چرنوبل ایک واقعہ یا موثر پیغام ۔۔۔ محمد تقی رمضان

چرنوبل ایک واقعہ یا موثر پیغام

محمد تقی رمضان

مصروف ہفتہ گزرنے کی وجہ سے وِیک اینڈ پر گھر سے نکلنے کا کوئی اِرادہ نہیں تھا، لہذا وقت گزاری کے لیے کوئی اچھا امریکن سِیریل دیکھنے کی ٹھانی۔ چھوٹے بھائی سے مشورہ مانگا ۔ بھائی نے کہا “چرنوبل” دیکھو، آپ کو پسند آئے گا۔ نام دلچسپ لگا اِس لیےمزید تفصیلات جاننے کا شوق ہوا۔ تجّسس برقرار رکھنے کے لیے بھائی نے تھوڑی سی تفصیلات بتانے پر اِکتفا کیا کہ سرد جنگ کے زمانے کے ایک اصل واقعے پر مبنی سیریل ہے اور تَنبیہ بھی کی کہ ایک امریکن پروپیگنڈا سیریل ہے جس کی وجہ سے کچھ چیزوں کو نسبتا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ تا ہم مزید بتایا کہ سیریل میں ایک خاص پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جو زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ تاریخ میں دلچسپی اور اہم پیغام کے لالچ میں سیریل ڈاون لوڈ کی اور دیکھنا شروع کیا۔ سیریل کو اِسقدر دلچسپ پایا کہ ایک ہی نشست میں پانچوں اقساط دیکھ ڈالیں۔ پوری کہانی کا پلاٹ اس حقیقت کے گرد گھومتا ہے کہ کس طرح ہم اپنی جھوٹی انا کی تسکین اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے جھوٹ بولتے ہیں اور اس جھوٹ کو چھپانے کے لیے مزید جھوٹ بولتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے نکلنا ممکن نہیں ہوتا اور اس المیے کا اختتام صدیوں پر محیط تباہی اور بربادی پر ہوتا ہے۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ 26 اپریل 1986 کو چرنوبل (سابقہ سوویت یونین) کے مقام پر واقع ایک نیوکلیر ری ایکٹر پلانٹ میں، جس سے بجلی بنانے کا کام لیا جاتا تھا، ڈیزائن کی خامی اور چند ملازمین کی غلطی سے زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔ اس دھماکے کی وجہ سے نیوکلیر ری ایکٹر مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہےاور تاب کاری ہوا، انسانوں اور جانوروں کے زریعے آس پاس کے علاقوں میں پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ معاملے کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے حفاظتی انتظامات کرنے کی بجائے ملازمین اپنی غلطی چھپانےاور جان بچانے کے لیے معلاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے دور دور تک لاکھوں انسانوں، جانوروں اور نباتات کی بقا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ وہ افسران بالا کو ‘سب اچھا ہے’ والی رپورٹ بھیج دیتے ہیں اور افسران بالا اور صاحبان اقتدار بھی اپنے سیاسی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئےاس رپورٹ کو قبول کرلیتے ہیں تاکہ دنیا میں اور خاص طور پر امریکہ کے سامنے ان کی سبکی نہ ہو۔ اس ساری صورتحال میں ایک نیوکلئیر سائنسدان ویلری لیگہ سوف، اپنی جان خطرے میں ڈال کر حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ترغیب دیتا ہے اور معاملےکی اہمیت اور سنگینی کا یقین دلواتا ہے۔ اول الذکر اپنی کاوشوں سے حادثے کی تابکاری اور اثرات کو مزید پھیلنے سے روکنے اور نقصانات کی نوعیت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ حقائق سامنے لانے والی کمیشن کا سربراہ مقرر کیے جانے کی وجہ سے حقائق سامنے لانے کی کوشش بھی کرتا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مزید نا خوشگوار واقعات رونما نہ ہوں، تاہم یہ کام آسان نہیں ہوتا کیونکہ ‘کے جی بی’ ان کے اس اقدام کو ریاست مخالف قرار دیتی ہے جس کی وجہ سے اسے نظر بندی کی صعوبتیں اٹھانئ پڑتی ہیں۔ آخر کارضمیر کی آواز اسے اس قدر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ تمام حقائق پانچ آڈیو کیسٹوں میں ریکارڈ کرکے خود کشی کر لیتا ہے۔ اس کی یہ خود کشی رنگ لاتی ہے اور اس کے دوستوں کی کاوشوں سے حکومت مجبور ہو جاتی ہے کہ ‘اسٹیٹ آف ڈینائل’ سے نکلے اور نیوکلیر ری ایکٹرز کے ڈیزائن میں موجود خامیوں کو دور کرکے ان میں مزید بہتری لا کر انھیں محفوظ بنائے۔ حکومت اس بات پر بھی مجبور ہو جاتی ہے کہ اس کی خدمات کوریاستی سطح پر قبول کرکے اسے ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازے جو کہ راقم کے مطابق دیرہی سہی مگرحق اور سچ کی فتح ہے۔
درج بالا واقعہ اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئےاگر پاکستانی معاشرے کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ یہاں بھی چرنوبل والی صورتحال مختلف صورتوں میں صا ف نظر آئے گی۔ ہمارے ہاں بھی صاحب اقتدار مسائل کو حل کرنے کے لیے حق اور سچ کا ساتھ دینے کی بجائے اپنی انا اور سیاسی اور مالی فوائد کو مقدم جانتے ہیں۔ 1947 سے لیکر آج تک انھوں نے اپنے اقتدار کو تقویت دینے اور محفوظ بنانے کے لیے ہمیشہ اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے نہ صرف عوام سے جھوٹ بولا ہے بلکہ اس جھوٹ کو حق اور سچ کی آواز بنا کر ان کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا جس کی ایک مثال تاریخ اور تاریخی واقعات کے ساتھ ان کا بہیمانہ کھلواڑ ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی مثالیں ہیں جہاں اپنے معمولی فوائد کے لیے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں یا مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ اس خیانت کو انھوں نے ہمیشہ ملکی مفاد کا نام دیا ہے۔ آج ان کے ان اقدامات کا ایک بڑا نقصان یہ سامنے آیا ہے کہ عوام سچ کو سازش اور غدّاری سے تعبیر کرتے ہیں اور سچ بولنے والے کے لیے دائرہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندر رہ کر کوئی بھی سچ بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ کام کرنے کے لیےانھیں ملک سے باہر جانا پڑتا ہے جو کہ کسی ملک اور قوم کے لیے ایک المیے سے کم نہیں۔
مزید برآں یہی نفسیات ہمیں ہماری عام روزمرّہ زندگیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ہم حقیقت کو تسلیم کرنے میں اپنی ہار سمجھتے ہیں اور اپنی انا کی تسکین کے لیے ہر لیول تک جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک دوست کے ساتھ ایک مذہبی مسئلے پر بحث ہو رہی تھی۔ دونوں نے اپنے موقف کے حق میں خوب دلائل دیے۔ خوش قسمتی سے اس دن میرے دلائل موثر ثابت ہوئے اور دوست کو میرےموقف کو صحیح تسلیم کرنا پڑا، لیکن انھوں نے ہار نہیں ماننی تھی سو ایک مضحکہ خیز بات کہہ دی کہ کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہو لیکن اگر ہم نے یہ بات مان لی تو دوسرے مسالک والوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ وہ تو یہی کہیں گے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ شیعہ غلط ہیں، دیکھو ! آج انھوں نے خود بھی مان لیا۔ ان کی بات بھی ٹھیک لگتی ہے کیونکہ دوسری طرف بھی ہمارے جیسے لوگ بیٹھے ہیں جو کہ موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ مگر بات یہاں آکر رک جاتی ہے کہ نافہم انسان کے سوچنے یا نہ سوچنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر فرق پڑتا ہے تو سمجھ بوجھ رکھنے والے انسانوں کی مجرمانہ خاموشی اور حقائق کی پردہ پوشی سے۔ حق کی تلاش سیال داری اور اقربا پروری کو نہیں مانتی کیونکہ اس کا تعلق ایک عام آدمی کی انا سے نہیں بلکہ یہ نسلوں کے مستقبل کی پاسدار ہے۔ یہی حال ہماری سیاسی سمجھ بوجھ کا بھی ہے، اس میدان میں بھی ہم لوگ مخالفت میں تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور کسی کی حمایت میں گدھے اور گھوڑے کی تفریق بھول جاتےہیں۔
القصّہ مختصر، ہم نے جھوٹ بول کر ذاتی مفادات تو بہت حاصل کر لیے مگر اپنی اجتماعی زندگی کو تباہ کر دیا ہے، جس کے ہم مزید متحّمل نہیں ہو سکتے۔ جھوٹ وقتی طور پر شاید سود مند ہو مگر اس کے نقصانات دیر پا اور دور رس ہوتے ہیں۔ راقم اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی بلکہ ہر چیز میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ تاہم اگر ایک بات انسان کو مختلف اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد صحیح لگے تو اسے ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے، خاص طور پر ان معاملات میں جن سے دوسروں کے بھی مستقبل وابستہ ہوں۔ یہی مہذب معاشروں کی نشانی اور ترقّی کی جانب پہلا قدم ہے۔

محمد تقی رمضان

مضمون نگار پیشے کے لحاظ سے سول سرونٹ اور قانون کے باقاعدہ طالب علم ہیں۔ انہیں تاریخ اور فلسفہ کے مطالعے سے بھی گہری دلچسپی ہے۔
محمد تقی رمضان

محمد تقی رمضان

مضمون نگار پیشے کے لحاظ سے سول سرونٹ اور قانون کے باقاعدہ طالب علم ہیں۔ انہیں تاریخ اور فلسفہ کے مطالعے سے بھی گہری دلچسپی ہے۔