آسٹریلیا: آگ اور آتش بازی ایک ساتھ ۔۔۔۔ لیاقت علی

میلبرن میں نیو ایئر نائٹ پر 4 لاکھ افراد نے نئے سال کی خوشی میں ہونے والی آتش بازی کا شاندار مظاہرہ دیکھا۔ اس رات سڈنی اور ملبرین کے آسمان بھی رنگین روشنیوں سے جگمگا رہے تھے اور ہر طرف سے شور و غل کی آوازیں آ رہی تھیں۔

صرف سڈنی میں آتش بازی پر 20 لاکھ ڈالر پھونک دیئے گئے۔

لیکن دکھ اور غم کی بات یہ ہے کہ ان دنوں ایڈیلیڈ، سڈنی اور وکٹوریا میں لگنے والی بے رحم آگ کے شعلوں نے متعدد گھروں کو راکھ میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ متاثرین کی داستانیں اتنی درد ناک اور غم انگیز ہیں کہ جب وہ میڈیا سے بات چیت کے دوران  پھوٹ پھوٹ کر روئے تو ہم بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ میڈیا جو آگ کے متاثرین کی درد بھری کہانیاں سنا رہا ہے وہی میڈیا سڈنی میں جاری آسٹریلین کرکٹ لیگ کی بھی براہ راست کوریج کر رہا ہے۔

لیکن اپوزیشن یا کسی عام آسٹریلین نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ملک میں آگ برس رہی ہے اور لوگ مر رہے ہیں اس لیے نیو ایئر کی تقریبات منسوخ کی جائیں۔ نہ ہی کسی کو یہ کہتے سنا گیا کہ حکومت آگ بجھانے میں ناکام رہی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آگ بجھانا متعلقہ ادراے کا کام ہے جس کے اراکین دن رات اپنی جانوں پر کھیل کر آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہاں اگر ایک طرف آگ لگی ہوئی ہے تو دوسری طرف آتش بازی کا مظاہرہ بھی ہورہا ہے۔
یہاں ہر ایک اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہا ہے۔

بلاوجہ کی تنقید ذہنی بیماری کی علامت ہے جو اپنے ساتھ معاشرے کو بھی بیمار کرتی ہے۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ آپ کی تحاریر اور تنقید لوگوں کی اصلاح اور آگاہی کے لئے ہوں۔ زحمت اور زخم دینے کے لیے نہیں!

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں