ہزارگی زبان کے بارے میں چند باتیں ۔۔۔ اسحاق محمدی   

               

  

طویل عرصہ جہالت و ناخواندگی کی لپیٹ میں رہنے اور بعد ازاں کابل کے جابر افغان حکمرانوں کے ظلم و ستم کا تختہ مشق بننے کے باعث ہزارہ قوم کو اپنی تاریخ و ثقافت بطور خاص زبان کی نشوءنما و ترویج کی طرف متوجہ ہونےکی فرصت نہیں ملی۔ تاریکی کے اس طویل دورمیں افغانستان سے باہر شاد روان محمد افضل ارزگانی پہلا مورخ تھا جس نے ہزارہ تاریخ پر ایک مختصر مگر جامع تحقیقی کتاب ’’المختصر المنقول فی التواریخ ہزارہ والمغل‘‘ لکھی جسکی اشاعت 1914ء میں کوئٹہ سے ہوئی جبکہ افغانستان کے اندر شادروان فیض محمد کاتب ہزارہ جسے اس کی پرکاری اور ایماندارانہ طرز تحریر کی وجہ سے ’’بابائے تاریخ افغانستان‘‘ کا خطاب دیا گیا ہے، کو اپنی تمام تر علمی قابلیت اور پاکیزہ کلاسک طرز تحریر رکھنے کے باوجود یہ موقع میسر نہیں آیا کہ وہ ہزارہ تاریخ پر قلم فرسائی اور اسکی اشاعت کرے۔ کاتب ہزارہ کی چھ ہزار فل سکیب پر مشتمل انیس کتابوں میں سے صرف سراج التواریخ کی تین جلدیں کابل میں چھپ سکیں جن میں زیادہ تر امیر عبدالرحمٰن کے دور حکومت اور اس کی داخلی جنگوں بشمول جنگ ہزارہ کا احاطہ کیا گیا ہے اور جس میں امیر جابر کے مظالم پر سےایک حد تک ملفوف انداز میں پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کتاب کی اشاعت کے صرف چند دنوں بعد افغان حکومت کی طرف سے اسے جمع کرواکر نظر آتش کردیا گیا۔ مگر خوش قسمتی سے اس کی چند جلدیں علم دوست حضرات کے دسترس تک پہنچی اور اب اسے ایک متعبر تاریخی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کے بعد کاتب ہزارہ کی دیگر تصانیف کو اشاعت کی اجازت نہیں ملی ( خوش قسمتی سے پچھلے کئی سالوں کے دوران سراج التواریخ کے غیر سنسر شدہ ایڈیشن کے علاوہ اس کا انگریزی ترجمہ کابل اور نیو یارک سے جبکہ ایک اور مختصر کتاب’’ نژاد نامۂ افغان‘‘ کو ایران سے چھاپنے کی اجازت ملی ہے)۔

بیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے مغربی محققین ہزارہ قوم کی طرف متوجہ ہوئے جس میں میٹلنڈ، جی پی ٹیٹ، ایلزبتھ بیکن، مور کرافٹ، فرڈیننڈ، شرمن، ایوا مورا، فریئراور اگلی دہائی میں ڈلنیگ، تیمور خانوف، کانفیلڈ، ایفموف اورخانیکوف وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اسی (80) کی دہائی میں افغان ثور انقلاب کے بعد چونکہ ہزارہ جدید تعلیم یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد نظریاتی لحاظ سے اس انقلاب کے مخالف تھی اس لئےوہ مسلحانہ جدوجہد میں کود پڑی جس کے باعث ان کی طرف سے کوئی قابل ذکر تحریر منظر عام پر نہ آسکی ۔ البتہ شادروان عیسٰی غرجستانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے کوئٹہ پاکستان کو اپنا مرکز بنا کر یہاں سے ہزارہ تاریخ و ثقافت پر انیس قابل ذکر کتابیں اور درجنوں مقالات شائع کیے۔ جبکہ دوسری طرف ایرانی اسلامی انقلاب کے زیر اثر جو شیلے ہزارہ علماء و طلاب کی طرف سے قومیت کے صرف موضوع ہی کو شرک اور اس ضمن میں ہلکی سی جنبش قلم کو بھی ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا چنانچہ ان کی طرف بھی کوئی تحریر سامنے نہیں آسکی۔ تاہم نوے کی دہائی سےاس کٹرپن نظریاتی انداز فکر میں کمی ہونے لگی۔ چنانچہ ایک طرف وہ سیاسی لحاظ سے ایران سے دور ہٹنے لگے جبکہ دوسری طرف ہزارہ قوم کی تاریخ و ثقافت پر قلم کاری کی جرأت بھی ان میں آتی گئی۔ اس ضمن میں حاج کاظم یزدانی، علی لعلی، شیخ اسحاق اخلاقی، ناصر داودی، بصیر دولت آبادی، جواد خاوری، علی کرمانی، مجید خاوری، یوسف امین، علی جان یزدری، ابراہیم شریعتی اوراسد اللہ شفائی جیسے اہم نام سامنے آئے جبکہ اس دوڑ میں جدید تعلیم یافتہ ہزارہ بھی پیچھےنہ رہے۔ چنانچہ حسن فولادی، سید عسکر موسوی، حسین نائل، شاہ علی اکبر شہرستانی، علی شہرستانی، شاہ ولی شفائی، اکرم گیزابی،  حسن رضا چنگیزی، عالم مصباح، عبدالحسین یاسا، حاجی سلیمان خان ،عوض نبی زادہ اور کاؤہ بیات بھی تالیف و ترجمہ کے میدان کے شہسوار بنے۔ جبکہ تیسری جانب ہزارہ جات کابل کے جابر افغانی حکمرانوں کے دسترس سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہزارہ قوم تک مغربی محققین کی رسائی بھی آسان ہوگئی اس لئے وہ بھی میدان عمل میں آگئے اور ان کی طرف سے ڈاکٹر السنڈ رو، رومن گیرینگ، مائیکل سمپل، ڈاکٹر گرانٹ، ڈاکٹر کرسٹن برگ ، ہیرومی سکاٹا، جان کورینٹز اور ساتھ ہی ساتھ جلال الدین صدیقی، پروفیسر شرافت عباس، شادروان حسین یوسفی، جلال اوحدی وغیرہ نے ہزارہ قوم کی اجتماعی زندگی کے مختلف گوشوں پراپنی تحقیقات مکمل کیں۔ یوں دس پندرہ سال کی قلیل مدت میں ہزارہ تاریخ و ثقافت ، ضرب الامثال، لوک داستانوں، کلاسیک شاعری پر سینکڑوں کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ اکٹھا ہوگیا جس کی نظیر خطے کی دیگر اقوام میں نہیں ملتی۔
اکثر ہزارہ مذہبی لکھاریوں میں یہ دلچسپ مشترک پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ابھی تک ایرانی انقلاب کے ابتدائی کٹر اثرات سے نہیں نکال سکے ہیں جس میں قومیت کو کفر گردانا جاتا تھا۔۔ چنانچہ ان کی اگر ایک کتاب ہزارہ قوم کے نام سے شائع ہوئی ہے تو دوسری مذہبی ٹائٹل میں چھاپی گئی ہےمثلاً حاج کاظم یزدانی نے اپنی کتاب ’’ پژوہشی در تاریخ ہزارہ ہا ‘‘ کی طباعت کے فوراً ’’ تاریخ تشیع در افغانستان ‘‘ کے ٹائٹل سے تقریباً انہی موضوعات و واقعات کا تکرار کرکے ایک نئی کتاب لکھ ڈالی ہےجبکہ یہی روش شیخ اسحاق اخلاقی کے یہاں بھی نظر آتی ہے۔ موصوف نے اپنی کتاب ’’ ہزارہ در جریان تاریخ ‘‘ کے بعد ’’ تحقیق و پژوہش در زندگانی امام حسینؑ ‘‘ طبع کرکے گویا ایک طرح سے اپنے آپ کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے عتاب سے بچانے کی ایک شعوری کوشش کی ہے۔

ہزارہ اوریجن ، تاریخ، لوک داستانوں، ضرب الامثال اور ساتھ ہی ساتھ سماجی و مذہبی رشتوں پر بہت کچھ لکھنے کے باوجود ہزارگی زبان پر جدید سائنسی خطوط پر تحقیقی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوائے چند ایک ہزارہ شناس محققین کے باقیوں نےاس موضوع کو سرسری انداز میں لیکر ہزارگی زبان کو محض فارسی دری کا ایک ڈائلیکٹ ( لہجہ ) قرار دیکر موضوع سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے (1)۔ یا پھر ابراہیم شریعتی سمیت کئی ہزارہ لکھاری ایسے ہیں جو غیر سائنسی اور غیر علمی انداز سے اس موضوع پر بحث کرتے تو نظر آتے ہیں لیکن بہت جلد فارسی سے  گرائمری یا الفابیٹ میں ٹ اور ڈ کے سوا باقی سب فارسی ہیں کی آڑ لیکر اپنی پسند کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے نکل جاتے ہیں، یا پھر ان کا یہ ًعذر لنگ ً کہ اس سے ہزارہ قوم فارسی زبان میں موجود علمی ذخائر سے محروم ہوجائے گی علم زبان شناسی کی رو سے ایک بھونڈے مزاق سے کم نہیں۔ اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ بشمول فارسی، اردو، پشتو، بلوچی، سندھی و غیرہ جیسی درجنوں زبانوں کے حروف تہجی یا رسم الخط چند حروف کی کمی بیشی کے ساتھ عربی زبان سے اخذ کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال کیبلاغی آزرگی کے دوستوں نے ہزارہ گی حروف تہجی کا اضافہ کرکے اس کو مزید غنایت عطا کی تاہم اسے مقبول عام بنانے کیلئے طویل مدت اور کھٹن مراحل طے کرنا ابھی باقی ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں کوئی اور ادبی گروہ اس کے لئے لاطینی حروف کا انتخاب کریں بھی توکوئی  حرج نہیں، اسکی کئی مثالیں موجود ہیں مثلاّ ترکی پہلے پہل عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی جسے بعد ازآں کمال اتا ترک کے دور میں رومن یا لاطین رسم الخط میں کامیابی سے تبدیل کرلیا گیا۔ جبکہ فی زمانہ دونوں مرسوم ہیں ۔ یہی صورت پنجابی زبان کی ہے، پاکستان میں یہ عربی جبکہ ہندوستان میں گرومکھی حروف میں لکھی جاتی ہے۔ جہاں تک فارسی کے علمی ذخائر سے محرومی کا تعلق ہے تو یہ بھی درست نہیں، فارسی سے کئی گنا زیادہ علمی ذخائر چینی، روسی، انگریزی، اسپینش، فرانسیسی و غیرہ جیسی بڑی زبانوں میں موجود ہیں تو پھر ان کو ترجیح دینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے یہاں اصل مدعا و مقصد مادری زبان کی ہے جس کے بغیر کسی بھی قوم کی شناخت مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ کوئی زبان اچھی یا بُری، مقدس یا نا مقدس نہیں ہوتی ( یہ الگ موضوع ہے کہ بعض قوموں نے مذہب کی آڑ میں اپنی زبانوں کو مقدس بناکر دیگر اقوام کے سر پر تھوپنے کی کوشش کی ہے) زبانوں کو پرکھنے کا ایک ہی مسلمہ معیار ہے کہ ان کا علمی ذخیرہ کتنا بڑا ہے جسکا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ اس کی پرورش و اشاعت پر کتنی توجہ دی گئی ہے جس کا براہ راست تعلق حکمرانوں سے ہوتا ہے یعنی جتنا شکر زیادہ انتی مٹھاس زیادہ۔ مثلاً چینی زبان سینکڑوں حروف تہجی اور تمام تر گرائمری پیچیدگیوں کے باوجود چینی حکمرانوں کی سرپرستی و توجھات کے باعث بڑے بڑے علمی ذخائر سے مالامال دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ مجھے یہاں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ماضی کے شاندار مغل و ترک حکمران سلسلے اگر فارسی کی بجائے ترکی و مغلی زبانوں کی پرورش و اشاعت کی طرف توجہ مبذول کرتے تو آج یقیناً یہ دونوں زبانیں بھی دیگر بڑی زبانوں کی صف میں ہوتیں جس میں بہر حال بنی نوع انسان ہی کا فائدہ ہوتا۔

 یہاں یہ تذکرہ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ یورپ میں زبان کے موضوع پرجدید سائنسی تحقیقات کا آغاز گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی سے ہواتھا تا ہم اس قلیل عرصہ کے دوران بھی مغربی دانشوروں نے زبان کی تکنیکی ، صوتی، ساختیاتی ، نحوی حتٰی کہ فلسفیانہ پہلو پر قابل قدر تحقیقاتی کام کئے ہیں جن کی روشنی میں ہزارگی زبان کو جدید سائنسی انداز میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ محض موجودہ گرامیٹیکل مشابہت یا دری فارسی الفاظ کی کثرت کی وجہ سے ہزارگی کو اس کا ایک ضمنی لہجہ قرار دینا کسی طور پر درست نہیں مثلاً ہندی اور اردو، گرائمر ، الفاظ، لہجہ سمیت بہت ساری مشترکات رکھنے کے باوجود دو جداگانہ زبانیں تسلیم کی گئی ہیں۔ میرے خیال میں زبان، انسانی سماج کے سخت جان ترین مظاہر میں سر فہرست ہے جو سب سے آخر میں کسی قوم کا ساتھ چھوڑتی ہے(2)۔

 زبان کی اس سخت کیشی کے بارے میں تقی خاوری یوں لکھتے ہیں ’’ بہت ساری اقوام و قبائل تاریخ کے مختلف ادوارمیں دوسری قوموں میں تحلیل ہونے کے باوجود زبان کے لحاظ سے اپنی تاریخی شناخت و ہویت برقرار رکھتی نظر آتی ہیں (3)۔ خود ہزارگی زبان اس ضمن میں بہترین مثال ہے جو ایک طرف کم از کم گزشتہ چھ صدیوں سے طاقتور ایرانی ثقافتی یلغار کی زد میں رہی ہے جسے مذہب کی آڑ بھی حاصل تھی جبکہ دوسری طرف من حیث القوم ہزارہ کو افغان حکمرانوں کے بدترین سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور انتظامی مظالم و نا انصافیوں کا تختہ مشق بنے رہنے کے باوجود آج بھی ہزارگی زبان ، ہزارہ عوام الناس کی زبان ہے جس میں مغلی و ترکی زبانوں کے الفاظ و تراکیب کثرت سے ملتے ہیں۔ انہی خواص کی وجہ سے معروف روسی زبان شناس ایفیموف جس نے کئی سال تک ہزارگی زبان کی دایزنگی ڈائیلیکٹ پر تحقیق کی ہے، کا کہنا ہے کہ ہزارگی اپنی صوتی،ساختیاتی و نحوی لحاظ سے فارسی دری سے قطعی مختلف زبان ہے (4)۔ اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ کابل سے چپ چکا ہے مگر بد قسمتی سے اب اس کی کاپیاں ناپید ہیں۔

ماہرین لسانیات کی آراء کی روشنی میں آسٹریلیا نے معتبر بین الاقوامی تنظیم یونیسکو سے تصدیق کے بعد ہزارہ گی ً کو ایک جداگانہ زبان کی حیثیت دیدی ہے جبکہ ایک اور معتبر ادارہ  ایتھنولینگویجزآف دی ورلڈ نے بھی اس کے علیحدہ زبان ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں مزید کلام کی گنجائش نہیں۔ صرف حروف تہجی یعنی رسم الخط کے مسئلے پر ہزارہ اہل علم دانشوروں میں اتفاق رائے کا آنا اہم قدم ہوگا۔

اب ذرا اس کے تاریخی پس منظر پر نظر دوڑاتے ہیں۔

یہ امر مسلم ہے کہ جس طرح ہزارہ قوم کی تشکیل و تکوین میں ترک و مغل اقوام کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے اسی طرح ہزارگی زبان میں بھی ان دونوں زبانوں کے الفاظ کی بہتات ہے جسے بابر باد شاہ نےسولویں صدی کے اوائل میں ایک طرح کی مغلی سے تشبیہ دی ہے۔(5)۔ ہزارگی زبان میں بیک وقت ترکی و مغلی الفاظ و تراکیب کی موجودگی کے بارے میں گرچہ بعض ہزارہ شناس جیسے بیکن وغیرہ کا خیال ہے کہ ’’ ہزارہ قوم کے چغتائی آباؤ اجداد نے ممکن ہے ہزارہ جات میں مقیم ہونے سے قبل ترکی زبان اپنائی ہوکیونکہ آج ہزارگی زبان میں مغلی الفاظ کی نسبت ترکی الفاظ کی کثرت مشاہدے میں آتی ہے‘‘۔ (6)۔ لیکن میرے خیال میں کسی قوم کی طرف سے محض چند دہائیوں کے دوران اپنی مادری زبان سے دست برداری غیر ممکن ہےاسی لیے ہمیں ایک بار پھر تاریخ کے اوراق میں جانا ہوگا اور اس دور میں جھانکنا ہوگا جہاں سے ہزارہ قوم کی تشکیل و تکوین کے سلسلے کا آغاز ہوا تھا۔ معتبر تاریخی حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباًچار دہائیوں کی خانہ جنگیوں کے بعد بلا آخرتیرہویں صدی کے اوائل میں چنگیز خان، مغلستان کے تمام ترک و مغل قبائل کو اپنے پرچم تلے متحد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اندریں بابت معروف مغل شناس رنہ گروسہ لکھتے ہیں کہ’’ تمام ترک و مغل قبائل کو اپنا مطیع بنانے کے بعد چنگیز خان نے 1206 ء کے موسم بہار میں قراقرم کے عظیم قورلتائی (گرینڈ جرگہ) جس کے دوران اسے چنگیز خان (خانوں کے خان) کا خطاب دیا گیا، کے آخر میں اس متحد قوم کو اولوس موقول یا اولوس مونقولجین کا نام دیکر اسے آپس میں متحد رہنے کی تلقین کی‘‘ (7)۔ موصوف کے مطابق خان اعظم قبل ازیں ترک اویغوری رسم الخط میں اپنی حکومتی دستاویزات کو رقم کرنے کا حکم دے چکے تھے (8)۔ ڈیویڈمورگن کی تحقیق کے مطابق چنگیز خان مغلستان میں موجود تمام مخالف ترک و مغل قبائل کو ان کے سابقہ قبیلوی شناخت کو نظر انداز کرکے ایک جدید فوجی نظم و ضبط میں لے آئے جس میں تاتار، مرکیت، کرائیت، نایمان وغیرہ شامل تھے۔ آگے چل کر وہ مذید لکھتے ہیں کہ ’’ یوں خان اعظم نے ایک طرح سے ایک جدید مصنوعی قبائل کی بنیاد ڈالی جس میں ہر سپاہی کی وفاداری اپنے سابقہ قبیلے کی بجائے جدید التاسیس فوجی یونٹ کے ساتھ زیادہ تھی‘‘ (9)۔ اسی طرح ویلادیمیر تسیف مندرجہ بالا نظریہ کی تائید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’ان جدید التاسیس دستہ جات میں سے اگر کوئی فرد اپنے کمانڈر کی مرضی کے بغیر کسی دوسرے یونٹ میں چلا جاتا تو اس کی سزا موت تھی اور اس طرح کی تقسیم بندیوں کا باقاعدہ اندراج کیا جانا تھا۔ وہ مذید لکھتے ہیں کہ ان نئی دستہ بندیوں نے ان کی سابقہ قبیلوی شناخت کو مٹا کر رکھ دیا جو آگے چل کر اپنے نئے کمانڈر کے نام سے معنون ہوئے (10)۔ اس ضمن میں ہزارہ قوم کے بنیادی اسٹریکچر میں موجود درجنوں طوائف جیسے نیکودر ، چوپان، بوسعید، بہسود (بِسوک)، ارغون وغیرہ عام ملتے ہیں۔ گویا اس طرح کی طویل اجتماعی نزدیکیوں نے یقینی طور پر ان مختلف ترک و مغل قبائل کی زبانوں کے اثرات کو ایک دوسرے میں منتقل کیا ہوگا جس کی واضح جھلک آج بھی ہزارگی زبان میں نظر آتی ہے۔ شادروان حسن فولادی بھی ترکی و مغلی زبانوں کی اس آمیزش کو قبول کرتے ہیں۔ تاہم وہ انہیں تیرہویں صدی کے بعد کا زمانہ قرار دیتے ہیں (11)۔

  قارئین کرام! اگر چہ تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ موجودہ افغانستان میں ہزارہ قوم کی تشکیل میں شامل  ترک و مغل قبائل جیسے لاچین، قارلق، خلج وغیرہ جو قدیم الایام سے مقیم رہے ہیں شامل ہیں تاہم ان کی قطعی اکثریت کا تعلق تیرھویں صدی و بعد ازآں آنے والے ترک و مغل قبائل سے ہیں اور ہزارہ گی زبان میں ترکی و مغلی الفاظ کی موجودگی اسی دور کی یادگار ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ ہزارہ گی زبان پر جدید سائنسی خطوط کے تناظر میں تحقیق کی جائے اور حسب سابق سرسری انداز میں دری فارسی کا ایک ذیلی لہجہ قرار دیکر نہ ٹالا جائے۔ خود ہزارہ گی زبان کے مختلف لہجوں جیسے دایزنگی، دایکنڈی، ترکمنی، جاغوری وغیرہ پر سائنسی انداز میں اگر تحقیق کی جائے تو یہ بڑی حد تک ہمیں ہزارہ قوم کی اصل اوریجن تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی زندگی کے مختلف گوشوں بشمول آبائی پیشے پر سے پردہ اٹھانے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔ مثلاً ہزارہ گی زبان میں پالتو جانوروں کا بہ لحاظ عمر، رنگ، جسامت، شکل و صورت مختلف ناموں کی بہتات ان کے آباؤ اجداد کے پیشے یعنی گلہ بانی کی طرف ایک واضح ثبوت بھی ہے۔ آخر میں چند پالتو جانوروں کے ناموں کا ذکر کر کے مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔

گائے

گوسلہ/چگول           بچھڑا

جونہ                      نوجوان بیل

کجہ                       جوان بیل جس سے ہل چلانے کا کام لیا جاتا ہو

  بوغہ                       جوان بیل جس سے نسل کشی کا کام لیا جاتا ہ

  برو                          جوانی کے قریب گائے

غونجی/دغنگو          نوجوان گائے

قیسرو                    وہ گائے جو وقفہ وقفہ سے دودھ دیتی ہو

شیر قتی                وہ گائے جو بغیر وقفہ کے دودھ دیتی ہو

  قلجو                      گائے بیل جس کی پیشانی سفید ہو

اسی طرح بھیڑ ( قوشقار ) کیلئے درج ذیل نام استعمال ہوتے ہیں

برہ                        لیلہ

کویک                     1تا 2 سالہ  

قیسہ                    نوجوان بھیڑ

  قوشقار/غولجہ        جوان بھیڑ

  قوچہ                     نر بھیڑ جس سے نسل کشی مقصود ہو

  سوبیہ                   نوجوان مادہ بھیڑ

   میش                     دودھ دینے والی بھیڑ

کُرمال                    نراور مادہ عمر رسیدہ بھیڑ

قورغُلی                 نراور مادہ بھیڑ جس کے کان چھوٹے ہو

غولجہ                  پیچ دار سینگ والا نر بھیڑ نر ہرن

بُرداقی                 نربھیڑ جو خاص طور پر قدید (لاندی) کیلئے پالا جاتا ہو

 دلچسپ نکتہ یہ ہےکہ بھیڑ، بکری ، کتا وغیرہ جیسے پالتو جانوروں میں ناموں کی بہتات تو نظر آتی ہے مگر گھوڑے کے معاملے میں یہ بہتات نہیں ملتی حالانکہ ابوالفضل نے شہنشاہ اکبر کے دور حکومت (1605۔1556) میں ان کے ایک لاکھ خاندانوں میں سے ایک تہائی کوگھڑسوار قلمبند کیا ہے (12)۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی اور موسمی تقاضوں کے پیش نظرگھوڑوں کی تعداد کم ہوتی گئی ہو چنانچہ اسی حساب سے ان کے نام بھی لوگوں کے اذہان سے محو ہوتے گئے ہوں۔ نیز مختلف علاقوں یا ایک ہی علاقےکے مختلف طائفوں کے اندر بھی ان کے نام مختلف ملتے ہیں۔

حوالہ جات

The Hazara Dialect of Afghan Persian P. No. 12 .1 نیز تاریخ ہزارہ انغانستان صفحہ 119

Conversational Hazaragi Urdu-English Preface .2

 3. مردم ہزارہ و خراسانی بزرگ صفحہ 241

 4. سر زمیں و رجال ہزارہ صفحہ 253

 5. تاریخ ہزارہ مغل صفحہ 24

 The Hazaras .6صفحہ

82Empire Des Steppes .7ترجمہ فارسی صفحہ 55۔365

 8. ایضا صفحہ 362

  The Mongols .9.ترجمہ فارسی صفحہ

10۔108Le Regime Social Des Mongol  ترجمہ فارسی صفحہ 181، 172، 171

 The Hazaras .11 صفحہ 83

 .12 آئین اکبری صفحہ 1108

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔