پیڑ سے بچھڑی شاخ، افسانہ ۔۔۔ زہرا علی

٭
ایک سرکاری ملازم کی معمولی تنخواہ میں نیاز علی اور ان کی مرحومہ بیوی نے خون پسینے سینچ کر یہ مکان خریدا تھا- تین کمروں اور کشادہ سے ایک صحن پر مشتمل اس گھر میں دونوں میاں بیوی سالوں تک اکیلے رہے، جب تک ان کے آنگن میں بچوں کی کلکاریاں نہ گونجیں۔ صحن کے بیچوں بیچ بر گد کا وہ اکلوتا پیڑ ہمیشہ سے وہاں اس گھر کے ایک فرد کی مانند کھڑا تھا۔ قدرتی خوبصورتی سے بھر پوروہ گھنا اور تناور درخت ایک مہربان اور محبت سے بھر پور ہستی کی مانند اپنی گھنی شاخوں سے اس پورے صحن کو گھیرے اپنے آپ میں قدرت کا ایک انمول تحفہ تھا۔ وہ دونوں اپنی اولاد کی مانند اس پیڑ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ صبح کی خوشگوار اور تازہ ہوا میں چائے کے لطف سے لے کر شاموں کو گھنٹوں اکٹھے ڈھیر ساری گپ شپ، یا ان کے بچوں کی مستیوں اور ننھی ننھی شیطانیوں پر مشتمل یادوں میں وہ پیڑ ہمیشہ شامل رہا تھا۔
وقت گزرتا رہا، ان کے دونوں بیٹے شادیاں رچا کر اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نیاز علی کے پاس کرنے کو کچھ خاص نہ رہا، قسمت کی کرنی کہ ان کی محبوبہ بیوی بھی اللہ کو پیاری ہو گئی۔ بیٹے، بہوؤں اور پوتے پوتیوں والے بھرے پورے گھر میں بوڑھے نیاز علی کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔ بیوی کی جدائی میں نیاز علی نے برسوں کا سفر جیسے مہینوں میں طے کر لیا۔ خم کم، کمزور نظر اور سماعت کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ یاد اشت کی کمزوری کے سبب وہ اپنی عمر سے کہیں بوڑھے نظر آنے لگے تھے۔ اداسی اور اکیلے پن سے فرار کا واحد راستہ ان کا پیڑ تھا ، وہ گھنٹوں اس پیڑ کے نیچے بیٹھے خود کلامی کرتے رہتے۔ درجن بھر افراد پر مشتمل بھرا پرا گھر، مگربڈھے میاں کی تنہائی اور وہ اکلوتا پیڑ۔ زندگی کی بھاگم دوڑ میں مگن ا ن کے دونوں بیٹوں یا گھر کے کسی بھی اور فرد کے پاس بوڑھے نیاز علی کے لیے وقت نہیں تھا۔ وہ بلا ناغہ گھنٹوں اس پیڑ کے نیچے بیٹھا صحن میں آتے جاتے گھر کے لوگوں کو تکتا رہتا۔ پیڑ کے پاس بیٹھے خود کلامی کرتے یوں لگتا وہ پیڑ سے نہیں اپنی مرحومہ بیوی سے باتیں کر رہا ہو۔
’’دیکھ رہی ہو تم! گھر کی نئے سرے سے مرمت ہو رہی ہے۔ وہ اپنا انور ہے نا وہ ادھر، ادھر اس سمت میں دو نئے کمرے ڈالے گا اور اصغر اس طرف اپنے اور اپنے بچوں کے لئے دو کمرے۔ ۔۔”
’’ ہاں ہاں فی الحال دو دو کمرے ڈالیں گے، بعد میں اور بھی بنیں گے۔ ۔۔’’
’’ہمارا کمرا؟ کیوں نہیں بنے گا ہمارا کمرہ۔ ادھر وہ کونے میں بنے گا ہمارا کمرہ۔ ذرا کونے میں ہی تو ہے لیکن انور سے میں نے کہہ دیا ہے، ہوا دار اور بڑی سی کھڑکی لگوائیے گا، وہ ۔کھڑکی سے پورا صحن نظر آئے گا اور صحن میں کھڑی تم۔ میں جب یہاں نہیں بیٹھوں گا نا، تو میں ادھر کھڑکی سے دیکھوں گا تمہیں! چلو ٹھیک ہے وعدہ رہا۔ صرف کھڑکی سے نہیں د دیکھوں گا، میں تو روز تمہارے پاس آوں گا، یہاں تمہارے پاس۔ اب خوش۔۔۔’’
اوائل بہار میں بر گد کی ٹنڈ منڈ شاخوں میں ننھے منے ہرے پتے نمودار ہو جاتے تو وہ پیڑ بے شمار خوبصورت پرندوں سے بھر جاتا، اور جب ان کے خوبصورت گیت اور چہچہاہٹ سے ان کا سارا صحن کھل اٹھتا تو بوڑھے میاں گویا کسی نو مولود بچے کی طرح تر و تازہ ہو جاتے۔ چند ہی ہفتوں میں اس کی تمام شاخیں ہرے پتوں سے لد پھند کر کسی چھتری کی مانند صحن کے چاروں طرف پھیل جاتیں۔ گرمیوں بھر اس کی ہری بھری شاخیں صحن کے ایک بڑے حصے کو سائے میں لیے رہتیں۔  ہرے بھرے پتوں کے وزن سے لدی پھندی زمین کی طرف جھکی شاخوں میں نیاز علی کو اپنی مرحومہ بیوی کی اپنائیت اور پیار کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں اس کمرے میں سونا ایک عذاب تھا۔ کمرہ کہاں تھا وہ! برآمدے کے عقبی حصے میں ایک چھوٹا سا گودام جہاں پہلے پرانی اشیا پڑی ہوتی تھیں، آج کل بو ڑھے نیاز علی کا کمرا تھا۔ باقی زیر تعمیر کمروں کے ڈیزا ئن کو مد نظر رکھتے ہو ئے کھڑکی کا راستہ وقتی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ چھو ٹے سے اکلوتے روشن دان اور کھٹ پٹ کرتے اس دروازے سے جو اگر کھلا بھی ہوتا تو تازہ ہوا کی آمدو رفت تقریباً ناممکن تھی۔ نیاز علی کو اس کمرے میں رہتے ہوئے سال بھر سے اوپر ہونے کو تھا۔ کچھ نئے کمرے بن بھی گئے تھے، لیکن خود ان کا کمرہ مکمل ہونے کے چنداں آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ گرمی کی تپش اور حبس سے طبیعت بوجھل ہو گئی تو وہ پیڑ کے نیچے سستانے آگئے۔ جھلسا دینے والی گرمی میں پیڑ کی چھاؤں ایک نعمت تھی۔ چار پائی پر لیٹتے ہی ان کی آنکھ لگ گئی۔ جانے کتنی دیر وہ پیڑ کے نیچے سوتے رہے جب کوئی آہستگی سے ان کا کاندھا ہلاتے ہوئے پکارنے لگا،
’’ابا جی’’
آنکھ کھولی تو سامنے اپنے دونوں بیٹوں کو پایا، خوشی سے ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ان دونوں کا سہارا لے کر اٹھ بیٹھے۔
’’آج تم دونوں جلدی آگئے، اچھا ہے۔ میرے پاس بیٹھو، کتنے دن ہوئے ہم اکٹھے یوں نہیں بیٹھے ایک ساتھ۔ آج بیٹھیں گے نا مل کرچاروں، خوب باتیں کریں گے۔’’
نیاز علی کسی ننھے بچے کی مانند اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے اور ان کے دونوں بیٹے خاموشی سے سنتے رہے۔ بولتے بولتے نیاز علی خاموش ہوئے تو انور نے کہنا شروع کیا، ’’ ابا جی ! وہ دراصل ہم دونوں یہاں آپ سے کہنے آئے ہیں کہ۔۔۔۔’’
بوڑھے میاں ہمہ تن گوش سن رہے تھے،’’ کیا کہنے آئے ہو، بولو۔’’
اونہہ اونہہ! گلا صاف کرتے ہوئے وہ دوبارہ کہنے لگے،’’ ابا دراصل وہ گرمیوں کا موسم ختم ہوتے ہی ہم دونوں نے دوسری منزل ڈالنے کا ٖ فیصلہ کیا ہے۔’’
’’ ہاں تو ٹھیک ہے نا، جتنی مرضی کمرے ڈالو، یا منزلیں بنواؤ۔ یہ گھر تو اب تم دونوں کا ہے۔’’
’’ابا جی! دراصل وہ بھائی یہ کہہ رہے ہیں کہ دوسری منزل پر چڑھنے کے لیے سیڑھیوں کا راستہ صحن سے ہو کر گزرے گا اور صحن کے عین درمیان کھڑا یہ پیڑ ہمیں یہاں سے ہٹانا ہوگا۔ لیکن اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ابا؟’’ اب کی بار اصغر نے ایک ہی جملے میں ساری بات بتا دی۔
نیاز علی کا دل جیسے اچھل کر حلق سے باہر آگیا، بوڑھے اور جھری دار چہرے میں اندر کو دھنستی ہوئی ان کی آنکھوں میں درد کے احساس سے ایک دم پانی کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوئے۔ اپنے دونوں بیٹوں کی اپنے پاس موجودگی کی خوشی آنا فانا کہیں ہوا ہو گئی۔
تڑپتے ہوئے بوڑھے نیاز علی نے کانپتی آواز میں دونوں بیٹوں سے التجا کرتے ہوئے کہا، ’’ تم دونوں جو چاہے کرو لیکن یہ پیڑ تو نہ کاٹو۔ یہ تو تم دونوں سے پہلے یہاں ہے نا۔۔’’
“ابا جی ! گھر بڑا ہو گا تو اور کمرے بنیں گے، آپ کا کمرہ تو بہت ہی شاندار ہو گا۔ لیکن صحن کا تقریباً سارا حصہ تو اس پیڑ نے گھیررکھا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہمارے پاس کوئی اور راستہ بھی تو نہیں۔ تو مجبوراً ہمیں یہی کرنا ہو گا۔ آپ فکر نہ کریں۔ سب بہت اچھے سے ہو گا۔” اصغر ایک مرتبہ پھر بولا۔ نیاز علی میں سننے کی سکت باقی نہ رہی۔ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے لاٹھی سنبھالتے ہوئے آہستہ قدموں سے اپنے کمرے کا رخ کیا۔ انور اور اصغر وہی بیٹھے رہے۔
اس دن کے بعد جس بے چینی نے نیاز علی کے دل میں جگہ کر لی اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔ کسی ننھے بچے کی مانند اپنے پسندیدہ کھلونے کے کھونے کے ڈر سے اب وہ دن میں کئی مرتبہ اپنے کمرے سے نکل کر پیڑ کے پاس آ بیٹھتے۔ دل میں اس انجانے خوف نے یقین کی جگہ لے لی تھی کہ کہ پیڑ کو کاٹنے کی ان سے رائے نہیں لی گئی تھی بلکہ اطلاع دے دی گئی تھی۔ اس بات کو کئی مہینے گزر گئے اور خزاں کا موسم بھی آگیا، پیڑ کے پتے ہرے سے زرد ہو کر مرجھا کر گرنے لگے تو اس کی ننگی شاخوں سے ایک یک کر کے سارے پرندے بھی اڑ کر چلے گئے۔ لیکن نیاز علی بدستور دن میں کہیں مرتبہ پیڑ کے پاس آتے۔
آج خزاں کی خشک اور خنک ہواؤں میں وہاں بیٹھنا محال ہو رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جا رہے تھے کہ ان کی سماعت سے یہ بات ٹکرائی کہ اگلے ہفتے سے دوسری منزل پر مرمت کا کام شروع ہو گا۔ اس لیے کل ہی صحن سے پیڑ کو ہٹانا ہو گا۔ نیاز علی کمرے میں آتے ہی بستر پر لیٹ گئے۔ گرم لحاف اوڑھا تو تھوڑی ہی دیر میں نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ جانے کتنی دیر گزری ہو گی کہ مارے سردی کے پورے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی، اور وہ بھی اس شدت سے کہ پورے کا پورا بدن دکھنے لگا۔ لاکھ کروٹیں بدلیں لیکن کارگر ثابت نہ ہوسکیں۔ وہ اپنی پوری طاقت سے آوازیں دینے لگے لیکن کوئی نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے سنبھلتے ہوئے اٹھے اور کمرے کا بلب روشن کرکے بستر کے پاس رکھی ایک چھوٹی سی ٹین کی ڈبیا میں کچھ ڈھونڈنے لگے۔ کپکپاتے ہاتھوں سے بیک وقت ڈبے کو سنبھالنا اور اس میں کچھ ڈھونڈنے میں بہت مشکل پیش آ رہی تھی۔ کافی تگ ودود کے بعد ایک دوا ہاتھ لگی تو پانی کے ساتھ حلق سے اتار کر دوبارہ بستر میں لیٹ گئے۔ اگلی صبح کو آنکھ کھلی تو بستر سے اٹھنا چاہا، لیکن انہیں یوں لگا کہ ان کا کمزور اور ناتواں بدن منوں بھاری ہو گیا ہو۔ کل رات کی طرح اس کا جسم ٹھنڈا نہیں بلکہ اب کسی شدید قسم کی حرارت سے تپ رہا تھا اور پیاس کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا۔ سرہانے پڑی پانی کے جگ سے پانی پینے کی طاقت تک نہیں تھی۔ کل رات کسی پہر کوئی ان کا کھانا ٹرے میں رکھ کر گیا تھا، اور ایسا تب ہوتا تھا جب سبھی گھر والے کہیں باہر جاتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے بار بار آوازیں دینے پر بھی کوئی نہیں آیا تھا۔ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اپنی جگہ سے نہیں ہل سکا۔
صحن سے شور غل کی آوازیں آ رہی تھیں۔ آج سبھی گھر پر تھے شاید! لیکن کوئی اس کے کمرے میں ابھی تک نہیں آیا تھا۔ اس کی نگاہیں بار بار دروازے کی سمت جاتیں لیکن وہاں کوئی نظر نہ آتا۔ کافی وقت گزر گیا لیکن کوئی نہیں آیا۔ بخار کی شدت اور پورے جسم میں درد سے انہیں لگا جیسے کسی تیز دھار آرے سے اس کے جسم کے ایک ایک عضو کو کاٹا جا رہا ہو۔ کتنے مختصر وقفے میں سب کچھ ہو گیا۔ کسی پرندے کی مانند خود کو وہ اتنا ہلکا محسوس کرنے لگے جیسے وہ ہواؤں میں اڑ رہا ہو۔
ایک دھماکے سے دروازہ کھلا تو ان کا پوتا دوڑتا ہوا آیا اور ان کا کاندھا ہلاتے ہوئے بولا، دادا ابو، دادا ابو۔۔۔ اٹھ جائیے اٹھ جائیے جلدی۔ ابو اورچاچو آپ کا پیڑ کاٹ رہے ہیں۔ اٹھ جائیے۔ ’’لیکن نیاز علی کی بے جان اور کھلی آنکھیں مسلسل چھت کو گھورتی رہیں۔
 
زہرا علی

زہرا علی

زہرا علی ناروے کے شہر تروند ہایم میں مقیم ہیں۔ کتب بینی کے علاوہ افسانے اور کہانیاں لکھنے کا شوق رکھتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *