پاکستانی ہزارہ اور ثقافتی سرگرمیاں، آخری قسط ۔۔۔ اسحاق محمدی

*
د- کیبلاغی آزرگی
1994ء میں محمدعلی تورانی، کراچی میں طویل قیام کے بعد کوئٹہ شفٹ ہوئے۔ وہاں ان کا واسطہ مختلف زبان بولنے والوں سے رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں زبان شناسی کے موضوع میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس موضوع پرکافی مطالعےکے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ تمام ترظاہری مشابہت کے باوجود گرامر اور فونٹ کے اعتبار سے ہزارہ گی زبان “دری” سے مختلف ہے۔ لہذا 2003ء میں ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دوستوں سے مل کر ادبی تنظیم “اسپیلو” کی بنیاد رکھی۔ اسپیلو وہ پہلا ادبی ادارہ ہے جس کے زیر اہتمام پہلی بار ہزارہ گی میں “منجی” کے نام سے ایک رسالہ شایع ہونے لگا۔  2005ء میں اسپیلو، ہزارہ گی اکیڈمی میں ضم ہوگیا جس پر بعد میں غلام علی حیدری صاحب نے قبضہ کرلیا۔ لیکن ہزارہ تاریخ و ثقافت سے سے لگاؤ رکھنے والے دوستوں علی تورانی، قادرنائل، عزیز فیاض اور دیگر نے پہلے آزرگی اکیڈمی اور بعد از آں “کیبلاغی آزرگی” کے پلیٹ فارم سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں جس میں شعری و علمی نشستیں، صوبہ و ملکی سطح پر ہزارہ گی ثقافت و زبان کی نمایندگی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ سال 2019ء کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک قومی ثقافتی میلہ کے دوران ہزارہ خامہ دوزی کی قسم قبتومار کو پہلے انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ اسی طرح کیبلاغ کے دوستوں نے ہر فورم پر ہزارہ گی زبان کو ایک جداگانہ حیثیت دلانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہزارہ گی زبان میں نظم اور نثر لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس ضمن میں قادر نائل کا شعری مجموعہ الگم اور عزیز فیاض کا پرپگلہ، علی تورانی کا اوجارلہ اور علی ہمدم کا تبتوش قابل ذکر ہیں تا ہم کیبلاغی آزرگی کے دوستوں کے درج ذیل کارنامے قابل صد تعریف ہیں:
1۔ ہزارہ گی زبان کی جداگانہ حیثیت:
2017ء میں لوک ورثہ، ایس پی او، یوایس ایڈ اور انڈس کلچرل فورم کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک دو روزہ ادبی میلہ منعقد ہوا تھا جس میں ملک بھر سے 30 زبانوں کے ماہرین نے شرکت کی تھی۔ اس میلہ میں پاکستانی ہزارہ گی زبان و ثقافت کی نمائندگی کے لئے انڈس کلچرل فورم کی محترمہ فاطمہ عاطف اور ایس پی او کے جناب امدادعلی نویان کی کوششوں سے کیبلاغ آزرگی کے دوستوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ کیبلاغ آزرگی کے وفد میں علی تورانی، سیمابتول سحر، مصطفیٰ ایلخانی، مشتاق مغل اور علی ہمدم شامل تھے۔ اس ادبی میلہ میں کیبلاغ آزرگی کے وفد کی تمام تر توجہ ہزارہ گی زبان کو علیحدہ حیثیت دلوانے پر مزکور رہی جسے پہلے پہل مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے اس دو روزہ ادبی میلہ کے فوراً بعد اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے ایک دو روزہ علمی سمینار منعقد کیا گیا جس میں ایک بار پھر کیبلاغ آزرگی کے وفد کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ یہاں ایک علمی نشست میں جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی محترمہ ماروی میمن کررہی تھی، میں جناب محمدعلی ہمدم کو تفصیل کے ساتھ ہزارہ گی زبان کے بارے میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا اور سوال و جواب کے مفصل سیشن کے بعد پاکستانی ماہرین لسانیات بشمول ڈاکٹرروف پاریکھ نے ہزارہ گی کو ایک علیحدہ زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا جو کہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ یوں آسٹریلیا کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جہاں ہزارہ گی ایک مکمل زبان کے طور پر تسلیم شدہ ہے جبکہ قبل از ایں سینٹر فارورلڈ لیگویجیز، ہزارہ گی کو ایک علیحدہ زبان تسلیم کرچکی ہے۔ حسن اتفاق سے اس وقت رکن قوملی اسمبلی محترمہ ماروی میمن قومی اسمبلی میں پاکستان کی 13 زبانوں کو قومی زبان قرار دینے کا بل پیش کرنے جارہی تھی، انہوں نے اسی وقت ہزارہ گی زبان کو بھی اپنے بل میں شامل کرنے کی نہ صرف یقین دہانی کروائی بلکہ اسے عملی صورت بھی دی۔
2۔ لوک ورثہ میوزیم میں ہزارہ کارنر:
جناب تورانی کے مطابق اسی سفر کے دوران انہیں لوک ورثہ اسلام آباد میں قائم میوزیم دیکھنے کا موقع ملا جہاں پاکستان میں آباد مختلف قوموں کی ثقافت و طرز بودوباش کو ڈائوراماز کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ تب ان کے دل میں یہ خواہش ابھری کہ کاش یہاں ہزارہ گی ثقافت کی نمائندگی بھی ہو۔ شام کو انہوں نے اس کا تذکرہ محترمہ فاطمہ عاطف سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی لوک ورثہ میوزیم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فوزیہ سے کافی اچھی علیک سلیک ہے وہ اس ضمن میں ان سے ضرور بات کرینگی۔ کچھ دنوں کے بعد آغئی عاطف نے اطلاع دی کہ ڈاکٹرفوزیہ اصولی طورپر ہزارہ کارنر قایم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور وہ اپنے اگلے دورہ کوئٹہ میں اس کی تفصیلات پر کیبلاغ آزرگی سے مزید بات کریں گی۔ دورہ کوئٹہ کے دوران  باقی تفصیلات بھی طے ہوگئیں اور تمام مراحل طے ہونے کے بعد بلاخیر 19 مئی 2017ء کو اس کا باقاعدہ افتتاح ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین جناب خالق ہزارہ نے کیا۔ البتہ اس ضمن میں فاطمہ عاطف آغئی کی شبانہ روز محنتوں کا جداگانہ قدرے مفصل ذکر نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ اس کے علاوہ کیبلاغ آزرگی کے کارناموں میں ہزارہ گی حروف تہجی کی ترتیب اور کی بورڈ کی تشکیل بھی شامل ہیں۔
ذ- فاطمہ عاطف آغئی
محترمہ فاطمہ عاطف بیک وقت انسانی حقوق کی علم بردار، ممتاز سماجی کارکن اور ثقافت کی دلدادہ ہیں۔ 2014ء میں جب وہ اسلام آباد منتقِل ہوئی تو ہزارہ قوم اپنی تاریخ کے ایک مشکل دور سے گذر رہی تھی۔ پاکستان کے مختلف شہروں بطور خاص کوئٹہ میں آئے روز ان پر دہشتگردانہ حملے معمول بن گئے تھے۔ ایک ہزارہ فرد کی حیثیت سے ہر روز ان کا سامنا درجنوں ایسے سوالات سے ہوتا تھا جو ہزارہ شناخت سے متعلق تھے۔ کافی سوچ بچار کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں مقیم ہزارہ افراد بشمول طالبعلموں پر مشتمل ایک ہزارہ رضاکار گروپ بنایا اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے ہزارہ شناخت کو ملکی سطح پر روشناس کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ چنانچہ 2014ء ہی کو شاہ عبدالطیف بھٹائی ہال اسلام آباد میں پہلا کامیاب ہزارہ گی ثقافتی شو اور محفل موسیقی کا انعقاد ہوا جسے حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے دیکھا اور پسند کیا۔ جس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔ چنانچہ ہرسال لوک ورثہ کے زیر اہتمام ثقافتی ایونٹس میں پاکستان بھر سے دیگر ثقافتوں کی نمائندگی کے ساتھ ہزارہ ثقافت کی نمائندگی بھی ہونے لگی۔ اسی دوران وہ انڈس کلچرل فورم کی ایڈوائزری بورڈ کی ممبر بنی۔ انہوں نے اس فورم کو بھی ہزارہ ثقافت کی ترویج کے لئے موثر انداز میں استعمال کیا اور ان تمام سرگرمیوں کی خبریں اخبارات، سوشل میڈیا اور ٹی وی رپورٹوں کے ذریعے پورے ملک اور دنیا تک پہنچتی رہیں۔ یوں ان ثقافتی ایونٹس کیوجہ سے ہزارہ قوم کی شناخت کو کافی تقویت ملی۔
لوک ورثہ میوزیم میں ہزارہ کارنر کو حقیقت کا روپ  دینے میں فاطمہ عاطف آغئی کا کردار کلیدی ہے۔ ہزارہ گی دستکاری، زیورات اور دیگر ثقافتی اشیاء کی جمع آوری سے لے کر ہزارہ ڈائوراما کی ڈیزائننگ اور سجاوٹ کے تمام مراحل میں وہ پیش پیش رہیں۔ خود ان کے بقول “میں تقریباً ہر روز لوک ورثہ میوزیم کا چکر لگا کر کام میں پیشرفت کا جائزہ لیتی”۔ بلاخیر یہ خواب 19 مئی 2017ء کو ہزارہ کارنر کے افتتاح کی صورت حقیقت میں بدل گئی جو بجائے خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔ محترمہ فاطمہ عاطف بتاتی ہیں کہ ہزارہ کارنر کے افتتاح کے موقع پر باربار ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو ٹپک رہے تھے کیونکہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد ہزارہ کارنر ہے جس میں میرا کردار کلیدی ہے۔

ہزارہ کلچرڈے

محترمہ فاطمہ عاطف عرصے سے پشتون کلچرڈے، بلوچی کلچرڈے وغیرہ کی طرز پر “ہزارہ کلچرڈے” منانے کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔ اس سلسلے میں وہ ہم خیال دوست احباب سے ڈسکس بھی کرتی رہتیں۔ 19مئی کو ہزارہ کارنر کے افتتاح کے حوالے سے انہیں ایک سنہرا موقع میسر آیا جب وہ اپنے اس تصور کو عملی جامہ پہنا سکتی تھیں۔ لہٰذا انہوں نے “19 مئی کو ہزارہ کلچرڈے” منانے کی تجویز دی جسے ہر طرف سے کافی پذیرائی ملی۔ اس طرح 19 مئی 2019ء کو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں آباد ہزارہ قوم نے پہلی بار “ہزارہ کلچرڈے” منانے کی ابتدا کی۔ چونکہ اس وقت رمضان کا مہینہ تھا اور لیلتہ القدر قریب تھی لہذا کوئٹہ میں بڑی تقریب رمضان کے بعد 22 جون میں منعقد کی گئی جس میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال سمیت منتخب نمائندوں، برادر اقوام کے وفود کے علاوہ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ پاکستانی ہزارہ قوم کو تقریباً دو عشروں کے خونین دور کے بعد پہلی بار خوشی کے لمحات دیکھنے اور لمس کرنے کے مواقع ملے تھے۔ خوشی کے یہ لمحات انہیں ان کی ایک باہمت بیٹی “فاطمہ عاطف آغئی” نے فراہم کیے تھے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس کو ایک قومی دن کے طورپر ہمیشہ کے لئے یادگار بنائے رکھیں۔ پچھلے سال محترمہ فاطمہ عاطف اپنے ایک نجی دورہ امریکہ کے دوران نیویارک بھی آئی تھیں جہاں کمونیٹی کے دوستوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے بطور خاص 19 مئی کو “ہزارہ کلچرڈے” منانے کی بات کی تھی اور دوستوں نے حامی بھی بھری تھی۔

ر- انجمن فرھنگی اجتماعی اوماغ نو

اس انجمن کی تشکیل 30 مارچ 2013ء کو ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں ہوئی۔ انجمن کے بانی اراکین میں جناب عوض تورانی اور جناب امان التای شامل ہیں۔ انجمن فرھنگی اجتمای اوماغ نو اپنی تشکیل کے بعد سے ہرسال تواتر کے ساتھ ایک جامع ثقافتی پروگرام کا انعقاد  کرتی آئی ہے جن میں ہزارہ گی ملبوسات، زیورات اور کھانوں کی نمائش، ہزارہ گی رسومات جیسے شاوشینی، چاردہ پال وغیرہ پر مبنی خاکوں اور ڈراموں کی تشکیل کے علاوہ ہزارہ گی قستہ گوئی اور شعری نشستوں کی برگذاری شامل ہیں۔ انجمن کے دیگر چند قابل ذکر پروگرامز مندرجہ ذیل ہیں:

نمایشگاہ تاریخی بمناسبت سانحہ 25 سپتامبر 1892ء

نمایشگاہ فرھنگی بمناسبت روز کشمیر

نمایشگاہ فرھنگی بمناسبت روز ثقافت ہزارہ

بلاشبہ انجمن فرہنگی اجتماعی اوماغ نو، ہزارہ ثقافت کی ترقی اورترویج میں ایک فعال کردار ادا کررہی ہے۔ امید ہے کہ یہ انجمن اور دیگر ادارے و شخصیات ہزارہ کلچر کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہماہنگ کرنے کیلئے مزید بہتر انداز اور بہتر اشتراک عمل سے آگے بڑھیں گی۔

ںوٹ:

اس آرٹیکل کی تکمیل میں تعاون کرنے پر جناب علی تورانی، فاطمہ عاطف آغئی اور انجمن فرھنگی اجتماعی اوماغ نو کے دوستوں کا بے حد شکریہ

 

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *