حسین علی یوسفی، ایک ہمہ جہت شخصیت ۔۔۔ عصمت یاری

٭
کسی نامور دانشور کے بقول انسانوں کی تین اقسام ہوتی ہیں۔  پیتل ، چاندی اورسونا۔ ایسے انسان جن کی زندگیاں اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کے گرداب سے نکلنے کی جدوجہد تک محدود رہیں، کو پیتل کہا گیا۔ وہ انسان جن کی زندگی کے مقاصد میں دوست اور قریب کے رشتہ دار مقدم ٹہرتے ہوں، چاندی گردانے گئے اور ایسے لوگ جن کے اوڑھنے بچھونے میں ایک بڑی اجتماع فوقیت پاتی ہو، کو سونے سے تشبیہ دی گئی۔ حسین علی یوسفی کی کرشماتی شخصیت اورسونے جیسے اوصاف ان کو ہزارہ قوم کا سب سے زیادہ مقبول و محبوب سیاسی راہنما بناتے ہیں۔ وہ اپنی دل آویز باتوں، ادبی چھٹکلوں اور سیاسی تجزیوں سے سامعین کو اس طرح اپنا گرویدہ بنا لیتے کہ جس محفل میں وہ جلوہ افروز ہوتے ان کے گرد لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی۔
حسین علی یوسفی انسانوں کے سمندر کے وہ انمول موتی ہیں۔ جنکو ہزارہ قوم کے درد، ظلم، جبر، مہاجرت، قتل و قتال کے احساس سے پھر پور بے رحم تاریخ  نے تراش کر گوہر نایاب بنایا۔ وہ ہزارگی نیشنلزم اور اس سے جڑی ثقافت، تاریخ، سیاست اور معاشرت کےتابندہ سر خیل ہیں جن کی جدوجہد ہزارہ قوم سے صوبے کے مقتدر اور با اثر حلقوں اور حکومتوں کے امتیازی اور تعصب آمیز سلوک کے گرد گھومتی ہے۔
 
وہ تفرقہ بازی، مذہبی اور قومی منافرت کے خلاف جبکہ مذہبی رواداری،  قومی برداشت، احترام انسانیت اور رواداری کے بہت بڑے داعی تھے۔  وہ معاشرتی مسائل کے حل میں اداروں کے کلیدی اہمیت کے قائل تھے اور قومی اداروں مثلاً ایچ ایس ایف، تنظیم اور ایچ ڈی پی کے پلیٹ فارم سے قومی کاز کے لئے جدوجہد کو اپنی زندگی کا سب سے مثالی دور قرار دیتےتھے۔
 
حسین علی یوسفی ہزارگی معاشرے میں روز افزوں بڑھتی خرافات، دقیانوسی تصورات اور فرسودہ خیالات کے خلاف ایک توانا آواز تھے۔ وہ معاشرتی بگاڑ، رو بہ زوال اخلاقی اقدار کے سب سے بڑے نقاد اور مصلح تھے لہٰذا انہوں نے اپنے سٹیج ڈراموں ، تقاریر، عوامی محافل میں اپنےدلفریب مزاحیہ انداز تکلم سے ہمیشہ معاشرے میں اصلاح کی کوششیں کیں ۔ وہ  سیاست میں مذہب کے عمل دخل اور ان سے معاشی مفادات کے حصول کےسخت خلاف تھے اور مذہب کو ہر انسان کا ذاتی عمل تصور کرتے تھے۔
 
یوسفی ایک تحریک کا نام ہے جس کی بنیاد قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ، ہزارگی سیاست، معاشرت، اور قومی فیصلوں پہ واگ و اختیار کی جدو جہد سے عبارت ہے۔ اگرچہ قوم کے ازلی اور ابدی دشمنوں نے آپ کو 26 جنوری کو ہم سے جسمانی طور پر جدا تو کر دیا لیکن آپ کی زندگی کا عملی طرز فکر وعمل چراغ راہنما بن کر ہمیں شاہراہ ترقی پر چلتے رہنے کی تلقین کرتا رہے گا۔ یوسفی کی سیاسی، قومی، ادبی، ثقافتی خدمات ہمارے لئے وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم آپ حضرت سے اپنی بے لوث محبت کا عملی مظاہرہ کر سکیں گے۔
عصمت یاری

عصمت یاری

مصنف درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور لکھنے لکھانے سے گہرا شغف رکھتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *