حسین علی یوسفی شہید (2009-1958) … اسحاق محمدی

حسین علی یوسفی شہید ایک ہمہ جہت اورباغ وبہار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے تمام اوصاف کو احاطہ کرنے کیلئے کئی دفتر چاہیے جس کی گنجائش تحریرہذا میں نہیں۔ اس لیے صرف  ان کے چند چیدہ چیدہ اوصاف کو اختصار کے ساتھ ان کی ناگہانی شہادت کی مناسبت سے اس امید کے سا تھ نذر قارئین کررہا ہوں کہ ہمارے نوجوان محققین ان کو ایک امانت کی طرح ہماری آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ پورا کریں گے۔

1۔ ہزارہ گی کاز سے والہانہ لگاؤ: شہید یوسفی زندگی بھر ایک سُچا “آزرہ بچہ” رہے۔ طویل عرصے تک ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن ، تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارمز سے ہزارہ گی کاز کے لیے جدوجہد کرتے رہےاوراسی کاز کی راہ میں بحیثیت چیئرمین ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ان کی شہادت ہوئی اور اس کے پاک خون کی برکت سے “ہزارہ گی کاز” کو ایک مہمیز ملی۔ چنانچہ تمام ترشازشوں کےباوجود یہ کاز ایک موثر تحریک کی صورت میں آج ایک تناور درخت کی صورت ایستادہ ہے ۔ اگرچہ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے سابق چیئرمین غلا م علی حیدری صاحب کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکرایک مختصر عرصے کے لیے وہ عملی ہزارہ گی سیاست سے دور بھی رہے جس کا ذکر انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں تنظیم ہی کے میگزین میں بھی کیا ہے، تاہم اس دوان بھی وہ  اپنی ہزارہ گی شاعری، ڈرامہ نگاری اور،اسٹیج شوز کے ذریعے نہ صرف ہزارہ سماج  میں بیداری لانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے بلکہ  ہزارہ گی محاورات، کہاوتوں اور پہیلیوں کی جمع آوری و تدوین میں بھی مگن رہے۔ ہزارہ گی کاز سے شہید یوسفی کی  کمٹمنٹ کا اندازہ کرنے کے لیے اس ایک واقعہ کا بیان کرنا ہی کافی ہوگا۔

یہ حقیقت بہت سو ں کو شاید معلوم ہو کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی تشکیل، ہم خیال دوستوں کی  درجنوں طویل میٹنگوں کا ثمرہے۔  آخری مرحلے میں اس نئی جماعت کے نام کے بارے میں کئی تجاویز آئیں جن میں ایک نام ہزارہ سیاسی کارکنان کے موجودہ سربراہ جناب طاہرخان ہزارہ کا بھی تھا۔ موصوف کا خیال تھا کہ لفظ “ہزارہ” کے بجائے “بلوچستان ڈیموکریٹک پارٹی یا پھر پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی” رکھنا چاہیے۔ ان کے اپنے موقف پر اصرار کی وجہ سے جب یہ بحث طویل ہوئی تو اچانک شہید یوسفی یہ کہتے ہوے اُ ٹھ کر جانے لگے کہ دوستو، جس پارٹی کے نام میں لفظ “ہزارہ” شامل نہ ہو، میں اس میں کام نہیں کر سکتا”۔
2- مستقل مزاجی: شہید یوسفی حد درجہ مستقیل مزاج انسان تھے۔ وہ ہرطرح کے حالات میں اپنی ذمہ داریوں کو  چاہے ذاتی ہو ں کہ قومی، فریضہ جا ن کرانجام دیتے تھے۔ مثلاَ جب 1983 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران جس میں، میں ان کے انتخابی کمپین کا انچارج تھا،  ہماری شناسائی، دوستی میں بدل گئی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ “ہزارہ گی محاورات اور کہاوتوں وغیرہ” کی جمع آوری میں مصروف  ہیں جو  ان کی شہادت ( 2009) یعنی تین دہایوں تک جاری رہی۔ ان کا طریقہِ کار بھی انوکھا تھا، ہر وقت بیگ میں قلم اور کاغذ ساتھ رکھتے۔ جہاں کہیں کوئی محاورہ سنتے فورا نوٹ کرلیتے۔ اگر کسی محفل  میں بزرگوں سے ملاقات کے مواقع  ملتے تو گویا ان کی “عید” ہو جا تی۔جہاں تک ممکن ہوتا نوٹ لیتے رہتے ورنہ ان کا ایڈرس لیکر ان کے گھر پہنچ جاتے۔ اسی مستقل مزاجی کے سبب شہید یوسفی کی 3300 سے زائد  ہزارہ گی محاورات اور پہیلیوں پر مشتمل ضخیم کتاب “فرہنگِ ادبیات ہزارہ گی” چار زبانوں یعنی ہزارہ گی، دری، اردو اور انگریزی میں چھپ کر دنیا کے سامنے آگئی جس کی نظیر کم از کم پورے ریجن کے دیگر اقوام کے ہا ں نہیں ملتی۔

3- جمہوریت پسندی :  شہید یوسفی نہایت وسیع القلب جمہوریت پسند تھے۔ اپنے بدترین مخالفین سے بھی مہربانی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ ذاتی زندگی میں بھی ان کی یہی روش تھی۔ سیاست میں ان کا رویہ عموماً لچک دار ہوتا اور وہ  ہر حال میں  ڈائیلاگ کو ترجیح دیتے۔  اسی خوبی کی وجہ سے وہ ہزارہ سماج کے تمام حلقوں میں یکساں مقبول تھے۔ ان کی چیئرمین شپ کا دور گرچہ بہت مختصر رہا لیکن اس دوران بہت سے حلقوں خاص طورپرہزارہ قوم پرست حلقوں سے پارٹی کی قربتیں کافی بڑھیں، جو بدقسمتی سے ان کے جانے کے بعد رک گئی۔ میں پورے وثوق سے دعویٰ کر سکتا ہوں کہ اگر شہید یوسفی زندہ ہوتے خصوصاً اگر انہیں آغاز میں ہی پارٹی کی قیادت کا موقع ملتا تو آج ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جڑیں ہزارہ سماج کے وسیع حلقوں میں مزید گہری ہوتیں۔  کیونکہ وہ بحیثیت پارٹی چیئرمین عوام کے اندر گھل مل جانےاوران کے دکھ اور خوشی  میں ان کے درمیان اپنی موجودگی کو ضروری نہیں بلکہ واجب سمجھتے تھے۔  عام زندگی میں بھی وہ اسی طرح تھے، تاہم پارٹی چیئرمین کی موجودگی میں سوا سیر بننے کو پارٹی ڈسپلین کے خلاف سمجھتے۔ ان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ ان کی شہادت کے بعد ان کے پیکر خاکی کو سپرد خاک کرنے کے دوران اس عظیم اجتماع سے بخوبی ہوا۔ بلاشبہ پاکستانی ہزارہ کی حد تک میں نے اپنی کم از کم چالیس سالہ بلوغت میں (عزاداری اجتماعات کے علاوہ) اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا۔ شہید بابا مزاری کے بعد اگر ہزارہ قوم نے اپنی تمام تر سیاسی و جغرافیای حدوں کو توڑ کرعالمی سطح پراپنے کسی “رہبر” کا سوگ منایا ہے تو وہ شہید یوسفی ہی تھے۔چنانچہ بامیان سے لیکر واشنگٹن تک ہزاروں مرد و زن اپنے شیرخوار بچوں کو لے کر ماتم کناں احتجاج پر نکل پڑےتھے۔

4۔ وسیع ذاتی تعلقات: جیسا کہ پہلے بتایا گیا شہید چیئرمین نہایت باغ وبہارشخصیت کے مالک تھے۔ ان کا رابطہ ہزارہ قوم کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کے ساتھ بھی نہایت دوستانہ تھے۔ بطورخاص دنیا بھر میں پھیلے ہزارہ سیاسی رہنماوں اور روشنفکروں کی ایک بڑی تعداد سے ان کے قریبی تعلقات تھے جو بین الاقوامی سطح پر ہزارہ گی سوچ میں ہماہنگی لا نے میں خاصا ممد و معاون ثابت ہوئے۔

شہید یوسفی کی بےوقت شہادت پوری ہزارہ قوم خاص طورپر پاکستان میں آباد ہزارہ قوم کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ اس وقت ہم سے جدا ہوئے جب ان کی قیادت کی اشد ضرورت تھی۔ یوسفی کو “ذرہ سے گوہر” یعنی ایک عام فرد سے ایک دلیر مدبر لیڈر بننے  میں تین دہائیوں سے زاائد عرصہ لگا۔ انہیں افغانستان و ایران میں آباد ہزارہ قوم کے مصائب اور پاکستان میں ان کی طرف بڑھتے خطرات کا احساس تھا۔  ان مشکلات اور خطرات کا حل بھی ان کے نزدیک بہت سیدھا سادہ تھا، اور وہ یہ کہ “جب یہ تمام مشکلات اور خطرات “ہزارہ” ہونے کے ناطے ہمیں درپیش ہیں تو پھر ہمیں “ہزارہ” بن کر ہی ان کا مقابلہ کرنا چاہیے”۔ یہی شہید چیرمین کی زندگی کا مِشن تھا اوریہی سب کے لئے پیغام بھی ہے۔

بنا کردند چہ خوش رسمی بہ خاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *