بھابھی ۔۔۔ سجاد حسین

بھابھی

 تحریر: سجاد حسین

میجر سلمان آج بھی میرے بہترین دوستوں میں سے ہیں لیکن بالخصوص لڑکپن کے زمانے میں میرے لیے بڑی خوش قسمتی کی بات تھی کہ سلمان میرا دوست ہوا کرتا تھا۔ وہ بلاشبہ ان ذھین اور شریر لڑکوں میں سر فہرست تھا جو ہر فن مولا ہوتے ہیں۔ کلاس فیلوز پر چُست فقرے کسنا، لطیفے بنانا، استادوں کی غیر موجودگی میں ان کی پیروڈی کرنا، ان سب باتوں میں وہ طاق تھا اور اسی سبب وہ کلاس کی جان ہوا کرتا تھا۔ سلمان نے ہمارے کئی ایک ہم جماعتوں کو ان کی کالی رنگت، قد کاٹھ، خد وخال یا کسی اور جسمانی عیوب کے باعث جو نام لڑکپن میں دیئے تھے، وہی بگڑے ہوئے نام ان بیچاروں کی بعد میں پہچان بن گئے۔ اور تو اوراساتذہ بھی اس کی شرارت سے محفوظ نہیں تھے۔ ہمارے موٹی توند والےقاری انیس صاحب جو ہر وقت ہمیں “خبیث خبیث” کہہ کر بلاتے رہتے ہیں، کا نام سلمان نے ہی قاری انیس سے بگاڑ کر “قاری خبیث” رکھ دیا تھا۔

سلمان کا دھیان پڑھائی سے زیادہ فزیکل ایکٹوٹیز اورغیر نصابی سرگرمیوں میں رہتا تھا۔ خراب ڈسپلن کے باوجود وہ پی ٹی آئی موسٰی جان کو بہت عزیز تھا کیونکہ وہ بیک وقت اسکول کی فٹبال اور کرکٹ ٹیموں کا اہم کھلاڑی تھا اور پرنسپل کے کمرے میں رکھے کئی ٹرافیز اور کپس سلمان ہی کی بدولت تھیں۔ ان کھیلوں کے علاوہ باکسنگ میں بھی وہ کافی چالاک تھا۔ اس بات پر تو ہم سب کلاس والے فخر کرتے تھے کہ ایک دفعہ آدھی چٹھی کے دوران ہمارے ایک نسبتا” کمزور اور نازک ناک نقش والے دوست ثقلین کو نویں جماعت کے لڑکے چھیڑنے لگے تو سلمان نے کمال کی بہادری دکھائی۔ ہم ساتویں جماعت والے ننھے منّے چوزوں کی طرح سہمی ہوئی نگاہوں سے تماشائی بنے ہوئے تھے اور ثقلین رو کر اپنی قمیص کا پچھلا دامن چھڑانے کی ناکام کوشش کررہا تھا اور نویں کلاس کا ایک بڑا لڑکا ڈھٹائی سے اس کے دامن کو اٹھائے ہنس کر اسے چھیڑ رہا تھا۔ ایسے میں سلمان کہیں سے اچانک آدھمکا اور ثقلین کو ایک طرف دھکا دے کر اس بڑی عمر کے لڑکے کو گرا کر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ سلمان اپنے سے اونچے اور زیادہ تنومند لڑکے کے ساتھ گتھم گتھا تھا، دونوں مٹی میں ایک دوسرے پر ہاتھ پیر چلا رہے تھے اور ہم طلبا بیچ بچاو کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ پتہ نہیں پی ٹی آئی موسٰی جان کو کسی نے اطلاع دی یا انھوں نے ویسے ہی دیکھ لیا کہ وہ پہنچے اور انھوں نے فورا” ان دونوں کو علیحدہ کردیا لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ نویں جماعت والے لڑکے کے ہونٹ پھٹے ہوئے ہیں اور اس کی ناک سے خون بہہ رہا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ سلمان الگ ہونے کے باوجود مسلسل اس بڑے لڑکے کو اسکول کے بعد دوبارہ لڑنے کی دھمکیاں دے رہا ہے تو موسٰی جان صاحب یہی سمجھ بیٹھے کہ سلمان ہی فساد کی جڑ ہے۔ سلمان اس بڑے لڑکے کو “میدانی” میں ملنے کی مسلسل دھمکیاں دے رہا تھا۔ موسٰی جان صاحب پشتون ہونے کے باوجود ہزارگی فارسی صاف سمجھتے تھے، ان کی آدھی عمرہزارہ کمیونٹی کے اسکولوں میں پڑھاتے جو گزری تھی۔ آخر جب سلمان نے موسٰی جان صاحب کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اس بڑے لڑکے کے کسی بات کے جواب میں اس کو “بچے ک۔۔۔۔” یعنی ماں کی موٹی سی گالی دی تو ہمیں خوب یاد پڑتا ہے کہ موسٰی جان صاحب سے رہا نہیں گیا اور باقی سب کو کلاسوں میں جانے کا کہہ کر انھوں نے سلمان پر ہی ڈنڈوں کی بارش کر دی۔ سلمان کو اس دن خوب مارپڑی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میدانی میں سلمان کی اس بڑے لڑکے کے ساتھ دوبارہ لڑائی ہوئی ہو البتہ اس دن سب کلاس فیلوز پر سلمان کی دھاک بیٹھ گئی۔

ہمیں اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ ہروقت باکسنگ، کرکٹ ، فٹبال اور پہاڑوں میں پرندوں کے شکار کے باوجود سلمان ہمیشہ پڑھائی میں بھی تیسرے چوتھے نمبر پر آتا تھا۔ میں اس کے ساتھ کرکٹ ٹیم میں تو تھا البتہ کوئی بہت بہترین کھلاڑی نہیں تھا۔ برسوں کے بعد اب سوچتا ہوں تو سچ پوچھیئے ایسا لگتا ہے کہ ٹیم کے باقی کھلاڑی بھی مجھے سلمان کے قریبی دوست ہونے کی وجہ سے ہی برداشت کرتے ہوں گے۔ خیر اسی طرح ہنستے کھیلتے  ہم ساتویں سے آٹھویں، نویں اور پھر دسویں میں آگئے۔ میری ہلکی ہلکی مونچھیں اور ٹھوڑی کی نیچے کچھ بال آگئے تھے جبکہ سلمان کے چہرے پر چینیوں کی طرح چنداں بال نہیں آئے۔ دوست سناتے ہیں کہ اوائل جوانی کے اس دور میں ایک دفعہ نائی کی دوکان میں بال بناتے ہوئے کسی نے سلمان کو چھیڑ دیا کہ چہرے پرنہ مونچھ نہ داڑھی، کیا وہ جوان بھی ہوا ہے یا ابھی تک دودھ پیتا نابالغ ہے۔ سلمان کی بے باکی دیکھئے کہ جھٹ سے ناڑا کھول، شلوار ڈھیلی کردی کہ “لو دیکھ لو زوئے! میری مونچھیں ہونٹوں سے اوپر نہیں، ناف سے نیچے ہیں”۔ کہتے ہیں نائی اورچھیڑنے والا وہ دوست دونوں منتیں کرنے لگے کہ بھائی جانے دے، غلطی ہوگئی ، اب شلوار پہن لو اس سے پہلے کہ کوئی چھوٹا، کوئی بزرگ دوکان میں داخل ہو۔

سلمان کی داڑھی مونچھیں تو نہیں آئیں البتہ زبردست قد کاٹھ اور سفید چوڑے چہرے پر اس کی چھوٹی چھوٹی تیز آنکھیں اس کی شخصیت کو خوب زیب دیتی تھیں۔ سینسن آف ہیومر میں طاق ہونے کی وجہ سے گھر میں بھی وہ اپنی ماں کی آنکھ کا تارا تھا۔ اس کی کوئی بہن نہیں تھی اور مذاقا” ہم سب لڑکوں کو بہن ہی کی گالیاں دیتا تھااور پھر خود ہی ایک لطیفہ مارتا تھا کہ وہ لوگوں کو “بہن چ ۔۔۔” کہہ کر چھیڑ سکتا ہے لیکن اسے کوئی ایسی گالی نہیں دے سکتا کیوں کہ اس کی کوئی بہن ہی نہیں۔ ماں کی گالی پر البتہ وہ فورا” مرنے مارنے پر اتر آتا تھا۔ ہمیں اس کی ماں والی گالی سےہی اس کے غصّے کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ سلمان کے ابو ٹرک چلاتے تھے اور مچ میں کوئلہ کے ٹھیکداروں کے ساتھ کام کرتے تھے۔ چار بھائیوں میں وہ دوسرے نمبر پر تھا اور نہ صرف اس کے دونوں چھوٹے بھائی امان اور ریحان اس سے دب کر رہتے تھے بلکہ بڑا بھائی فرمان بھی سلمان کے مقابلے میں خاموش ہی رہتا تھا ۔

انھی دنوں کی بات ہے۔سلمان کی صحبت میں میں نے بھی باکسنگ کلب میں داخلہ لے لیا تھا۔ نوجوانی کے ان سالوں کی بات ہی اور تھی۔ پہاڑ کے دامن میں واقع  اپنے گھر سے مسلسل ڈھلوان کی اترائی میں اسکول یا باکسنگ کلب جاتے وقت سائیکل پر جہاز کی سی سرعت سے دائیں بائیں گلائڈنگ کرنا، چہرے اور بالوں پر ہوا کے جھونکوں کو محسوس کرنا، واہ، اوپر سے نیچے سائیکل کی اس سواری کا اپنا ہی نشہ تھا۔ سائیکل کی سیٹ پر براجمان، پیڈل مارنے کی ضرورت سے بے نیاز، اردگرد اوپر آتے ہوئے ہانپتے لوگوں کو اپنے سے چند فٹ نیچے دیکھ کر لگتا تھا کہ ہم شاہی خاندان کی سواری پر ہیں اور یہ لوگ ہمارے رعایا۔

  ہمارا معمول  تھا کہ سہ پہر ساڑھے تین بجے میں سائیکل لیے سلمان کے گھر پہنچ جاتا جو میرے راستے میں پڑتا تھا، پھر وہاں سے ہم اکٹھے ایک ہی سائیکل پرباکسنگ کلب کو نکل پڑتے۔ ایک دن ٹھیک کلب جاتے وقت معلوم ہوا کہ سائیکل کی ٹائر پنکچر ہے۔ بھاگ کر سائیکلوں کی دوکان پر پہنچا تو دوکان کو بند پایا۔ جون کی گرمیوں میں سائیکل ساز سہ پہر کو سستانے کے لیے اپنےگھر گیا ہوگا اور ویسے بھی کوئٹہ کی خشک شدید گرمی میں سہ پہر کو سڑکیں سنسان پڑ جاتی ہیں، ایسے میں اکا دکا گاہکوں کا ہی آنا ہوتا ہے۔ میں سائیکل کو تھامے واپس گھر چلا گیا اور سائیکل کو گھر میں چھوڑ کر سلمان کی طرف پیدل ہی نکل گیا۔  سلمان میرا بے تابی سے انتظار کر رہا تھا اور مجھے سائیکل کے بغیر آتے دیکھ کر خفا ہورہا تھا۔ اس جھلسا دینے والی گرمی میں وہ پیدل چلنے کے لیے قطعی تیار نہیں تھا۔ اس کی چند ایک دوستانہ گالیاں کھانے کے بعد میں نے اس کو منا لیا اورہم پیدل ہی چل پڑے۔

گرمی کی شدت سے سڑکیں تپ رہی تھیں اور ہم چند فٹ چوڑے سایے میں رہنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔ ویسے تو ہمارے گھر سے کلب تک کا راستہ علمدار روڑ ہی تھا لیکن گرمی سے تنگ آکر سلمان نے مائیلو ٹرسٹ کے سامنے والے مین علمدار روڑ سے گزرنے کے بجائے پچھلے گندے نالے کے اردگرد تنگ گلیوں کا راستہ اختیار کیا۔ گلی تنگ تھی اور دونوں طرف کی دیواریں اونچی ہونے کی وجہ سے گلی کے بیچ سے گزرنے والا راستہ مکمل طور پر سائے میں تھا۔ سہ پہر کے اُس وقت گلی میں کوئی نہیں تھا اور ہم بیزاری سے قدم اٹھا رہے تھے جب اچانک ہماری نظریں کالی چادر پہنے ایک نوجوان لڑکی پر پڑیں جو سامنے سے آرہی تھی۔ بڑی سی سیاہ رنگ کی چادر میں بھی وہ دلکش لگ رہی تھی اور اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا۔

وہ چادر اس کے لیے غالبا” بڑی تھی، شاید اپنی امی یا بہن کی چادر اوڑھ کر نکلی تھی یا شاید ان دنوں فیشن ہی لمبی چوڑی چادریں پہننے کا تھا۔ پہلی مرتبہ ہمارا ایک نوجوان لڑکی سے یوں آمنا سامنا ہوا تھا۔ ہمارے قریب سے گزرتے وقت اس سہمی ہوئی لڑکی نے اپنی سمٹی ہوئی چادر کو اور سمیٹ لیا کہ کہیں ہم سے الجھ نہ جائے۔ وہ تو احتیاط کر کے گزر گئی لیکن میں اور سلمان ہکا بکا رہ گئے۔ کچھ ہوش آیا تو جو پہلا جملہ ادا کرنے کا میں نے سوچا وہ کچھ یوں تھا کہ “سلمان، یہ تمھاری بھابھی ہے۔” لیکن سلمان مجھ سے ایک قدم آگے ہی تھا۔ اس سے پہلے ہی سلمان اسے میری بھابھی بنا چکا تھا۔ ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں۔

سائیکل کی ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے سلمان کا جو برا موڑ تھا وہ اب رفع ہوچکا تھا۔ وہ مسکرا مسکرا کر مجھے تلقین کررہا تھا کہ سب کچھ بھلے کے لیے ہوتا ہے “دیکھو اگر سائیکل پنکچر نہ ہوتی تو ہم پیدل نہ آتے، ہم پیدل نہ آتے تو اس گلی میں تمھاری بھابھی سے کیسے ملتے؟”

اگلے دن، میں سائیکل کے ساتھ سلمان کے گھر پہنچا تو اس نے میری سائیکل مسکراتے ہوئے اپنے گھر میں رکھ لی اور باکسنگ کِٹ اٹھا کر ویسے ہی نکل آیا۔ میں نے نوٹ کیا کہ اس نے اپنے بال بھی بنا لیے تھے۔ میں جان گیا کہ سلمان اسُی لڑکی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ہم اس گلی میں پہنچے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ ایک دو راہگیر وہاں سے گزرے تو ہم ادھر ادھر بہانے سے ٹہلنے لگے۔ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد وہ لڑکی آگئی ۔ ہمارا اندازہ ٹھیک نکلا کہ وہ کہیں انگلش لینگوئج کی کلاس لینے کے لئے جارہی تھی اور ہماری طرح اس کا بھی یہی روٹین تھا۔

ہمیں دیکھ کر وہ لڑکی سہم گئی۔ ڈر شاید بہتر لفظ ہے کیوں کہ سہم تو وہ کل بھی گئی تھی اور تبھی اس نے چادر مضبوطی سے سمیٹ کر تیزی سے نکلنے کی کوشش کی تھی۔ آج تو وہ لڑکی جان گئی تھی کہ یہ دونوں لڑکے اس کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔ سلمان نے مجھے تھوڑے فاصلے پر رکنے کا کہہ کر بیچ گلی میں اس لڑکی کا راستہ روک لیا۔ وہ کانپ رہی تھی۔ اس طرح راستہ روکے جانے پر وہ خوفزدہ ہونے کے ساتھ غصے میں بھی تھی۔ “تمھارے اپنے گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا؟”، لڑکی نے احتجاج کیا۔ سلمان کی حاضرجوابی کا میں پہلے سے قائل تھا لیکن اس لمحے ایک اجنبی لڑکی کے سامنے اس کی دلیری نے مجھے متاثر کیا۔ “امی ہے، سو رہی ہے۔ بہن کوئی نہیں” سلمان نے تیزی سے جواب دیا۔ لڑکی لاجواب ہو گئی۔ وہ لڑکی پیچ و تاب کھا کر تقریبا بھاگتی ہوئی نکل گئی۔ ہم دونوں قہقہے لگاتے ہوئے کلب پہنچے۔

سلمان میں جتنی خود اعتمادی تھی، اس لڑکی میں اتنا ہی خوف اور بے اعتمادی۔ سلمان اور میں ہر روز اس کے راستے میں انتظار کرتے۔ وہ کبھی راستہ بدلتی، کبھی معمول سے پہلے یا کچھ دیر سے اپنی کلاس جانے کی کوشش کرتی۔ لیکن ہم باز نہیں آئے۔ پھر یوں ہوا کہ کچھ دن وہ نظر نہیں آئی۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ شاید اس نے کلاس جانا ہی چھوڑ دیا ہو۔ سلمان اتاولا ہورہا تھا۔ وہ پہلی دفعہ کسی کو تسخیر نہیں کر پارہا تھا۔ اسے فقرے کسنا آتا تھا، نام بگاڑنا آتا تھا،لڑنا مارنا آتا تھا، گالی دینا آتا تھا، بے شرم لطیفوں سے سب کا دل جیتنا آتا تھا لیکن کسی خوفزدہ لڑکی سے کیسے بات کرنی ہے، یہ اس نے کہیں نہیں سیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ جیتنے کا عادی تھا اور پہلی بار اسے ناکامی ہورہی تھی۔ ہم لینگوئج سینٹر اور اس کے گھر کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کوئی کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ سلمان غصے سے پاگل ہورہا تھا۔

ایک مہینے سے ہم گرمی میں اس گلی کے آس پاس منڈلا منڈلا کر باکسنگ کلب جارہے تھے۔ آخر ایک دن چڑ کر سلمان نے کلب کے بجائے ادھر ہی اس گلی کے آس پاس سارا دن انتظار کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہم شاید اپنے معمول سے ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ انتظار کرتے رہے کہ وہ لڑکی ایک بار پھر نظر آئی ۔ شاید اس  تمام عرصہ وہ اس بات کا انتظار کر رہی تھی کہ یہ دونوں غنڈے تھک ہار کر اس کا پیچھا چھوڑ دیں گے۔  یا شاید اس نے اپنی کلاس کا وقت تبدیل کر دیا تھا۔ بہرحال، سلمان نے مجھے گلی کے دہانے پر چوکیداری سونپی اور خود اس کا راستہ روک لیا۔ دونوں توتو میں میں کر رہے تھے، لڑکی بھی بپھری ہوئی تھی، ایک مہینے کی روپوشی کے بعد بھی اس طرح سامنا ہوجانے پر وہ تنگ آچکی تھی اور سلمان بھی غصے میں تھا۔ میں نے گلی کےنکڑ سے دیکھا کہ وہ دونوں الجھ رہے تھے۔ سلمان نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اور اس نے سلمان کا ہاتھ جھٹک دیا۔ کچھ لمحوں کی تکرار کے بعد سلمان نے اس کو زبرستی چومنے کی کوشش کی اور اس لڑکی نے سلمان کو پوری قوت سے پرے دھکیل دیا اور چیخنے چلانے لگی۔ اگلے لمحے سلمان نے جو کیا وہ نہ صرف میرے لیے بلکہ خود اس کے اپنے لیے بھی حیرتناک تھی۔ سلمان نے مجھے بھاگ نکلنے کے لیے آواز دی اور ساتھ ہی اس لڑکی کو دیوار سے لگا کر اپنا ہاتھ اس کی چھاتیوں پر رکھ کر انھیں زور سے مسلنے لگا۔ مجھے اتنا یاد ہے  کہ وہ لڑکی رو رہی تھی، چیخ رہی تھی جب ہم دونوں بھاگ نکلے۔ ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

کلب پہنچے تو ہم ہانپ رہے تھے اور ڈرے ہوئے تھے۔ باکسنگ میں ہمارا دھیان نہیں تھا۔ حالانکہ میرا جرم سلمان کے برابر کا تو نہیں تھا لیکن اپنے سخت مزاج باپ کی وجہ سے میں سخت خوفزدہ تھا۔ اگر میرے باپ کو پتہ چلتا تو وہ مجھے زندہ گاڑ ھ دیتے۔ میں نے باکسنگ کلب جانا ہی چھوڑ دیا ، سلمان نے کچھ احتجاج نہیں کیا اور اس نے بھی غالبا” کئی مہینوں کی غیر حاضری کی۔ اس واقعے نے ہم دونوں بے تکلف دوستوں میں رازداری کے  اور ندامت کے وہ پردے کھڑے کر دئیے جو مجرموں میں ہوتا ہے۔ ہم اس کے بعد بھی ملتے رہے لیکن اس واقعے کا ذکر نہ میں نے کیا نہ سلمان نے۔

سرما کے بعد میں میٹرک کے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہو گیا جبکہ سلمان کی کرکٹ ٹورنامنٹوں میں زبردست اننگز اور یزدان خان اسکول میں فٹبال کھیلنے کی خبریں دوستوں سے ملتی رہیں۔ میٹرک میں پہلی مرتبہ سلمان کے نمبر مجھ سے کم آئے۔ میں نے تعمیر نو کالج میں پری میڈیکل میں داخلہ لے لیا اور سلمان کو جنرل موسٰی کالج میں داخلہ ملا۔ الگ الگ کالجز میں ہونے کی وجہ سے ہمارے دوستوں کا حلقہ بھی بدل گیا اور پھر ایف ایس سی کے بعد جب میں ابھی بولان میڈیکل کالج  میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا تو پتہ چلا کہ سلمان فوج میں کیڈٹ بھرتی ہوا ہے۔ اس کی انرجی اور فزیکل فٹنس کو دیکھتے ہوئے میں خوش تھا کہ وہ صحیح جگہ پہنچ گیا ہے۔

سالوں کے بعد عید پر سلمان کوئٹہ آیا تو ہم سب کو بہت خوشی ہوئی۔ وہی پرانا سلمان، وہی اس کی خوش باشی ۔ میرا اندازہ ٹھیک تھا، وہ واقعی صحیح جگہ پہنچا ہوا تھا۔ ملٹری کالج کاکول کے اپنے کارنامے سنا سنا کے وہ سب کو ہنسا رہا تھا: ریگنگ میں کیسے سینیئرز کے کہنے پر اس نے پتلون اتارنے کے بجائے اپنا انڈر وئیر بھی اتار کر سب کو دنگ کر دیا تھا، کس طرح سینیئر کیڈٹس سے اپنی ریگنگ کا بدلہ اس نے باکسنگ رنگ میں لے لیا تھا اور نئے آنے والے ڈرپوک جونئیر کیڈٹس کو کیسے رلا آیا تھا ۔ کافی مدت کے بعد پہلی مرتبہ ہم دونوں بھی بچپن کے بہترین دوستوں کی طرح دوبارہ ملے۔  اُس گلی میں ہوئے اس واقعے کو قریبا” پانچ سال گزر چکے تھے اور اس دوران ہم نے اس لڑکی کو کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کسی سے کوئی بات سنی تھی۔ ہم دونوں اس لڑکی کو بھلانے کو تیار تھے۔ سب کے ساتھ اچھا وقت گزار کر وہ واپس چلا گیا۔

کچھ سالوں بعد میں بولان میڈیکل کالج میں اپنے آخری سال میں تھا۔ سلمان کے بھائیوں کے ساتھ سلام دعا سے پتہ چلتا تھا کہ سلمان کی پوسٹنگ کبھی گلگت میں تھی تو کبھی وزیرستان میں۔ شاید اس بیچ وہ چند ایک دفعہ گھر آیا تھا لیکن میں امی کے علاج کے سلسلے میں کراچی گیا ہوا تھا۔ پھر پتہ چلا کہ اس کے بڑے بھائی فرمان کی منگنی ہونے والی ہے اور سب گھر والے سلمان کی چھٹیوں کے منتظر ہیں۔ شمالی وزیرستان میں ان دنوں پاک فوج طالبان کے خلاف سر گرم تھی۔ اللہ اللہ کرکے سلمان کو چھٹی ملی اور ہم سب فرمان کی منگنی کی تیاریوں میں لگ گئے۔

سلمان نے فرمان کی منگنی سے ایک دن پہلے آنا تھا لیکن خراب موسم کے سبب فلائٹس کینسل ہوتی رہیں ۔ ویسے تو منگنی سلمان کے بڑے بھائی فرمان کی تھی لیکن سلمان کی امی کا اصرار تھا کہ لیفٹینٹ صاحب کی آمد سے خوشیاں دوبالا ہوں گی ۔ اس کی فلائٹ یکے بعد دیگر کینسل ہوتی رہیں اور اس رات نکاح وغیرہ کے بعد کافی دیر سے وہ پہنچا۔ نکاح خوان مولوی اور دُور کے مہمان کھانا کھا کر نکل چکے تھے۔ صرف قریبی رشتہ دار اور ہم سلمان اور فرمان کے نزدیکی دوست وغیرہ سلمان کے انتظار میں تھے۔ آخر لیفٹیننٹ صاحب آئے اور اس کے ساتھ ہی محفل میں جان آگئی۔ سلمان کے آتے ہی ہم سب گھر کے قریبی لڑکوں کو زنانہ سیکشن میں ناچنے کے لیے بلایا گیا۔ سلمان نے وہ محفل جما دی کہ خاندان کی سب عورتیں داد دینے لگیں۔ سلمان کی امی کا اپنے خوش شکل اور خوش اخلاق بیٹے کو یوں ناچتے، سب کا دل جیتتے دیکھ کر سینہ چوڑا ہوگیا۔

ناچنے واچنے سے فارغ ہونے کے بعد ہم سب کنوارے لڑکے” شابالا” کی رسم کے مطابق سٹیج پر دلہے کے ساتھ بیٹھ گئے۔ شابالا ہم ہزارہ لوگوں میں شادی کی ایک رسم ہیں جس میں دلہے کے قریبی دوستوں میں سے کنواروں کو سٹیج پر بلایا جاتا ہے۔ غالبا” اس کا مقصد ایڈورٹائز کرنا ہوتا ہے تاکہ لڑکیاں جی بھر کر ان کو دیکھ لیں، ان نوجوانوں کی اگلی باریاں ہیں۔ ہماری ایک ایک انگلیوں کو مہندی سے رنگا گیا۔ ساتھ ہی قریبی دوست اوردونوں گھرانوں کے افراد دلہے اور دلہن کے ساتھ تصویریں کھنچوانے لگے۔ سلمان اور میں بھی دلہے اور دلہن کے ساتھ تصویر بنوانے سٹیج پر چڑھ بیٹھے۔ گزرتے ہوئے میری نظر دلہن پر پڑی تو میں ذرا سا چونک گیا۔ دلہنوں والی سجی سجائی بڑی سے چادر کو آدھی اوڑھے، نظریں نیچی کیے، سونے میں لدا پھندا وہ چہرہ کچھ دیکھا بھالا سا لگا لیکن میک اپ کی کئی پرتوں میں میں کچھ پہچان نہیں پایا۔

کافی رات ہوگئی تھی اور مجھے دیر ہورہی تھی۔ گھر کے لیے رخصت ہوتے وقت میں سب دوستوں سے ملا۔ سلمان سے گلے ملا تو مجھے لگا وہ کہیں کھویا ہوا سا تھا۔  میں نے سوچا شاید وہ تھکا ہوا ہے۔ سارا دن ائیر پورٹ پر خوار ہو کر آیا ہے، کل پرسوں پھر مل بیٹھیں گے اور وزیرستان میں جنگوں کے قصے سنیں گے، یہی سوچ کر میں گھر نکل آیا۔

صبح آنکھ کھلی تو ابھی تک مجھے رات والی بات کھٹک رہی تھی۔ سلمان آخرکیوں بجھا بجھا سا تھا، مجھے نجانے کیوں پریشانی ہورہی تھی۔ سلمان نے جب میری کال نہیں اٹھائی تومیں خود ہی اس کے گھر کی طرف چل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو اس کے بڑے بھائی فرمان نے دروازہ کھولا۔ گذشتہ رات کے بعد ان کو منگنی کی دوبارہ مبارکباد دینے کے بعد میں نے سلمان کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ رات ہی سلمان کو آرمی کی طرف سے کال آگئی تھی، “امی کی اصرار کے باوجود وہ رات ہی کو دوبارہ ڈیوٹی پر چلا گیا تھا”۔ واپس قدم ناپتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ سلمان کی بھابھی کو آخر میں نے کہاں دیکھا تھا۔

سجاد حسین

سجاد حسین پاکستان سے تعلق رکھنے والے روٹری پیس فیلو اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا سے گلوبل سٹدیز کے گریجویٹ ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے لیے ایک سرگرم آواز ہیں اور گزشتہ دو صدیوں کی مذہبی تحریکوں کا مطالعہ کررہے ہیں۔ آپ انھیں@Changovski پر ٹویٹ کر سکتے ہیں۔
سجاد حسین

سجاد حسین

سجاد حسین پاکستان سے تعلق رکھنے والے روٹری پیس فیلو اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا سے گلوبل سٹدیز کے گریجویٹ ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے لیے ایک سرگرم آواز ہیں اور گزشتہ دو صدیوں کی مذہبی تحریکوں کا مطالعہ کررہے ہیں۔ آپ انھیں @Changovski پر ٹویٹ کر سکتے ہیں۔