قصہ ہائے ناتمام ۔۔۔ علی بابا تاج

*

کافکا کے مشہور ناول ”دی ٹرائل” میں اس کے کردار کو اپنا جرم تلاش کرنے کا کہا گیا تھا۔ ایسے ہی بے شمار فکشن کے کردار اور ان گنت ان کہی کہانیاں کائنات کے سینے میں تیر ِنیم کَش کی طرح پیوست ہیں اور ظالمان ِ زمان مست ہیں۔ کمزور پِستا ہے تو طاقتور پیستا ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی کو کھاتی ہے تو آگ ہر تر و خشک کو جلادیتی ہے۔ پانی بہاکر لے جاتا ہے۔ قانون ِ فطرت سے بالا کوئی نہیں۔ ہم اور آپ یا کوئی بھی کھڑے کھڑے ایک وقت میں اپنا ایک ہی پیر اٹھا سکتے ہیں دونوں نہیں۔ حکمت و دانش، اہلیت و صلاحیت کسی کی میراث نہیں اور نہ کسی ڈی این اے کے فیتے میں اس کا نشان ملتا ہے۔

حسن رضا چنگیزی کا نام، مطالعے کے شوقین حلقوں کے لیے نیا نہیں۔ خصوصاؒ ہزارہ تاریخ و ثقافت اور اس سے متعلقہ موضوعات میں ایک چیرہ دست مترجم کے طور پر اپنا آپ منوا چکے ہیں۔ بالخصوص تیمور خانوف کی کتاب کے اردو ترجمے نے انہیں اس حوالے سے بنیادی شناخت دی۔ ابھی کچھ سال جاری رہی ہزارہ ٹارگٹ کلنگ اور اس کے پیش آمدہ صورت حال اور اس کے اثرات پر اپنے قلم سے اپنا نکتہ نظر کو پیش کرنے میں شبانہ روز مصروف رہے اور ارباب ِ فہم و دانش تک ایک نئے دی ٹرائل کے کرداروں کی آواز بنے اور ان کی فریاد کی بازگشت کو مستقل آواز بنانے میں کامیاب بھی رہے۔ تا آنکہ مظلوموں کی آہ کو اپنی تحریروں سے اطراف و اکناف تک پہنچاتے رہے۔

آپ ان کے کالموں کے مجموعہ “قصہ ہائے ناتمام” کو جب بھی پڑھیں گے جس کا غالب حصہ ہزارہ قتل عام پر مشتمل ہے تو آپ کو سطر سطر لہو رنگ معنی اور لفظ لفظ بے بسی میں بسی خاموشی نظر آتی رہے گی۔ بے شک قصہ تمام ہوتا ہے لیکن حسن رضا چنگیزی جن حالات کا خاکہ بنا کر اس کو مکمل تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اس کرب کا اندازہ روز روز لاشیں اٹھانے والوں کو ہی ہوسکتا ہے اور یہ وہ اندازہ ہے جو درد سہنے والوں کو ہی پورا آتا ہے۔ یہ درست ہے مقتولوں کا نوحہ لکھتے لکھتے کوئی بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا لیکن اگر یہی قتل صبح و شام ہوتا ہو تو معنویت اور حساسیت بدل جاتی ہے اور یہیں سے قصہ تمام نہیں ہوتا بلکہ ناتمام ہی رہتا ہے، حتیٰ کہ نظیری کا یہ شعر کبھی جن کو پسند بھی ہوگاوہ ایک دہائی چلنے والے بے انصاف قتل عام کے بعد اس پر سوچیں گے ضرور:

گریزَد از صف ما ھر کہ مردِ غوغا نیست

کسی کہ کشتہ نشد از قبیلہ ء ما نیست

یعنی، یعنی چہ؟ کیوں؟ کس لیے؟ از چہ خاطر؟ برای کِہ؟۔۔۔ دل نہیں مانتا۔ سو بقول شاعر:

ای سبزہ ء سر ِ راہ از جور ِ پا چہ نالیَ؟

در کیشِ روزگاران، گُل خون بہا ندارد

ہزارہ قتل عام اور اس کی وجوہات پر دنیا بھر میں دفتر کے دفتر لکھے گئے ہیں۔ بے شمار انٹرویوز ہوئے ہیں تو درجنوں آڈیو ویڈیو ڈاکومینٹریاں بنی ہیں۔ لاکھوں تصویریں ہیں تو اور بہت کچھ ہے ہزارہ قبرستانوں میں ہزاروں کی قبروں کے علاوہ۔  تاریخ کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔ سب کچھ ریکارڈ ہوتا ہے، ہوتا رہے گا۔ انصاف ملے نہ۔۔۔ملے یہ تاریخ کی ایک لائن ہے۔ کامیاب دانشور اس لائن کو عنوان بناتا ہے۔ حسن رضا کی تحریروں میں یہی بات نظر آتی ہے وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس بے انصافی کو ریکارڈ کریں اور بے آوازوں کی آواز بنیں۔

من درد ِ مشترکم، مرا فریاد کن۔۔۔۔

حسن رضا چنگیزی نے جدید ذہن کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے قارئین کو تلاش کیا۔انہوں نے ملک ِ عزیز کی جغرافیائی حوالوں کے ساتھ سیاسی، نظریاتی اور جنگی صورت حال کے علاوہ پاکستان میں بسنے والی ہزارہ قوم کے داخلی و خارجی رجحانات پر کھل کر صادقانہ انداز میں تجزیہ و تحلیل پیش کیا۔ یہی ان کے قلم کا اعجاز ہے۔ مقدمہ پیش کرنے میں مقدمہ جیتنے کی دوڑ میں جلد بازی نہیں کرتے بلکہ انتہائی دانشمندی اور احتیاط کے ساتھ کیس کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یقینا ان کا مطمع نظر یہی ہے کہ تمام مسائل کو الزام تراشیوں سے ہٹ کر خالصتا ٹھوس شواہد اور حقائق پر سمجھنا اور سمجھا نا چاہیے۔ یہی احساس ذمہ داری حسن رضا کے قلم سے جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے حالانکہ بدترین احساس محرومی اور عدم تحفظ میں حواس کو بحال رکھنا سچ میں ایک مشکل کام ہے۔

قصہ ہائے ناتمام کو پڑھیں اور سوچیں کہ ان موضوعات پر آپ کیا سوچتے ہیں اور اگر اس صورت حال کے بیانگر ہوتے تو کیسے اس کو بیان کرتے؟ اڑھائی درجن کے لگ بھگ ان مضامین اور کالموں کا طرز بیان کافی حد تک مکالماتی ہے اور کوشش یہ رہی ہے کہ اپنی بات منوانے کی بجائے کسی طرح سے اپنے مخاطب کو سمجھائی جائے۔ میرے خیال میں ان تحاریر کی سب سے بڑی انفرادیت یہی ہے کہ حسن رضا چنگیزی اپنے کسی بھی موضوع کو سلیقے، قرینے اور طریقے سے برتتے ہیں، حوالوں اور تواریخ سے استفادہ کرتے ہیں اور باایں ھمہ جن دوستوں کو ویب بلاگنگ کے اصول و قواعد کا علم ہے ایجاز و اختصار سے بھی کام لیتے ہیں۔ حسن رضا کی طرز نگارش کی یہ تمام خوبیاں مل کر تحریر کو دلچسپ بناتی ہیں اور قاری کے لیے اسے مکمل کئے بغیر رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

حسن رضا چنگیزی کا تعلق اس نسل سے ہے جہاں ایشیا کو کبھی سرخ کیا جاتا تو کبھی سبز، کبھی سیاسی عظمت کے بت بنائے جاتے تو کبھی سیاسی نظریوں کی بنیاد پر نت نئے نعرے بنتے تو کبھی خوابوں کو انقلاب میں گھسیٹنے کی کوشش ہوتی تو کبھی انقلاب کو خواب بنایا جاتا۔ تھیسز کا سارا زور اس بات پر خرچ ہوتا کہ اینٹی تھیسز ہی اس کا حاصل جمع ہو، ایسی خوب صورت حال میں رہتے تو کیا اچھا ہوتا لیکن دنیا کو گورباچوف نے بدل دیا یا گورباچوف کو دنیا نے بدل ڈالا یہ کہانی پھر سہی البتہ جدید دنیا اس دور سے کہیں بڑھ کر دل چسپ ہے۔ اہل دانش اور اہل قلم کو چاہیے کہ اپنے قلمِ رسا کو جدید دور کے حقیقی رفتار سے ہم آہنگ رکھیں تاکہ اپنی بات کو بیان تک محدود نہ رکھیں بلکہ زمان کا احاطہ بھی کرلیں۔جیسا کہ حسن رضا چنگیزی کی کتاب میں ہمیں اس کا التزام ملتا ہے۔ امید ہے پاکستان میں بسنے والی ہزارہ قوم کے مسائل میں ”قصہ ہائے ناتمام” تحقیق و تالیف میں بنیادی حوالوں میں شمار ہوگی۔

کتاب کا نام:         قصہ ہائے ناتمام

پبلشر:                سانجھ، لاہور

اظہار

اپنی سوچ کا اظہار کیجئے