ہزارہ گی اکیڈمی … اسحاق محمدی   

*

بلاشبہہ 1989ء کے دوران ہزارہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پرچم تلے جمع تھی جن کی سیاسی و نظریاتی وابستگی تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے ساتھ تھی. لیکن بدقسمتی سے اس وقت کے چیئرمین جناب غلام علی حیدری اس “موثرقوت” کومثبت سیمت دینے کے بجائے وقتی ذاتی مفاد کی خاطر اُن سے جان چھڑانے کے فکر میں تھے۔ چنانچہ آئے دن ایچ ایس ایف کے روشن فکر دوستوں کے خلاف احکامات صادر کرتے اور پابندیاں عائد کرتے رہتے۔ اس کے باوجود ایچ ایس ایف کے دوست حالات سے یکسر مایوس نہیں تھے اورکچھ مثبت کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ان میں ایک “ہزارہ گی اکیڈمی” کا قیام بھی تھا۔ ابتدائی طور ایچ ایس ایف کے وہ دوست جو لکھت پڑھت سے شغف رکھتے تھے کے درمیان سلسلہ جنبانی ہوئی جس میں شادروان عالم مصباح، شادروان حسین علی یوسفی، حسن رضا چنگیزی، مردان علی عقیل، زمان دہقانزادہ، میں (اسحاق محمدی) شامل تھے۔ اکیڈمی کے قیام پر سبھی متفق تھے۔

حسب معمول دو تین دوستوں کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ چند اکیڈیمیزوادبی تنظیموں کے دستورالعمل لے آئیں اور ان کی روشنی میں “ہزارہ گی اکیڈمی” کا دستور تربیت دیں جوکہ چند دن میں انجام پایا۔ اسکے بعد ایک رسمی میٹینگ بلائی گئی جس میں بزرگ شاعر جناب محمدعلی اختیار اور جناب پروفیسر ناظرحسین نے بھی شرکت کی۔ اسی میٹینگ میں ضروری قطع و برید کے بعد “ہزارہ گی اکیڈمی” کا دستورالعمل منظورہوا اور جناب پروفیسر ناظرحسین عبوری چیرمیئن منتخب ہوئے۔ البتہ اگلے مرحلے میں ان دونوں اداروں سے باہر کے ہزارہ شعراء و لکھاریوں کو ممبر بنانے اور باقاعدہ اانتخابات کے ذریعے چیرمئین و دیگر عہدیداروں کے انتخاب کا فیصلہ بھی ہوا تاکہ یہ ایک وسیع البنیاد ادارہ بن کرکوئی موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکے۔ اکیڈمی کا پہلا لوگو لیاقت شریفی نے ڈیزائن کیا۔ اسی مناسبت سے ایک پمفلٹ بھی نکالا گیا، لیکن حیدری صاحب نے دوستوں کو زیادہ مہلت نہ دی اور مارشل لائی انداز میں چند بے بنیاد الزامات لگا کر ایچ ایس ایف کے تنظیم سے اخراج کا حکم صادر کردیا۔ بے بنیاد اس لئے کہ موصوف اس سے قبل اور اس کے بعد کئی بار ایسے ہی بے بنیاد الزامات کے تحت ہزارہ قوم کی اس واحد نمائندہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کو اس قومی تنظیم کے احاطے سے  اخراج کا کارنامہ انجام دے چکے ہئں۔

تنظیم بدری کے بعد ایچ ایس ایف کے دوستوں نے اخلاقاً ہزارہ گی اکیڈمی کا نام استعمال کرنے کے بجائے “موسسہ فرھنگی” کے نام سے ایک نئے ادبی ادارے کی بنیاد رکھی جس کے زیر اہتمام معروف ہزارہ شناس پروفیسر تیمورخانوف کی کتاب “ہزارہ ہا” کا اردو ترجمہ “تاریخ ہزارہ مغل” کے عنوان سے شایع ہوا جس کے مترجم جناب حسن رضاچنگیزی تھے۔  دوسری کتاب “المختصرالمنقول فی تاریخ ہزارہ و مغل” تھی جس کی طباعت کا کام آخری مرحلے میں تا جب یہ کتاب قم ایران سے چھپ گئی لہٰذا اس کے چھاپنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ یاد رہے کہ ہزارہ تاریخ پریہ ایک معتبر کتاب ہے جیسے  شادروان محمدافضل ارزگانی نے عراق میں مکمل کرنے کے بعد 1914ء میں اس کی طباعت کوئٹہ سے کروائی ہے۔ بٹرپیپر پراس کتاب کی کتابت محمدعالم مصباح کے زیرنگرانی مکمل ہوئی تھی اور اس کا مقدمہ بھی مصباح نے ہی لکھا تھا۔ اب یہ کاپی میری لائبریری کی زینت ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت پروف ریڈنگ ایک نہایت کٹھن کام تصور ہوتا تھا کیونکہ کتابت عام قلم سے بٹر پیپر پر کی جاتی تھی اورغلطیوں کو نہایت احتیاط سے بلیڈ یا باریک مخصوص چاقو سے صاف کرکے ان کی دوبارہ درستگی کی جاتی تھی۔ بعد کے دور میں فرہنگی دوستوں کی توجہ اسٹیج ڈراموں اور ملی ترانوں کی طرف مبذول ہوگئی۔ سلسلے وار “اوماغ” اور “شب ہای ترنم” کے عنوان سے بننے والے اکثر ڈرامے، خاکے اور ترانے مثلاًً الخاتو، کانفرنس، ماسٹرالبونگ، خالق شہید وغیرہ اور انقلابی و فرہنگی ترانے جن کو اب کلاسیک کا درجہ حاصل ہے اسی دور کی یادگار ہیں۔  

اب ایک بار پھر ہزارہ گی اکیڈمی کیطرف آتے ہیں:

 90 کی دہائی کے اواخر تک “ہزارہ گی اکیڈمی” ایک بھولی ہوئی داستان تھی۔ 90 کے اواخر میں ایک روز مرحوم الطاف جعفری کی دفتر آمد پر میں بڑا حیران ہوا کیونکہ اکثر دوستوں کا دفتر آنا معمول کی بات تھی لیکن وہ کھبی نہیں آئے تھے۔ خیر دعا و سلام اور مزاج پرسی کے بعد انہوں نے براہ راست ہزارہ گی اکیڈمی کی بابت سوال کیا اور جواب میں، میں نے بھی پوری داستان سنائی۔ جسے سن کر جعفری نےکہا

“میری کچھ ادبی دوستوں سے بات ہوئی ہے، میں چاہتاہوں کہ کوئی نئی اکیڈمی بنانے کے بجائے اسی کو رجسٹرکرواکر کام شروع کیا جائے اگر اس کی رجسٹریشن اب تک نہیں ہوئی، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟” میں نے کہا بالکل نہیں، آپ حیدری صاحب سے بات کریں کیونکہ تمام کاغذات وغیرہ تنظیم میں پڑے ہوئے ہیں اورمجھے طویل عرصے سے اس بابت ایک لفظ بھی کسی سے سننے کا اتفاق نہیں ہوا ہے۔ چند روز بعد وہ ایک بار پھر دفتر آئے اور خبر دی کہ اب تک اکیڈمی کو رجسٹر نہیں کیا جا سکا ہے نیز یہ کہ جی اے حیدری صاحب کو اس کی رجسٹریشن پرکوئی اعتراض نہیں۔ میں نے کہا چلو اگر ان سے دس سال میں یہ کام نہیں ہوسکا ہے اور اگر آپ یہ کام کرکے دکھا سکیں تو مجھ سمیت سب دوستوں کو بےحد خوشی ہوگی۔ بعد از آں جعفری نے کافی کوششوں اور عرق ریزی لے بعد نہ صرف “ہزارہ گی اکیڈمی” کو رجسٹر کروایا بلکہ جنرل محمدموسیٰ خان کالج کی ایک تقریب میں مرحوم میجر نیازعلی کو اس کا پہلا چیئرمین منتخب کروانے میں بھی ان کا کلیدی کردار رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ  پیرانہ سالی کے باعث میجر نیاز صاحب اکیڈمی کے کاموں میں زیادہ فعال کردار ادا نہ کرسکے جس کے بعد جاوید نادری چیئرمین منتخب ہو گئے جو اس وقت “بزم ادب ہزارہ گی” کے بھی چیئرمین تھے۔ جاوید نادری نے بزم ادب کو ہزارہ گی اکیڈمی میں ضم کرانے کے بعد اکیڈمی کو کافی فعال بنایا۔ اس کے مختصر دور میں اکیڈمی کی کارکردگی نمایاں رہی۔ اس دور میں اکیڈمی نے حسن رضا چنگیزی و قیس یوسفی کی کتاب “بساط شطرنج” اورطالب حسین طالب کے شعری مجموعہ “ثبوت صبح” کی اشاعت کی اور درجنوں مشاعروں اور ادبی نشستوں کے انعقاد کے علاوہ ہزارہ گی زبان پر ایک سروے کا انتظام بھی کیا۔

اس دوران دو ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے اکیڈمی کی سرگرمیوں کو کافی متاثر کیا۔ پہلا المناک واقعہ الطاف جعفری کی ناگہانی موت تھی جس نے اکیڈمی کے دوستوں کے علاوہ تمام روشن خیال حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ دوسرا واقعہ تاجئی خان کمپلیکس کے انچارج مرزا حسین کی ہٹ دھرمی سے متعلق تھا۔ موصوف نے اکیڈمی کو تاجئی خان کمپلیکس کی بلڈنگ میں باقاعدہ ایک کمرہ آلاٹ کیا تھا، جس کے لئے فرنیچرو دیگر لوازمات وہاں منتقل کر دی گئی تھیں۔ لیکن ان سب کاموں کے بعد موصوف نے نہ صرف کمرہ دینے سے انکار کردیا بلکہ فرنیچر وغیرہ پر بھی قبضہ کرلیا جس نے علم وادب کے اس حلقے کو خاصا مایوس کردیا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ادبی سرگرمیاں ماند پڑتی گئیں۔ بلاخیر جاوید نادری کومجبوراً یزدان خان ہائی سکول کے سامنے قایم دفتر کا کرایہ اپنی جیب سے ادا کرکے دفتر خالی کرنا پڑا۔

دوسری طرف ایچ ایس ایف ہزارہ ٹاون کے دوستوں قادرنایل، محمدعلی عدم، ناصرجے ہزارستانی وغیرہ نے “ایسپیلو” کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنائی اور “منجی” کے نام سے خالص ہزارہ گی میں ایک رسالے کا اجراء کیا۔

2005ء کے دوران ہزارہ ٹاون کے ان دوستوں نے مجھ سے رابطہ کرکے خواہش ظاہرکی کہ ہماری ایک ملاقات “ہزارہ گی اکیڈمی” کے دوستوں سے کروادیں۔ میں نے جاوید نادری اور نسیم جاوید سے رابطہ کیا۔ انھوں نے یہ دعوت بخوشی قبول کرلی۔ یوں میرے دفترمیں اور میری میزبانی میں ان کی میٹنگ ہوئی جس میں ایسپیلو کی طرف سے قادرنائل اور محمدعلی عدم جبکہ ہزارہ گی اکیڈمی کی طرف سے نسیم جاوید اورجاوید نادری نے شرکت کی۔ ایسپیلو کی طرف سے مشترکہ کام کرنے کی آفر کے جواب میں اکیڈمی کے دوستوں نے صاف بتادیا کہ وہ اس وقت عملی کام کرنے کے موڈ میں نہیں البتہ اگر ایسپیلو کے دوست کام کرنے کی ہمت رکھتے ہیں تو وہ اکیڈمی کی رجسٹریشن پیپرز دینے پر بخوشی تیار ہیں۔ بات یہی پر ختم ہوئی دو تین دن بعد ہزارہ گی اکیڈمی کی اصلی رجسٹریشن کاپی بمعہ ممبرسازی فارمزمل گئے۔ میں نے ایسپیلو کے دوستوں کی مشاورت سے ایک اتوار کو پھرمیٹنگ رکھی جس میں دیگرشرکاء کے ساتھ اس بار زمان دہقانزادہ کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ میٹنگ میں سب سے پہلے ایسپیلو کے دوستوں نے ایسپیلو کو ہزارہ گی اکیڈمی میں ضم کرنے اور اپنے ادبی رسالہ “منجی” کو آئندہ اکیڈمی کے تحت شائع کرنے کا اعلان کیا۔ دوسرے مرحلے میں نئئ کابینے کا چناو ہوا۔ مجھے چیرمئین منتخب کیا گیا جب کہ میرے ساتھ قادرنائل، محمدعلی عدم، جاوید نادری مختلف عہدوں کے لئے چنے گئے۔ نسیم جاوید نے کوئی عہدہ لینے سے معذرت کی۔

بعد ازآں فارسی اور ہزارہ گی رسم الخط پر کافی طویل بحث ہوئی، جس کے اختتام پر زمان دہقانزادہ نے اس وقت اکیڈمی کے دوستوں سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اس کا ممبر بننے سے معذرت کر لی (ان میٹینگز کے باقاعدہ مینٹس لکھے گئے)۔ دفتری مصروفیات کے سبب میں صرف انتظامی چیرمئین تھا اصل دوڑدھوپ، ہزارہ ٹاون کے دوست ہی کرتے تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے سیکریٹری کلچر سے ملاقات کرکے ہزارہ گی اکیڈمی کو بھی گرانٹ دینے اورصوبائی ادبی ایوارڈ میں بلوچی، بروہی، پشتو کے ساتھ ہزارہ گی زبان میں لکھی جانے والی کتابوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعداز آں انہوں نے اس وقت کے ناظم احمدعلی کہزاد کے توسط سے ناظم اعلیٰ مقبول لہڑی سے ملاقات کرکے ان سے بھی دیگر اکیڈمیز کی طرح ہزارہ گی اکیڈمی کے لئے فنڈ مختص کرنے اور دفتر دینے کا مطالبہ کیا۔

جب فنڈ اورگرانٹ کی باتیں سامنے آئیں تو جناب جی اے حیدری اچانک چونک پڑے۔  لہذا پہلے قدم کے طورپرانہوں نے عجلت میں تنظیم کے ایک غیر ہزارہ گی میگزین کے سرورق پر “ہزارہ گی اکیڈمی” کا نام چھپوایا اور پھر فنڈ اور گرانٹ کے حصول میں جُت گئے، جس کی وجہ سے متعلقہ سرکاری اہلکاران سٹپٹا گئے کہ کس گروپ کو فنڈ جاری کریں۔ شادروان چیرمئین حسین علی یوسفی نے ایک بار اکیڈمی کے دوستوں کی ملاقات جناب جی اے حیدری سے کروائی تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکل آئے۔ قادرنائل بتاتے ہیں کہ موصوف پہلے پہل بہت اچھل رہے تھے اور بہت غرا کر بات کررہے تھے، جس پر میں (قادرنائل) نے کہا “حیدری صاحب آپ ابھی تک اکیڈمی کے صرف نام سے واقف ہیں اعراض ومقاصد سے نہیں، کیونکہ آپ کی اکیڈمی دنیا کی واحد عجوبہ اکیڈمی ہے جو اپنی زبان کو چھوڑ کرغیروں کی زبانوں میں رسالہ نکال رہی ہے اور کتابیں چھاپ رہی ہے۔ جس پر وہ خاموش ہوگئے”۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ نتیجتاًً جناب جی اے حیدری نے قادرنائل کی تنقید کی درستگی کو بھانپ کر راتوں رات “سیبیت” کے نام سے  ایک ہزارہ گی رسالہ نکلوایا اور بعداً تنظیم کے اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈ اہنے نام کرلیا۔ حالانکہ ہزارہ گی اکیڈمی کے بینر تلے شاید کوئی ایک آدھ کتاب اگر ہزارہ گی میں چھپی ہو جومیرے علم میں نہیں، باقی  تمام کتابیں غیر زبانوں میں ہیں جو بجائے خود قوم سے نہایت بے ہودہ مزاق کے مترادف ہے۔ دوسری طرف ہزارہ ٹاون کے دوستوں نے  سرکاری فنڈ نہ ہونے کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت پہلے “آزرگی اکیڈمی” اور بعدازآں “کیبلاغی آزرگی” کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے نہ صرف رسالہ “منجی” کے سلسلے کو جاری رکھا بلکہ اکادمی ادبیات پاکستان سے “ہزارہ گی” کو ایک علیحدہ زبان کے طورپر رسمیت دینے اور ساتھ ہی محترمہ فاطمہ عاطف سے مل کر “لوک ورثہ میوزیم اسلام آباد” میں “ہزارہ کارنر” قائم کرنے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہزارہ گی رسم الخط بنانے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جہاں ہزارہ گی کو ایک مستقل زبان کے طورپر تسلیم کیا گیا ہے۔ فی زمانہ دونوں اکیڈمیز رجسٹرڈ ہیں اور اب جبکہ تنظیم نسل ہزارہ مغل نئی قیادت کے ہاتھوں میں ہےتوقع کی جاتی ہے کہ دونوں قومی اکیڈمیز درست سیمت میں اپنی مثبت سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔      

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں