پاکستانی ہزارہ اور ثقافتی سرگرمیاں۔ دوسری قسط ۔۔۔ اسحاق محمدی 

  

ت- ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن                          

 ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن اسی کی دہائی کے اوائل میں نادر ہزارہ (موجودہ چیئرمین تنظیم نسل نو ہزارہ مغل) کے دور میں ایک متحرک فیڈریشن کے طورپر نمودار ہوئی تاہم ثقافتی میدان میں فیڈریشن نے حسن رضا چنگیزی کے دور (1988-1986)  میں نمایاں کردار ادا کیا۔ غالباً 1987ء میں شہید حسین علی یوسفی کا پہلا کامیاب ڈرامہ “مایندرخنتما” خدیجہ محمودی ہال تنظیم میں پیش کیا گیا جسے زبردست پذیرائی ملی۔ اس کے بعد شہید یوسفی کے کئی دیگر یادگار ڈرامے جیسے؛ نکو دیوال بے بنیاد رہ کاگل، باکول سربری شد، او آزرہ کجا موری، کانفرنس وغیرہ خدیجہ محمودی ہال اور ڈگری کالج آڈیٹوریم میں سٹیج کی زینت بنے جن میں سے صرف مایندرخنتما کی ریکارڈنگ بہتر کوالٹی میں موجود ہے جب کہ باقیوں کی ریکارڈنگ یاتو سرے سے موجود نہیں یا بقول حسن رضا چنگیزی، حسن غلام کے آرکائیوز میں شاید ہو کیونکہ چند ڈراموں کی ریکارڈنگ انہوں نے اپنے ویڈیو کیمرے سے کی تھی جن کی  ساونڈ کوالٹی بے حد خراب تھی۔

ڈرامہ ‘باکل سربری شدہ’ کا ایک سین

میرے دور صدارت (1990-1988) میں فیڈریشن کی ثقافتی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ چیدہ چیدہ دوستوں کا ایک بڑا حلقہ جیسے حسین علی یوسفی،حسن رضا چنگیزی، لیاقت شریفی، عالم مصباح، قادریوسفی، لیاقت چنگیزی، نسیم جاوید، وغیرہ اس کو ایک کاز کے طورپر لے کر چلتے تھے۔ تنظیم بدری کے بعد 1989ء میں اس حوالے سے پہلا بڑا ایونٹ یزدان خان ہائی سکول کے سبزہ زار پر منعقد کیا گیا جہاں قوم کے ہونہار طلبہ و طالبات کوشیلڈز دیئے گئے۔ اس یادگار تقریب کے مہمان خاص، ابراہیم شہید ہزارہ کے والد جناب حاجی علی رضا تھے۔ یہ بات بجائے خود عام روایت سے ہٹ کر تھی کیونکہ ایسی بڑی بڑی تقاریب میں عموماً کسی بڑی سیاسی، قبائلی یا بیوروکریسی سے متعلق شخصیت کو مہمان خصوصی بنایا جاتا تھا۔ تقریب کے دوسرے حصے میں شہید حسین علی یوسفی کا لکھا ہوا یادگار ڈرامہ “الخاتو” پیش کیا گیا جسے وہاں موجود شائقین کی بہت بڑی تعداد نے بہت جوش و خروش سے دیکھا۔ ڈرامے کی ریکارڈنگ صادق افشار کررہا تھا لیکن  بدقسمتی سے اژدہام کی وجہ سےریکارڈنگ کے وقت کیمرے کی تار  کٹ گئی جس کی وجہ سے ریکارڈنگ میں خلل پڑا۔لہذا پبلِک کے بے حد اصرار پر اس کی دوبارہ ریکارڈنگ کی گئی۔

 مایندر خنتما کی طرح الخاتو کو بھی کلاسیک  ڈامےکی حیثیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تیس پینتیس سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود ابھی تک لوکل کیبل نیٹ ورکس سے دکھائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ گراؤنڈ کے اندر کے ریکارڈ شدہ دس بارہ منٹ کی ویڈیواس قدر دلچسپ اور جوش و ولولے سے بھرپور ہے  کہ سننے والوں کو مبہوت کردیتی ہے۔ لہٰذا ایک ایک جملہ پر شائقین کے قہقہے اور تالیاں گونجتی رہتی ہیں۔ اسکے اگلے سال فیڈریشن نے دو بڑے پروگرامز کا سلسلہ شروع کردیا۔ ایک بلوچستان یونیورسٹی میں “اوماغ” کے نام سے اور دوسرا جنرل محمد موسیٰ خان کالج میں “شب ھای ترنم” کے نام سے۔ اوماغ، یونیورسٹی ماحول کے لحاظ سے زیادہ سیاسی تھا جبکہ شب ھای ترنم میں ثقافتی رنگ زیادہ نمایاں تھا۔ ان دونوں یادگار پروگرامز کی ریکارڈنگز اب بھی دستیاب ہیں۔

شب ھای ترنم کے چند پروگرامز اور ڈرامہ “خالق شہید” موسسہ فرھنگی ہزارہ کے بینر تلے سٹیج ہوئے جن میں مرکزی کردار ایچ ایس ایف کے دوستوں کا ہی تھا۔  جبکہ بعد میں استاد قسیم اخگر اور قیس یوسفی  بھی ان میں شامل ہوئے۔ اوماغ اور شب ھای ترنم سے داؤد سرخوش کو بھی کافی شہرت ملی۔ یہاں یہ تذکرہ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ خالق شہید وہ پہلا المیہ ڈرامہ تھا جو کامیابی سے جنرل محمد موسیٰ خان کالج میں پیش ہوا جس کےتین شو مکمل ہاؤس فُل رہے۔  جبکہ اس سے قبل کے ڈرامے اور خاکے طنز و مزاح پر مبنی ہوتےتھے۔ اس ڈرامے کی ہدایات لیاقت شریفی نے دی تھیں۔ دیگر ڈراموں کے رائٹر شہید حسین علی یوسفی جبکہ خالق شہید کے رائیٹر قیس یوسفی اور عالم مصباح تھے۔ یہ دونوں فرھنگی سلسلے ڈاکٹرحسین یاسا کے دور تک جاری رہے۔ ان ثقافتی پروگرامز نے ہزارہ گی موسیقی اور بطور خاص دمبورے کو ایک مستحکم شناخت دی اور نوجوان نسل کو یہ ہمت بخشی کو وہ ہزارہ گی فولک موسیقی کی طرف آئے۔ حالانکہ روایت پسند مذہبی طرزفکر میں موسیقی اور وہ بھی دمبورہ گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔

  اس وقت دمبورے کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ شائقین دمبورے کے علاوہ کوئی اور ساز سننے پر آمادہ نہیں تھے۔ اب

مرحوم قیس، خالق شہید کے کردار میں

جو ہزارہ گلوکاروں کی ایک لمبی قطار پاکستان، افغانستان یورپ و آسٹریلیا میں نظر آتی ہے ان کو متاثر کرنے میں یقیناً ان پروگرامز کا اہم کردار رہاہے۔ ہزارہ گی موسیقی، خاکوں اور ڈراموں کی ریکارڈنگز اور  تشہیر وتکثیر میں حسن رضا چنگیزی اور صادق افشار کی شبانہ روز کوششوں کا ذکر نہ کرنا بڑی زیادتی ہوگی جو ہر پروگرام میں بغیر کسی حیل و حجت کے پہنچ جاتے ،ریکارڈنگز اور بعد ازآں  ان کی ایڈٹنگ کرکے آڈیو اور ویڈیو کی “ماسٹرکاپی” ہمیں تھما دے کر خود چلتے بنتے۔ صادق افشار بہت اچھا ریکارڈ کیپر تھا اور  اس کا کلیکشن بھی بہت وسیع تھا۔  

ج- ایچ ایس ایف گرلز سیکشن    

ایچ ایس ایف گرلز سیکشن کا قیام نادر ہزارہ کے دور میں عمل میں آیا جس کی زیرنگرانی رسالہ “طلوع فکر” شائع ہوتا تھا۔  اس رسالے کی ایڈیٹر محترمہ فاطمہ چنگیزی تھی۔ شروع میں سالے کیں زیادہ تر مواد غیر سیاسی ہوا کرتے تھے۔ حسن رضا چنگیزی کے دورمیں اس کی ادارت مرکزی کابینہ کے حوالے کی گئی تاکہ حقیقی معنوں میں ایک ترقی پسند فیڈریشن کے افکار و نظریات کی ترجمانی ممکن ہوسکے۔ 90 کی دہائی کے دوران گرلز سیکشن بھی کافی متحرک تھی۔ ویسے تو گرلز سیکشن نے گرلز کالج اور محلے کے اندر کئی کامیاب تقاریب منعقد کیں لیکن اس کا بڑا کارنامہ ہزارہ گی ثقافت کو روشناس کرانا تھا جس کا سہرا اس وقت کی صدر محترمہ کلثوم رضا چنگیزی کے سر جاتا ہے۔ اس وقت گرلز کالج کینٹ میں سال کے دوران کئی بار ثقافتی شو زمنعقد کیے جاتے تھےجن میں  روایتی طور پر چار اقوام یعنی بلوچ، پشتون، پنجابی اور سندھی ثقافتوں کی نمائندگی ہوتی تھی۔ کلثوم رضا چنگیزی نے اپنی کابینہ کے ساتھ مل کر اس وقت کی پرنسپل پروفیسر ساجدہ برکی سے ملاقات کی اوران سے   پروگرام میں   ہزارہ گی ثقافت کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس پر پرنسپل نے جواب دیا کہ یہ اس لئے ممکن نہیں کہ یہ چاراقوام کے بنیادی مفروضہ کے خلاف ہے۔ جس پر گرلز سیکشن نے مرکزی کابینہ سے ایک مشترکہ میٹنگ رکھی تاکہ اس کا کوئی منطقی جواز نکالا جاسکے۔

مشترکہ میٹنگ کے دوران یہ سادہ سا جواب بنایا گیا کہ بین الاقوامی یا ملکی سطح کی حد تک تو یہ منطق قابل قبول ہے لیکن یہ چونکہ ایک صوبہ کا اندرونی معاملہ ہے اس لئے صوبے کے اندر موجود منفرد ثقافتوں کی نمائش سے نہ صرف اس بنیادی مفروضے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ یہ مزید رنگا رنگی کا بھی باعث ہوگا۔ گرلز سیکشن نے کمال تدبر سے پہلے انتظامی کمیٹی کے اراکین سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کرکے ان کی رضامندی حاصل کی ، پھر انہی کی مدد سے پرنسپل صاحبہ کو منانے میں بھی کامیابی حاصل کرلی۔ ثقافتی شو میں چونکہ ہزارہ گی ملبوسات و زیورات کی نمائش نئی اور بالکل منفرد بات تھی اس لئے اس کو کافی پسند کیا گیا اور اسے خصوصی انعام بھی دیا گیا جس کے بعدسے  یہ سلسلہ ایک وقفے کے بعد (ہزارہ نسل کشی کے دوران) اب تک نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ کسی بھی بڑے ثقافتی شو کا ایک اہم جزوبن چکاہے۔

منگولیا میں منعقد ہونے والا ایک ہزارہ گی شو

اس طرح یہ ہزارہ گی ثقافتی شو جس کا آغاز مقامی کالج سے ہوا، پہلے پہل گرلز سیکشن کی تقریبات کا حصہ بننے کے بعداور بعد از آں لینگویج سنٹرز کی تقاریب سے گذرکراب یورپ و آسٹریلیا تک پھیل چکا ہے۔ افغانستان، پاکستان، ایران سمیت یورپ و آسٹریلیا میں اب ہزارہ گی کشیدہ کاری اور زیورات  نہ صرف ہزارہ قوم کی پہچان بلکہ ایک منفعت بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یوں کل تک ادنیٰ دیہاتی کہلانے والی دستکاریاں اب  مشہور بین الاقوامی فیشن شوز کی زینت بن رہی ہیں۔

اس مضون کے لکھنے کا مقصد نئی نسل کو یہ بتانا ہے کہ اس بڑی ثقافتی کامیابی کا سفر  جس کا آغاز ایک چھوٹے شہر (کوئٹہ) کی ایک چھوٹی درس گاہ (گرلز کالج)  سے ایک چھوٹے مگر مخلص گروپ  (ایچ ایس ایف گرلز سیکشن) نے ایک چھوٹے قدم (ثقافتی شو) سے کیا تھا، وہ اب دنیا بھر میں جہاں جہاں ہزارہ آباد ہیں، تک پھیل چکا ہے۔ اور یہ کارنامہ انتہائی نہایت نامساعد حالات میں اس وقت  انجام پایاجب سیاسی ملاؤں کے طاقتور ہونے کے باعث روایتی ملا بھی دھڑلے سے فتوے دینے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔ لہٰذا ان کی خدمات کو  کسی صورت نہیں بھولنا چاہیے  

(جاری ہے)

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں