خالق ہزارہ کا عوام سے صلاح مشورہ ۔۔۔ لیاقت علی

*
پچھلے دنوں ایک تقریب کے دوران صوبائی مشیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کھلاڑیوں سے سوال کیا کہ اگر وہ مستقبل قریب میں قیوم پاپا اسٹیڈیم یا ہزارہ ٹاون فٹبال گراؤنڈ میں مصنوعی گھاس artificial grass لگوانے کا انتظام کرے تو کیسا رہے گا ؟
 
انہوں نے کھلاڑیوں اور کوچز سے کہا کہ جا کر معلومات کریں اور پوری طرح تسلی کرلیں کہ کہیں ایسا کرنا کھلاڑیوں کے لئے مضر تو نہیں؟
 
ایک لحاظ سے یہ خوش آئند بات ہے کہ آپ عوام کو اپنے ساتھ شریک کر کے انہی کے مشوروں سے بہتر منصوبوں کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ عوام کے پاس آپ سے بہتر معلومات اور تجاویز ہوں جو مفاد عامہ کیلئے بہترین ہوں۔
 
امید ہے کہ آپ اسی طرح حلقہ کے کالجز سکولوں بنیادی مراکز صحت اور اسپتالوں کو بھی معیاری اداروں میں بدلنے کیلئے عوامی شخصیات، سماجی، سیاسی اور فلاحی تنظیموں سے بھی مشاورت کریں گے۔
جب تک عوام، آپ کے کارکن اور اپوزیشن خود اپنے ذاتی مفاد کی طرح عوامی منصوبوں اور اداروں کو بہتر بنانے کے لئے نہیں سوچیں گے اور اس سلسلے میں عملی اقدام نہیں کریں گے اور آپ بھی ان کی رائے کو ترجیح اور اہمیت نہیں دیں گے تب تک ہر پانچ سال بعد صرف ایم پی اے ہی بدلتا رہے گا اور پسماندگی وہیں کی وہیں رہے گی۔
 
جان کی آمان پاؤں تو عرض کروں کہ ہمارے حلقہ میں جتنے بھی سکولز، کالجز اور اسپتال ہیں وہ بین الاقوامی تو درکنار کراچی اور لاہور کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتے۔ یہ ادارے برائے نام ہیں، برائے کام نہیں۔ ان کی صرف عمارتیں معیاری ہیں۔
 
مغرب کی ترقی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں نہ صرف ہر کام معیاری ہوتا ہے بلکہ ان کے ادارے بھی ہر قسم کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔  جب تک آپ اور عوام خود ایک ادارے کو معیاری بنانے کا تہیہ نہیں کریں گے، تب تک آپ ترقی اور تبدیلی کا سوچیں بھی مت۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.