صحرا کا مسافر ۔۔۔ عباس حیدر

 
صحرا کا مسافر ہوں، ہرطرف تپتی ریت کے سوا اور کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ شدت پیاس سے میرا گلا سوکھ رہا ہے، پانی کی تلاش میں صحرا کی خاک چھان رہا ہوں، کبھی یہاں تو کبھی وہاں دیوانہ وار بھٹک رہاہوں۔ اپنی خشک زباں سے اپنے لبوں کو تر کرنے کی ناکام کوشش میں لگا ہوں۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے ہیں اور ان میں سوزش محسوس کر رہا ہوں۔ جہاں پاؤں رکھتا ہوں تپتی ریت میں دھنس جاتا ہے۔ اپنے سر پر بھوکے مردارخور بوڑھے گدھوں کو منڈلاتے دیکھ رہا ہوں اور ان کی سمع خراش تیز آوازوں کو صاف صاف سن رہا ہوں۔ منزل کی جستجو میں کبھی مایوس تو کبھی شادماں زندگی کی آس کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہاہوں۔ تمازتِ آفتاب مجھے پسپا و پشیماں، جبکہ شوقِ منزل کی راحت و تازگی اس تپش کو بے اثر کر رہی ہے۔ کبھی شعلے برساتے آسمان کی طرف دیکھتا ہوں تو کبھی تلاش آب کی خاطر دشت و صحرا میں نظریں دوڑا رہاہوں، جہاں میری طرح پیاسی زمیں بھی قہر آفتاب سے بلبلا رہی ہے۔
اس کٹھن مسافت میں اگر کوئی میرا ہمسفر ہے تو وہ ہے میری بلند و بالا اُمیدیں۔ گرم ریگزاروں پر مسلسل چلتے ہوئے میرے ڈگمگاتے قدموں نے مجھ پر غنودگی طاری کر رکھی ہے، اسی کیفیت میں آنکھیں بنا موندے خوابوں کی دنیا میں چلا جاتا ہوں۔ دیکھتا ہوں؛ کہ انجان راہوں پر بھٹک رہا ہوں۔ جہاں جہاں قدم رکھتا ہوں، آگ کے شعلوں پر رکھتا ہوں۔ جدھر جدھر کا رخ کرتا ہوں ادھر ادھر آگ کا دریا پاتا ہوں۔ اس وحشت ناک کشمکش سے ہڑبڑا کر بیدار ہو جاتا ہوں۔ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے میرے پیر سن ہو چکے تھے اور دانت مسلسل بج رہے تھے۔ میں نے پیروں کو سکیڑ کر اور رضائی اوڑھ کر دوبارہ اس خیال سے سونے کی کوشش کی، تاکہ مجھے میرے خواب کی تعبیر مل جائے یا کم از کم خواب وہیں سے جڑ جائے جہاں سے ٹوٹا تھا، پتہ تو چلے کہ اس خواب کا انجام کیا ہونے جارہا تھا۔ مگر کمبخت سردی اور گیس کی بندش نے مجھ سے میرے صحرا کا سفر چھین لیا۔
 
کئی دنوں تک مجھے تعبیر کی تلاش تھی کہ خواب میں صحرا کے آنے اور اس پر گرمی کی شدت کے معنی کیا ہے؟ تپتی ریت میں پاؤں کے دھنس جانے کا مطلب کیا ہے؟ سوکھے گلے اور خشک زبان سے کیا مراد ہے؟ مردارخور گدھوں کا میرے سر پر منڈلانا اور ان کی ناگوار آوازوں کی تعبیر کیا ہے؟ بوجھل قدموں کی تھکاوٹ کس عذاب کا نام ہے اور خواب ہی میں غنودگی، یعنی چہ؟ اس معاملے میں ہم تو ٹھہرے اناڑی، اس لیے دوستوں سے اس کی تعبیر پوچھی؟……مگر جواب ندارد!
 
بعداً میں نے خود اس کی تعبیر میں خیالی گھوڑے دوڑا کر اس نتیجے پر پہنچا، کہ ہزارہ ٹاؤن صحرا کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کے باسی تمام تر سختیاں برداشت کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ معلوم نہیں، کہ یہاں کے لوگ اپنے لبوں کو سی کر کونسا لوہا منوانے کی کوشش میں لگے ہیں، جبکہ فی الوقت ہزارہ ٹاؤن ادھم مچی ”بزکشی“ کے میدان کا منظر پیش کر رہا ہے اور اس کے عوام(ووٹرز) اس مذبوح بکرے کی مانند ہے، جسے دوران الیکشن ہرنیرنگ زمانہ امیدوار چھینا جھپٹی کرکے حاصل کرنا چاہتا ہے اور بعد از الیکشن اسے سپرد پروردگار، بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مزدور طبقے کا استحصال معمول بن چکا ہے اور شنوائی بھی کوئی نہیں ہوتی۔ یہاں بے رحم لینڈ مافیا کے ہاتھوں زمین و مکانات کی قیمتیں اور بالخصوص مکان کے کرائے جس کی زد میں براہ راست نادار طبقہ آجاتا ہے، ساتویں آسمان کو چھو رہے ہیں۔ یہاں مالکان جائیداد کا رتبہ زمینی خداؤں جیسا ہے۔  جبکہ کرایہ دار من حیث غلام اپنی زندگیاں گذارنے پر مجبور ہیں۔ ”مجھے تو لگتا یوں ہے، جیسے ہزارہ ٹاؤن والوں کی قوت مدرکہ گرم ریت میں دھنس چکی ہو“
 
یہاں تپش آفتاب کو میں گیس و بجلی کی عدم فراہمی سے تشبیہ دوں گا۔ جبکہ معمولی آبادی والے اس بے یار و مددگار علاقے کو تیز رفتار میٹرز نصب کرنے کی آزمائش گاہ سمجھتا ہوں، جو صاحب خانہ سے بنا پوچھے نصب کرکے انہیں ان تیزرفتار میٹرز کے سپرد کرتے ہیں، جن کے بے تحاشا بلوں سے زندگی بھر بیچارے صارف کی گلوخلاصی ممکن نہیں ہوتی اور ظلم بالائے ظلم تو یہ کہ بن بلائے مہمان جیسے انہی تیزرفتار ڈبوں کی مد میں صاحب خانہ سے ہزاروں روپے بٹورتے بھی ہیں۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ جب پاکستان بھر میں تیز رفتار میٹروں کی کھپت کم ہو جاتی ہے تو ہزارہ ٹاؤن کے سرپر منڈلاتے یہ مردارخور گدھ اور ان کے تاجر دھاوا بول دیتے ہیں۔
 
یاد رہے! ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہزارہ ٹاؤن خاندان شہدا کی آماجگاہ ہے، تمہاری آزمائشگاہ نہیں جہاں کے گلی کوچوں سے ہمہ وقت بے کس ماؤں، بہنوں اور بیواؤں کی آہیں اور سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان آہوں اور سسکیوں کی لپیٹ میں آپ بھی آجائیں۔

عباس حیدر

عباس حیدر نوجوان لکھاری ہیں جنہیں کتابوں کے مطالعے کا بے حد شوق ہے
عباس حیدر

عباس حیدر

عباس حیدر نوجوان لکھاری ہیں جنہیں کتابوں کے مطالعے کا بے حد شوق ہے

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں