدنام زمانہ کمانڈر سید انوری کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں10 فروری 1993ء کی رات، ہزارہ نشین محلہ افشار سے ملحقہ پہاڑی چوٹی (کوہ رادار) پر شیخ آصف کے حامیوں نے اپنے تمام قائم مورچے خاموشی سے مسعود- سیاف فوجیوں کے حوالے کردیے۔ جس کے بعد “افشار” پر تین اطراف سے ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کی مدد سے باقاعدہ فوجی یلغار شروع کردی گئی۔  حزب وحدت کے جنگجو، شیخ آصف کی اس خیانت کے باعث شدید دباو میں آگئے لیکن نشیب میں ہونے کے با وجود اپنے سے کئی گنا بڑی اور ہر طرح کے جدید اسلحوں سے لیس فوج کا مقابلہ بڑی جوانمردی سے کیا اور کئی گھنٹوں تک دشمن کی پیشقدمی کو روکے رکا۔ جس کے دوران علاقے سے بڑی تعداد میں عام لوگوں کو نکلنے کا موقع مل گیا، لیکن دن کی روشنی میں مسعود کے جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی شدید بمباری کو دیکھتے ہوے حزب وحدت کے جنگ جوشہریوں کو جانی اور مالی نقصانات سے بچانے نیز کابل کی سب سے بڑی ہزارہ نشین آبادی “غرب کابل ” کو بچانے کی خاطر دوسری دفاعی لائن کی طرف نکل گئے۔
اگرچہ ان کی یہ حربی چال کامیاب رہی اور مسعود- سیاف فوجیں دیگر ہزارہ نشین علاقوں کو فتح کرنےمیں ناکام رہیں تاہم ان شکست خوردہ عناصر نے اپنی ناکامی کا تمام تر غصہ افشارکے باقی ماندہ نہتے ہزارہ عوام پر نکالنا شروع کیا ۔ یوں اگلے چوبیس گھنٹوں (11 اور 12 فروری) کے دوارن مسعود- سیاف کی فوجوں نے ہزارہ عوام کی جان و مال اور عزت و ناموس کے ساتھ جس طرح کا خونین اور شرمناک کھیل کھیلا اس کی مثال حالیہ تاریخ میں صرف عراق میں ملتی ہے جہاں داعشی وحشیوں نے یزیدی اقلیت سے اسی طرح کا انسانیت سوز سلوک کیا۔
سانحہ افشار پر بہت ساری تحقیقی رپورٹیں اور معتبر آرٹیکلز بشمول ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ، کئی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ میں یہاں صرف روزنامہ گارڈین کا یہ اقتباس پیش کرکے بات آگے بڑھاتا ہوں۔ گارڈین نے اپنے 16 نومبر 2001ء کے ایک ریسرچ آرٹیکل میں اس سانحے پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے کے بعد لکھا ہے 
11 فروری 1993ء کو مسعود- سیاف فوجیوں نے ہزارہ نشین محلہ افشار میں گھس کر ایک ہزارعام شہریوں بشمول بوڑھے مرد، عورتیں، بچے یہاں تک کہ ان کے کتوں کوبھی قتل کرنے کے بعد ان کے سر تن سے جدا کرکےان کے اجسام کو کنوؤں میں پھنک دیا”۔
یہ آپریشن اس وقت کے وزیر دفاع احمد شاہ مسعود کی براہ راست نگرانی میں انجام پایا جس میں اس کی معاونت اس کے انٹلیجنس چیف (بعد ازآں کرزئی حکومت کے نائب صدر اول) قسیم فہیم اور اتحاد اسلامی کے صدر رسول سیاف نے کی۔ جبکہ فیلڈ کمانڈرز میں درج ذیل افراد شامل تھے:
 
شوریٰ نظار کے  انور ڈنگر، ملا عزت، محمد اسحاق، حاجی بہلول پنجشیری، بابہ جلندر پنجشیری، خنجر پنجشیری، مشتاق لعلی اور باز محمد بدخشانی وغیرہ۔
اتحاد اسلامی رسول سیاف کے شیر علم، زلمی طوفان، ڈاکٹر عبدللہ، جگرن نعیم، ملا تاج محمد، عبدللہ شاہ، منان دیوانہ۔ امان اللہ کوچی، قومندان شیرین اور ملا کچکول وغیرہ، جبکہ شیخ آصف محسنی کی حرکت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سید انوری، سید مصطفی کاظمی، سید جاوید وغیرہ مددگار کے طور پر شریک جرم بنے۔
اب تک سانحہ افشار میں عام شہریوں کے بے رحمانہ قتل عام، عورتوں کی بے حرمتی اور بے تحاشہ لوٹ مار کی وارداتوں کی طرف ہی توجہ دی گئی ہے جبکہ بد قسمتی سے ایک اور تاریک پہلو کی طرف کم ہی دھیان دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ان تمام انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کے بعد مسعود- سیاف فوجیوں نے اس ہزارہ نشین محلے کے املاک کو ایک منظم انداز میں اس طرح تباہ برباد کرکے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا کہ 22 سال کا طویل عرصہ گذرنے کے با وجود اس کے مکینوں کی اکثریت آج بھی اسے آباد کرنے پر آمادہ نہیں اور ابھی تک اندرون ملک یا بیرونی ممالک  میں در بدر کی زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ میں ذاتی طورپر ایسے درجنوں خاندانوں کو جانتا ہوں جن کی کروڑوں کی مالیت کی املاک افشارمیں پڑی ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔ حالانکہ طالبان نے بامیان، یکاولنگ، روباتک، قزل آباد اور بطور خاص مزارشریف میں اس سے کہیں زیادہ بے گناہ ہزارہ باشندوں کا قتل عام کیا۔ اس کے باوجود وہاں کے باشندوں نے ان زخموں کو بھلا کر ایک نئی زندگی کی شروعات کردی ہیں، مگر افشار کے گھاؤ اتنے گہرے ہیں کہ وہاں کے باشندے طویل مدت کے بعد بھی نہیں بھول پا رہے ہیں۔
ہزارہ قوم نے دیگر سانحات کی طرح سانحہ افشار کو بھی کبھی فراموش نہیں کیا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ہر سال ہزاروں لوگ جلسے جلوسوں میں شریک ہوکر شھداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اورقاتلین کی مذمت کرتے ہوئے ان کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ابھی تک افشار سمیت دیگر سانحات کے مجرمین کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاسکا۔
بہ اُمیدِ آن روز
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *