معروف مصور اور سکیچ کلب کے بانی سید فاضل موسوی سے ایک گفتگو

فاضل موسوی اظہار کی مجلس ادارت کے رکن جاوید نادری کو انٹرویو دے رہے ہیں

اسکیچ کلب عرصہ دس سال سے فائن آرٹس کی ترویج کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسکیچ کلب کے بانی اور روح رواں ملک کے نامور مصور جناب فاضل موسوی ہیں۔ پچھلے دنوں اظہار نےان سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
اظہار: فائن آرٹس کی طرف کب اور کیسے راغب ہوئے ؟
فاضل موسوی: فائن آرٹس کی طرف میرا جھکاؤ بچپن ہی سے تھا لیکن مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے ہائی اسکول کی سطح تک میں اپنے طور پر کام کرتا رہا ۔ ایک دفعہ گھر سے ڈانٹ بھی پڑی تھی کہ یہ کیا کر رہے ہو ! تب یہ سوچ کر کہ شاید یہ کوئی غلط کام ہے میں نےڈرائینگ چھوڑ دی۔میں نے اس کی باقاعدہ ابتدا 1979 ءمیں بلوچستان آرٹ کونسل سےکی۔ پھر 1983ء میں’ میں نے بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس میں داخلہ لیا جس کے بعد سےیہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
اظہار: پینٹنگ میں کس مکتب فکر سے زیادہ متاثر ہیں؟
فاضل موسوی: میں ان چیزوں سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتا۔ آرٹ کی ہسٹری میں جو تحریکیں چلیں وہ مطالعے کی حد تک تو صحیح ہیں لیکن جو چیزیں مجھے اپیل کرتی ہیں میں انہی سے متعلق کام کرتا ہوں۔ میں نے آئل پینٹنگ بہت کم کی ہے جبکہ واٹر کلر میں زیادہ کام کیا ہے۔ آج کل میں مکس میڈیم میں زیادہ کام کر رہا ہوں کیونکہ میرے خیال میں یہی وہ میڈیم ہے جس میں’ میں اپنے مافی الضمیر کا زیادہ بہتر طریقے سے اظہار کر سکتا ہوں۔
اظہار:کیا آپ فنون لطیفہ کے کسی اور شعبے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں؟
فاضل موسوی:اگر آپ کی مراد لٹریچر ، پرفارمنگ آرٹ یا میوزک ہے تو یقینا اس طرف میرا کافی جھکاؤ ہے۔ میں ان سے الگ نہیں رہ سکتا۔ میوزک تو میں باقاعدہ سنتا ہوں۔ فارسی اور اردو لٹریچر کا بھی مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ شاعری سے بھی بڑا شغف ہے مگر خود شاعری نہیں کرتا۔
اظہار: اسکیچ کلب کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
فاضل موسوی: میں ان دنوں اقراء آرمی سکول میں آرٹ ٹیچر کے طور پر کام کرتا تھا جب مجھے خیال آیا کہ سیکنڈ ٹائم میں میرے پاس تھوڑی سی فراغت ہے تو کیوں نہ کچھ کیا جائے! اس بات کا تذکرہ میں نے اپنے دوستوں سے کیا اور کہا کہ میں کچھ کرنا چاہتا ہوں اورجو کچھ میرے پاس ہے وہ میں کمیونٹی کے نوجوانوں کو منتقل کرنا چاہتا ہوں۔ ان کا سوال تھا کہ کیسے!؟ میں نے کہا کہ کوئی چھوٹا ساسینٹر ہو تو میں اپنے کام کا آغاز کر سکتا ہوں۔ میرے ایک دوست نے اپنے بیٹے کی ساری جمع پونجی ریزگاری کی صورت میں میرے حوالے کردی۔ یوں ان روپیوں سے جو غالبا 5000 کے قریب تھے، سید آباد سے ایک چھوٹی کلاس کی ابتدا کی۔ کچھ مہینے کلاس چلتی رہی پھر مالی مشکلات کے سبب وہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ دوسری مرتبہ پھر میں نے ایک کوشش کی لیکن وہ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ بالآخر 2009 میں میرے ایک اچھے پرانے اسٹوڈنٹ نے مجھے اس بات کی پیشکش کی کہ اگر میں کلاسیں دوبارہ شروع کرنا چاہوں تو وہ اپنی دادی کا مکان اس مقصد کے لیے میرے حوالے کرسکتے ہیں۔ اس طرح میں نے وہاں دوبارہ کلاسوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ چھ مہینے کے بعد مجھے خیال آیا کہ اب مجھے کوئی اور جگہ ڈھونڈنی چاہیے۔ تب میں نے موجودہ جگہ پرباقاعدہ اسکیچ کلب کی ابتدا کی جہاں ابھی تک کلاسیں لے رہا ہوں۔ گو کہ یہ نام بہت پرانا ہے اور شروع سے ہی یعنی 2001ء میں’ میں نے یہی نام رکھا تھا لیکن مختلف نشیب و فراز طے کرنے کے بعد 2009 سے اب تک باقائدہ اسکیچ کلب میں کلاسز ہو رہی ہیں۔ 2009 سے 2012 تک ہماری متواتر نمائشیں بھی ہوتی رہیں پھر بیچ میں تھوڑا وقفہ آگیا لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ بہت مخدوش حالات میں بھی میں نے ایگزیبیشن کا سلسلہ بند نہیں کیا اور انہی ایگزیبیشنز نے ہمارے نوجوانوں میں ایک نیا حوصلہ پیدا کیا۔
اظہار: بحیثیت آرٹسٹ دہشت گردی کے واقعات نے آپ کو کتنا متاثر کیا ہے؟
فاضل موسوی: کہا جاتا ہے کہ آرٹسٹ کا ہاتھ معاشرے کے نبض پر ہوتا ہے۔ جب عام انسان اتنا متاثر ہوسکتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم نہ ہو ں؟ بلکہ آرٹسٹ اس سے بدرجہا زیادہ متاثر ہوتا ہے ایک لحاظ سے آرٹسٹ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ایسے حالات ان کے لیے واردات قلبی ہوتے ہیں۔جب وہ اپنی پینٹنگز ، اپنی شاعری ، اپنی پرفارمنس یا اپنی موسیقی کے ذریعے اپنا کتھارسس بھی کرتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی وہ تاریخ کی تشکیل میں اپنا حصہ بھی ڈال رہا ہوتا ہے۔ جو کچھ ہورہا ہے یہ ایک دم ختم ہونے والی چیز نہیں ہے یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہی سوچ کر میں اور میرے سٹوڈنٹس نے ان موضوعات پر اچھا خاصا کام کیا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ ساری باتیں ریکارڈڈ ہیں۔ ہم ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
اظہار: کیا آرٹ ایک خداداد صلاحیت ہے؟
فاضل موسوی: پچھلے سال میری ایک دوست سے بات ہو رہی تھی وہ اس بات سے متفق نہیں تھے کہ یہ خداداد صلاحیت ہے۔ میں خود بھی ابھی تک ایک لحاظ سے اس بات کے حوالے سےمشکوک ہو ں۔ کسی بھی شخص کو لاء آ ف نیچر یا اللہ کی ذات بغیر کسی کوالٹی کے نہیں بھیج دیتا اور اسٹیفن ہاکنگ اس کی بہترین مثال ہیں۔ لہٰذا میرا نہیں خیال کہ یہ ایک حل شدہ سوال ہے۔ اس پر میں غور و فکر کر رہا ہوں کہ یہ واقعی ایک خداداد صلاحیت ہے یا نہیں! اگر وہ عوامل مختلف لوگوں کے لئے پیدا کیے جایئں تو وہ بھی آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے بعض چیزیں نیچر کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہیں۔
اظہار: آپ کے خیال میں ایک آرٹسٹ معاشرے کو کیا دے سکتا ہے؟
فاضل موسوی: مجھے یہاں ساحر لدھیانوی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
یہ شعر ہر فنکار پر صادق آتا ہے۔ اس لئے کہ ایک فنکاریا آرٹسٹ جو انسپریشن لیتا ہے، ظاہر ہے کہ اپنے معاشرے سے لیتاہے۔ باہر سے کم ہی لیتا ہے اور اس میں اپنی سوچ اور اپنا انداز بیاں شامل کرکے پیش کرتا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ انسان کو سارا کچھ معاشرہ ہی دیتا ہے اور ہم بھی اسی موضوع پر کام کر رہے ہیں۔
اظہار: اب تک آپ کے کتنے اسٹوڈنٹس اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فیضیاب ہوئے ہیں؟
فاضل موسوی: پچھلے مہینے جب ہماری ویب سائٹ بن رہی تھی تب ہمیں معلوم ہوا کہ اس وقت سکیچ کلب کے چودہ اسٹوڈنٹس پروفیشنل آرٹسٹ، ڈیزائنر اور آرکیٹکٹ بن کر کام کر رہے ہیں جبکہ مزید چالیس کے قریب طلبااس وقت ملک کی مختلف فنی اور پرفیشنل درس گاہوں میں تعلیمی مدارج طے کر رہے ہیں۔ یہ میرے لیے خوشی اور فخر کی بات ہے کہ اسکیچ کلب سے تربیت حاصل کرنےکی بدولت ہی ان کو پروفیشنل کالجز میں داخلہ ملا ہے۔ اس سال بھی ہمارے پانچ اسٹوڈنٹس کو مختلف کالجز میں داخلہ ملا ہے۔ پچھلے سال میرے لئے بڑی خوشی کی بات یہ تھی کہ پورے بلوچستان کے حوالے سے ہمارے طلبا کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور 16 اسٹوڈنٹس کو ہم نے یہاں سے پروفیشنل کالجز میں بھجوایا تھا۔
اظہار: اب تک آپ کے فن پاروں کی کتنی نمائشیں ہوچکی ہیں؟
فاضل موسوی: مشترکہ نمائشوں کی تعداد تقریباً بیس کے قریب ہے جبکہ متعدد سولو نمائشیں بھی ہوچکی ہیں۔ ان میں تین نمائشیں کوئٹہ میں جبکہ 2007ء کے دوران ایک سولو ایگزیبیشن ہالینڈ میں ہوچکی ہے۔
اظہار: سنا ہے کہ آپ عنقریب کسی نمائش کےلئے انگلینڈ جارہے ہیں! کچھ اس بارے میں بتانا پسند کریں گے؟
فاضل موسوی:جی! جن دنوں میں اقراء سکول میں استاد کے فرائض انجام دے رہا تھا، وہاں میری ایک سٹوڈنٹ فاطمہ ہاشمی ہوا کرتی تھی ۔ اب وہ ایک طویل عرصے سے انگلینڈ میں رہائش پزیر ہے۔گزشتہ برس ان کا 25 سال کے بعد کوئٹہ آنا ہوا تو انہیں اسکیچ کلب اور میرے بارے میں پتہ چلا۔ تب وہ وہاں آئیں اور انہوں نے میرا مفصل انٹرویو لیا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے میرے اسٹوڈنٹس کے کام کے بارے میں پوچھا تو میں نےانہیں ان کی ایک ایگزیبیشن سے متعلق واقعہ سنایا کہ ایک دن جب ہم نمائش کی تیاری میں مصروف تھے (جس میں غالبا تین چار دن باقی تھے) تب خبر آئی کہ ہماری کمیونٹی کے چار بندوں کو بسوں سےاتار کر قتل کردیا گیا ہے۔ یہ سن کر میرے اوسان خطا ہوگئے اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا کیا جائے!؟ نمائش سے متعلق بینر ز اور پوسٹرز وغیرہ چھپ چکے تھے اور سارے انتظامات مکمل تھے۔ ایسے میں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا تھا۔ لیکن میں نے اللہ کا نام لے کر نمائش منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں مقررہ وقت پر نہ صرف نمائش کا انعقاد ہوا بلکہ میری توقعات کے برعکس عوام اور شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جن میں ایک بڑی تعداد نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تھی۔ نمائش بہت کامیاب رہی تو مجھے محسوس ہوا کہ اس کامیابی سے کمیونٹی کے لوگوں میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ انہیں اس بات کی خوشی ہو رہی تھی کہ قتل عام اور لاقانونیت کے باوجود ہمارے ہاں مثبت سرگرمیاں جاری تھیں۔ یوں اس ایگزیبیشن کا بہت مثبت نتیجہ سامنے آیا۔ فاطمہ نے یہ باتیں سنیں تو کہنے لگیں کہ یہ تو عین میرے اس تحقیقی مقالے(تھیسز) کے موضوع سے متعلق ہے جس کا انتخاب میں نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کے لئے کیاہے۔ اور چونکہ اس تھیسز کاعنوان بھی ریزیلینس ہےتو کیوں نہ ہم اسکیچ کلب کے بچوں کے فن پاروں کی ایک نمائش آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی میں کروائیں تاکہ وہاں بھی لوگوں کو ان کے کام کا پتہ چلے۔ انگلینڈ میں ہر سال ہیومن رائٹس کے حوالے سے ایک فیسٹول کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں سکیچ کلب کے بچوں کے کام کی بھی نمائش ہونی چاہیے۔ یہ ایک بہت اچھی تجویز تھی اس لیے میں نے حامی بھر لی ۔ میرے سااتھ ان کے انٹرویو کا یہ سلسلہ تقریبا ایک ہفتہ تک چلتا رہا جس کے بعد وہ اس وعدے کے ساتھ واپس انگلینڈ چلی گئیں کہ ان کی تجویز ہو گی کہ ایگزیبیشن میں اسکیچ کلب کے بچوں کے علاوہ میرے فن پارے بھی رکھے جائیں۔ اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتارہا۔ ابھی پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کے انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ایگزیبیشن کے لیے میں خود بھی وہاں جاؤں اور میرا جانا لازمی ہے۔ چونکہ یہ ایک سماجی موضوع ہے اور اس طرح ہمارے بچوں کے کام کو بھی پزیرائی مل رہی ہے اس لیے میں ان کا بہت ممنون ہوں کہ انہوں نے اس سلسلے میں ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا ہے۔ حالانکہ میں نے ان سے کہا بھی نہیں ہے کہ وہ ان موضوعات پر کام کریں۔ تو وہ اپنے گردو پیش سے باخبر رہتے ہوئے اکثر یہی موضوع اپناتے ہیں۔ اپنی پینٹنگز میں ہم گزشتہ سترہ، اٹھارہ سالوں کےان واقعات کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمارے لیے مشکلات کا باعث بنے رہے۔ ہماری ایک ایگزیبیشن کا ٹائٹل بھی یہی تھا۔
اظہار: انگلینڈ میں نمائش اور سفر پر تو بہت اخراجات آسکتے ہیں، کیا اس سلسلے میں آپ کو کسی قسم کی مشکلات درپیش ہیں ؟
فاضل موسوی: میری اسٹوڈنٹ فاطمہ ہاشمی جن کا میں ذکر کر چکا ہوں، نے کہا تھا کہ ایگزیبیشن کے سلسلے میں ایک چھوٹی سی پرفارمنس دینی ہے، اسی سلسلے میں شاید مجھے بھی وہاں جانا پڑے۔ تو کچھ اسپانسرشپ ان کی طرف سے ہے۔ لیکن سرِ دست بچوں کے کام کی فریمنگ کے علاوہ میرے آنے جانے کا خرچہ اور رہائش سے متعلق اخراجات ایسے ہیں جن سے متعلق کچھ مشکلات ضرور درپیش ہیں، اب دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے!؟ میں ذاتی طور پر نہیں چاہتا کہ لوگ میری مدد کریں لیکن فاطمہ ہاشمی کی خواہش ہے کہ یہ مسئلہ بھی کسی طرح حل ہو اس لیے وہ Go Fund Me کے نام سے فنڈ ریزنگ کی کوشش کر رہی ہے جس میں ہر کوئی حصہ دار بن سکتا ہے۔ اپنی طرف سے ڈونیشن دے کر انہوں نے اس کام کا آغاز کردیا ہے۔ غالباً 3000 پاؤنڈ کا ٹارگٹ ہے۔ اگراس سلسلے میں کوئی کنٹریبیوٹ کرنا چاہیں تو اس طریقے سے کر سکتے ہیں۔ میں ان لوگوں کا ممنون ہوں گا انشاءاللہ ۔

اظہار: موسوی صاحب اس گفتگو کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔ اظہار کی پوری ٹیم کی نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

اظہار

اپنی سوچ کا اظہار کیجئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *