کتاب پر تبصرہ ۔۔۔ مبارک صابر

کتاب: قصہ ہائے ناتمام

مصنف: حسن رضا چنگیزی

پبلشر: سانجھ پبلیکیشنز

ایک زندہ اور سنجیدہ قلم کار زندگی اور اس سے جڑے ہوئے مسائل سے، جو فکری مواد کشید کرتا ہے اسے وہ مختلف پیرایہ اظہار کی صورت منصہ شہود پر لے آتا ہے۔ انسانی معاشرہ اور اس میں جاری حیات کے بہاؤ کے پس منظر میں، فکری مواد کی منتقلی کا یہ عمل، ایک قلمکار کو جس ذہنی مشقت سے گزارتا ہے،وہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ایک سچا قلمکار اس ذہنی مشقت کا ایسارسیا بنتا ہے کہ جب تک قرطاس ابیض کو وہ اپنے قلم سے سیاہ نہ کردے اسے چین نہیں آتا۔
بقول شاعر
عاشقان را صندل آسودگی دردسراست
تابہ سر دردی نباشد درد سر داریم ما
ہرچند ہمارے ہاں قلم کار ہونے کے کئی دار موجود ہیں۔ لیکن متاسفانہ مآل کار ثمر سے عاری اور آخرش تہی دامنی ان کے دعوے کو رد کرتی ہے۔صائب فرماتے ہیں کہ
اوست غواص کہ گوہر بکف آرد ورنہ
سیر این بحر ز ہر خار وخس می آید
حسن رضا چنگیزی ہمارے معاشرے کا معروف سنجیدہ اور متحرک قلمکار ہیں جنہوں نے ال۔تیمور خانوف کی ایک اہم اور نادر کتاب یعنی “تاریخ ہزارہ مغل” کا اردو ترجمہ کرکے ہماری مسخ شدہ اجتماعی شناخت کو ایک نئی جلا بخشی۔
ہزارہ قوم کی تاریخ کے حوالے سے یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں بہت بڑا کارنامہ ہے۔ میں ان کو آج کی اس یادگار اور خوبصورت تقریب میں دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں
از سر خوردہ جان سخت دلیرانہ گزشت
آفرین باد بہ پروانہ کی مردانہ گذشت
حسن رضا چنگیزی چونکہ ایک سچے اور کھرے دانشور و قلمکار ہیں اس لئے سنجیدہ علمی ادبی حتی کے سیاسی حلقوں میں بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ تقریبا تین عشروں سے ایک کمٹمنٹ کے ساتھ مسلسل لکھتے آرہے ہیں۔ نئی نسل کو ان کے تعارف کے ضمن میں صرف اتنا کہوں گا کہ
گر صاف بود سینہ او ھیچ عجب نیست
عمری یست درین میکدہ از درد کشان است
مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں نے تقریبا ان کی ہر تحریر کا مطالعہ کیا ہے میں انہیں بحرانی حالات میں ایک سچا قلمکار سمجھتا ہوں۔ اجتماعی طور پر ایک مخصوص شناخت کے ساتھ ہم جہاں جہاں اور جن جن کٹھن حالات سے گزرے ہیں ان کا عکس حسن رضا چنگیزی کی تحریروں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا حوالہ “بساط شطرنج” کا دیا جاسکتا ہے جسے ہزارہ قوم کی جانب سے پوری دنیا میں پزیرائی ملی۔ بساط شطرنج حسن رضا کی دوسری معتبر کاوش تھی جو موجودہ صدی کے شروع میں منظرعام پر آئی۔ اس کتاب پر تفصیلی گفتگو کا یہ مناسب موقع نہیں لیکن اس کی اہمیت کے حوالے سے صرف اتنا عرض کروں کہ یہ کتاب ہماری اجتماعی شکست وریخت کی ان خون آلود داستانوں اور واقعات سے جڑی ہوئی ہے جس کا باقاعدہ آغاز 1890 کے بعد ہوا۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ اس اہم کتاب کا اردو ترجمہ مجھ خاکسار کے حصے میں آیا۔
بہ چشمِ کم منگر جسم خاکسار مرا
کہ این غبار بدامان یار نزدیک است
حسن رضا چنگیزی ہمارے عہد کے قلمکاروں کا ایسا قافلہ سالار ہے جنہوں نے نہ صرف ہماری لسانی ثقافتی اور تہذیبی احیاء کی تحریکوں میں حصہ لیا بلکہ ہمارے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی غیر مذہبی اور جابرانہ تندروی کی تاریخ کو بھی رقم کیا ہے۔
وہ ہزارہ قوم کے ساتھ پیش آنے والے المناک سانحات کا چشم دید گواہ ہے اور ان کی گواہی “قصہ ہائے نا تمام” کی صورت ہمارے سامنے ہے جس کی تقریب رونمائی میں اس وقت ہم سب شریک ہیں۔ اگرچہ “قصہ ہائے ناتمام” پر میں پہلے ہی سے بہت کچھ لکھ چکا ہوں تاہم جوبات لکھنے سے رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے قلم کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ ان کا تحریر کیا ہوا ہر جملہ قاری کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتا ہے۔
حرف آخر کے طور پر یہی کہوں گا کہ میں قصہ ہا ناتمام کا کھلے دل کے ساتھ استقبال کرتا ہوں.

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں