چاردہ پال، ایک قدیم ہزارہ گی رسم ۔۔۔ اسحاق محمدی

چاردہ پال، ایک قدیم ہزارہ گی رسم

تحقیق و تحریر: اسحاق محمدی

فال بینی کا شمارانسانی سماج کے قدیم ترین پیشوں میں ہوتا ہے جس کا تعلق اکثر ماہرین سماجی علوم، انسانوں کے پہلے مذہب یعنی جادو سے جوڑتے ہیں۔ یوں فال بینی کے شواہد دنیا کے تمام خطوں کے تمام چھوٹے بڑے قبائل اور اقوام میں ملتے ہیں۔ ہزارہ قوم میں بھی فال بینی کے کئی نمونے ملتے ہیں جن میں سے بعض روایتی جیسے جَو پال، غلبیل پال، چاردہ پال، بعض درامدی جیسے حافظ پال (ایرانی) جبکہ بعض مذہبی پس منظر رکھتے ہیں جیسے تسبیح پال اور قران پال۔ لیکن ان میں سب سے معروف چاردہ پال ہے جو ہزارہ جات اور ہزارہ جات سے باہر آباد ہزارہ قوم کی خواتین کی ایک تعداد اب تک کرتی آرہی ہیں۔

فال بینی کی یہ تقریب چونکہ ہرقمری مہینے کی مکمل چاند رات یعنی چودھویں کی رات کو منعقد کی جاتی ہے اس لیے اسے چاردہ پال   ( چہاردہ فال) کہا جاتا ہے۔ اس تقریب میں خواتین (بشمول لڑکیاں) اور آٹھ دس سال کی عمر کے لڑکوں کو شرکت کی اجازت ہوتی ہے۔ روایت کے مطابق جس کمرے میں چاردہ پال کی تقریب منعقد کروانی ہو اسے سورج ڈھلنے سے پہلے خوب صاف ستھرا کیا جاتا ہے اور جس بچی (جس کی عمر آٹھ دس سے زاید نہ ہو) کے ذریعے پال نکالنا مقصود ہو اسے بھی سورج ڈھلنے سے پہلے نہلاکر اچھے کپڑے پہنائے جاتےہیں اور اسے چاند نکلنے سے پہلے اس مخصوص کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ اب اسے کمرے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی کسی صاف ستھرے برتن (عموماً پیتل کے برتن)  میں تازہ پانی بھر کر اسی کمرے میں رکھ دیا جاتا ہے اور کمرے کے روشندان اور کھڑکیوں کو چادر سے اس طرح ڈھک دیا جاتا ہے کہ چاند کی روشنی ان پر اور فال نکالنے والی بچی پر نہ پڑے۔ چاند نکلنے کے بعد خواتین بھی نہا دھو کر اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر آجاتی ہیں اور پھر چاردہ پال کی تقریب شروع کردی جاتی ہے۔ بچی کو مرکزی مقام پر بٹھا کرتازہ پانی سے بھرے برتن کو اس کے سامنے رکھ کرایک بڑی شال اس پر اس طرح ڈال دی جاتی ہے کہ کوئی چیز اسے نظر نہ آئے۔ بعد ازآں پال میں شرکت کی خواہشمند خواتین ایک یا ایک سے زاید انگوٹھیاں کسی خاص مقصد کو ذہن میں رکھ کر برتن میں ڈال دیتی ہیں۔ بعض خواتین اگر کسی وجہ سے محفل میں شرکت نہ کرسکیں تو اپنی انگوٹھی کسی اور کے حوالے کردیتی ہیں اور ان سے صرف نتایج پوچھتی ہیں۔ عام طور پر خواتین اپنے یا اپنے گھرانے سے وابستہ روزمرہ  مسائل سے متعلق شگون مانگتی ہیں، مثلاً شادی بیا، اولاد، اولاد نرینہ، سفر، نوکری وغیرہ، جیسا کہ عام طور پر لوگ، نجومی، پامسٹ یا فال بین سے پوچھتے رہتے ہیں۔ جب تمام شرکاء کی انگوٹھیاں برتن میں ڈال دی جاتی ہیں تو کوئی بزرگ خاتون کوئی ہزارہ گی اور فارسی شعر   پڑھ کر تقریب کا آغاز کرتی ہے۔ ہر مصرعہ پر بچی ایک انگوٹھی نکالتی جاتی ہے اور شرکاء میں سے کوئی ایک اس شعرکی تشریح کرتی جاتی ہے کہ پال، بسیار نیک ( بہت اچھا)، نیک (اچھا)، صبر (منفی)، بد (بہت منفی) آیا ہے۔ یہ سلسلہ آخری انگوٹھی تک چلتا ہے اور پھر اگلا دور اور اگلا دور۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔

کئی ادوار تک چلنے کے بعد محفل کے اختتام پر دو خواتین آمنے سامنے بیٹھ جاتی ہیں اور پانی بھرے برتن کو شہادت کے دونوں انگھوٹوں پر ٹکا دیتی ہیں اور ذہنی ارتکاز (استغراق) کے ذریعے برتن کو حرکت میں لاتی ہیں۔ یہ محفل کا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے تمام شرکاء دم سادھے برتن کی پوزیشن کو ٹکٹکی باندھ کے دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ در اصل چاردہ پال محفل کے عمومی نتیجے کا انحصار برتن کی گردش کی سمت پر ہوتا ہے یعنی  اس محفل میں آنے والے شگون کتنے قابل بھروسہ ہیں۔ اگر برتن دائیں گھومنے لگے  تومحفل “نیک”، اگر بائیں گھومنے لگے تو”بد” اور اگر ایک جگہ ٹکا رہے اور نہ گھومے تو”صبر” مراد لی جاتی ہے۔ جن کے شگون نیک آتے ہیں وہ خوش جبکہ باقی ملول ہوجاتے ہیں۔ محفل کے اختتام پر شرکاء کی چائے، پھل وغیرہ سے تواضح کیجاتی ہے اور پھر محفل برخاست ہوجاتی ہے جس کے بعدبرتن کے پانی کو کسی صاف جگہ پر انڈیلا جاتا ہے۔

یہ ایک قدیم ہزارہ گی رسم ہے جس میں عموماً بزرگ یا پھر بڑی عمر کی شادی شدہ خواتین زیادہ تعداد میں شرکت کرتی ہیں جن کی اکثریت ناخواندہ ہیں۔ جن خواتین کو زیادہ اشعار زبانی یاد ہوتے ہیں انہیں خصوصی دعوت کے ذریعے بلکہ بعض اوقات منت سماجت کر کے محفل میں بلایا جاتا ہے۔ میرے لیے زیادہ تجسس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے یہ اشعار کس طرح اور کہاں سے ازبر  کی ہوں گی!  خاص طور پرحافظ ، سعدی، فردوسی وغیرہ جیسے کلاسیکل شاعروں کے اشعار؟۔  کئی بزرگ خواتین سے انٹرویو کے بعد پتہ چلا کہ اس کی جڑیں ہزارہ جات کے پرانے وقتوں میں پیوست ہیں جب وہاں کی طویل سردیوں کی لمبی راتوں میں شب گذاری کی بڑی بڑی محفلیں سجتی تھیں اور جہاں ورقہ و گلشاہ، شرین و فرہاد، لیلی و مجنون ، گلستان و بوستان ، شاہنامہ فردوسی اور دیوان حافظ وغیرہ تبصرے کے ساتھ  بہ آواز بلند پڑھے جاتے تھے۔   چونکہ ان میں پہلے پہل خواتین بھی شرکت کرتی تھیں اس لیے ان خواتین کو وہ اشعار ازبر یاد رہے جوبعد ازآں سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں کو منتقل ہوتے رہے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہزارہ سماج پر ملاؤں کی گرفت مظبوط ہونے کے ساتھ  خواتین پر جب پابندیاں بڑھ گئیں اور ان محافل میں ان کی شرکت پر پابندی لگ گئی تو نظریہ “ضرورت” کے  تحت چاردہ پال محافل میں اشعار کی خاطر نوعمر پڑھے لکھے لڑکوں کی شرکت بھی ایک ضرورت بن گئی۔  یوں چاردہ پال کی رسم قدیم اشعار کے ساتھ نئے اشعار کے ساتھ چلتی رہی۔ ان اشعار  میں عشقیہ، رزمیہ، صوفیانہ اور روزمرہ سب ہی شامل ہیں۔

میرے اس خیال کو تقویت اس حقیقت سے ملتی ہے کہ کوئٹہ کے قدیم ہزارہ میں، جن کے رابطے ہزارہ جات میں اپنے لوگوں سے بہت پہلے کٹ گئے تھے چاردہ پال کی محافل میں اردو اشعار کی بھی اجازت تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چونکہ سینہ بہ سینہ فارسی اور ہزارہ گی اشعار کی تعداد کم پڑتی گئی لہذا چاردہ پال کی محفل کی ضرورت کے لیے اردو شاعری کا سہارا بھی لیا گیا۔ ایک بزرگ خاتون جس کی عمر 70 سال کے قریب ہے کے مطابق 60 کی دہائی تک ان محافل میں بعض اوقات تعلیم یافتہ لڑکیاں اور لڑکے اردو شاعری کی کتابیں لیکرشرکت کرتے تھے۔ اب کوئٹہ کے قدیم ہزارہ باشندوں میں یہ رسم مفقود ہوچکی ہے جبکہ ستر کی دہائی اور بعد کے آنے والوں میں یہ رسم اب تک موجود ہے۔ خوش قسمتی سے کوئٹہ میں میرے پڑوس میں رہنے والی خاتون جس کی عمر اب 60 سال سے زاید ہوچکی ہے باقاعدگی سے چاردہ پال کی محافل منعقد کرتی رہتی ہے۔ خود ناخواندہ ہے لیکن اسے سینکڑوں  فارسی و ہزارہ گی اشعار یاد ہیں۔ بقول ان کے” گذشتہ سالوں کے دوران جب مخدوش حالات کی وجہ سے آسٹریلیا کی طرف ہجرت کرنے کا رحجان زیادہ تھا۔ چاردہ پال کی محفل رکھنے کی فرمائشیں بھی زیادہ تھیں اور سبھی اپنےپیاروں کے محفوظ سفر سے متعلق  شگون رکھتے تھے۔ لیکن اب یہ فرمائشیں کم ہوگئی ہیں۔ اب جب بھی چاردہ پال محفل منعقد کیجاتی ہے،  زیادہ شرکاء اپنے بچوں کی نوکری سے متعلق شگون رکھتے ہیں”۔  ایک دوسری بزرگ واقف خاتون( جن کی عمر80 سال کے قریب) کو نہ صرف ہزاروں اشعار ازبر یاد ہیں بلکہ وہ خود بھی فی البدیہہ شاعری  کرتی ہے۔ حالانکہ وہ بھی نا خواندہ ہے لیکن اپنی اسی صفت کی وجہ سے کبھی ان محافل کی جان ہوا کرتی تھی۔

ںوٹ: پچھلے سال ایک دوست کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے اٹلانٹا جارجیا جانا ہوا۔ وہاں آسٹریلیا میں مقیم اس کی ساس بھی آئی ہوئی تھی جس کی عمر 70 سال سے زایدہے۔ اسکا اصلی تعلق جاغوری ہزارہ جات سے ہے اور انکا گھرانہ کئی نسلوں سے چاردہ پال کی محفل منعقد کرتی آرہی ہے۔ میں نے اس موضوع سے متعلق  زیادہ تر معلومات ان سے لیں اور مزید کے لیے اپنے ہمسائے کے علاوہ کئی جاننے والی خواتین سے انٹرویو کیے۔ ہزارہ جات میں کسی سے براہ راست انٹرویو کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن کئی علاقوں جیسے بہسود، بامیان، دایکنڈی کے لکھاریوں نے چاردہ پال رسم کی موجودگی کا تذکرہ کیا ہے۔   

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *